بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ اشخاص عظیم الشان و عظیم المرتبت تاریخی کام کرنے کے بعد بھی سرخیوں میں نہیں آتے اور خاموشی سے اس دارفانی کو الوداع کہہ دیتے ہیں۔ورنہ اگر وہ چاہے تو اپنے فن سے کروڑوں کی بارش کرلیں۔ مگر ایسا اس لیے نہیں ہوتا کیوں کہ علم وہنر وفن کی وراثت والا آدمی تو عموماً کسم پرسی اور بے نامی میں ہی زندگی گذاردیتا ہے۔ ایسے ہی ایک پایہ کی شخصیت ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے شاہ جہاں پور علاقہ میں رہی ہے کہ جیسا عظیم کارنامہ جس نے بین المذاہب ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کے لئے کیا ہے، شاید آج تک کسی نے نہ کیا ہوگا۔بیک وقت قرآن شریف اورمقدس گیتاسے شناسائی رکھنے والے کو بہت سے مولوی وپنڈت حضرات تو ضرور ہوں گے مگر ایسا کوئی شخص نہ ہوگا کہ جس نے بیک وقت نہ صرف قرآن اور گیتا کو حفظ کیا ہوا ہوگا بلکہ قرآن کو سنسکرت اور گیتا کو عربی میں بڑے تپاک کے ساتھ ترجمہ کیا ہوگا۔
یہی نہیں،ایسے بھی شاید کوئی مولوی صاحب یا پنڈت جی نہ ہوں گے کہ جن کے پاس بیک وقت حافظ حضرات وپنڈت حضرات کی لائن لگی ہوگی اور جو تلاوت سیکھنے وسنسکرت کے شلوکوں کی تصحیح کرانے کے لئے ایک ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں کہ جس کو پنڈت ومولانا کے القاب سے نوازا گیا ہو۔ شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو کہ جس نے قرآن شریف اور گیتا کے ایک ایک لفظ کو کھنگال کر ریسرچ کی ہوگی اور یہ پایا ہوگا کہ ان دونوں مقدس مذہبی کتابوں کے ساٹھ فیصد احکامات بالکل ایک جیسے ہیں۔ مثال کے طور پر جہاں تک حقوق العباد، خواتین، بوڑھوں، کمزور وبچوں وغیرہ کے ساتھ نرمی کا سلوک، پڑوسیوں کے ساتھ سلوک، عام انسانی ہمدردی، مساوات، مکروفریب اور جھوٹ سے پرہیز جیسے معاملات کی بات ہے، گیتا اور قرآن، دونوں ہی ایک طرح کی حکایات دیتے ہیں۔
صوبہ اتر پردیش کی تاریخی،انسان شناس وادب شناس نگری شاہ جہاںپور میں الحاج ڈاکٹر حضرت قاری پنڈت مولانا بشیرالدین قادری شاہ جہانپوری ایک ایسے مدبر، مفکر ومصنف رہ چکے ہیں کہ جنہوں نے یہ کام انجام دیا ہے ۔بغیر کسی زیروزبر اور بغیر کسی ''اُپسرگ''و ''ہلنت'' کے فرق کے، پنڈت مولانابشیرالدین نے ان دونوں مذہبی کتابوں کو ترجمہ کے ساتھ حفظ کیا ہوا تھا ۔
اس عالم دین و قائد انسانیت نے اپنی تمام عمر کسمپرسی میں گذاردی ۔حد تو یہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعدگاندھی فیض عام کالج،شاہ جہانپور نے کہ جہاں وہ درس وتدریس کے سلسلہ سے جڑے تھے ،آج تک ان کے ریٹائرمنٹ کے فنڈ ان کے غریب خاندان کو نہیں دئے ہیں۔ ان کی مرحومہ شریک حیات تمیزن بیگم نے مرتے دم تک ان کی ڈھائی ہزار سے بھی زیادہ جمع کی گئی وخود کی تحریرکردہ کتابوں کو کافی عرصہ تک سنبھال کر رکھا ۔ انھوں نے مختلف سرکاروں وسیاسی رہنمائوں سے اسپیشل گرانٹ کی درخواست کی تھی کہ اس عظیم ادبی اثاثہ کو میموریل یا اکیڈمی کی شکل میں محفوظ کیا جائے مگر ان کی بات پر کسی نے کان نہ دھرا۔ تمیزن بیگم کے انتقال کے بعد اس اثاثہ کو سنبھال کر رکھنے کی ذمہ داری ان کے سب سے چھوٹے فرزند جناب ظفرالدین قادری نے لے لی ہے۔
