Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 07 Jan 2009 17:29:03   |   |   |  Text Only Version

Thu, 17 Apr 2008 13:34:00

مولانا بشیرالدین قادری



بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ اشخاص عظیم الشان و عظیم المرتبت تاریخی کام کرنے کے بعد بھی سرخیوں میں نہیں آتے اور خاموشی سے اس دارفانی کو الوداع کہہ دیتے ہیں۔ورنہ  اگر وہ چاہے تو اپنے فن سے کروڑوں کی بارش کرلیں۔ مگر ایسا اس لیے نہیں ہوتا کیوں کہ علم وہنر وفن کی وراثت والا آدمی تو عموماً کسم پرسی اور بے نامی میں ہی زندگی گذاردیتا ہے۔ ایسے ہی ایک پایہ کی شخصیت ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے شاہ جہاں پور علاقہ میں رہی ہے کہ جیسا عظیم کارنامہ جس نے بین المذاہب ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کے لئے کیا ہے، شاید آج تک کسی نے نہ کیا ہوگا۔بیک وقت قرآن شریف اورمقدس گیتاسے شناسائی رکھنے والے کو بہت سے مولوی وپنڈت حضرات تو ضرور ہوں گے مگر ایسا کوئی شخص نہ ہوگا کہ جس نے بیک وقت نہ صرف قرآن اور گیتا کو حفظ کیا ہوا ہوگا بلکہ قرآن کو سنسکرت اور گیتا کو عربی میں بڑے تپاک کے ساتھ ترجمہ کیا ہوگا۔

یہی نہیں،ایسے بھی شاید کوئی مولوی صاحب یا پنڈت جی نہ ہوں گے کہ جن کے پاس بیک وقت حافظ حضرات وپنڈت حضرات کی لائن لگی ہوگی اور جو تلاوت سیکھنے وسنسکرت کے شلوکوں کی تصحیح کرانے کے لئے ایک ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں کہ جس کو پنڈت ومولانا کے القاب سے نوازا گیا ہو۔ شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو کہ جس نے قرآن شریف اور گیتا کے ایک ایک لفظ کو کھنگال کر ریسرچ کی ہوگی اور یہ پایا ہوگا کہ ان دونوں مقدس مذہبی کتابوں کے ساٹھ فیصد احکامات بالکل ایک جیسے ہیں۔ مثال کے طور پر جہاں تک حقوق العباد، خواتین، بوڑھوں، کمزور وبچوں وغیرہ کے ساتھ نرمی کا سلوک، پڑوسیوں کے ساتھ سلوک، عام انسانی ہمدردی، مساوات، مکروفریب اور جھوٹ سے پرہیز جیسے معاملات کی بات ہے، گیتا اور قرآن، دونوں ہی ایک طرح کی حکایات دیتے ہیں۔

صوبہ اتر پردیش کی تاریخی،انسان شناس وادب شناس نگری شاہ جہاںپور میں الحاج ڈاکٹر حضرت قاری پنڈت مولانا بشیرالدین قادری شاہ جہانپوری ایک ایسے مدبر، مفکر ومصنف رہ چکے ہیں کہ جنہوں نے یہ کام انجام دیا ہے ۔بغیر کسی زیروزبر اور بغیر کسی ''اُپسرگ''و ''ہلنت'' کے فرق کے، پنڈت مولانابشیرالدین نے ان دونوں مذہبی کتابوں کو ترجمہ کے ساتھ حفظ کیا ہوا تھا ۔

اس عالم دین و قائد انسانیت نے اپنی تمام عمر کسمپرسی میں گذاردی ۔حد تو یہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعدگاندھی فیض عام کالج،شاہ جہانپور نے کہ جہاں وہ درس وتدریس کے سلسلہ سے جڑے تھے ،آج تک ان کے ریٹائرمنٹ کے فنڈ ان کے غریب خاندان کو نہیں دئے ہیں۔ ان کی مرحومہ شریک حیات تمیزن بیگم نے مرتے دم تک ان کی ڈھائی ہزار سے بھی زیادہ جمع کی گئی وخود کی تحریرکردہ کتابوں کو کافی عرصہ تک سنبھال کر رکھا ۔ انھوں نے مختلف سرکاروں وسیاسی رہنمائوں سے اسپیشل گرانٹ کی درخواست کی تھی کہ اس عظیم ادبی اثاثہ کو میموریل یا اکیڈمی کی شکل میں محفوظ کیا جائے مگر ان کی بات پر کسی نے کان نہ دھرا۔ تمیزن بیگم کے انتقال کے بعد اس اثاثہ کو سنبھال کر رکھنے کی ذمہ داری ان کے سب سے چھوٹے فرزند جناب ظفرالدین قادری نے لے لی ہے۔

