پاکستان کی تیرہویں قومی اسمبلی کا اجلاس عام انتخابات کے انعقاد کے 27 روز بعد پیر کو ہو گا۔ اس سے قبل 7 دسمبر 1970ء میں پہلے عام انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کا اجلاس 2 سال بعد 14 اپریل 1972ء کو ہوا تھا۔ پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس 10 اگست 1947ء کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں سندھ اسمبلی کی عمارت میں ہوا جس میں قائداعظم کو متفقہ طور پر آئین ساز اسمبلی کا پہلا صدر چنا گیا جبکہ قومی پرچم کی منظوری بھی دی گئی۔ دوسری آئین ساز اسمبلی 28 مئی 1955ء کو بنی اور 7 اکتوبر 1958ء تک رہی۔ تیسری آئین ساز اسمبلی 8 جون 1962ء کو معرض وجود میں آئی۔
پہلی قومی اسمبلی کا عام انتخابات کے ذریعے انتخاب 5 دسمبر 1970ء کو ہوا جس کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا اور پھر اسمبلی کا پہلا اجلاس 14 اپریل 1972ء کو ہوا جس میں ممبران نے حلف اٹھایا۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے 7 مارچ 1977ء کو انتخابات ہوئے تاہم دھاندلی کی وجہ سے اس کیخلاف تحریک چلائی گئی اور مارشل لاء لگ گیا۔ پاکستان کی عام انتخابات کے نتیجے میں دوسری اور مجموعی طور پر پانچویں اسمبلی کا پہلا اجلاس انتخابات کے 23 روز بعد 20 مارچ 1985ء کو ہوا اور 29 مئی 1988ء کو اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اسے برخاست کر دیا۔ 16 نومبر 1988ء کو نئی اسمبلی کا انتخاب ہوا اور اس کا پہلا سیشن 30 نومبر کو ہوا جبکہ 6 اگست 1990ء کو غلام اسحاق خان نے اسمبلی برخاست کر دی۔ اس کے بعد 24 اکتوبر 1990ء کو انتخابات ہوئے اور 3 نومبر کو نئی اسمبلی کا پہلا سیشن ہوا۔ 18 اپریل 1993ء کو صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی برخاست کر دی۔ سپریم کورٹ نے 26 مئی 1993ء کو اسمبلی بحال کر دی تاہم 18 جولائی کو اسمبلی دوبارہ برخاست کر دی گئی۔
اس کے بعد 6 اکتوبر 1993ء کو عام انتخابات ہوئے۔ نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس 15 اکتوبر 1993ء کو ہوا۔ 5 نومبر 1996ء کو اس وقت کے صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے اسمبلی برخاست کر دی۔ 3 فروری 1997ء کو دوبارہ عام انتخابات ہوئے اور 15 فروری کو نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا جس کے بعد 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا اور 14 اکتوبر 1999ء کو عبوری آئینی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سینٹ اور اسمبلیاں معطل کر دیں۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار اپنی مدت پوری کرنے والی گزشتہ اسمبلی کا انتخاب 10 اکتوبر 2002ء کو ہوا جبکہ اس کا پہلا اجلاس 16 نومبر 2002ء کو ہوا جبکہ اس نے 15 نومبر 2007ء کو اپنی مدت پوری کی اور 18 فروری 2008ء کو 13 ویں قومی اسمبلی کا انتخاب ہوا جس کا پہلا اجلاس 17 مارچ 2008ء کو ہو گا۔
چوہدری امیر حسین کو ملک کے سب سے زیادہ مدت تک قومی اسمبلی کا سپیکر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ایک سال اور ایک ماہ ملک کی پہلی آئین سازاسمبلی کے سپیکر رہے جبکہ مولوی تمیز الدین 5سال 10 ماہ اور 10 دن اس عہدے پر فائز رہے۔1955 ء میں قومی اسمبلی کے قیام کے بعد عبدالوہاب خان 3 سال ایک ماہ اور 25 دن، مولوی تمیز الدین دوسری قومی اسمبلی کے ایک سال 2 ماہ اور8 دن اور اے کے ایم فضل القادر ایک سال6 ماہ اور 13 دن سپیکر رہے۔ جسٹس عبدالجبار خان چوتھی قومی اسمبلی کے 3 سال9 ماہ اور 13 دن سپیکر رہے، ذوالفقار علی بھٹو 11 ماہ28 دن ، فضل الٰہی چوہدری 11 ماہ22 دن اور صاحبزادہ فاروق علی 3 سال7 ماہ اور 18 دن پانچویں قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائر رہے۔ ملک معراج خالد کو 3 ماہ8 دن چھٹی قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ سید فخر امام ایک سال2 ماہ اور 4 دن جبکہ حامد ناصر چٹھہ دو سال 6 ماہ اور 2 دن سپیکر رہے۔ ملک معراج خالد ایک بار پھر نویں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے اور یہ عہدہ دو سال 11 ماہ اور 13 دن ان کے پاس رہا۔ سید یوسف رضا گیلانی 3 سال3 ماہ اور 29 دن دسویں قومی اسمبلی کے سپیکر رہے جبکہ گیارہویں قومی اسمبلی کے سپیکر بننے کا اعزاز الٰہی بخش سومرو نے حاصل کیا اور 2 سال 7 ماہ 26 دن یہ منصب ان کے پاس رہا۔
