انسان کارہن سہن اس کے رسم رواج ' مذہبی سماجی اقدار اس کے کلچر کا حصہ ہیں ۔افریقہ جیسے پسماندہ خطے میں بھی کلچر ہے ۔لیکن وہ سول لائیزڈ( مہذب ) کلچر نہیں ۔پس کلچر کا ایک ظاہری پہلو ہے یعنی رہن سہن رسم رواج ۔اور فنون کے لئے بھی کلچر کا لفظ استعمال ہوتا ۔ مگر اس کی باطنی پہلو اس کی Values اس کی قدریں ہیں ۔کسی چیز کو اچھا یا بُرا سمجھنا قدروں کا نظام کہلاتا ہے ۔تہذیب اگر اخلاق کی سربلندی کا نام ہے تو پیغمبر اسلام ۖ کے یہ الفاظ کس قدر چشم کشادہ ہیں کہ فرمایا '' میں تو مکارم اخلاق ( یعنی اعلیٰ تہذیبی اقدار) کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ اور آنحضرت ۖ کی پیش فرمودہ ا سلام کی تعلیم میں ایک دوسرے کے نظریات کی تبلیغ پر کوئی قدغن نہیں۔یعنی مذاہب کے درمیان آپۖ نے مکالمہ اور معاملہ کوروا رکھا گویا سب قوموں کے درمیان مذہبی آزادی کی بنیاد رکھ دی ۔
اسلام نے جو خدا کا کامل تصورپیش کیا اس کا پہلے مذ اہب میں صرف ہلکا سا نشان ملتا ہے ۔پہلے کے مذاہب میں خدا باوجود کہ کائنات کا خالق مالک ہے ۔مگر اسلام کے سوا دیگر مذا ہب قومی تھے یعنی ان کے انبیاء اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے اور اس وجہ سے اس قوم کے نزدیک ایک قومی نسلی خدا کا تصورراہ پا گیا۔عہد نامہ قدیم میں خد ا کو اسرائیل کے خدا کے طور پر پیش کیا گیا ۔( خروج 5 آیت 1 ' خروج 9 آیت 1 ) صرف اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے ۔ جس نے ایک عالمی خدا کا تصور پیش کیا ۔قرآن کریم نے پہلی سورة ہی میں خدا کا جو تعارف تمام جہانوں کے رب کی حیثیت سے کروایا ( الفاتحہ) اور نہ صرف یہ بلکہ اسلام نے یہ بھی بتایا کہ رب العالمین تمام قوموں کا خدا ہے اور ہرقوم کی طرف اس نے نبی بھیجے( فاطر 25 : 35 ) تاکہ سب اقوام خدا کی رحمت سے حصہ پائیں اس طرح اسلام نے سب قوموں کے درمیان باہمی عزت کی بنیاد رکھی ہے ۔کیونکہ مسلمان سب مذاہب کے بانیوں کو سچا مانتے جانتے ہیں ۔ پھر یہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب والوں کو یہ خوشخبری بھی دی کہ اگرچہ اسلام ہی خدا کا پسندیدہ مذہب ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص علم نہ ہونے کی بناء پر یا اسلام کی اصل اور درست تعلیم کی ناواقفیت کی بناء پر یا کسی اور وجہ سے مجبوراََ اسلام نہیں لا سکا ۔ اور اچھے کام کرے اور خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھے تو خدا اس کے اعمال کو بے جزا نہیں چھوڑے گا ۔(63 : 2 ) کیا کوئی مذہب ہے جس نے غیر مذہب والوں کے لئے ایسا اعلان کیا ہو ؟ خدا کے حکم پر حضرت محمد رسول اللہ ۖ نے با آواز بلند یہ اعلان کیا کہ میں تم سب کی طرف رسول ہوں ۔( الاعراف :159 ) ۔ یہ صرف زبانی تعلیم نہ تھی بلکہ اس پر عمل کر دکھایا اور آپ ۖ کی اپنی زندگی میںجہاں ایک طرف آپ کے صحابہ میں عرب نظر آتے تھے تو دوسری طرف فارسی (سلمان) ' حبشی (بلال ) 'قطبی ( ماریہ ) ' اسرائیلی ( عبد اللہ بن سلام) نظر آتے ہیں ' آپ ۖ نے عرب ' فارس ' روم ' حبشہ اور مصر کے بادشا ہو ں کو تبلیغی خطوط لکھے اور انہیں اسلام کی طرف پُرامن دعوت دی ( سیرة ابن ہشام ) مگر اسلام کے سوا کسی مذہبی پیشوا نے اپنی قوم کے علاوہ کسی دوسری قوم کو کبھی اپنے دین کی طرف دعوت نہیں دی ۔ نہ مسیح نے ایسا کیا نہ موسیٰ نے ' نہ کسی اور نے ۔
چودھویں صدی دراصل گلوبائزیشن کے آغاز کی صدی تھی ۔اُس وقت ذرائع نقل و حمل ترقی کر رہے تھے ۔جنگ عظیم کی وجہ سے قوموں میں آزادی کا تصور پیدا ہوا ۔جبکہ دنیا کی قومو ں کا ایک دوسرے سے انحصار بڑھتا جا رہا ہے اس لئے کسی قوم کے لئے ممکن نہیں ہوگا ۔کہ وہ الگ تھلگ جزیرہ والی زندگی اختیار کرکے دوسری قوموں سے میل ملاپ اور باہمی تباد لہ خیال بند کرسکے ۔کیونکہ اسلام کی عالمگیر تعلیم میں غیر اقوام کے مذاہب کلچر سے مکالمہ یا معاملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔گلوبائزیشن میں ایک بین الاقوامی کلچر اور معاملہ مکالمہ نا گزیر ہے ۔اور یہ اسلام کے خلاف نہیں ہے ۔۔بنیادی طور پر انسان صلح جو واقع ہوا ہے ۔اس میں Tolration کا جذبہ موجود ہے ۔اسلام میں تو لا اکراہ فی ا لدین ۔ ہے یعنی دین کے نام پر جبر سختی اپنی بات منوانا ایسا قطعاََ جائیز نہیں ہے ۔ قرآن کریم کی تعلیم تو یہ ہے کہ ''تم دوسروں کے جھوٹے خدائوں کو بھی بُرا بھلا نہ کہو وہ اس کے بدلے میں تمہا ر ے سچے خدا کو بھی ایسا کہیںگے ۔''
ساری دنیا میں ہر لمحے کسی نہ کسی مذہب کا پرچار ہو تا رہتا ہے ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ فی زمانہ اپنے مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کے پرچار پر پا بندی لگائی جا سکے ۔اسلام نے مذہبی آزادی ضمیر عقیدہ کی آزادی پر زور دیا ہے ۔وہ کیونکر غیر مذاہب کے پرچار پر کوئی قدغن نہیںلگاسکتا ہے ۔ جبکہ اسلام میں مکالمہ اور دیگر مذاہب سے معاملہ ناگزیر ہے ۔اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو دیانتداری سے سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔جس قدر اختلافات شدید ہونگے اُسی قدر اس معاملہ میں ِحلم ' برُد باری اور متانت کی ضرورت ہوگی مگر اسلام کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے عقائد کو جبراََ کسی پر ٹھونسنے کی کوشش کرے یا ایسے عقائد کے مطابق عمل پیرا ہو جو ظلم تعدی کی تعلیم دیتا ہو ۔ پس ایسا جبر پر مبنی تعلیم کو اسلام سے منسوب کرنا اسلام کے ساتھ سخت زیادتی ہے ۔مگر ہمارے علماء کی مذہبی بنیاد پر ستی نے مذہب کے نام جبر دھونس دھاندلی دہشت گردی قتل و غارت گری کو روا رکھا ہوا ہے ۔ ایک مذہبی جماعت (جماعت اسلامی) کی ماڈرن ملا ں ازم بھی ہے ۔ ان کے نزدیک جب اقتدار پر قبضہ مل جائے تو پھر اپنا خود ساختہ اسلام نافذ کرنے لئے سب کچھ جائیز ہے ۔جبر پر مبنی پاکستان میں طالبا نائیز یشن کلچر تیزی سے نشونما پا رہا ہے ۔مگر طالبانائیزیشن کلچر کی گلوبائیزشن کلچر میں ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ایسا کلچر دنیا کے لئے نا قابل برداشت ہے ۔ نائین الیون کے بعد ہمارا ملک بین الااقومی تنہائی کا شکار ہوچکا ہے ۔طالبان کے خلاف موجودہ جنگ پاکستان کی بقاء کے لئے اور بین الا قوامی تنہائی کو دور کرنے لئے لڑی جارہی ہے ۔ کیونکہ گلوبائزیشن کے دور میں کوئی ملک دنیا کے ممالک سے جُدا رہ کر اپنا کوئی مقام دنیا میں پیدا نہیںکر سکتا ہے ۔ اسلام کی زوال کی تاریخ سے پردہ اُٹھانیوالے مورخین ' محققین 'دانشوروں نے مسلمانوں کے علمی اخلاقی زروال کے حوالے سے جو مسلم معاشرہ کا المیہ پیش کیا اس کالب لباب یہ ہے کہ ا نگریز کے دور حکومت میں اس دور کے علماء کی ذہنی فرسودگی اوران کے زیر انتظام دینی مدرسوں کے نصاب میں جدید علوم کے سوا۔دیوبند کے نصاب کے اہم مضامین ۔عربی'صرف نحو'منطق'ریاضی 'بلاغت 'فقہ' اصول فقہ ' کلام 'تفسیر تھے ۔ مسلکی مدرسوں نے جدید علوم کو اپنے عقائد و ایما ن کے لئے خطرہ قرار دے کر جدید علوم سے خود اور اپنی نسل کو یکسر محروم کردیا ۔ '' گویا جدید علوم سے آنکھیں بند کرکے انہوں نے اپنے اوپر تحقیق ترقی کے دروازے بند کر لئے ۔ اور دین کے ظاہری علوم کو ہی کافی سمجھا اور اسی پر ہی تکیہ کرلیا اور دین کی اصل روح یعنی باطنی قلبی اعمال کو ترک کرکے نفس پرستی و بنیاد پرستی کو اختیار کیا ۔ پاکستان میں نفس پرست علماء کا ایک طبقہ بے لچک بنیاد پرستی پر عمل پیراء ہے۔اور بے لچک بنیاد پرستی سے انتہا پسندی اور دہشت گردی نے جنم لیا ہے ۔
مذہبی بنیاد پرستی کاوہ تصور جو بنیاد پرست عناصر نے دیا ہے ۔ اس میں دلیل کی کوئی گنجائش نہیں'' ۔ بنیاد پرست عناصر کے سامنے دلیل کی طاقت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے ۔اور ان کے سامنے دلیل پر مبنی روشن خیالی بھی بے بس نظر آتی ہے۔ اور بنیاد پرست عناصر نے اسلام کو اور روشن خیالی کو پاکستان میں یر غمال بنایا ہوا ہے۔
پس آج مسلمانوں کے عقائد میں ایسا بگاڑ پیدا ہو چکاہے کہ جہاد کی اصل روح تو مسلمانوں کے عقائد میں نظر نہیں آتی ۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا نفس ' اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس کے خلاف ( جہاد نفس یعنی اصلاح نفس) ساری زندگی ایک مسلسل جہاد جاری رکھنے کی بار بار تلقین فرمائی ۔اور جہاد یعنی مجاہدہ نفس کے بعد سب سے زیادہ زور تبلیغ اسلام پر دیا گیا ۔اور اسے قرآن کریم نے جہاد کبیر قرار دیا ۔ مگر مسلمانوں کے عقائد میں جب بگاڑ پیدا ہوگیا تو مولوی اسلام میں جہاد کو فقط قتال ' قتل و خونریزی تک محدود کردیا ۔جبکہ مولوی جہاد 'جہاد کے لفظ سے مراد محض اور محض قتال لیا جاتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ۔ قرآن کریم میںیہ لفظ محض جنگ کے لئے استعمال نہیں ہوا ۔تاہم دینی لڑائیوں کے لئے جہاد کا لفظ مجاز کے طور پر بولا گیا ہے ۔جیسے مجاز کے معنی میں''جہاد فی سبیل اللہ'' یعنی اللہ کی راہ میں دین کی خاطر جنگ کرنا۔مگر آنحضرت ۖ نے جو لڑائیاں لڑیں وہ سب دفاعی لڑائیاں تھیں کیونکہ جب دین اسلام کو مٹانے کے لئے کفار مکہ نے مسلمانوں پر جنگیں مسلط کردیں کہ اپنے دفاع کے طور اللہ تعالیٰ کی طرف جہاد بالسیف کا حکم دیا مگر آنحضرت ۖ کی دشمن کے خلاف ایسی تمام دفاعی جنگیں تھیں جو اپنے دفاع مین لڑی گئیں ۔اور آپ کی ایک بھی جنگ جارحیت کی جنگ نہ تھی ۔مگر جہاد کے حوالے سے اسلامی تعلیم پر بڑے زور شور سے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ نعوز باللہ اسلام جبرو تشدد کا دین اور دہشت گردی کا مذہب ہے ۔ مخالفین کے اسلام کے خلاف یہ الزام دیتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت تلوار کے زور پر ہوئی ہے ۔ہمارے جہادی ملاں کا بھی یہ عقیدہ ہے ۔اکہ اسلام کی وسیع تر اشاعت شمشیر کی مرہون منت تھی ۔ گویا ان کا خود ساختہ عقیدہ' دشمن اسلام کے الزام کو درست ثابت کر رہا ہے ۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں جہاد کی غلط اصطلاح یعنی جہاد کے نام پر قتال خونریزی کا عقیدہ مسلمانوں میں داخل ہوگیا ۔جبکہ اسلام کے دلائیل براہین اور خداتعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب کسی جبر کے متقاضی نہ تھے گویا اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہ تھی ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی تو قرآن کریم کو لے کر کھڑا ہو اور قرآنی دلائیل کے ساتھ ان کافروں سے جہاد کبیر کر ۔( الفرقان : 53)قلمی اور لسانی جہاد اسی کا نام ہے جو مسلمانوں اور ان کے علماء نے جہاد قتال کے باطل عقیدہ کو اپنا کر جہاد کبیر ( قرآن کی اشاعت ۔تبلیغ اسلام ) کو ترک کیا ہوا ہے ۔ کیا مولوی جہاد کے عقائد جو وہ اسلام سے منسوب کرتے ہیں ایسے ہیں کہ جن کو انسانی فطرت قبول کر سکتی ہے ؟ ۔اسلام مین تو لااکرہ فی الدین کی تعلیم ہے کہ دین کے معاملہ میں ہرقسم کے جبر کی مناہی ہے ۔اس کے بعد پھر اشاعت اسلام تلوار یعنی جبر کیونکر محتاج ہوگئی ۔؟ اسلام تو وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا ۔جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہر ایک قوم کے نبی کو مان لیا اور تمام دنیا میں یہ فخر قرآن کو حاصل ہے جس نے دنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی یعنی اے مسلمانوں ! یہ کہو کہ ہم دنیا کے تمام نبیوں کوپر ایمان لاتے ہیں اور ان میں تفرقہ نہیں ڈالتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو رد کردیں ( اٰ ل عمران : 185 )پس اسلام کی محبت اخوت اوررواداری کی تعلیم سے ہم پر یہ روشن ہے کہ '' وہ دین دین نہیں جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو ۔خدا نے کسی قوم میں فرق نہیں کیا مثلاََ جو انسانی طاقتیں اور قوتیں اس کی طرف سے آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئیں ۔وہی تمام قوتیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں جاپانیوں اور یورپ امریکہ کی قوموں کو عطا کی گئیں ۔سب کے لئے خدا کی زمین فرش کا کام دیتی ہے اور سب کے لئے اس کا سورج اور چاند اور کئی اور ستارے روشن چراغ کا کام دے رہے ہیں اور دوسری خدمات بھی بجا لاتے ہیں ۔اس کی پیدا کردہ عناصر یعنی ہوا اور پانی اور آگ اور خاک اور ایسا ہی اس کی دوسری تمام پیدا کردہ چیزوں اناج اور پھل اور دوا وغیرہ سے تمام قومیں فائدہ اُٹھا رہی ہیں ۔پس یہ اخلاق ربانی ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم بھی بنی نوع انسان سے مروت سے پیش آویں اور تنگ دل اور تنگ ظرف نہ بنیں( منقول از کتاب پیغام صلح ) پس مذہبی رواداری یعنی ایک دوسرے کے احساسات کا ادب احترام پیدا کئے بغیر کیونکر خدا مل سکتا ہے ؟ ۔پس وہ دین دین نہیں جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو مگر آج کے حالات میں ہر طرف مذہب کے نام پر بالخصوص پاکستان میں فتنہ فساد کی آگ بھڑ کائی جارہی ہے۔دنیا کی بدترین دہشت گردی ' قتل و غارت گری اور خود کش حملوں کو دین اسلام سے منسوب کیا جانے لگا ہے ۔جبکہ اسلاماور دیگر مذاہب کے ہر ایک ہادی ر رہبر اور نبی رسول نے ہمیشہ امن و سلامتی ' ہمدردی ' مواسات ' خیر خواہی مواخات کی تعلیم دی ہے