خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری نے نورو معرفت اور حق و صداقت کی جو شمع اجمیر میں روشن کی اس شمع کو حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے نہ تو تندوتیز ہواوں سے بجھنے دیا اور نہ اس کی روشنی کو کم ہونے دیا آپ کے بعد آپ کے جانشین حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور ان کے جانشینان نے اس شمع کی روشنی کو برقرار رکھا یہ شمع آج بھی پوری تابانی کے ساتھ روشن ہے اس شمع کے پروانے ہر شہر اور ہر گاوں میں ملیں گے شہنشاہ التمش کے دور میں اس کے وزرا ء اورامہ میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی شامل تھے جو ایسی کوششیں کرتے رہتے تھے کہ کس طرح سے شہنشاہ التمش کو حضرت بختیار کا کی سے بدظن کیا جائے انہوں نے مل کر حضرت بختیار کاکی کے خلاف بلکہ عالم اسلام کے خلاف ایک انتہائی بھیانک سازش کی اور شہنشاہ التمش کے دربار میں موجود میں اس کے قاضی اور ایک وزیر کو انتہائی مال و دولت دیکر انہیں بھی اس سازش میں شامل کر لیاوزیر کا نام حسن شاہ تھاانہوں نے اس سازش کو مکمل کامیاب بنانے کے لئے بازارحسن سے ایک طوائف کو خریدا جسکا حسن اپنی مثال آپ تھااس طوائف کی گود میں حسن شاہ نامی وزیر کا بیٹا جس کی عمر صرف ایک ماہ تھی ڈال دیا اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس عورت کو لیا گیا کہ وہ اب شہنشاہ التمش کے دربار میں جائے یہ 561ھ کا واقعہ ہے ایک دن التمش کا دربار لگا ہوا تھا تمام امراء اور وزراء دربار میں موجود تھے کہ وہ عورت اندر آئی اور زور زور سے کہنے لگی دہائی ہے دہائی ہے شہنشاہ التمش نے اس عورت سے کہا کہ اے بی بی کیا بات ہے تم کیوں اس طرح سے چلارہی ہو اس عورت نے جواب دیا کہ اے شمس میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے التمش نے پوچھا کہ کون ہے وہ جس نے تیرے ساتھ برا سلوک کیا ہے اس عورت نے جواب دیا کہ اے التمش میں نے بتادیا کہ وہ کون ہے تو توکچھ نہیں کر سکے گا شہنشاہ نے اپنی تلوار میان سے باہر نکالی اور کہا کہ قسم ہے مجھے رب کی اور اپنے مرشد (بختیار کاکی)پاک کی کہ اگر میرا باپ بھی مجرم ہوا تو اسے بھی سزا دی جائے گی اس عورت نے کہا کہ اے التمش پھر سوچ لے انصاف نہ کر سکے گا التمش نے کہا کہ مجھے اس ترازو کی قسم ہے جسے رب کریم نے برابر رکھا ہے تجھے انصاف ضرور ملے گا بتا تیرا مجرم کون ہے تو اس عورت نے کہا کہ اے التمش وہ شخص تیرے پیرومرشد بختیار کاکی ہیں میری گود میں ایک ماہ کا بچہ ان کا ہے اور اب وہ اسے پہچانے سے انکار کر رہے ہیںیہ سنتے ہی شہنشاہ التمش غصے میں آ گیا اور اپنی تلوار میان سے نکال لی اور شدت غم سے کانپنے لگا اور اس عورت سے کہا کہ اے عورت تو جانتی ہے کہ تو کیا کہہ رہی ہے اور کس پر الزام لگا رہی ہے تو اس عورت نے جواب دیا ہاں اے التمش میں جانتی ہوں کہ وہ تیرے مرشد ہیں اور تو ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکے گا شہنشاہ التمش نے اسے جواب دیا کہ اے عورت تجھے انصاف ضرور ملے گا کل دوبارہ تم دربار میں پیش ہو جانا تیرے مجرم کو سزا ضرور ملے گی یہ بات کر کے شہنشاہ التمش نے اپنی تلوار میان سے باہر نکال کر رکھ دی اپنے سر سے تاج اتا را اور ننگے پائوں اس نے حضرت بختیار کاکی کے حجرے مبارک کی طرف دوڑ لگا دی آنکھوں سے زور و قطار آنسو بہہ رہے تھے
