الیکشن کمیشن کی طرف سے خواتین اور مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ (ن) 165، سندھ میں پیپلزپارٹی 88، سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی 46 اور صوبہ بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ق) 20، نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ پارٹی پوزیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 365 نشستوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو 104 عام نشستیں حاصل ہوئیں، 27 آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی جبکہ خواتین کی 70 اور اقلیتوں کی 4 نشستیں مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئیں اس طرح اسمبلی میں اس کے اراکین کی تعداد 165 ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کی نشستوں کی تعداد 196، پاکستان مسلم لیگ (ق) 86، متحدہ مجلس عمل 2، فنکشنل 4 جبکہ دو آزاد امیدوار ہیں۔
صوبہ سندھ میں کل 159 نشستوں سے پیپلزپارٹی 88 نشستوں کے ساتھ اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اسے عام نشستوں میں سے 67، خواتین کی 16 اور اقلیتوں کی 5 نشستیں ملیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے اسمبلی میں اراکین کی تعداد 51 ہے، پاکستان مسلم لیگ (ق) 9، فنکشنل 9، نیشنل پیپلزپارٹی 2، صوبہ سرحد سے عوامی نیشنل پارٹی 46 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے، اسے عام نشستوں میں 18 فروری کو 31 نشستیں ملین جبکہ خواتین کی 9 اور 5 آزاد اراکین نے بھی اے این پی میں شمولیت اختیار کی جبکہ اقلیتوں کی ایک نشست بھی اس کے حصے میں آئی۔
پیپلزپارٹی کو صوبے میں 30، متحدہ مجلس عمل 14، مسلم لیگ (ن) 9، پیپلزپارٹی شیرپائو 7، پاکستان مسلم لیگ (ق) 5 جبکہ چھ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے 63 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ق) کو 20 نشستیں ملی ہیں اسے 18 فروری کو 15 جنرل نشستیں ملیں جبکہ خواتین کی چار اور اقلیتوں کی ایک نشست ملی۔ پیپلزپارٹی کو 11، عوامی نیشنل پارٹی 4، ایم ایم اے 10، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی 7 اور نیشنل پارٹی کی ایک نشست ہے جبکہ 10 آزاد امیدواروں نے کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ چاروں صوبوں سے پاکستان پیپلزپارٹی کو 235، پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 174، پاکستان مسلم لیگ (ق) کو 120، ایم کیو ایم کو 51، عوامی نیشنل پارٹی کو 50، ایم ایم اے کو 26، فنکشنل 13، بی این پی عوامی 7، نیشنل پارٹی ایک، شیرپائو کو 7 صوبائی نشستیں حاصل ہوئیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن کے مطابق اے این پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی سے منتخب ہونے والی تین اور سرحد اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والی 9 خواتین کا تعلق صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع سے ہے ۔
منتخب ہونے والی خواتین میں یاسمین پیر محمد خان اس سے قبل بھی سرحد اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں ۔ وہ 1954ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں پیدا ہوئیں ۔ وہ خدائی خدمت گار تحریک کے رہنما پیر محمد خان کی صاحبزادی ہیں اور ڈاکٹر اسماعیل جن کا تعلق ضلع سوات سے ہے کی اہلیہ ہیں ۔اے این پی کی ستارہ عمران جنہیں حقوق و ترقی نسواں کی وزارت بھی دی گئی ہے پارٹی کے شعبہ خواتین کی صوبائی کوآرڈینیٹر ہیں اور 12 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں ۔ وہ انگلش میں ایم اے کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں اور ان کا تعلق ضلع صوابی کے علاقے جھنڈا سے ہے ۔ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والی اے این پی کی بشریٰ گوہر نے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ میں امریکہ سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ وہ اے این پی شعبہ خواتین کی مرکزی نائب صدر ہیں ۔ وہ 1961 ء میں پیدا ہوئیں اور ان کا تعلق بھی ضلع صوابی سے ہے ۔ اے این پی کی نومنتخب رکن قومی اسمبلی جمیلہ گیلانی کا تعلق ضلع مردان سے ہے ۔ وہ 1960ء میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے سائیکالوجی میں ایم اے کیا ہے ۔
