Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Tue, 06 Jan 2009 20:29:11   |   |   |  Text Only Version

Tue, 02 Dec 2008 23:33:00

ممبئی کا کشت وخون


خورشید احمد وانی

ہندوستان کے شب زندہ شہر اور اقتصادی دارالخلافہ ممبئی میں ہوئے دہلا دینے والے حملے نے نہ صرف بھارت بلکہ پورے جنوب ایشیائی خطے پر ایک سکتہ طاری کردیا ہے۔ایک منصوبہ بند طریقے سے کئے گئے اس حملے میں بین الاقوامی سازش کار فرما ہونے کا عندیہ اس بات سے ملا ہے کہ جن فراد نے یہ کارروائی عمل میں لائی، انکا تعلق کئی ممالک سے ہے، جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہیں اور وہاں کئی ممالک کے شہری موت کے گھاٹ اتر گئے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حملوں کی تحقیقات کیلئے پاکستان کی انٹر سروسز انٹلی جینس (آئی ایس آئی)، اسکاٹ لینڈ یارڈ او ر موساد جیسی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار وں کی مدد طلب کی گئی ہے تاکہ حملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے اور حملہ آوروں کے مقاصد، عزائم اورمستقبل  کے ارادوں سے متعلق چھان بین کی جاسکے۔

ممبئی میں انسانی خون کے زیاں پر ہرذی ہوش انسان کو رنج ہے۔معصوم لوگوںکا قتل کسی بھی طرح قابل جواز نہیں ہے اور تشدد کا راستہ اختیار کرکے مسائل کا حل تلاش کرنا بنیادی انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر ایک کونے سے ان حملوں کی مذمت ہورہی ہے۔ممبئی حملوں میں ہوئے انسانی جانوں کے زیاں، املاک کو ہوئے نقصانات اور سب سے بڑھ کر انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کا ادراک وہ لوگ بخوبی کرسکتے ہیں جنہیں اس قسم کے واقعات سے واسطہ پڑا ہو۔ کشمیر میںٹیلی ویڑن اسکرینیوں پرممبئی حملہ آوروں ک خلاف کارروائی کا مشاہدہ لوگ اس انداز سے کررہے تھے گویا یہ انکے پڑوس میں رونما ہونے والا واقعہ ہو کیونکہ گزشتہ ہیس برسوں کے دوران، یہاں ایسے سینکڑوں واقعات رونما ہوئے ہیں۔ کشمیر کے عام لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ جب بم پھٹ جاتا ہے تو کس قسم کی تباہی پھیل جاتی ہے، جب گولی کسی کے جسم کے آر پار چلی جاتی ہے تو اس شخص اور اسکے لواحقین کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ جب ایک فدائین حملے سے پورے شہر کی زندگی ساکت و جامد ہوجاتی ہے اورشہر کے مکین حالات کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرنے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔

 دہشت گردی اور اسکے انسداد سے متعلق بین الاقوامی ماہرین ممبئی میں ہوئے حملوں اور اسلام آباد میں ستمبر میں میریٹ ہوٹل پر ہوئے فدائین حملے میں مماثلت دیکھ رہے ہیں۔ انکے مطابق دونوں حملوں میں ایسی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی، برطانوی اور اسرائیلی شہری قیام پزیر ہوتے ہیں نیز جنہیں  وہ حلقہ استعمال کرتا ہے جسے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اثر ونفوز ہوتا ہے۔ اس تھیوری کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ حملے ان لوگوں کی کارستانی ہیں جنہیں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل جیسے ممالک کی پالیسیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں اور وہ تشدد کا راستہ اختیار کرکے ان ممالک کو اپنا وطیرہ تبدیل کرنے کیلئے مجبور کرنا چاہتے ہیں۔    

