
عراق کے دارالحکومت بغداد میں صدام حسین حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد قومی عجائب گھر سے لوٹے گئے نوادرات میں سات سو کے قریب شام نے ستائیس اپریل دو ہزار آٹھ کو بغداد میں ایک تقریب کے دوران عجائب گھر کو لوٹا دیئےـان میں مٹی کے برتنوں سے لے کر سونے کے نادر زیورات شام ہیں جوشام کی حکومت نے عراق کو واپس کئے جو اس نے غیر قانونی کاروبار کرنے والوں سے برآمد کئے تھے۔
عراق پر سن دو ہزار تین کے امریکی حملے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی افراتفری کے دوران اس عجائب گھر کو لوٹ لیا گیا تھا اور عجائب گھر سے بہت سے تاریخی نوادارات چرا لیئے گئے تھے۔اس لوٹ مار میں کم از کم ایک لاکھ ستر ہزار نوادرات تباہ و برباد ہوگئے ہیں بہت سے نوادارت کو بازیاب کرا لیا گیا ہے لیکن بہت سوں کا اب بھی کچھ پتہ نہیں۔
عراق کو واپس کیئے گئے لاکھوں ڈالر مالیت کے یہ نوادرات سترہ کریٹوں میں بغداد بذریعہ ہوائی جہاز پہنچائے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار تین کے بعد یہ لوٹائے گئے نوادرات کی سب سے بڑی کھیپ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ خطے کے باقی ممالک بھی شام کے اس اقدام کی پیروی کریں گے۔
عراق میں نگران وزیر ثقافت و آثارقدیمہ، محمد عباس العریبی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اردن کا دورہ کریں گے تاکہ وہاں کے حکام کو ایک سو پچاس سے زائد نوادرات جلد ازجلد لوٹانے کی ترغیب دے سکیں۔

عراق پرامریکی حملے سے قبل یہ قومی عجائب گھر دنیا میں تاریخی نودارات کا ایک بہت بڑا خزینہ تھا۔اور اس کا ’اشوریہ ہال‘ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جہاں اس دور کے شاہی محل کی پتھر کی سلیں دیواروں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی چہروں والے دو دیو قامت پروں والے بھینسے اس ہال میں استادہ ہیں۔عجائب گھر کا یہ ہال سن دو ہزار میں ہونے والی لوٹ مار میں محفوظ رہا تھا کیونکہ اس ہال میں موجود پتھر کے نوادارت اس قدر وزنی اور بڑے تھے کہ انہیں اٹھا کر لیے جانا ممکن نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت، یونیسکو نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ بغداد کے میوزیم سے صدام حکومت کے خاتمے کے وقت عجائب گھر سے چوری ہونے والے تقریبا سات ہزار تاریخی نوادرات کا ابھی تک پتہ نہیں لگایا جا سکا۔ان میں تقریبا پچاس نوادرات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ’ نمیبیا کا شیر‘ اور’سمیراین بادشاہ‘ جو سونے اور ہاتھی دانت کی تختیوں پر بنے ہوئے ہیں، بھی اس میں شامل ہیں۔

چار جولائی دو ہزار تین کو دارالحکومت بغداد میں واقع عراق انٹرنیشنل میوزیم نے مصر کے قدیم بادشاہ نمرود کے ذخائر کی مختصر مدت کے لیے نمائش کا اہتمام ہے۔عراق پر جنگ کے بعد وہاں ہونے والی لوٹ مار کے واقعات ختم ہونےکے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ عجائب گھر کا کچھ حصہ نمائش کی غرض سے لوگوں کے لیے کھولا گیا اور ملک کی ممتاز شخصیات اور مشہور صحافیوں کو محض تین گھنٹے کے لیے نمرود کے نوادرات دیکھنے کی اجازت دی گئی۔
عراق میں تعینات امریکی انتظامیہ دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ انیس سو اسی کے عشرے میں دریافت کیے گئے ذخائر اب تک محفوظ ہیں۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ نمرود کے جواہرات کے ذخائر اس صدی میں دریافت کیے گئے سب سے قیمتی نوادرات ہیں۔
انیس سو نوے میں ان نوادرات کو نمائش کے لیے پہلی بار صدام حکومت کے ارکان کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اب نمرود کے خزانے کی گزشتہ تین ہزار برس میں دوسری نمائش ہے۔نمرود کے سونے کے برتنوں کو شہر کے مرکزی بینک لے جا کر محفوظ کرنے سے پہلے صحافیوں اور سفارتکاروں کے سامنے محض چند گھنٹے نمائش کے لیے پیش کیا گیا

