Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Tue, 06 Jan 2009 20:30:31   |   |   |  Text Only Version

Sun, 30 Mar 2008 18:47:00

تیونس منفرد اہمیت کا حامل ملک



جمہوریہ تیونس بحیرہ روم کے بیسن کے مرکز میں واقع ہونے کے ساتھ ساتھ یورپ ، افریقہ اور عرب دنیا کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے انتہائی منفرد اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ تین مختلف تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی بناء پر تیونس کا معاشرہ خصوصی امتزاج کا حامل ہے۔ جمہوریہ تیونس کا کل رقبہ 162,155مربع کلومیٹر ہے ۔ یہ شمالی افریقی ریاست اٹلی سے صرف 140کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ بحیرہ روم کیساتھ ساحل کی لمبائی 1300کلو میٹر لگ بھگ ہے ۔ ملک کی سرحدیں ایک طرف لیبیا اوردوسری طرف الجزائر سے ملتی ہیں ملک میں کثیر جماعتی نظام رائج ہے ۔ نظام حکومت صدارتی ہے ۔ موجودہ صدر کا نام زین العابد ین بن علی ہے ۔ ملک کے ساحلی علاقوں اور شمال میں موسم معتدل ہے جبکہ وسطی اور جنوبی علاقوں میں موسم قدر ے نیم صحرائی ہے  (بنجر اور ریگستان) دسمبر میں کم سے کم درجہ حرارتc 11.40 اور جولائی میں 29.3cہوتاہے ۔

    ملک کی کل آبادی2004ء کے اعدادو شمار کے مطابق 9,910,872نفوس پر مشتمل ہے ۔ اوسط عمر 73.8سال ہے ۔ شرح خواندگی تقریباً 80%فیصد ہے ۔ قدرتی وسائل میں خام تیل، فاسفیٹ، آئرن (خام لوہا) سیسہ و زنک اور نمک ہیں۔ سرکاری زبان عربی ہے ۔عربی کے علاوہ فرانسیسی وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ انگریزی اور اطالوی زبان بھی یہاںبولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ملک میں بہت بڑی اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔ ان کے علاوہ عیسائی اور یہودی بھی آباد ہیں۔ ملک میں جغرافیائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کو موجودہ دور کے ان مسائل کا سامنا نہیں جس سے بیشتر مسلمان ممالک دوچار ہیں۔ ملک کے دارالحکومت کا نام بھی تیونس (شہر) ہی ہے۔ کرنسی کا نام تیونسی دینار ہے تقریباً 1.3تیونسی دینار ایک امریکی ڈالر کے برابر ہیں ۔ ملک کا یوم آزادی 20مارچ ہے۔2005ء کے اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی 37,201ملین دینار تھی۔

    ملک کا سب سے بڑا شہر دارالحکومت تیونس ہی ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر بڑے شہروں میں سو فیکس، سوسی ، بائنررئی نابیول ، گیزر،وال کیف و جین ڈوباو بیجا اور قیروآن وغیرہ ہیں۔2006ء میں افراطِ زر کی شرح 4.2%تھی۔ کام کرنے والی آبادی کی شرح تقریباً34%ہے۔ ملک میں سیاحت کے شعبے کو خصوصی اہمیت حامل ہے ۔ یہاں سیاحوں کو وہ سب کچھ ملتا ہے جس کی انھیں خواہش ہوتی ہے ۔ خوبصورت ساحل ،تاریخی عمارات، تاریخی خزینے، مشرقی مہمان نوازی اور پرامن ماحول یہ سب کچھ یہاں موجود ہے ۔  

    تیونسیوں کا دیگر بحیرہ روم کی تہذیبوں سے باہمی میل جول اور تجارتی تعلقات 12ویں صدری قبل مسیح سے جاری ہیں۔814قبل مسیح کی عظیم شہر ی ریاست کار تھیج نے اس تجارت اور معیشت میں اس قدر ترقی کی اور پھولی پھلی کہ وسعت حاصل کرتی ہوئی رومن سلطنت کی نظریں اس پر پڑنے لگیں ۔ دوسری صدی قبل مسیح میں''کارتھیج کاخاتمہ ہو گیاجس سے 700سالہ رومن اقتدار کا آغاز ہوا ''۔ رومن دور میں تیونس نے اناج پیدا کرنے میںترقی کی اور رومن امپائر کیلئے'' اناج گھر'' کا کام کرتا رہا ۔ بہت سی شاندار تاریخی عمارات آج تیونس کے اس خصوصی مقام کی یاد دلاتی ہیں جو اسے رومن سلطنت میںحاصل تھا۔

    پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں پہلے وینڈال اور بعد میں باز نطینیوں نے رومنوں کی جگہ لے لی۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی فتوعات تیونس تک پہنچ گئیں۔ قیروان( Khairouan) کا شہر اسلامی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا جہاں قدیم اور متبرک ترین مسجدوں کا ایک مرکزوجود میں آیا ۔ آنے والی صدیوں میں عرب اور عثمانی ترکوں دونوں نے تیونس کی اسلامی تہذیب کو بہت جلا بخشی ۔ اس دور کا سب سے اہم واقع زیتوناکی اسلامی یونیورسٹی اور عظیم مسجد کی تعمیر تھی۔ ابنِ خلدون جیسے عظیم تاریخ دان اور ماہر عمرانیات کے علمی کارنامے آج بھی انسان کو بہت متاثر کرتے ہیں ۔ تیونس کی تہذیبی ترقی میں اندلسی مہاجرین کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے جو سپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد جبری طور پر بیدخل کردئیے گئے تھے۔ سولہویں صدی عیسوی تک تیونس ترک مسلمانوں کے ماتحت تھاجو ''بے'' کالقب رکھتے تھے۔

    19ویں صدی عیسوی میں تیونس پہلا عرب ملک تھا جس نے آئین نافذ کر نے کا اعلان کیا اور غلامی پر پابندی عائد کی ملک میں غیر ملکی مداخلت سیاسی مسائل اور Beysکے غلط کاریوں کی بناء پر عد م استحکام رہا۔ 1981ء میں فرانس نے تیونس کو اپنا زیر حفاظتی علاقہ قرار دے دیا جس پر ملک میں شدید رد عمل ہوا۔1920ء میں ''دستور پارٹی'' معرض وجود میںآئی ۔ 1934ء میں ''نیودستور پارٹی'' وجود میںآئی جو بالآ خر ملکی آزادی کا سبب بنی ۔ ایک بہت لمبی جدوجہد کے بعد 20مارچ1956ء کو ملک آزادہو گیا۔ 25جولائی1957ء کو تیونس نے جمہوریہ ہونے کا اعلان کیا اور صدر حبیب بورقیبہ ملک کے پہلے صدر مقرر ہوئے یکم جون1959ء کو جمہوریہ کا پہلا قانون اختیار کیا گیا ۔ 7نومبر 1987ء کو میڈیکل بورڈ نے صدر حبیب  بورقیبہ کو صحت کی    بناء پر مزید صدارت کیلئے نااہل قرار دے دیا جس کی بناء پر آئین کے آرٹیکل 57کی رو سے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے صدارت کے فرائض سنبھال لیے اور وہی موجودہ صدر ہیں۔

    جمہوریہ تیونس میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے ۔ صدر کا انتخاب ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ اور میونسپل کونسلوں کے انتخابات بھی ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتے ہیں دیگر حکومتی اور مشاورتی اداروں میںانتظامی عدالت ،حساب کتاب کی عدالت ، معاشرتی اور اقتصادی کونسل ، آئینی کونسل اور اعلیٰ اسلامی کونسل شامل ہیں۔ صدر زین العابدین بن علی کے صدر بننے سے ملک میںایک نئے دور کا آغاز ہوا ملک سیاسی او ر سماجی ترقی کے نئے دور میں داخل ہوا۔ صدر محترم نے تاحیات صدارت کی شق کو ختم کر دیا۔ تمام سیاسی قیدی رہاکر دیے نئی سیاسی پارٹیوں کے وجود کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے13فروری 2002ء کو انسانی حقوق کی بحالی نئے مشاورتی چیمبر اور اسی طرح کی دیگر تبدیلیوں کا اعلان اور آ غاز کیا تاکہ ملک کو مستقبل کے لئے تیار کیا جاسکے ۔ ملک کے ہر طبقہ فکر نے ان تبدیلیوں کو خوش آئند قرار دیا اور انہوں نے اس کی بھر پور حمایت کی۔

