دنیا کی واحد سپر پائور امریکہ کو اس وقت ملٹری میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے فوج میں افرادی قوت کی کمی گذشتہ سات سالوںکے دوران دیکھنے میں آرہی ہیں جس کی بنیادی وجہ افغانستان اور عراق میں جاری جنگ ہے جس کے باعث امریکی والدین اپنے بچوں کو جنگ کے میدان میں جھونکنے سے گریز کررہے ہیں دوسری طرف نوجوان نسل میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہیں اور وہ جنگ کا لقمہ بننے یا معذوری سے گھبرا کر ملٹری کی بنیادی اور ضروری خدمات سے بھاگ رہے ہیں
موجودہ دور میں امریکی فوج سب سے زیادہ مختلف ممالک میں آپریشن میں مصروف عمل ہے بلکہ انہیں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے عراق اور افغانستان میں جاری جنگ پانچویں اور ساتویں سال میں داخل ہو چکی ہیں اور یہ گذشتہ ایک صدی میں امریکی ملٹری کی سب سے بڑی کارروائی ہے جو مسلسل جاری ہے اور اس کے خاتمے کا بھی کوئی امکان نہیں اب تک ان دو ممالک میں جاری جنگ میں چار ہزار کے قریب امریکی اہلکار جن میں مرد و خواتین بھی شامل ہیں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ چار ہزار کے قریب مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے
دوسری طرف ان جاری جنگوں کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت ایران شام شمالی کوریا اور تائیوان سمیت اب پاکستان میں داخلے کیلئے بہانے ڈھونڈ رہی ہیں اور حالات کشیدہ کئے جارہے ہیں تاکہ انہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں آسانی رہے امریکی سیاستدان اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ان ممالک کے خلاف مختلف النوع قسم کے بیانات دے رہے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں امریکی ملٹری کے اہلکار جنہیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ وہ اس نام نہاد جنگ میں جیت نہیں سکتے امریکی حکومت کو متنازعہ علاقوں میں سویلین رابطو ں کے ذریعے مسائل کے حل اور غیر ملکی امداد کو بڑھانے کے تجاویز دے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ امریکی ملٹری کے اہلکاروں میں اپنے لیڈروں کے بارے میں بھی یہ ابہام پایا جارہا ہے کہ انہیں اپنی ملٹری کی صحیح صورتحال کا اندازہ نہیں اس لئے ایسے لوگوں کو امریکی لیڈر شپ کیلئے چنا جائے جنہوں نے آرمی میں وقت گزارا ہو تاکہ مستقبل میں وہ بروقت ایکشن لے سکیں امریکی آرمی کے زیادہ تر اہلکار اس بات کے حق میں ہیں کہ عراق اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان امریکی ملٹری کا ہوا ہے اور اس سے امریکی ملٹری بہت حد تک کمزور ہو گئی ہیں عراق میں جاری جنگ کے باعث امریکی ملٹری کی آپریشن کرنیکی صلاحیت بھی متاثر ہو گئی ہیں بلکہ مستقبل میں بھی کسی حد تک ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکے گی -
موسم کی خرابی سمیت غیر یقینی حالات نے افغانستان و عراق میں تعینات امریکی آرمی میرین اور ائیرفورس کے اہلکاروں کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہورہا ہے دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ امریکی آرمی اس وقت بھی تین ہزار سے زائد کیپٹن اور میجرز کی کمی کا شکار ہے جس میں اگلے دو سالوں میں مزید اضافے کا امکان ہے غیر یقینی حالات مسلسل جنگ کی وجہ سے نوجوان نسل میں آرمی کی طرف جانیکا رجحان نہیں آرہا اس لئے امریکی حکومت سابق اہلکاروں کو جو ملازمت سے ریٹائرڈ ہو کر زندگی گزار رہے ہیں آہستہ آہستہ انہیں دوبارہ ویٹرن سروسز میں ڈالکر عراق اور افغانستان بھجوا رہے ہیں
امریکی حکومت نے سال 2006 ء میں امریکن آرمی سروسز ایکٹ میں ترمیم کرکے ڈیوٹی کی عمر بیالیس تک بڑھا دی ہے اور اب سکو مزید بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ آرمی کی کمی کو پورا کیا جاسکے حکومتی اقدامات کے باعث ایسے اہلکار بھی ان جگہوں پر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جو ملٹری کے سٹینڈرڈ کے مطابق بھی نہیں عراق اور افغانستان میں جاری جنگ میں شامل امریکی ملٹری کے زیادہ تر اہلکار قیدیوں پر تشدد کے حق میں بھی نہیں اور وہ جنیوا کنونشن کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں ان کی سوچ میں یہ تبدیلی امریکی ملٹری اہلکاروں کے دشمنوں کے ہاتھوں اذیت ناک طریقے سے مرنے کے واقعات میں زیادتی کے بعد آئی ہیں-
اس لئے وہ قیدیوں کیساتھ تشدد کے واقعات میں کمی کیلئے جنیوا کنوشن کے مطاق عمل کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں دشمنوں کے ہاتھوں اذیت ناک موت کا سامنا نہ کرنا پڑے ایران شام اور دیگر اسلامی ممالک کیساتھ بڑھتی کشیدگی کے حق میں امریکی ملٹری کے اہلکار نہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ وہ یہاں پر اپنے کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی امریکی حکومت کو ان کے مقاصد حاصل ہو سکیں گے اس لئے ملٹری موجودہ وقت میں اپنے لئے نیا میدان کھولنے کے بجائے مسائل کو ڈپلومیٹک طریقوں سے حل کرنے سمیت انٹیلی جینس ایجنسیوں کو صحیح معلومات فراہم کرنے کیلئے کہہ رہی ہیں تاکہ عراق اور افغانستان کی طرح انہیں خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے
عراق میں ملٹری ایکشن کو امریکہ کی غلطی قرار دینے والے امریکی ملٹری کے اہلکار سپیشل آپر یشن فورسز کو بڑھانے کیلئے امریکی حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی جارہی ہے کہ ایسے غیر ملکی افراد جو امریکہ میں گرین کارڈ کے حامل ہو اور انہوں نے ہائی سکول تک تعلیم حاصل کی ہو انہیں ملٹری کی خدمات کیلئے لیا جائے تاکہ فورسز کی کمی کو لیا جائے اسی کے ساتھ یہ تجویز بھی اس وقت امریکی حکومت کو ملٹری تجزیہ نگاروں نے دی ہے کہ امریکن gays اور Lesbian کو بھی ملٹری خدمات کیلئے لیا جائے جس پر تاحال فیصلہ تو نہیں ہوا لیکن صدارتی انتخابات کے بعد ممکن ہے کہ اس تجویز پر بھی عمل کیا جائے اور یوں امریکی ملٹری میں باقاعدہ طور پر ہم جنس پرست بھی شامل ہو جائیں گے-