سنکیانگ جسے انگریزی میں شنگ جیانگ کہتے ہیں چین کاایک خود مختار علاقہ ہے ، مانچوز بان میں سنکیانگ کامطلب ہے نیا صوبہ اسے یہ نام مانچو قنگ خاندان کے دورحکومت میں دیاگیا۔ سنکیانگ کی سرحد یں مغرب میں پاکستان، مقبوضہ کشمیر، افغانستان اوروسطی ایشیا ئی ریاستوں کرغزستان، تاجکستان اورقازقستان سے ملتی ہیں، اکسائی چین کاعلاقہ بھی سنکیانگ کاحصہ جس پر 1962ء سے بھارت بھی اپنی ملکیت کادعویدار ہے، سنکیانگ کوچینی ترکستان یامشرقی ترکستان بھی کہتے ہیں۔ اس کے شمال میں روس، جنوب میں تبت اور مشرق میںمنگولیا واقع ہیں۔
سنکیانگ میںمختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں جن میںاکثریت یوغرنسل کی ہے جومسلمان ہیں،تاریخ بتاتی ہے کہ مختلف اوقات میں اس علاقے پر یوغر نسل سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی حکومت رہی اوراپنی بادشاہت برقرار رکھنے کیلئے یوغر حکمران چنگیز خان کے باجگزار بھی رہے، یوغر حکمران نہ صرف چنگیز خان کوٹیکس اداکرتے تھے بلکہ اس کی جنگی مہمات کیلئے سپاہی بھی فراہم کرتے تھے۔ 1750ء کے عشرے میں میںسنکیانگ مانچوقنگ سلاطین کے زیر نگین آیا انہوںنے اسے 4انتظامی حصوں میں تقسیم کیا لیکن 1758-59ء میں ان کے خلاف بغاوت ہوگئی لیکن اس پرقابو پالیاگیا۔
19ویں صدی کے وسط میں روسی سلطنت نے سنکیانگ میں مداخلت شروع کی اور1864ء میںیوغروں نے دوبارہ بغاوت کردی، چین کے مختلف حصوں میں اس وقت شورش برپاتھی اس لئے حکومت بغاوت کوکچلنے میں ناکام رہی اوراس علاقے سے مانچو قنگ سلاطین کی حکومت کاخاتمہ ہوگیا۔
1865ء میں یعقوب بیگ نامی سردار نے سنکیانگ پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرلی،1857ء سے 1877ء کے درمیان ہونے والی لڑائیوںمیں مانچوقنگ کے جنرل زور زونگ تنگ نے یعقوب بیگ سے زیر قبضہ علاقے واپس چھین لئے۔ 1871 ء میں روس نے سنکیانگ کے ایک حصے پرقبضہ کیا لیکن 1881ء میں چین نے مذاکرات کے بعد معاہدہ سینٹ پیٹرزبرگ کے ذریعے روس سے یہ علاقہ واپس لے لیا۔1912ء میںقنگ سلاطین کی حکومت کاخاتمہ ہوا اورچین کاجمہوریہ قراردیاگیا قنگ سلاطین کے گورنر یوآن کے فرار ہونے کے بعد اس کے ماتحت یانگ ژنگ ژن نے سنکیانگ کاکنٹرول سنبھال لیا اورمرکزی حکومت کی اطاعت قبول کرلی۔ 1928ء میںاسے قتل کردیاگیا، اس کے بعدکچھ سال تک یہ علاقہ افراتفری کاشکار رہا۔ 12نومبر 1933ء کوپہلی مرتبہ جمہوریہ مشرقی ترکستان کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کی گئی لیکن 1934ء میں جنوب مشرق کے چینی جنگجو سردار شینگ سی سائی نے اس ریاست کاخاتمہ کردیا ۔ روس کی مدد سے ایک عشرے تک سنکیانگ پرشینگ شی سائی کی حکومت رہی۔
1944ء میں دوسری مرتبہ ترکستانی ریاست قائم ہوئی اس ریاست کو بھی روس کی حمایت حاصل تھی، 1949ء میں چین کی پیپلزلبریشن آرمی نے سنکیانگ میںداخل ہوکراس علاقے کو کمیونسٹ چین کاحصہ بنالیا، اس وقت سے لے کر آج تک سنکیانگ میں مختلف اوقات میںشورش برپا ہوتی رہی ہے۔ 1962ء میں چین کی پالیسیوں اورعلاقے میںقحط سے تنگ 60ہزار یوغر باشندوں نے روس کی طرف ہجرت کی جسے روکنے کیلئے چینی حکام نے طاقت کااستعمال کیا۔ 1980ء کے عشرے میں طلبہ نے مقامی اکثریت کواقلیت میںبدلنے کی کوششوں کے خلاف تحریک چلائی اوراس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میںکئی جانیںضائع ہوئیں۔ 1990ء میں ہونے والے نسلی اورلسانی فسادات میں 50افراد مارے گئے،1997ء میں پولیس نے مبینہ علیحدگی پسندوں کے خلاف کریک ڈائون کیا، کریک ڈائون کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں ایک درجن افراد مارے گئے، اس کے ردعمل میں 25فروری 1997ء کوہونے والے بم دھماکوں میں 9افراد ہلاک اور 68زخمی ہوئے، اسی سال شراب نوشی کی مخالفت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی گئی اورایک اندازے کے مطابق اس میںسینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ گیارہ ستمبر کے حملوںکے بعد چینی حکام یوغر علیحدگی پسندوں پرالقاعدہ سے راوبط کے الزامات لگاتے رہے لیکن 2006ء تک صورتحال پُرامن رہی۔ 