عراق پر امریکی حملے کوجمعرات کو پانچ سال پورے ہو جائیں گے۔ بے گناہ عراقی عوام پر عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کو بنیاد بنا کر مسلط کی جانے والی جنگ میں اب تک 10 لاکھ کے قریب عراقی شہری جاںبحق جبکہ 4 ہزار کے قریب امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں، 42 لاکھ عراقی بے گھر ہوچکے ہیں ۔
امریکی حملے کے پانچ سال گزرنے کے باوجود عراق میں امن وامان کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ جبکہ انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر رہا ہے۔ عراق جنگ میں حصہ لینے والے 10 لاکھ امریکی فوجی نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر بش عراق پر جارحیت کے پانچ سال پورے ہونے پر پینٹاگون میں خطاب کریں گے۔ منگل کو ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق 20 مارچ 2003ء کو امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی کو سبب بنا کر عراق پر حملہ کیا اور عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے حملے کے دو سال بعد پارلیمانی انتخابات کرا کے اقتدار مقامی رہنمائوں کے سپرد کیا۔ دسمبر 2006ء میں امریکہ نے صدام حسین کو پھانسی دی۔
20 مارچ سے یکم مئی تک جنگ کے دوران 139 امریکی فوجی اور 7500 عراقی شہری ہلاک ہوئے جبکہ جنگ کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک لاکھوں عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ نومبر 2006ء میں عراق کے وزیر صحت علی اشرامی کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2003ء میں امریکی حملے کے بعد سے اب تک پرتشدد واقعات میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف برطانیہ کے آزاد سروے کرنے والے ادارہ اوپینین ریسرچ بزنس کی طرف سے جنوری 2008ء کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پرتشدد واقعات میں اب تک 10 لاکھ سے زائد عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے مطابق 2003ء سے اب تک 42 لاکھ کے قریب عراقی شہری اپنے مکانات سے محروم ہونے کے باعث پناہ گزین بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر کے مطابق 22 لاکھ عراقی شہری پرتشدد کے واقعات کے سبب دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان ٹونی سنو نے بتایا کہ عراق جنگ کے پانچ سال مکمل ہونے پر امریکی صدر بش پینٹاگون میں خطاب کریں گے جس میں وہ گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد شروع کی جانے والی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کریں گے۔ ریڈ کراس کے مطابق عراق پر امریکی قیادت میں اتحادی افراج کے قبضے کے بعد انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر رہا ہے۔ اکثر عراقیوں کو نہ تو مناسب خوراک میسر ہے نہ انہیں پینے کا صاف پانی ملتا ہے۔ بے روزگاری عام ہے دس عراقیوں میں سے چار عراقیوں کی یومیہ آمدن ایک ڈالر سے بھی کم ہے جس سے غربت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس طرح ملک بھر میں صحت، تعلیم کے نظام لگ بھگ تباہ ہو چکے ہیں۔ معیشت تباہ ہوگئی ہے اور عراقیوں کی اکثریت غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کاکہنا ہے کہ عراق دنیا کا سب سے خطرناک ترین ملک بن چکا ہے اور عراق پر امریکی حملے کو پانچ سال گزرنے کے باوجود امن و امان کے حوالہ سے وہاں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ بلکہ صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ عراق کی موجودہ حکومت عراقی مہاجرین کو کسی قسم کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ اس طرح قابض فوجیوں کی طرف سے امن وامان کی صورتحال بہتر ہونے کے دعوئوں کے باوجود انسانی حقوق کی صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جارہی ہے۔ امریکہ کے ساتھ فوجیوں کی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق عراق جنگ میں حصہ لینے والے 10 لاکھ امریکی فوجی نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہیں جنگ لڑنے والے امریکی فوجیوں کا موارل گر چکا ہے، وطن واپسی کے بعد بیویوں کوتشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور کئی خودکشی کرتے ہیں۔