اپنی ریسرچ میں پنڈت مولانا بشیر الدین صاحب نے فرمایا ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتیں اور گیتا کے بیشتر شلوکوں کا لب لباب ایک ہی ہے ۔راقم کا عقیدہ ہے کہ قلب گیتی پر علم وعرفان وآگہی کا کے جو مجسم صحیفے البام ہوتے رہتے ہیں ،پنڈت مولانا بشیرالدین ،ان میں سے ایک تھے ۔ ان کے پیکر خاکی میں جوروشن صفات جلوہ گرتھیں ، وہ بلاشبہ ان لوگوں کو ودیعت ہوتی ہیں ،جوخداکے پسندیدہ بندوں میں سے ہوں۔ قاری صاحب نہ صرف ایک عالم باعمل بلکہ تعلیمات واحکام خداوندی کے بہت بڑے مبلغ بھی تھے۔
''فرینڈز فار ایجوکیشن ''نے حکومت سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ پنڈت بشیرالدین کا نام ''بھارت رتن'' یا ادبیات کے لئے ''نوبل پرائز'' کے لئے منتخب کرے کیونکہ وہ قومی یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی کے اتنے ہی بڑے علمبردار تھے کہ جیسے مولانا آزاد ،مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو یا مارٹن لوتھر کنگ۔ یہی نہیں، شاہجہاں پور میں کم از کم ایک سڑک یا کالج کا نام بھی ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔ پچھلے اترپردیش الیکشن کے دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری جناب اشوک گہلوت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ پنڈت بشیرالدین کا ایک میموریل شاہجہانپور میں بنوائیںگے مگر ایسا اب تک ہوا نہیں۔
اپنے والد پنڈت بشیرالدین کے وصال کے بعد سید محمد معز الدین قادری نے اسکول اور کالجوں میں اول آنے والے طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے ''پنڈت بشیرالدین ایوارڈ ''چلانے کے ساتھ ساتھ ''کتب خانہ بشیریہ'' بھی قائم کیا۔ پنڈت بشیرالدین کی پیدائش شاہجہانپور کے تھانہ کلاںکے گائوں مالوں کے مولوی خیرالدین کے خاندان میں ٥ اکتوبر 2000کو ہوئی تھی جو للما گائوں ،بدایوں میں پرائمری اسکول کے استاد تھے ۔ پنڈت بشیرالدین نے پرائمری تعلیم یہیں سے حاصل کرکے 1922میں بریلی انٹرمیڈیٹ کالج سے امتحان پاس کیا اور 1929میں سنسکرت میں علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ وہیںسے سنسکرت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ۔پھر ان کا درس وتدریس کا سلسلہ ٣٣سال تک چل کر 1986میں ان کے ریٹائرمنٹ پر ختم ہوا۔ ان کی ایک کتاب ''تاریخ ہندی قرون وسطی''علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے کورس میں لگی ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں جو مختلف کتابیں انھوں نے تحریر کیں ہیں ان میں ''پوروکالین بھارت''، ''حضرت احمد اللہ شہید''، ''رسول شاہد ومشہود'' ،''ہندی گرامر''، ''ہندی کے مسلم کوی، ''قصص القرآن''، ''ملک وملت کا پہلا شہید '' وغیرہ خاص ہیں۔ درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تخلیق کئے گئے ان کے مقالات ومضامین سے جہاں ان کی وسیع النظری ،وسعت مطالعہ اور عمیق تجربہ کا اندازہ ہوتا ہے ، وہاں زبان وبیان پر ان کی قدرت کا پتہ بھی چلتا ہے۔ پروفیسر حاجی محمد ظہیرالدین کوثر شاہ جہانپوری سابق پرنسپل لاسن کالج، کراچی، پاکستان نے اپنی تصنیف ''شاہراہ علم وعمل'' میں رقم کیا ہے کہ پنڈت بشیرالدین صاحب ایک بہترین معلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلی درجہ کے ماہر تعلیم بھی تھے اور اکثر اوقات درون وبیرون بھارت تعلیمی کانفرنسوں ،سمیناروں اور مذاکروں میں مدعو کئے جاتے تھے اور پرستاران علم ان کے روح پرور خیالات وافکار سے خوب اپنی پیاس بجھاتے۔ اس سلسلے میں وہ دومرتبہ پاکستان بھی تشریف لائے۔ پہلی مرتبہ انھوں نے 1950میں پشاور اور دوسری دفعہ 1955میں خیرپور سندھ میں ''آل پاکستان ایجوکیشن کانفرنس '' میں بھارت کی نمائندگی کی۔ انھوں نے ان کانفرنسوں میں جو مغز مقالے پڑھے وہ یہاں کے رسائل میں بھی شائع ہوئے ۔