    قدرتی و سائل کی کمی کی وجہ سے تیونس نے اپنی تمام تر توجہ انسانی و سائل پر مرکوز کردی ہے۔ ملکی بجٹ میں بہت بڑی رقم تعلیم، صحت ، ہاوسنگ اور سوشل سیکٹر کیلئے مختص کی گئی ہے ۔ پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ وہ ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ۔ اس کی وجہ سے تیونس ایک جدید و لچک دار مختلف النوع منڈی کاروپ دھار رہا ہے جس کی معیشت کا انحصار زراعت تیزی سے ترقی کرتی ہوئی پیداوار ی صنعت اور پھلتی پھولتی سیاحتی صنعت پر ہے۔تیونس کی جی این پی (GNP) 1986ء میں 952دینار تھی جو2005ء میں بڑھ کر 3,750دینارہو گئی ہے ۔1987ء سے تیونس کی اوسط شرح ترقی 5فیصد رہی ہے۔ 2600غیر ملکی فرمیں یا تو براہ راست سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور ریا پھر تیونس کی کمپنیوں سے انکامشتر کہ کاروبار چل رہا ہے۔

    تیونس بین الاقوامی معاملات میں ہمیشہ کھلی اور آزادانہ پالیسی پر مسلسل عمل پیرا رہا ہے۔ تیونس کی ہمیشہ یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ عرب اسرائیل جھگڑے کا پرُامن اور دیرپاحل نکالا جائے۔ ایسا حل جو انصاف پرمبنی ہو ۔ عرب ، اسرائیل جھگڑے کے دائمی اور جامع حل کیلئے تیونس نے میڈرڈ کانفرنس میں بھر پور شرکت کی ۔قوموں کی برادری میں تیونس کی ان مخلصانہ کوششوں کو سراہاگیا ہے اور اسی لئے تیونس 2000ء اور 2001ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دو سال کے لئے غیر مستقل ممبر منتخب ہوا تھا۔

    تیونس بیک وقت مسلم، افریقی اور بحیرہ روم کے خطے کا ملک ہونے کے ناطے بہت اہم ملک ہے ۔اسی وجہ سے تیونس کی خارجہ پالیسی بھی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ تیونس ''عرب مغرب یونین'' کو بہت زیادہ بلکہ سب سے کلیدی اہمیت دیتا ہے۔ تیونس عرب اسلامی ملک ہونے کے ناطے دونوں فورم پر بہت فعال کردار ادا کرتا ہے ۔ مئی 2004ء میں سولہویں عرب کانفرنس کی میزبانی کا فریضہ تیونس نے ہی سرانجام دیا تھا۔ اس کانفرنس میں صدرزین العابدین بن علی کے عرب دنیا میں اصلاحات اور جدت پسندی کے منصوبے کی منظوری دی گئی ۔ ایک مسلمان ملک ہونے کے ناطے تیونس اسلامی تنظیم کے تمام اجلاسوں میں سرگرمی سے شرکت کرتا ہے ۔افریقہ کی ترقی اور استحکام کیلئے بھی تیونس اپنا کلیدی رول بخوبی ادا کررہا ہے۔
    تیونس'' مغربی '' ممالک اور بحیرہ روم کے دوسرے کنارے پر واقع یورپی کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بہت خصوصی اہمیت دیتا ہے ۔ بن علی کی کوششوں اور تیونس کی کامیاب خارجہ پالیسی کا ہی اثر ہے کہ تیونس جنوبی ساحل کا پہلا ملک ہے جس نے یورپی یونین کے ساتھ17جولائی 1995ء کو ''ایسوسی ایشن ایگریمنٹ'' کیا ۔ مختصراً تیونس کی آزادنہ خارجہ پالیسی بہت کامیاب ہے  جس کا ثبوت یہ ہے کہ تیونس بیک وقت افریقی ،عرب و مسلم اور یورپی ممالک سے اچھے تعلقات برقرار رکھے ہوئے  ہے ۔ تیونس کو قدرت نے خوبصورت ساحلوں اورتاریخی عمارتوں اور نوادرات کے خزانوں سے مالا مال کیا ہوا ہے ۔ سیاحت کے میدان میں تیونس روز بروز بہتری لارہا ہے ۔ اس وقت بھی تقریباً بچاس لاکھ(5ملین) سیاح سالانہ تیونس کی سیر کیلئے آتے ہیں۔ تیونس جو بحیرہ روم کے جنوبی ساحل پرواقع ہے کے ساحل کی لمبائی تقریباً 1300کلو میٹر ہے۔