اپنی ریسرچ میں پنڈت مولانا بشیر الدین صاحب  نے فرمایا ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتیں اور گیتا کے بیشتر شلوکوں کا لب لباب ایک ہی ہے ۔راقم کا عقیدہ ہے کہ قلب گیتی پر علم وعرفان وآگہی کا کے جو مجسم صحیفے البام ہوتے رہتے ہیں ،پنڈت مولانا بشیرالدین ،ان میں سے ایک تھے ۔ ان کے پیکر خاکی میں جوروشن صفات جلوہ گرتھیں ، وہ بلاشبہ ان لوگوں کو ودیعت ہوتی ہیں ،جوخداکے پسندیدہ بندوں میں سے ہوں۔ قاری صاحب نہ صرف ایک عالم باعمل بلکہ تعلیمات واحکام خداوندی کے بہت بڑے مبلغ بھی تھے۔

''فرینڈز فار ایجوکیشن ''نے حکومت سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ پنڈت بشیرالدین کا نام ''بھارت رتن'' یا ادبیات کے لئے ''نوبل پرائز''  کے لئے منتخب کرے کیونکہ وہ قومی یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی کے اتنے ہی بڑے علمبردار تھے کہ جیسے مولانا آزاد ،مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو یا مارٹن لوتھر کنگ۔ یہی نہیں، شاہجہاں پور میں کم از کم ایک سڑک یا کالج کا نام بھی ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔ پچھلے اترپردیش الیکشن کے دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری جناب اشوک گہلوت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ پنڈت بشیرالدین کا ایک میموریل شاہجہانپور میں بنوائیںگے مگر ایسا اب تک ہوا نہیں۔

اپنے والد پنڈت بشیرالدین کے وصال کے بعد سید محمد معز الدین قادری نے اسکول اور کالجوں میں اول آنے والے طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے ''پنڈت بشیرالدین ایوارڈ ''چلانے کے ساتھ ساتھ ''کتب خانہ بشیریہ'' بھی قائم کیا۔ پنڈت بشیرالدین کی پیدائش شاہجہانپور کے تھانہ کلاںکے گائوں مالوں کے مولوی خیرالدین کے خاندان میں ٥ اکتوبر 2000کو ہوئی تھی جو للما گائوں ،بدایوں میں پرائمری اسکول کے استاد تھے ۔ پنڈت بشیرالدین نے پرائمری تعلیم یہیں سے حاصل کرکے 1922میں بریلی انٹرمیڈیٹ کالج سے امتحان پاس کیا اور 1929میں سنسکرت میں علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ وہیںسے سنسکرت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ۔پھر ان کا درس وتدریس کا سلسلہ ٣٣سال تک چل کر 1986میں ان کے ریٹائرمنٹ پر ختم ہوا۔ ان کی ایک کتاب ''تاریخ ہندی قرون وسطی''علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے کورس میں لگی ہوئی ہے۔

علاوہ ازیں جو مختلف کتابیں انھوں نے تحریر کیں ہیں ان میں ''پوروکالین بھارت''، ''حضرت احمد اللہ شہید''، ''رسول شاہد ومشہود'' ،''ہندی گرامر''، ''ہندی کے مسلم کوی، ''قصص القرآن''، ''ملک وملت کا پہلا شہید '' وغیرہ خاص ہیں۔ درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تخلیق کئے گئے ان کے مقالات ومضامین سے جہاں ان کی وسیع النظری ،وسعت مطالعہ اور عمیق تجربہ کا اندازہ ہوتا ہے ، وہاں زبان وبیان پر ان کی قدرت کا پتہ بھی چلتا ہے۔ پروفیسر حاجی محمد ظہیرالدین کوثر شاہ جہانپوری سابق پرنسپل لاسن کالج، کراچی، پاکستان نے اپنی تصنیف ''شاہراہ علم وعمل'' میں رقم کیا ہے کہ پنڈت بشیرالدین صاحب ایک بہترین معلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلی درجہ کے ماہر تعلیم بھی تھے اور اکثر اوقات درون وبیرون بھارت تعلیمی کانفرنسوں ،سمیناروں اور مذاکروں میں مدعو کئے جاتے تھے اور پرستاران علم ان کے روح پرور خیالات وافکار سے خوب اپنی پیاس بجھاتے۔ اس سلسلے میں وہ دومرتبہ پاکستان بھی تشریف لائے۔ پہلی مرتبہ انھوں نے 1950میں پشاور اور دوسری دفعہ 1955میں خیرپور سندھ میں ''آل پاکستان ایجوکیشن کانفرنس '' میں بھارت کی نمائندگی کی۔ انھوں نے ان کانفرنسوں میں جو مغز مقالے پڑھے وہ یہاں کے رسائل میں بھی شائع ہوئے ۔

