Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Thu, 23 May 2013 03:53:33  |   |   |  Text Only Version


Wed, 08 Jul 2009 18:55:00

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

چین میں فسادات


عاصم اقبال

سنکیانگ جسے انگریزی میں شنگ جیانگ کہتے ہیں چین کاایک خود مختار علاقہ ہے ، مانچوز بان میں سنکیانگ کامطلب ہے نیا صوبہ اسے یہ نام مانچو قنگ خاندان کے دورحکومت میں دیاگیا۔ سنکیانگ کی سرحد یں مغرب میں پاکستان، مقبوضہ کشمیر، افغانستان اوروسطی ایشیا ئی ریاستوں کرغزستان، تاجکستان اورقازقستان سے ملتی ہیں، اکسائی چین کاعلاقہ بھی سنکیانگ کاحصہ جس پر 1962ء سے بھارت بھی اپنی ملکیت کادعویدار ہے، سنکیانگ کوچینی ترکستان یامشرقی ترکستان بھی کہتے ہیں۔ اس کے شمال میں روس، جنوب میں تبت اور مشرق میںمنگولیا واقع ہیں۔

سنکیانگ میںمختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں جن میںاکثریت یوغرنسل کی ہے جومسلمان ہیں،تاریخ بتاتی ہے کہ مختلف اوقات میں اس علاقے پر یوغر نسل سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی حکومت رہی اوراپنی بادشاہت برقرار رکھنے کیلئے یوغر حکمران چنگیز خان کے باجگزار بھی رہے، یوغر حکمران نہ صرف چنگیز خان کوٹیکس اداکرتے تھے بلکہ اس کی جنگی مہمات کیلئے سپاہی بھی فراہم کرتے تھے۔ 1750ء کے عشرے میں میںسنکیانگ مانچوقنگ سلاطین کے زیر نگین آیا انہوںنے اسے 4انتظامی حصوں میں تقسیم کیا لیکن 1758-59ء میں ان کے خلاف بغاوت ہوگئی لیکن اس پرقابو پالیاگیا۔

19ویں صدی کے وسط میں روسی سلطنت نے سنکیانگ میں مداخلت شروع کی اور1864ء میںیوغروں نے دوبارہ بغاوت کردی، چین کے مختلف حصوں میں اس وقت شورش برپاتھی اس لئے حکومت بغاوت کوکچلنے میں ناکام رہی اوراس علاقے سے مانچو قنگ سلاطین کی حکومت کاخاتمہ ہوگیا۔

1865ء میں یعقوب بیگ نامی سردار نے سنکیانگ پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرلی،1857ء سے 1877ء کے درمیان ہونے والی لڑائیوںمیں مانچوقنگ کے جنرل زور زونگ تنگ نے یعقوب بیگ سے زیر قبضہ علاقے واپس چھین لئے۔ 1871 ء میں روس نے سنکیانگ کے ایک حصے پرقبضہ کیا لیکن 1881ء میں چین نے مذاکرات کے بعد معاہدہ سینٹ پیٹرزبرگ کے ذریعے روس سے یہ علاقہ واپس لے لیا۔1912ء میںقنگ سلاطین کی حکومت کاخاتمہ ہوا اورچین کاجمہوریہ قراردیاگیا قنگ سلاطین کے گورنر یوآن کے فرار ہونے کے بعد اس کے ماتحت یانگ ژنگ ژن نے سنکیانگ کاکنٹرول سنبھال لیا اورمرکزی حکومت کی اطاعت قبول کرلی۔ 1928ء میںاسے قتل کردیاگیا، اس کے بعدکچھ سال تک یہ علاقہ افراتفری کاشکار رہا۔ 12نومبر 1933ء کوپہلی مرتبہ جمہوریہ مشرقی ترکستان کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کی گئی لیکن 1934ء میں جنوب مشرق کے چینی جنگجو سردار شینگ سی سائی نے اس ریاست کاخاتمہ کردیا ۔ روس کی مدد سے ایک عشرے تک سنکیانگ پرشینگ شی سائی کی حکومت رہی۔