اے این پی کی نومنتخب ایم پی اے شگفتہ ملک اے این پی شعبہ خواتین ضلع پشاور کی صدر ہیں ۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں ایم اے کیا ہے ۔ اے این پی کی نومنتخب ایم پی اے یاسمین ضیاء اے این پی کے رہنما صدر الدین مروت کی اہلیہ ہیں جن کا تعلق لکی مروت سے ہے ان کے شوہر نے بھی پی ایف 74 لکی مروت سے الیکشن میں حصہ لیا تاہم کامیاب نہیں ہو سکے ۔ اے این پی کی نومنتخب ایم پی اے تبسم یونس کتوزئی کا تعلق ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر سے ہے وہ اے این پی کے ضلعی نائب صدر یونس خان کی صاحبزادی ہیں ۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کیا ہے ۔ اے این پی کی نومنتخب ایم پی اے مسرت شفیع کا تعلق کوہاٹ سے ہے انہوں نے پشاور سے ایل ایل بی اور ایم اے پولٹیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی ہے وہ اے این پی شعبہ خواتین ضلع کوہاٹ کی نائب صدر ہیں ۔
اے این پی کی ایم پی اے ڈاکٹر یاسمین جسیم نے افغانستان سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی ہے ان کا تعلق ضلع مردان کے علاقے گڑھی کپورہ سے ہے وہ ڈاکٹر جسیم کی اہلیہ ہیں جن کا تعلق ضلع صوابی سے ہے ۔ اے این پی کی ایم پی اے منور فرمان اے این پی شعبہ خواتین پشاور سٹی کی صدر ہیں اور وہ اے این پی کے رہنما فضل الرحمان آفریدی کی صاحبزادی ہیں ۔ اے این پی کی نومنتخب ایم پی اے زبیدہ احسان کا تعلق ضلع مردان کے علاقے لندخوڑ سے ہے ۔
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی مہر النساء آفریدی پی پی پی (پی) شعبہ خواتین کی صدر ہیں جو قومی و صوبائی دونوں نشستوں پر منتخب ہوئی ہیں۔
قومی و صوبائی دونوں نشستوں پر منتخب ہونے والی پی پی پی (پی) کی خاتون عاصمہ عالمگیر نومنتخب ایم این اے ارباب عالمگیر کی اہلیہ اور صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ ارباب جہانگیر کی بہو ہیں جبکہ پیپلز پارٹی شعبہ خواتین مردان کی ڈویژنل صدر اور ریٹائرڈ جج امیر محمد خان کی اہلیہ مسز فرحت بیگم بھی بیک وقت قومی اسمبلی اور سرحد اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں ۔دو نشستوں پر بیک وقت کامیاب ہونے والی خواتین ممبران سب سے پہلے جس اسمبلی میں حلف اٹھائیں گی یہ اسی اسمبلی کی نشست ان کے پاس رہے گی جبکہ دوسری نشستیں خالی ہو جائیں گی اور ان نشستوں پر ان کی پارٹی کی دیگر خواتین ممبران کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا ۔
ذرائع کے مطابق مہر النساء آفریدی ،عاصمہ عالمگیر اور مسز فرحت بیگم قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھائیں گی جبکہ ان کی سرحد اسمبلی کی نشستیں خالی ہو جائیں گی اور ان پر پیپلز پارٹی کی دیگر خواتین امیدواروں کا چنائو عمل میں لایا جائے گا ۔دریں اثناء مسلم لیگ(ن)سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر امتیاز سلطان بخاری بھی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں ۔ڈاکٹر امتیاز سلطان بخاری اس سے قبل رکن سرحد اسمبلی رہ چکی ہیں ۔
صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی جو خواتین سرحد اسمبلی کی ارکان منتخب ہوئیں ان میں شازیہ طماش ،ڈاکٹر فائزہ بی بی،مسز فرحت بیگم ،سنجیدہ یوسف،مہرالنساء آفریدی اور عاصمہ عالمگیر شامل ہیں ۔جب مہرالنساء آفریدی ،عاصمہ عالمگیر اور مسز فرحت صوبائی اسمبلی کی نشستیں چھوڑ دیں گی تو ان پر پیپلز پارٹی کی نور سحر اور نعیمہ نثار منتخب ہو سکیں گی۔ادھرایم ایم اے کی جانب سے عظمیٰ خان،زرقا اور سیدہ تبول ناصر سرحد اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں جبکہ مسلم لیگ(ن)کی جو خواتین منتخب ہوئیں ان میں شازیہ اورنگزیب اور مہر سلطانہ اور مسلم لیگ ق کی جانب سے نگہت اورکزئی اور پیپلز پارٹی شیر پائو کی جانب سے بیگم نرگس ثمین رکن سرحد اسمبلی منتخب ہوئی ہیں ۔
اے این پی سے تعلق رکھنے والے پشاور کے آصف بھٹی ،پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین سے تعلق رکھنے والے پرنس جاوید اور ایم ایم اے سے تعلق رکھنے والے ڈیرہ اسماعیل خان کے کشور کمال اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر سرحد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اقلیتی نشستوں پر کامیاب ہونے والے تینوں امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