جس طرح ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں ملتی ہیں ،اسی طرح ان کی تکلیفات بھی متنوں اور گوناگوں موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں ۔ انھوں نے تاریخ ،مذہبیات ، تصوف ،سیرت ،تنقید، سوانح عمری، ادب، لسانیات، سیاسیات غرض ہر اس موضوع پر قلم اٹھایا جس کا انسان اور اس کی زندگی سے کسی نہ کسی انداز سے کوئی واسطہ ہے۔ ان کی تصانیف چالیس سے بھی زیادہ ہے۔

 مگر جس علمی کارنامے نے انہیں شہرت عام اور بقائے دوام کی مسند پر فائز کیا ہے، وہ ان کی تاریخ نویسی ہے۔ انہوں نے بارہ سال کی مسلسل جدوجہد، تحقیق وتجسس اور محنت شاقہ کے بعد تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ''تاریخِ ہندی قرون وسطیٰ'' ترتیب دی، وہ شاہراہِ تاریخ پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ قاری صاحب کے اس تاریخی کارنامہ پر پروفیسر محمد حبیب صدر مسلم سیاسیات، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ نے جو اپنے مقدمہ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے:''سالہا سال کے مسلسل ووسیع مطالعہ نیز تحیق وتدقیق کے بعد قاری محمد بشیر الدین ایم۔ اے۔ پنڈت نے جو گاندھی فیض عام کالج شاہ جہاں پور سے تعلق رکھتے ہیں، ہندوستان کے وسطیٰ پر ایک تاریخ ترتیب دی ہے جو اپنے مضمون پر قول فیصل کا درجہ رکھتی ہے۔ تالیف مذکور کی ترتیب وتدوین کے لیے مولف کے اندر بعض وہ اہم خصوصیات ہیں جن میں وہ آپ منفرد ہیں۔ ان کو فارسی، ہندی وسنسکرت مآخذات پر عبور حاصل ہے۔ نیز تاریخ کے موجودہ انگریزی لٹریچر سے بھی بخوبی واقف ہیں علاوہ ازیں ان کا دماغ فرقہ وارانہ نیز سماجی تاثرات سے پاک وصاف ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جہاں تک شواہد ودلائل کا تعلق ہے، انہوںنے تاریخ کے مروجہ آئین وضوابط کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے۔''

12 فروری 1988 کو پنڈت مولانا بشیرالدین کا وصال ہوا اور اس کے بعد تمیزن بیگم کے پاس اتناسرمایہ بھی نہ تھا کہ وہ ''تاریخ ہندی قرون وسطیٰ'' کے تیسرے حصہ کی طباعت کا پیسہ بھی نہ جٹاسکیں۔ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ قلم سے جہاد کرنے والے زیادہ تر حضرات کی زندگی اسی طرح سے کسمپرسی اور مجبوری کی حالت میں گذرتی ہے۔ کئی مرتبہ تو قرضہ کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ پنڈت مولانا بشیرالدین اگر چاہتے تو اپنے اس عظیم علمی سرمایہ سے پیسہ کا انبار لگالیتے مگر چونکہ خودداری ان کا تکیہ کلام تھا، انہوں نے اپنے جیتے جی کسی سے بھی اس قسم کی کوئی درخواست نہ کی کہ جس سے ان کی انا کو ٹھیس پہنچتی۔ اب سرکار کا یہ فرض بنتا ہے کہ اتنے مدبر عالم کو''بھارت رتن''  جیسے ایوارڈ سے نوازکر نہ صرف انصاف کا ثبوت دے بلکہ اس بات کی بھی فراخ دلی دکھائے کہ اس کے دل میں ملت کے لیے بھی تھوڑی سی جگہ ہے۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

5 / 5 (1 ووٹ)

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

 مزید خبریں اورمضامین

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com