اسی حالت میں شہنشاہ التمش حجرے کے پاس پہنچا جب وہ اندر داخل ہوا تو حضرت بختیار کاکی آپ کو دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ کہو التمش آج بے وقت کیسے آئے ہو التمش نے ساری بات بتا دی اور کہا کہ آپ کو میرے ساتھ چلنا ہو گا آپ نے فرما یا اچھا آپ نے اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی نہیں کہا اور خاموشی سے اٹھ کر شہنشاہ التمش کے پیچھے چل دیئے یہ بات سارے دہلی شہر کے علاوہ دوسرے علاقے کے رہنے والوں تک پھیل گئی تھی اس لئے لوگ جوق در جوق شاہی محل کے پاس اکٹھے ہو نے لگے مسلمانوں کے علاوہ ہندو ، سکھ ، عیسائی اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے تھے کہ اب دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی عزت کا جنازہ کیسے نکلتا ہے
حضرت بختیار کاکی جو بہت پارسا بنتے تھے اپنے اوپر لگا یا ہوا الزام کیسے غلط ثابت کریںگے پورا دلی شہر وہاں امڈ آیاتھا شہنشاہ التمش کا دربار لوگوں سے بھر گیا تھا ادھر یہ صورتحال تھی اُدھر اجمیر شریف میں حضرت خواجہ غریب نواز اپنے مریدوں سے فر ما رہے تھے کہ آج میرا بیٹا مصیبت میں ہے اور وہ مجھے بلا رہا ہے آج اگر میں نہ پہنچا تو مسلمانوں کا نام تاریخ سے ختم ہو جائے گا ،ولیوں کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا ایمان ہمارا کرشمہ ہے اور اسلام ہماری طاقت رسول عربی ۖ ہمیںکبھی بھی معاف نہیں فرمائیں گے
آپ نے یہ فر ما یا اور دلی شہر کی جانب چل پڑے شہنشاہ التمش کا دربارلگا ہوا تھا حضرت بختیار کاکی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہو گئے شہنشاہ التمش نے اپنا تاج سر پہ رکھا اور تلوار میان میں رکھی اور اس عورت سے کہا کہ اے عورت تو اب بتا جو کچھ تو نے کل کہا تھا اسے دوبارہ بختیار کاکی کے سامنے بیان کر اس عورت نے پھر وہی باتیں دو ہرائیں اتنے میں شہنشاہ ہندحضرت خواجہ غریب نواز دربار میں داخل ہو ئے
دربار پر ایک سکوت طاری تھا شہنشاہ التمش حضرت خواجہ غریب نواز سے عقیدت و احترام سے پیش آیا اور انہیں بیٹھنے کے لئے اپنی کرسی پیش کی تو حضرت خواجہ غریب نواز نے فر ما یا کہ نہیں آج ہم اس کرسی کے قابل نہیں ہیں کیونکہ ہمارا بیٹا مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے حضرت خواجہ غریب نواز نے اس عورت سے پوچھا کہ اے عورت بتا کیا یہ تیرا مجرم ہے تو اس عورت نے جواب دیا کہ جی ہا ں بختیار کاکی ہی میرے مجرم ہیں آپ نے تین مرتبہ سوال کیا تو اس عورت نے یہی جواب دیا آپ نے پوچھا کہ اے عورت اس واقعہ کا کوئی گواہ بھی ہے تو اس عورت نے جواب دیا ہاں اور ساتھ ہی چار گواہ بھی پیش ہو گئے
ان چاروں نے شہادت گزاری کہ ہم نے مختلف اوقات میں حضرت بختیار کا کی اور اس عورت کو اکھٹے اٹھتے بیٹھتے دیکھا ہے جب وہ چاروں آدمی اپنی اپنی شہادتیں گزار چکے تو حضرت خواجہ غریب نواز درمیان میں کھڑی اس عورت کے پاس گئے اور فر ما یا کہ اے عورت یہ سن لے کہ یہ جہان فا نی ہے کل تم نے بھی اس دنیا سے چلے جا نا ہے ابھی بھی وقت ہے سوچ لے لیکن اس مکار عورت نے جواب دیا کہ میرے مجرم وہی ہیں اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہئے یہ سن کر حضرت خواجہ غریب نواز جلال میں آ گئے آپ شدت غصہ سے کانپ رہے تھے محل کے درودیوار تک لرز رہے تھے حضرت بختیار کا کی نظریں جھکائے با لکل خاموش کھڑے ہو ئے تھے انہوں نے اپنی صفائی میں ایک لفظ تک نہ کہا حضرت خواجہ غریب نواز نے فر ما یا کہ اے لوگو تم نے اس عورت کی با تیں سنی میں اب اللہ کے فضل و کرم سے ایک شہادت گزارنے والا ہوں جو کہ خود یہ ثابت کر دے گی کہ میرا بیٹا مجرم ہے کہ نہیں !