جس طرح ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں ملتی ہیں ،اسی طرح ان کی تکلیفات بھی متنوں اور گوناگوں موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں ۔ انھوں نے تاریخ ،مذہبیات ، تصوف ،سیرت ،تنقید، سوانح عمری، ادب، لسانیات، سیاسیات غرض ہر اس موضوع پر قلم اٹھایا جس کا انسان اور اس کی زندگی سے کسی نہ کسی انداز سے کوئی واسطہ ہے۔ ان کی تصانیف چالیس سے بھی زیادہ ہے۔
مگر جس علمی کارنامے نے انہیں شہرت عام اور بقائے دوام کی مسند پر فائز کیا ہے، وہ ان کی تاریخ نویسی ہے۔ انہوں نے بارہ سال کی مسلسل جدوجہد، تحقیق وتجسس اور محنت شاقہ کے بعد تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ''تاریخِ ہندی قرون وسطیٰ'' ترتیب دی، وہ شاہراہِ تاریخ پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ قاری صاحب کے اس تاریخی کارنامہ پر پروفیسر محمد حبیب صدر مسلم سیاسیات، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ نے جو اپنے مقدمہ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے:''سالہا سال کے مسلسل ووسیع مطالعہ نیز تحیق وتدقیق کے بعد قاری محمد بشیر الدین ایم۔ اے۔ پنڈت نے جو گاندھی فیض عام کالج شاہ جہاں پور سے تعلق رکھتے ہیں، ہندوستان کے وسطیٰ پر ایک تاریخ ترتیب دی ہے جو اپنے مضمون پر قول فیصل کا درجہ رکھتی ہے۔ تالیف مذکور کی ترتیب وتدوین کے لیے مولف کے اندر بعض وہ اہم خصوصیات ہیں جن میں وہ آپ منفرد ہیں۔ ان کو فارسی، ہندی وسنسکرت مآخذات پر عبور حاصل ہے۔ نیز تاریخ کے موجودہ انگریزی لٹریچر سے بھی بخوبی واقف ہیں علاوہ ازیں ان کا دماغ فرقہ وارانہ نیز سماجی تاثرات سے پاک وصاف ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جہاں تک شواہد ودلائل کا تعلق ہے، انہوںنے تاریخ کے مروجہ آئین وضوابط کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے۔''
12 فروری 1988 کو پنڈت مولانا بشیرالدین کا وصال ہوا اور اس کے بعد تمیزن بیگم کے پاس اتناسرمایہ بھی نہ تھا کہ وہ ''تاریخ ہندی قرون وسطیٰ'' کے تیسرے حصہ کی طباعت کا پیسہ بھی نہ جٹاسکیں۔ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ قلم سے جہاد کرنے والے زیادہ تر حضرات کی زندگی اسی طرح سے کسمپرسی اور مجبوری کی حالت میں گذرتی ہے۔ کئی مرتبہ تو قرضہ کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ پنڈت مولانا بشیرالدین اگر چاہتے تو اپنے اس عظیم علمی سرمایہ سے پیسہ کا انبار لگالیتے مگر چونکہ خودداری ان کا تکیہ کلام تھا، انہوں نے اپنے جیتے جی کسی سے بھی اس قسم کی کوئی درخواست نہ کی کہ جس سے ان کی انا کو ٹھیس پہنچتی۔ اب سرکار کا یہ فرض بنتا ہے کہ اتنے مدبر عالم کو''بھارت رتن'' جیسے ایوارڈ سے نوازکر نہ صرف انصاف کا ثبوت دے بلکہ اس بات کی بھی فراخ دلی دکھائے کہ اس کے دل میں ملت کے لیے بھی تھوڑی سی جگہ ہے۔