    امریکہ اور بہت سے یورپی ممالک کیلئے تیونس میں داخلے کیلئے ویزہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ بین الاقوامی معیار کے سات انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور آٹھ دیگر مسافر پورٹ امریکہ اور یورپ کے ممالک کا تیونس سے رابطے کا ذریعہ ہیں۔ ''تیونس شہر جو تیونس کا دارالحکومت بھی ہے۔ پیرس اور لندن سے دو گھنٹے'' اور روم سے صرف 50منٹ کی مسافت پر واقع ہے ۔ تیونس سے روزانہ  پروازیں تقریباً تمام اہم یورپین ، افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم شہروں کیلئے جاتی ہیں ۔ ساحلی ریزارٹ''تبارکہ ہمامت، سوسی اور جربہ'' کے مقامات پر موجودہیں ۔ سیاح یہاں کی سفید ریت والے ساحل پر دھوپ سینکتے ہیںومچھلی کاشکار کرتے اور تیراکی کرتے ہیں ۔ سمندر کے کنارے ''سیدی بو سید'' کا گائوں گنبدوں ، آرچڈ دروازوں اور بالکونیوں کا عجیب نظارہ پیش کرتاہے۔ یہ ان مکانات نیلے اور سفید رنگ کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں ۔ رومن اور پیونک دور کی عمارات کی سیر کا رتھیج اور ملک میں دیگر کئی مقامات پر کی جاسکتی ہے ۔ان تاریخی عمارات میں ( Dougga)ڈوگا میں واقع دوسری صدی عیسوی کارومن ٹیمپل بھی واقع ہے۔

    عرب اسلامک فن تعمیر کے نادر نمونے سیاحوں کیلئے بہت کشش کا سبب ہیں ۔ ان میں ایک عظیم شاہکار خیروآن کی مسجد اور دوسرا زیتونا کی عظیم مسجد ہے جو پرانے شہر کے مرکز میں واقع ہے ۔ تیونس کا جنوبی حصہ عظیم صحرائے مہارا کا حصہ ہے ۔یہ علاقہ فلموں کی عکس بندی کیلئے فلمسازوں کی دل چسپی کا علاقہ ہے ۔ فلم''سٹاروار '' اور ''انگلش پیشنٹ'' کی فلم بندی بھی اسی علاقے میں کی گئی تھی۔ ''غریبہ'' جزیرہ جربہ میں واقع ہے ۔ یہ دنیا میں یہودیوں کی قدیم ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے۔ سیاحت کا شعبہ بہت فعال ہے اور ملک میں سیاحوں کی راہنمائی کے لئے تحریری مواد اور گائیڈ کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ تمام بڑے بڑے سیاحتی مرکزوں کے بارے میں کتابچے موجود ہوتے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنی مرضی کی جگہوں کا انتخاب کرسکتے ہیں جس سے سیر کرنے والوں کو پروگرام بنانے میں سہولت ہوتی ہے۔

    تیونس کے کلچر کی ترویج و ترقی کے لئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اس کے لئے بہت سے ادارے قائم کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں موجود ہر دور کی تہذیب و تمدن کو اسکا جائز مقام دیا جا سکے ۔ اس میں عرب و افریقن وبحیرہ روم کے خطے کی ثقافت اور ترکوں (Beys) کے دور کے کلچر کو مختلف اداروں اور عجائب گھروں کی مدد سے زندہ رکھا گیا ہے ۔ نومبر2002ء میں صدر زین العابدین بن علی نے تیونس میں ''سٹی آف کلچر '' قائم کرنے کیلئے کہا تاکہ ملک کے ہر قسم کے کلچر کو نمایا ں فروغ مل سکے اس سے ملک کے روائتی تہذیب و تمدن کو استحکام حاصل ہو گا۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

 مزید خبریں اورمضامین

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com