آپ اس عورت کے قریب آئے اور اس کی گود میں موجود بچے کے منہ سے کپڑا ہٹا یا اور اس بچے کو کہا کہ اے بچے میں تجھے اللہ کے فضل و کرم سے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو بول اور یہ بتا کہ تو کس کا بیٹا ہے میں تجھے ولی بنا تا ہوںاور تیری آئندہ آنے والی نسلیں بھی ولی ہو ںگی تو اللہ کے حکم سے بول تو وہاں دیکھنے والے حیران رہ گئے اور سننے والے پریشان ہو گئے کہ وہ بچہ جو صرف ایک ماہ کا تھا بول پڑا اور کہا کہ اے خواجہ غریب نواز السلام علیکم میںاس دربار میں موجود حسن شاہ نامی وزیر کا بیٹا ہوں اور حضرت بختیار کاکی با لکل بے گناہ اور پاکیزہ ہیں
حضرت خواجہ غریب نواز نے اس بچے سے کہا کہ میں آج سے تیرا نام کرامت حسین رکھ رہا ہوں تاریخ تجھے یاد رکھے گی اور تو اپنے وقت کا بلند مرتبت فقیر ہو گا اور حضرت بختیار کا کی کو اپنے ساتھ لیااور وہاں سے چل پڑے یہ دیکھ کر شہنشاہ التمش آپ کے قدموں میں گر گیا اور اس عورت اور اس وزیر کو قتل کر دینے کا حکم دیا تو حضرت بختیار کا کی نے فر ما یا کہ میں نے انہیںمعاف کیا اللہ بھی انہیںمعاف کرے یہ سن کر وہ عورت اور وزیر بھی آپ کے قدموں میں گر گئے آپ نے ان سے فر ما یا کہ میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے ۔
583 ھ مطابق 1187 ء میں اپنے مرشد کے ساتھ مکہ معظمہ گئے وہاں سے پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اپنے مرشد کریم کی توجہ سے دونوں جگہ بے پا یاں الطاف و عنایات سے سر فراز کئے گئے مدینہ منورہ میں کچھ دن قیام کے بعد 585 ھ بمطابق 1189 ھ میں بغداد تشریف لائے اور وہاں کچھ عرصہ تک قیام فر ما یا دولت خلافت سے ما لا مال ہونے کے بعد 585 ھ بمطابق 1190 ھ میں اپنے آقائے نعمت مرشد بر حق کی ہمرکابی میں بغداد شریف سے ہندوستان کے لئے روانہ ہو ئے اور چشت ہرات اور سبزہ زار سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے اور وہاں سے سما نا اور دہلی ہو تے ہوئے 587 ھ میں وارد اجمیر شریف ہوئے پھر اپنی والدہ ماجدہ سے ملاقات کے لئے اوش تشریف لے گئے اور پھر ہندوستان واپس تشریف لائے 590 ھ میں ہندوستان آتے ہوئے حضرت بختیار کاکی ملتان پہنچے ملتان اس وقت دینی علوم و فنون کا مرکز تھا حسن اتفاق سے تحصیل علم کے لئے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر بھی اس وقت ملتان میں مو جود تھے آپ نے دو شادیاں کیں پہلی شادی وطن میں ہو ئی تھی جس کا سارا انتظام والدہ ما جدہ نے کیا تھا تین روز کے بعد آپ نے بیوی کو علیحدہ کر دیا کیونکہ آپ کا معمول تھا کہ ہر روز سوتے وقت تین ہزار باردرود شریف کا ورد فر ماتے تھے شادی کیوجہ سے تین دن تک درود شریف کا ناغہ ہو گیا خواب میں حضور ۖ نے ایک بزرگ سے ارشاد فر ما یا کہ قطب الدین اوشی کو میرا سلام پہنچانا اور میری طرف سے کہنا کہ کیا بات ہے کہ جو تحفہ وہ ہر رات ہمارے پاس بھیجتے تھے اب تین رات سے نہیں بھیجا حضور ۖ کا یہ پیغام سن کر قطب صاحب نے بیوی کو علیحدہ کر دیا اور دوسری شادی آخری عمر میں فر مائی جب دہلی میں سکونت پذیر تھے ان سے دو صاحبزادے احمد اور شیخ محمد پیدا ہو ئے