12 قومی اسمبلی جو 2002ء میں منتخب ہوئی اور چوہدری امیر حسین19 نومبر2002ء کو سپیکر منتخب ہوئے اور اب تک وہ اس منصب پر فائر ہیں19 مارچ کو 13ویں قومی اسمبلی کے سپیکر سے حلف لینے کے بعد وہ اس عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ اس طرح ان کے سپیکر کے منصب پر فائز رہنے کی مجموعی مدت پانچ سال اور 4 ماہ ہوگی اور اب تک تمام قومی اسمبلیوں کے سپیکرز میں سے اس منصب پر زیادہ مدت تک فائز رہنے کا انہیں اعزاز حاصل ہوگیا ہے۔
نومنتخب 13 ویں قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس پیر کو 11 بجے پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوگا۔ افتتاحی اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ اجلاس سے قبل پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس منعقد ہوں گے ۔ قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی صدارت آئینی مدت پوری کرنے والی گزشتہ قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین کریں گے۔ اجلاس کے پہلے روز سپیکر چوہدری امیر حسین نومنتخب اراکین قومی اسمبلی سے حلف لیں گے جس کے بعد اجلاس 19 مارچ بروزبدھ تک ملتوی کر دیا جائے گا۔ 18مارچ کو دن 12 بجے تک سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کیلئے کاغذات نامردگی وصول کئے جائیں گے
12 بجے کے بعد ان کی جانچ پڑتال ہوگی۔ 19 مارچ کو اجلاس میں پہلے پیر کو حلف نہ اٹھانے والے ارکان حلف لیں گے اور پھر خفیہ بیلٹ کے ذریعے سپیکر کا انتخاب ہوگا۔ سپیکر کے انتخاب کے بعد چوہدری امیر حسین نئے سپیکر قومی اسمبلی سے حلف لیں گے جس کے بعد نو منتخب سپیکر اجلاس کی صدارت کریں گے اورڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد وہ اس سے حلف لیں گے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا جائے گا اور پھر قائد ایوان یعنی وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار بڑی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس ہو گا اور پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارتی اور جے یو آئی (ف) کے ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس، سپیکر، ڈپٹی سپیکر کے چنائو اور حکومت سازی کے حوالے سے دیگر امور کے بارے میں حکمت عملی طے کریں گے۔ چاروں جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہائوس میں ہو گا جس کی صدارت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یر ولی خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان مشترکہ طور پر کریں گے۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کیلئے مشترکہ امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ کیا جائے گا جبکہ وفاقی کابینہ میں وزارتوں کی تقسیم کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔ واضح رہے کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے قبل چاروں جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کے الگ الگ اجلاس بھی منعقد ہوں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے چوہدری نثار علی خان اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری انور علی چیمہ کو سب سے زیادہ ساتویں مرتبہ رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل ہے ۔ دونوں نو منتخب اراکین کو 1985، 1988، 1990، 1993، 1997، 2002 اور 2008 کی اسمبلیوں کے رکن بننے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ تاہم شیخ رشید احمد عام انتخابات میں دونوں حلقوں سے شکست کھانے کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم رہے۔ چوہدری نثار علی خان این اے 51 اور 52 سے کامیاب ہوئے ہیں جبکہ انو رچیمہ سرگودھا کے حلقہ این اے 65 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان ارکان کے حلف اٹھانے کے بعد یہ پارلیمانی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔
نو منتخب قومی اسمبلی میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں خواتین کی نمائندگی سب سے زیادہ ہے۔ ان میں سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر 60 نامزد خواتین کے علاوہ عام نشستوں پر کامیاب ہونے والی 16 خواتین شامل ہیں۔ پنجاب سے خواتین کیلئے قومی اسمبلی کی مخصوص 35 نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی 16، پیپلزپارٹی کی 12 اور مسلم لیگ (ق) کی 7 خواتین اسمبلی میں پہنچی ہیں۔ سندھ کی 14 خصوصی نشستوں پر پیپلزپارتی کی 7، ایم کیو ایم 5، مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (فنکشنل) کی ایک ایک خاتون رکن اسمبلی بنی ہے۔ صوبہ سرحد سے عوامی نیشنل پارٹی کی 3، پیپلزپارٹی کی 3 اور مسلم لیگ (ن) کی ایک جبکہ بلوچستان سے پاکستان مسلم لیگ ()، مجلس عمل کی ایک ایک جبکہ پی پی پی کی ایک خاتون اسمبلی میں پہنچیں گی جبکہ عام نشستوں پر سمیرا ملک، تہمینہ دولتانہ، سمیرا ناز، سائرہ افضل تارڑ، ڈاکٹر عذرافضل، حنا ربانی کھر، شمشاد ستار بچانی، راحلہ پروین، فرخندہ امجد وڑائچ، ثمینہ خالد گھرکی، غلام بی بی بھروانہ، صائمہ اختر بھروانہ، خوش بخت شجاعت، فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سمیت 16 خواتین منتخب ہوئی ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ اسمبلی میں 72 خواتین موجود تھیں جن میں 60 مخصوص نشستوں پر جبکہ 12 عام نشستوں پر منتخب ہو کر آئی تھیں۔
وفاقی دارالحکومت سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 سے مسلم لیگ(ن) کے انجم عقیل خان اور این اے 49 سے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ اس سے قبل گذشتہ انتخابات میں یہ دونوں نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل نے جیتی تھیں۔
اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی کو وزیٹر گیلری میں اجلاس کی کارروائی دیکھنے کیلئے دو دو پاس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے گورنر، وزراء اعلیٰ ، نگران وزیرا عظم، اراکین سینٹ اور مختلف ممالک کے سفارتکاروں کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران سیکورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔ پارلیمنٹ کے ارد گرد اور مرکزی گیٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں کے خصوصی دستے تعینات ہوں گے۔ دریں اثناء قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
وزارت داخلہ نے نئی قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر اسلام آباد انتظامیہ کو سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی دارلحکومت بالخصوص پارلیمنٹ ہائوس کے اردگرد سیکورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اور وفاقی دارلحکومت کے داخلی وخارجی راستوں پر سیکیورٹی کو مزید سخت کر تے ہوئے مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ پیر کو اجلاس کے دوران شاہراہ دستور اور ڈی چوک عام ٹریفک کیلئے بند رہے گا۔ اس دن شاہراہ دستور ریڈ زون رہے گی۔ مرکزی گیٹ سے صرف اراکین پارلیمنٹ کی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جبکہ ملازمین او رمیڈیا کیلئے الگ گیٹ ہوگا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل (آج) پیر کو مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس طلب کئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن)، اے این پی اور ایم ایم اے کے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس (آج) پیرکی صبح 9 بجے پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم نمبر دو میں ہوگا جس میں چاروں جماعتوں کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری، مخدوم امین فہیم، میاں نواز شریف، اسفند یار ولی رند اور مولانا فضل الرحمان شرکت کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر کو صبح دس بجے پارلیمنٹ ہائوس میں بلایا گیا جس کی صدارت پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کریں گے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر کی صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہائوس میں طلب کیا ہے۔
افتتاحی اجلاس میں شرکت کیلئے 18 فروری کو انتخابات میں منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی بڑی تعداد وفاقی دارالحکومت پہنچ گئی۔ ادھر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے نومنتخب اراکین اسمبلی کے استقبال کیلئے زبر دست تیاریاں کی گئی ہیں۔
بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن پر خصوصی کائونٹر قائم کئے گئے ہیں جہاں نومنتخب ارکان کی رہنمائی کیلئے عملہ موجود ہوگا۔ نومنتخب ارکان کی رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کیلئے جامع انتظامات کئے گئے ہیں۔ دریں اثناء قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نومنتخب اراکین اسمبلی 1973ء کے آئین کے تحت حلف اٹھائیں گے۔ افتتاحی اجلاس کو پروقار بنانے کیلئے قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے اجلاس سے قبل مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی قومی اسمبلی اچھی روایات قائم کر کے مثالی کاکردگی کا مظاہرے کرے گی۔
اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی کو نشستیں حروف تہجی کے اعتبار سے الاٹ ہونگی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق وزیراعظم کے ایوان سے انتخاب تک اراکین کی یہ نشستیں برقرار رہیں گی تاہم وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اراکین کو حکومتی اور اپوزیشن اراکین کیلئے نشستوں کی تقسیم کر دی جائے گی۔
قومی اسمبلی کے نو منتخب اراکین کی حلف برداری کے بعد ایوان بالا (سینٹ) کی 4 نشستیں خالی ہو جائیں گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق موجودہ 4 سینیٹر رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے ہیں ان میں این اے 7 چارسدہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان، این اے 17 ایبٹ آباد سے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سردار مہتاب احمد خان، این اے 46 سے آزاد امیدوار حمید اللہ جان آفریدی اور این اے 261 پشین و زیارت سے مولوی آغا محمد کامیاب ہوئے ہیں جبکہ سینیٹر سرور کاکڑ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم وہ گزشتہ د نوں انتقال کر گئے ہیں اس طرح مجموعی طور پر سینٹ کی 5 نشستیں خالی ہونگی جن پر دوبارہ انتخابات ہونگے۔ ان تمام امیدواروں کی سینٹ کی مدت 9 مارچ 2009ء کو پوری ہونی تھی۔ نئے منتخب ہونے والے سینیٹر مارچ 2009ء تک سینیٹر ہونگے۔ سینٹ کی خالی نشستوں میں سرحد سے دو بلوچستان سے دو اور فاٹا سے ایک نشست شامل ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ دیگر کوئی بھی جماعت شاید اپنی سینٹ کی نشست نہ بچا سکے۔
پیر کو قومی اسمبلی کی 5 نشستیں خالی ہو جائیں گی۔ قومی اسمبلی کے 4 اراکین دو یا دو سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں ان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی راولپنڈی، لاہور اور ملتان کے 3 حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں ان کی طرف سے دو نشستیں خالی کرنے پر وہاں دوبارہ انتخاب ہو گا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان راولپنڈی کے دو حلقوں این اے 52 اور 53 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو اوکاڑہ سے این اے 146 اور 147 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ شیخوپورہ سے مسلم لیگ (ن) کے رانا تنویر حسین این اے 131 اور 132 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے ایک ایک نشست خالی کرنے پر قومی اسمبلی کی کل 5 نشستیں خالی ہو جائیں گی جن پر دوبارہ انتخاب ہو گا۔
نئی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت کئی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان موجود نہیں ہونگے جبکہ گزشتہ اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ق)، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سمیت کئی جماعتوں کے سربراہان نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔
13 ویں قومی اسمبلی کے آج ہونے والے پہلے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف، سربراہ نواز شریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نئی اسمبلی میں موجود نہیں ہوں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، پیپلز پارٹی شیرپائو کے صدر آفتاب احمد خان شیرپائو، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نئی اسمبلی میں موجود ہونگے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم بھی ایوان میں موجود ہونگے۔