1944ء میں دوسری مرتبہ ترکستانی ریاست قائم ہوئی اس ریاست کو بھی روس کی حمایت حاصل تھی، 1949ء میں چین کی پیپلزلبریشن آرمی نے سنکیانگ میںداخل ہوکراس علاقے کو کمیونسٹ چین کاحصہ بنالیا، اس وقت سے لے کر آج تک سنکیانگ میں مختلف اوقات میںشورش برپا ہوتی رہی ہے۔ 1962ء میں چین کی پالیسیوں اورعلاقے میںقحط سے تنگ 60ہزار یوغر باشندوں نے روس کی طرف ہجرت کی جسے روکنے کیلئے چینی حکام نے طاقت کااستعمال کیا۔ 1980ء کے عشرے میں طلبہ نے مقامی اکثریت کواقلیت میںبدلنے کی کوششوں کے خلاف تحریک چلائی اوراس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میںکئی جانیںضائع ہوئیں۔ 1990ء میں ہونے والے نسلی اورلسانی فسادات میں 50افراد مارے گئے،1997ء میں پولیس نے مبینہ علیحدگی پسندوں کے خلاف کریک ڈائون کیا، کریک ڈائون کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں ایک درجن افراد مارے گئے، اس کے ردعمل میں 25فروری 1997ء کوہونے والے بم دھماکوں میں 9افراد ہلاک اور 68زخمی ہوئے، اسی سال شراب نوشی کی مخالفت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی گئی اورایک اندازے کے مطابق اس میںسینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ گیارہ ستمبر کے حملوںکے بعد چینی حکام یوغر علیحدگی پسندوں پرالقاعدہ سے راوبط کے الزامات لگاتے رہے لیکن 2006ء تک صورتحال پُرامن رہی۔ 5جنوری 2007ء کوسیکورٹی فورسز نے جنوبی سنکیانگ میںعلیحدگی پسندوںکے تربیتی کیمپ پرچھاپہ مارا، جھڑپ میں 18مبینہ دہشت گرد مارے گئے اور 17افراد کوگرفتار کرلیاگیا، مارچ 2008ء میںچینی حکام نے سنکیانگ میںمسافر طیارے پرمشرقی ترکستان انڈیپنڈنٹ موومنٹ کی جانب سے خود کش حملے کامنصوبہ بنانے کادعویٰ کیا۔ 4اگست 2008ء کوای ٹی آئی ایم کے کارکنوں سے ہونے والی جھڑپ میں 16سیکورٹی اہلکار مارے گئے تاہم علیحدگی پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے حکام یاآزادانہ ذرائع نے کوئی اعداد وشمار جاری نہیںکئے اوراب 5جولائی سے ہونے والے نسلی فسادات میں ڈیڑھ سوسے زائد ہلاک ہوچکے جبکہ ایک ہزارسے زیادہ زخمی ہیں۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخریہاں کے مقامی یوغر باشندوں کی وہ کونسی شکایات اورمحرومیاں ہیں جس کے باعث وہ مرکزی حکومت کے خلاف وقتاً فوقتاً صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں ، اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل چین کے امور پردسترس رکھنے والے ماہرین نے ایک رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق یوغر باشندوں کی سب سے پہلی شکایت یہ ہے کہ حکومت ان کی اکثریت کواقلیت میںبدلنے کیلئے ہن نسل کے باشندوں کوان کے علاقے میں آباد کررہی ہے اوراس کے نتیجے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سنکیانگ کے بعض علاقوں میں 95فیصد ہن نسل کے لوگ آباد ہیں اوریوغر معمولی اقلیت بن چکے ہیں۔تاہم مجموعی طورپر اکثریت یوغریوںکی ہی ہے، زراعت یوغر افراد کی آمدن کابڑاذریعہ ہے اورزرعی علاقوں میں ہن افراد کی آباد کاری کویوغر اپنے لئے بڑامعاشی خطرہ سمجھتے ہیںلیکن حکومت اس کے جواب میں کہتی ہے کہ چین میںہرشہری کوکسی بھی جگہ جاکرآباد ہونے کی اجازت ہے اوراس آزادی کافائدہ اٹھا کر یوغر باشندے شنگھائی میںکاروبار کررہے ہیں اس لئے ہن باشندوں کی آبادکاری پران کااعتراض درست نہیں،نوے کی دہائی تک تجارتی شعبے پرمقامی یوغر افراد کی اجارہ داری تھی اوروسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ وہ تجارت کرتے تھے لیکن اب ان کے مقابلے میں ہن تاجر آگئے ہیں ۔ الماتے، بشکک، تاشقند میںان کاکاروبار پھیلتاجارہاہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے سمجھ بوجھ کاثبوت دیتے ہوئے وسطی ایشیائی ریاستوں میںاپنے ایجنٹ مقررکررکھے ہیں جوانہیں درآمدی آرڈر پہنچاتے ہیں۔

ملازمتوں کے شعبے میں بھی ہن نسل کے افراد یوغروں سے آگے ہیں، تجارتی اورملازمت دونوںشعبوں میںپیچھے ہونے کے باعث یوغر باشندوں میںبے روزگاری کی شرح بڑھتی جارہی ہے اوران کامعیار زندگی ہن آباد کاروں کے مقابلے میں کم ہورہاہے جوان کی محرومیوں میںاضافے کاموجب ہے اس کے ساتھ ساتھ سنکیانگ میںہونے والی سرمایہ کاری ہن چینیوں کے توسط سے ہوتی ہے اس لئے سرمایہ کاربھی یوغر باشندوں کی طرف کوئی توجہ نہیںدیتے جبکہ یوغر باشندوں کویہ بھی شکایت ہے کہ حکومت نے ان کی زبان وثقافت ختم کرنے کیلئے ایسی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس کے تحت عملی زندگی میں صرف ان افراد کوآگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں جوچینی میڈیم تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوں۔ یوغر باشندوں کی ایک شکایت یہ ہے کہ مرکزی حکومت سنکیانگ کواندرونی طورپر خود مختار قراردیتی ہے لیکن انتظامی امور میںان کاعمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے ، اس کے علاوہ مذہبی حوالے سے پابندیوں پربھی یوغریوں کوحکومت سے شکایات ہیں ۔ دیکھاجائے تو یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ سنکیانگ کے مقامی افراد میںپائی جانے والی بے چینی کی زیادہ تروجوہات کاتعلق معاشی، سیاسی اورثقافتی امورسے ہے اورسنکیانگ کے مسئلہ کوصرف مذہبی تناظر میںدیکھنا قطعی طورپر غلط ہے ۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
May 2013
SuMoTuWeThFrSa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 34 555 3 99 66

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com