بھارت او پاکستان کا دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بننا دونوں ممالک کیلئے تشویشناک ہے چنانچہ دونوں پر لازم بنتا ہے کہ وہ الزامات اور جوابی الزامات کے بجائے ان معاملات کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں ، جن کی وجہ سے تشدد کا بھوت ان پر سوار ہوچکاہے۔ پاکستان ، دہشت کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر اندرونی اور بیرونی سطح پر اپنے لئے دشمنوں کی ایک کھیپ تیار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکا۔ افغانستان کی سرزمین اسوقت بر صغیر میں دہشت کی آماجگاہ کے طور استعمال ہورہی ہے۔ امریکہ اسے اپنے انداز سے استعمال کر رہاہے، بھارت نے  اپنے دفاعی مفادات کو افغانستان کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور پاکستان جو گزشتہ تین دہائیوں سے افغان معاملات میں الجھا ہوا ہے کسی طور سے اپنی ملکی سلامتی کے پیش نظر اس سرزمین کے حالات و واقعات سے دور نہیں رہ سکتا۔افغانستان میں بھارت اور پاکستان کے متصادم دفاعی نظریات خطے میں ایک عدم استحکام کیلئے ذمہ دار ہیں شاہد یہی وجہ ہے کہ کابل میں بھارتی قونصل خانے پر ہوئے فدائی حملے کیلئے پاکستان کو مؤرد الزام قرار دیا جاتا ہے اور بھارت کی افغان معاملات میں مداخلت مسقبل میں کشمیر کے اندر مسلح جنگجوؤں کی از سرنوبڑے پیمانے پر ہونے والی کارروائیوں کا پیش خیمہ بتائی جارہی ہے۔ گوکہ بھارت اور پاکستان نے دہشت گردی کے واقعات پر روک لگانے کیلئے ایک مشترکہ میکانزم بھی قائم کیا تھا لیکن یہ میکانزم تب تک کارگر ثابت نہیں ہوسکتا جب تک کہ تشدد کے بنیادی عوامل کو ایڈریس کیا جائے۔ اس حوالے سے کشمیر اور افغانستان کے معاملات انتہائی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔

بھارت میں ہندو دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا اور ایک منصوبہ بند طریقے سے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے تشدد کا راستہ استعمال کرکے مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہونے کے انکشافات نے دہشت گردی کے دائرے کو مزید وسعت دی ہے اور عام لوگوں کومزید تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ وقتی طور ممبئی حملوں نے ہندو دہشت گردی کے موضوع کو پس منظر میں ڈال دیا ہے۔ اس سلسلے کی تحقیقات کرنے والے انٹی ٹریرزم اسکارڈ کے سربراہ اورانکے اہم ترین معاونین ، ممبئی کے حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان واقعات سے تحقیقاتی عمل متاثر ہو جائے گا۔ دہشت گردی کے واقعات میں اس نئے عنصر کے داخل ہونے سے ، اسکے قلع قمع کیلئے اپنائی جانے والی حکمت عملی میں بھی  تبدیلی لا نا ناگزیر ہے۔ ماضی میں اگر مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئے دھماکوں کے بعد تحقیقات کا دھارا صرف ایک ہی سمت میں ہوتا تھا تو اب بدلے ہوئے حالات اور نئے زمینی حقائق سامنے آنے کے بعد، بھارت میں اندرونی سطح پر ہونے والی دہشت گردی کی تحقیقات کے زاویے بدل سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں اسوقت الیکشن کا ماحول گرم ہے۔ سات ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں اور پارلیمان کیلئے عام انتخابات کا وقت آپہنچا ہے۔ اس پس منظر میں ممبئی حملے یا ہندو دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ایک طرف کانگریس حکومت نے مسلم کش دھماکوں کی تحقیقات کرکے ، بی جے پی اور بجرنگ دل کیلئے مسائل پیدا کردئے وہاں بی جے پی نے ممبئی حملوں کے فوراً بعد قومی رازناموں میں یہ اشتہار شائع کیا کہ دہشت گردی کے خلاف (کانگریس کی) نرم روی سے ملک میں مسائل پیدا ہوئے ہیں جسکا واحد حل یہ ہے کہ کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کیا جائے۔ دہشت گردی کو اگر سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو عین ممکن ہے کہ ایسے واقعات کا تدارک کرنا حکومت ہند کیلئے مشکل ہوگا۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com