کسی عید کے دن عید گاہ سے واپس ہو تے ہوئے حضرت قطب صاحب ایک افتادہ زمین پر تشریف لائے اور ارشاد فر ما یا کہ اس زمین سے مجھے پاک دلوں کی خوشبومحسوس ہوتی ہے اس زمین کے مالک کو حاضر کرو مالک حاضر ہوا آپ نے اس زمین کو خرید لیا اور فر ما یا کہ یہیں میرا مدفن ہو گا یہ وہی زمین ہے جہاں اس وقت حضرت قطب الدین بختیار کا کی کا مزار مبارک ہے اس خطہ زمین کے بارے میں ار باب کشف اور اصحاب قوت قدسیہ کا مشاہدہ ہے کہ وہاں عرش سے فرش تک نور ہی نور ہے ایک روز شیخ علی سنجری کی خانقاہ میں محفل سماع ہو رہی تھی صاحب حال اور اہل کمال درویشوں کامجمع تھا قوالوں نے حضرت احمد جام کی ایک غزل شروع کی جب انہوں نے یہ شعر پڑھا ! ''کشتگان خنجر تسلیم راہر زماں از غیب جانے دیگراست '' توحضرت بختیار کا کی پر ایسا وجد طاری ہو ا کہ آپ اس کیفیت میں بے ہوش ہو گئے قاضی حمید الدین نا گوری اور شیخ بد ر الدین غزنوی آپ کو اسی حالت میں گھر لائے قوال بھی ساتھ آئے قوالی ہو تی رہی جب آپ کو کسی قدر ہو ش آ تا تو آپ اسی شعر کی تکرار کا حکم فر ما تے اور آپ پر وجد طاری ہو جا تا چار روز تک آپ پر یہ کیفیت رہی نماز کے وقت آپ کو ہوش آ جا تا تھاجب آپ نماز ادا کر لیتے تو پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی جب قوال پہلا مصرعہ پڑھتے تو حضرت قطب صاحب کے قالب سے روح مبارک غائب ہو جاتی اور جب دوسرا مصرعہ پڑھتے تو واپس آجاتی
آپ پر 10 ربیع الاول کو کیفیت طاری ہو ئی تھی چار شبانہ روز یہی حالت رہی 14 ربیع الاول 633 ھ مطابق 27 نومبر 1125 ء بمقام مہر ولی شریف دہلی میں جب قوا ل مصرعہ اولی کی تکرار ہو رہی تھی کہ ر وح مبارک قفس عنصری سے پرواز کر گئی آپ کی رحلت کی خبر دہشت اثر سے دہلی میں کہرام بر پا ہو گیا لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے ہر طرف ایک قیامت بر پا تھی کتنا غمناک وقت ہو گا آج اتنا عرصہ گزرنے کے با وجود آپ کا مزار پاک مہر ولی شریف دہلی میں عقیدت مندوں کے لئے مرجع خلائق ہے جب جنازہ مبارک میدان میں رکھا گیا تو حضرت مو لا نا ابو سعید نے نمازجنازہ کی امامت سے متعلق حضرت قطب الاقطاب کی وصیت کا اعلان فر ما یا انہوں نے وصیت فر مائی ہے کہ میرے جنازے کی نماز وہ شخص پڑھائے جس نے کبھی فعل حرام کا ارتکاب نہ کیا ہو جس سے عصر کی سنت اور تکبیر اولی کبھی فوت نہ ہوئی ہو جب لوگوں کو یہ وصیت سنائی گئی تو ہر شخص حیران تھا کہ آخر وہ کون خوش نصیب شخص ہے جو حضرت کی نماز جنازہ کا اہل ہے اور تینوں شرطیںپوری کرتا ہے جب کوئی آگے نہیں بڑھ سکا تو چینخ مار کر سلطان شمس الدین التمش آگے بڑھا اور کہا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے حال سے لوگوں کو آگاہی ہو لیکن افسوس کہ آج میرے مرشد بختیار کا کی کی وصیت نے میری زندگی کا ایک سربستہ راز فاش کر دیا
آپ نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کا مزار مبارک مہر ولی شریف دہلی انڈیا بھی زیارت گاہ مرجع خلائق ہے حضرت شیخ عبدالعزیز بسطامی آپ قطب صاحب کے خلیفہ تھے مزار شریف کی جگہ قطب صاحب نے آپ سے خریدی تھی آپ کا مزار بھی ان کے عقب میں واقع ہے آج بھی فیض کا چشمہ اسی طرح جاری ہے یہ مبارک تقریبات ہر سال 14 ربیع الاول کو درگاہ شریف واقع مہرولی نئی دہلی کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں ہوتی ہیں پشاور میں پیر صاحب تمبر پورہ شریف کے موجودہ سجادہ نشین قطب دوراں مجسمہ فقر و شرح رئیس ا لفقراء پیر و مرشدی حضرت سید مستان شاہ سر کار حق با با جی چشتی صابری دامت بر کا تہم اپنے زہد و تقوی کے لئے مشہور ہیں اور آپ کی سر پر ستی میں ختم خواجگان ہو تا ہے شجرہ شریف چشتیہ صابریہ پڑھا جاتا ہے شرینی و لنگر تقسیم ہو تا ہے اور حق با با خصوصی دعا فر ما تے ہیں جس میں عقیدت مند گلہائے عقیدت پیش کر کے روحانی کیف و سرور کے ساتھ دنیا و آخرت کی سر بلندی و سر فرازی کی دولت سے ما لا مال ہو کر واپس جاتے ہیں ۔
یک زمانہ صحبت با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا