گزشتہ چند ہفتوں میں کئی کرم فرماؤں نے اپنی تازہ تخلیقات مطالعے کے لیئے روانہ کی ہیں جن پر لکھنا ایک بڑا قرض ہے۔ دراصل سیاست کی دنیا میں اس تیزی سے اس قدر خوفناک تبدیلیاں آ رہی ہیں کہ ادب اور ادیب کے بارے میں خیالات قلمبند کرنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان ادیبوں اور شاعروں اور انکی تخلیقات کے بارے میں لکھنا اس لیئے بہت ضروری ہے کہ خاص طور پر وہ لکھاری جو بیرونی ممالک میں مقیم ہیں اور انہوں نے علم و ادب اور تحقیق و جستجو کی یہ شمع روشن کر رکھی ہے وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف سے بہت افضل ہے۔

جن محترم لکھاریوں نے اس طالبعلم کو اپنی تخلیقات روانہ کی ہیں ان میں
کینڈا کے شہر وینکور سے میرے بہت ہی عزیز اور کرم فرما بزرگ دوست اور ساتھی جناب شمس جیلانی ہیں جو القمر آن لائن کے قارئین کے لیئے کوئی نئے نہیں ہیں کہ انکے فکری بصیرت کے کالم اور قطعات برابر اس ویب سائٹ پر شائع ہوتے رہتے ہیں۔
شمس جیلانی صاحب ایک ہشت پہلو شخصیت ہیں اور جب انکے بارے میں تفصیل سے لکھوں گا تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ دنیا کے ایک سرد ترین کونے میں بیٹھا ہوا ایک ادیب،شاعر اور تاریخ نویس کس طرح محبت کی حدت کو تقسیم کر رہا ہے اور وہ بھی بلا مفاد۔
محترم شمس جیلانی کی جو کتابیں ڈاک کے ذریعے ملی ہیں ان میں انکی تازہ ترین تصنیف
‘‘روشنی حرا سے‘‘ بھی شامل ہے جو سیرت النبی پر مشتمل ایک نادر اور قلب کُشا کتاب ہے اور ایسی کتاب‘‘تا نا بخشد خدائے بخشندہ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔
اسکے علاوہ انکی دیگر کتب
صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اسلام اور حقوق العباد اور ذیابیطس کے موضوع پر ایک کتاب ہے جس کے وہ مترجم ہیں۔ ان تمام تخلیقات پر جلد ہی اپنے خیالات لکھوں گا۔

جرمنی کے شہر
برلن میں مقیم برادرم عارف نقوی ترقی پسند تحریک کا ایک معتبر نام ہے اور یہ انکی محبت اور بڑا پن ہے کہ وہ مجھ جیسے ہیچ مدان کو بھی اپنی بے پایاں محبتوں میں شامل رکھتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل نیدر لینڈ کے شیر ‘‘دی ہیگ‘‘ میں ہونے والے بین الیورپی مشاعرے کے موقع پر انہوں نے اپنی تازہ تصنیف
‘‘یادوں کے چراغ‘‘ مرحمت فرمائی
جس کی ورق گرادنی سے معلوم ہوا کہ حقیقت میں بڑے لوگ مجھ جیسے لوگوں کی طرح بہت زیادہ باتیں نہیں کرتے اور اپنی ذات کی تشہیر سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اس کتاب میں عارف نقوی کی زندگی کے تمام روشن پہلو موجود ہیں۔ یادوں کے یہ ایسے چراغ ہیں کہ جن سے دوسرے بھی روشنی حاصل؛کر سکتے ہیں۔
عارف نقوی کی اس کتاب پر بھی اظہار خیال کرنا ہے اور بہت جلد۔انشااللہ
کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں مقیم ڈاکٹر تقی عابدی عمر میں تو مجھ سے دو برس چھوٹے ہیں لیکن انکا

ادبی قد مجھ سے بہت دراز ہے اور خالق لوح و قلم نے انکے قلم کو‘‘شہپر جبرئیل‘‘ کی قوت دی ہے۔
وہ پچھلے کئی برس سے تحقیق کے میدان میں ایسے ایسے بڑے نمایاں کام کر چکے ہیں جو پوری پوری جماعتوں کے کرنے کے تھے لیکن انہوں نے تن تنہا ان کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ میر انیس اور مرزا دبیر سے لیکر نجم آفندی تک اور اب غالب کے دیوان نعت ومنقبت سے تعشق لکھنوی کی شخصیت،فن اور کالم تک شائع ہونے والا کام کسی طمع، لالچ، مشہوری اور مفاد کے بغیر ہے۔
طب کےمصروف ترین شعبے سے منسلک ہونے کے باجود اردو ادب کے لیئے اتنا وقت نکالنا صرف اور صرف ان پر رحمت خالق لوح و قلم کے ہونے کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی یہ تازہ کتابیں مجھے بھارت سے
ڈاکٹر شاہد حسین صاحب نے ارسال کی ہیں جس کے لیئے میں انکا ممنون احسان ہوں اور بہت جلد ان کتابوں کے حوالے سے مجھے تحریر کرنا ہے۔
ایک اور کتاب جو مجھے آسٹریلیا کے شہر میلبورن سے ملی ہے وہ جناب احسن عزیز کی ہے ‘‘سفر کیسے کیسے‘‘ اور یہی کتاب آج میری گفتگو کا موضوع بھی ہے۔قابل فخر و ستائش ہیں وہ لوگ جو چاہےدنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں اپنی ثقافت اور اپنی زبان سے اس طرح جُڑے ہوئے ہوتے ہیں جیسے بچہ اپنی ماں کے سینے سے۔
اور کتنے مفلس ہیں وہ لوگ جو اپنے ملک میں رہ کر بھی اپنی ثقافت اور زبان سے کوسوں دور ہوں۔
مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ بیرونی ممالک میں مقیم جتنے لوگوں کو میں جانتا ہوں کہ جو اردو ادب اور زبان کی بلا مفاد خدمت میں مصروف ہیں دراصل ایسے لوگوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو میرے علم میں ہے اور ایسے ہی صاحب فکر و فن ایک شخصیت سے میری شناسائی اور انکے کمال فن سے میری آگاہی یوں تو ابھی چند ماہ سے ہی ہوئی ہے لیکن نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سے برسوں کی آشنائی ہے اور خود انہوں نے اس کتاب پر میرے لیئے یہ شعر لکھ کر میرے اس بیان کی تصدیق کر دی ہے۔
کوئی ہزار بار بھی ملیئے تو اجنبیکوئی بہت ہی دور سے اپنا دکھائی دے
احسن عزیز صاحب سے میری بالمشافہ ملاقات نہیں ہے اور اکتوبر دو ہزار سات میں آسٹریلیا کی ادبی تنظیم اردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا کی دعوت پر جب میں سڈنی اور میلبورن گیا تھا تو بدقسمتی سے احسن عزیز صاحب سے میری ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ انہوں نے میلبورن ریڈیو کی اردو سروس میں میرا انٹرویو سنا تھا اور اسی کے بعد لندن میں ایک خط لکھ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا تھا۔
انکے ٹیلی فون نمبر کی تلاش میں شاید میں کامیاب نہ ہو سکتا اگر مجھے سڈنی میں مقیم بہت خوبصورت افسانہ نگار اور میری دوست اور کرم فرما ڈاکٹر نگہت نسیم کی اعانت حاصل نہ ہوتی کہ جنہوں نے دو روز کی تگ ودو کے بعد احسن عزیز صاحب کا ٹیلی نمبر مجھے تلاش کر کے دیا اور جب ان سے پہلی مرتبہ میری بات لندن سے میلبورن ہوئی تو سچ پوچھیں کہ انکے لہجے میں ایسی اپنائیت تھی کہ یہ پوچھنے کو جی چاہتا تھا کہ ‘‘یار آپ اتنا عرصہ کہاں غائب تھے؟‘‘

احسن عزیز نے خود اپنے بارے میں جو کچھ بتایا وہ دراصل اس سے بہت کم ہے کہ جتنے دراز قد وہ ہیں۔ شاعر،ادیب،مقرر،مصور یاکسی بڑے عہدے پر ہونا تو ایک الگ سی بات ہے لیکن اہم ترین بات آپ کا ‘‘اچھا انسان‘‘ہونا ہے اور احسن عزیز اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے انسان بھی ہیں کہ میرا یہ عمر عزیز کا تجربہ ہے کہ لہجہ جھوٹ نہیں بولتا۔
احسن عزیز ایک طویل عرصے سے آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں مقیم ہیں لیکن انکی اردو زبان کو نہ تو زنگ لگا ہے اور نہ ہی اسمیں کوئی ملاوٹ ہو سکی ہے اور اسکا اظہار انکی گفتگو سے بھی اسی قدر ہوتا ہے جس قدر انکے اشعار میں۔اردو کے اس عاشق صادق کا تعلق لکھنؤ،دلی یا لاہور سے نہیں بلکہ بی اے آنرز اور انگریزی ادب میں ایم اے انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے کیا اور پھر کیمرج یونیورسٹی سے انگریزی میں triposکیا اور چاٹگام یونیورسٹی میں سینئر لیکچرر ہو گئے جس کے بعد آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ میں انگریزی ادب کے استاد ہو گئے اور پھر swinburneیونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھایا۔
انگریزی ادب پڑھانے اور اردو ادب سے عشق کرنے والے احسن عزیز نے شاعری کی شروعات نو دس سال کی عمر میں کی تھی اور وہ بھی میری طرح شاعری میں کسی کے شاگرد نہیں ہیں۔
انکا پہلا مجموعہ
‘‘ایک رشتہ غم‘‘ 1986میں انجمن ترقی اردو کی زیر نگرانی شائع ہوا تھا اور ‘‘سفر کیسے کیسے‘‘ انکا دوسرا مجموعہ ہے جو دو ہزار چھ میں شائع ہوا ہے ۔
272

صفحات کے اس مجموعے میں 247غزلیں ہیں اور بقول انکے کوئی پانچ سو غزلیں ابھی طباعت کی منتظر ہیں۔ اس کتاب کا سرورق معروف مصور گل جی کے بیٹے امین گل جی نے بنایا ہے جنہوں نے موئے قلم سے موضوع سخن میں جان ڈال دی ہے۔
اس کتاب پر احسن عزیز اور انکی شاعری کے بارے میں سید وصی شاہ۔اجمل نیازی اور منیر نیازی نے جو کچھ تحریر کیا ہے میں شاید اس میں مزید کوئی اضافہ نہ کر سکوں ماسوائے اس کے کہ پاکستان اور بھارت کے اردو مراکز سے دور رہ کر جو لوگ اردو ادب کی شمع روشن کیئے ہوئے ہیں تویہ صرف انکی ذاتی مساعی ہیں جن میں کسی اردو کی تنظیم یا ادارے کا عمل دخل نہیں، یہاں تک کہ ایسے لوگ اپنے رزق حلال سے اپنی یہ کتابیں شائع کرواتے ہیں اور انکی اشاعت کئ جان گسل مراحل سے گزر کر انہیں متعلقہ افراد تک پہنچانا بھی ایک مسلہ ہوتا ہے کہ شاعر یاادیب کی بات اس حلقے تک بھی پہنچ پائے جس کے لیئے اس نے لکھا ہے۔
ہمارے ہاں چونکہ مطالعے کا رواج اب ختم ہو چکا ہے اس لیئے کتاب کی فروخت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ شاعر ادیب کو اپنی ذاتی جیب سے ڈاک کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے اور کتاب احباب تک پہنچانا پڑتی ہے۔ خود احسن عزیز کو بھی اس صورت حال کا قلق ہے اور وہ کہتے ہیں کہ‘‘جو جرائد اور اخبارات انکا کلام شائع کرتے ہیں اور ایک اعزازی کاپی تک بھی بھیجنے کی زحمت نہیں کرتے‘‘۔
اب ایسے حالات میں بیرونی ملک میں بیٹھ کر کہ جہاں اسے لکھنے کی کوئی تحریک نہیں اور کوئی اسے سننا والا بھی نہیں،ایسے دل کے مضبوط لوگوں کا لکھتے رہنا اور پھر اسے شائع بھی کروانا پیغمبرانہ جہد مسلسل نہیں تو اور کیا ہے۔
احسن عزیز اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ میلبورن میں ہی مقیم انکے بچے انکے اس کام میں معاون ہیں ورنہ میں کتنے ہی ایسے قلم کاروں کو جانتا ہوں کہ انکے گھر والے انکی حوصلہ شکنی میں اسقدر معاون ہیں کہ انکے ہوتے ہوئے تخلیقی کام میں منہمک رہنا بھی ایک معجزہ ہے۔

میرے عزیز دوست اور لاہور کے ساتھی ڈاکٹر اجمل نیازی نے بالکل درست کہا ہے کہ
‘‘احسن عزیز کی شاعری جدت اور روایت کی سانجھی سرحد پر کھڑے آدمی کی شاعری ہے اور انکے کلام کی پختگی کے ساتھ ساتھ انکے سفر کی کہانی انکے شعروں میں جابجا موجودہے‘‘۔میں نے خود اس کتاب کے مطالعے کے دوران اس بات کو شدت سے محسوس کیا ہے کہ احسن عزیز کے اشعار میں الفاظ اور خیال اپنی ہیئت کی تمام تر قوت کے ساتھ موجود ہے۔انکے اشعار میں یوں لگتا ہے کہ کوئی اسرار موجود ہے جسے وہ کھولنا تو چاہتے ہیں لیکن شاید اذن ہی نہیں کہ یہ اسرار منکشف ہو پائے۔
احسن عزیز آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں مقیم ہیں جہاں کچھ اور لوگ بھی اپنے اپنے طور پر ادبی سفر میں منہمک ہیں لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے احسن عزیز ایسی ادبی محفلوں سے بھی دور دور ہیں اور شاید اسکی ایک وجہ بھی انکے کلام کی پختگی ہے جسے سننے اور سمجھنے کے لیئے بھی سامع اور قاری کے پاس کچھ علم ہوناچاہیئے جو فی زمانہ مفقود ہی نظر آتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود احسن عزیز اپنا قلمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایک عہد ساز شاعر مرحوم منیر نیازی نے احسن عزیز کے بارے میں سچی بات کہی ہے کہ
‘‘احسن عزیز کی شاعری اس مسافر کی داستان ہے جو چلتے چلتے تھک جائے،سانس ہار جائے،صلیب گھسیٹتا جائے مگر پھر بھی چلتا جائے۔ میں نے‘سفر کیسے کسیے‘ کو ایک روایتی سے شاعر کی روایتی کتاب سمجھ کر شروع کیا لیکن جلد ہی شاعر کے ساتھ تحیر اور اسرار کے سراب میں کھو گیا‘‘
سچ پوچھیں تو خود میرا اپنا حال بھی یہی ہے کہ فنی پختگی کے ساتھ ساتھ خیال کی پختگی نے مجھے بھی منیر نیازی اور اجمل نیازی کی طرح ایک ایسی منزل پر لا کھڑا کیا ہے احسن عزیز کے کتنے ہی اشعار مجھ پر وا ہوتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ اپنے منظر میں لے جاتے ہیں۔
میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میں کسی بھی کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہمیشہ اقتباسات اور منتخب اشعار لکھنے سے اس لیئے بھی گریز کرتا ہوں کہ اس طرح ہم قاری کو کتاب کے مطالعے سے دور رکھتے ہیں اور
‘‘ٹیک اوے‘‘ کی طرح کسی بھی کتاب کی تلخیص اسے بتا کر اسکا کام آسان کر دیتے ہیں۔
اپنے اس اصول کے باوجود جی چاہتا ہے کہ آج کم ازکم دوچارشعر احسن عزیز کے ضرور لکھوں کہ ان اشعار نے مجھ پر راز منکشف کرنے کی بجائے مزید پر اسرار بنا دیا ہے۔
زندگی تھی یا کہ جیسے خواب میں جاگا رہاجانے ہر لمحہ یہ کس کے قرب کا دھڑکا رہا۔۔۔۔کیا سفر،کب شروع،کہاں ہو ختمپاؤں میں تو رکاب ہے صاحب۔۔۔۔صلیبیں سب کی الگ ایک زندگانی ہےگزر رہی ہے جومجھ پر تری کہانی ہےاورجسے دیکھا نہیں،جس سے ملا تک ہی نہیں احسنوہ میری زندگی کے جیسے ہر لمحے میں شامل تھا
احسن عزیز شعر لکھتے نہیں بلکہ شعر اپنے آپ کو ان سے لکھواتے ہیں۔
آسٹریلیا میں جہاں
ڈاکٹر نگہت نیسم ،فرحت اقبال،اوم کرشن راحت،ڈاکٹر کوثر جمال اور ایسے ہی چند دیگر پختہ لکھنے والے ہیں ان میں احسن عزیز میرے نزدیک صف اول کے ایک مستند شاعر ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو سوسائٹی کے علاوہ بھی کوئی ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں یہ سب لوگ مل کر اردو ادب کی خدمت کے ساتھ خود کوبھی ایک دوسرے سے متعارف کرواسکیں ورنہ تو یہ سب ‘‘لعل گواچے‘‘ ہی رہ جائیں گے۔