5جنوری 2007ء کوسیکورٹی فورسز نے جنوبی سنکیانگ میںعلیحدگی پسندوںکے تربیتی کیمپ پرچھاپہ مارا، جھڑپ میں 18مبینہ دہشت گرد مارے گئے اور 17افراد کوگرفتار کرلیاگیا، مارچ 2008ء میںچینی حکام نے سنکیانگ میںمسافر طیارے پرمشرقی ترکستان انڈیپنڈنٹ موومنٹ کی جانب سے خود کش حملے کامنصوبہ بنانے کادعویٰ کیا۔ 4اگست 2008ء کوای ٹی آئی ایم کے کارکنوں سے ہونے والی جھڑپ میں 16سیکورٹی اہلکار مارے گئے تاہم علیحدگی پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے حکام یاآزادانہ ذرائع نے کوئی اعداد وشمار جاری نہیںکئے اوراب 5جولائی سے ہونے والے نسلی فسادات میں ڈیڑھ سوسے زائد ہلاک ہوچکے جبکہ ایک ہزارسے زیادہ زخمی ہیں۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخریہاں کے مقامی یوغر باشندوں کی وہ کونسی شکایات اورمحرومیاں ہیں جس کے باعث وہ مرکزی حکومت کے خلاف وقتاً فوقتاً صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں ، اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل چین کے امور پردسترس رکھنے والے ماہرین نے ایک رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق یوغر باشندوں کی سب سے پہلی شکایت یہ ہے کہ حکومت ان کی اکثریت کواقلیت میںبدلنے کیلئے ہن نسل کے باشندوں کوان کے علاقے میں آباد کررہی ہے اوراس کے نتیجے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سنکیانگ کے بعض علاقوں میں 95فیصد ہن نسل کے لوگ آباد ہیں اوریوغر معمولی اقلیت بن چکے ہیں۔تاہم مجموعی طورپر اکثریت یوغریوںکی ہی ہے، زراعت یوغر افراد کی آمدن کابڑاذریعہ ہے اورزرعی علاقوں میں ہن افراد کی آباد کاری کویوغر اپنے لئے بڑامعاشی خطرہ سمجھتے ہیںلیکن حکومت اس کے جواب میں کہتی ہے کہ چین میںہرشہری کوکسی بھی جگہ جاکرآباد ہونے کی اجازت ہے اوراس آزادی کافائدہ اٹھا کر یوغر باشندے شنگھائی میںکاروبار کررہے ہیں اس لئے ہن باشندوں کی آبادکاری پران کااعتراض درست نہیں،نوے کی دہائی تک تجارتی شعبے پرمقامی یوغر افراد کی اجارہ داری تھی اوروسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ وہ تجارت کرتے تھے لیکن اب ان کے مقابلے میں ہن تاجر آگئے ہیں ۔ الماتے، بشکک، تاشقند میںان کاکاروبار پھیلتاجارہاہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے سمجھ بوجھ کاثبوت دیتے ہوئے وسطی ایشیائی ریاستوں میںاپنے ایجنٹ مقررکررکھے ہیں جوانہیں درآمدی آرڈر پہنچاتے ہیں۔
ملازمتوں کے شعبے میں بھی ہن نسل کے افراد یوغروں سے آگے ہیں، تجارتی اورملازمت دونوںشعبوں میںپیچھے ہونے کے باعث یوغر باشندوں میںبے روزگاری کی شرح بڑھتی جارہی ہے اوران کامعیار زندگی ہن آباد کاروں کے مقابلے میں کم ہورہاہے جوان کی محرومیوں میںاضافے کاموجب ہے اس کے ساتھ ساتھ سنکیانگ میںہونے والی سرمایہ کاری ہن چینیوں کے توسط سے ہوتی ہے اس لئے سرمایہ کاربھی یوغر باشندوں کی طرف کوئی توجہ نہیںدیتے جبکہ یوغر باشندوں کویہ بھی شکایت ہے کہ حکومت نے ان کی زبان وثقافت ختم کرنے کیلئے ایسی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس کے تحت عملی زندگی میں صرف ان افراد کوآگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں جوچینی میڈیم تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوں۔ یوغر باشندوں کی ایک شکایت یہ ہے کہ مرکزی حکومت سنکیانگ کواندرونی طورپر خود مختار قراردیتی ہے لیکن انتظامی امور میںان کاعمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے ، اس کے علاوہ مذہبی حوالے سے پابندیوں پربھی یوغریوں کوحکومت سے شکایات ہیں ۔ دیکھاجائے تو یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ سنکیانگ کے مقامی افراد میںپائی جانے والی بے چینی کی زیادہ تروجوہات کاتعلق معاشی، سیاسی اورثقافتی امورسے ہے اورسنکیانگ کے مسئلہ کوصرف مذہبی تناظر میںدیکھنا قطعی طورپر غلط ہے ۔