عراق پر جنگ کے بعد بغداد کے عجائب گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ذخائر لوٹے گئے۔ تاہم بہت سے نوادرات محفوظ بھی رہےتین ہزار دو سو برس قبل مسیح کے گلدان کے علاوہ دیگر قیمتی اشیاء بھی عجائب گھر کو ٹوٹی ہوئی حالت میں لوٹائی گئیں
تفتیش کاروں کی رائے میں عجائب گھر کی لوٹ مار میں عملے یا کسی متعلقہ شخص کا ہاتھ ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ عجائب گھر لوگوں کے لیے دوبارہ کب کھلے گا۔
امریکی حملے کے بعد عراق میں میسوپوٹامیہ اور سمیرا کے آثارِ قدیمہ کو بے دردی سے مکمل طور پر لوٹ لیا گیا۔اس کے علاوہ بہت سے تاریخی نوادرات تباہ کر دیے گئے۔ امریکی تاجروں کا درینہ مطالبہ تھا کہ ان قدیم تہذیبوں کے نوادرات کو عراق سے باہر لے جانے اور ان کی تجارت پر صدر صدام حسین کی لگائی گئی پابندی ختم ہونی چاہیے۔
عراقی حکومت نے امریکی حملے کے بعد ملک بھر سے لوٹ لئے جانے والے تاریخی نوادرات کی واپسی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ عراق کی وزارت برائے سیاحت، ثقافت و نوادرات میں میڈیا ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات عبدالزہرا الطلاقاتی جو اس منصوبے کے سربراہ ہیں، نے عراق کو اس کے تاریخی ثقافتی ورثے سے محروم کرنے کا ذمہ دار امریکی مسلح افواج کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں دو سمندر تھے ایک تیل کا سمندر اور دوسرا تاریخی نوادرایت کا۔ امریکی فوج نے عراق پر حملے کے بعد تیل کے سمندر کی اچھی طرح حفاظت کی جبکہ تاریخی نوادرات کے سمندر کو بچانے پر کوئی توجہ نہ دی جس کے نتیجہ میں ہزاروں کی تعداد میں قیمتی نوادرات بغداد کے عجائب گھر سمیت ملک بھر کے 1200 مقامات سے لوٹ لئے گئے۔
عبدالزہرا نے مزید بتایا کہ قیمتی نوادرات واپس کرنے والوں کیلئے بھاری انعامات کا اعلان کیا۔ یہ مہم کامیاب رہی اور اب تک 32 ہزار کے قریب نوادرات واپس کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نوادرات کے اصلی ہونے کی جانچ پڑتال کیلئے ایک لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔

گزشتہ برس دسمبر دو ہزار سات میں عراقی ماہرین آثار قدیمہ نے جنوبی بغداد میں کھدائی کے دوران ایک ہزار نوادرات دریافت کر لئے۔ یہ نوادرات گذشتہ روز نیشنل میوزیم کو بھیج دی گئیں۔ عجائب گھر عراق پر 2003ء کو اتحادی افواج کے حملوں کے دوران لوٹ لیا گیا تاہم عجائب گھر کے اہلکار چوری اور لوٹی گئی تقریباً 15 ہزار نوادرات کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ماہر آثار قدیمہ قیس حسنین نے بتایا کہ نوادرات بغداد کے جنوب میں 80 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع دیوانیہ شہر میں تین ٹیموں کی طرف سے کھدائی کے دوران دریافت ہوئیں۔
اپریل دو ہزار تین میں بغداد کے بین الاقوامی عجائب گھر کے ناظم تحقیق (ڈائریکٹر ریسرچ) ڈونی
جارج کا کہنا ہے کہ اس بین الاقوامی عجائب گھر میں ہونے والی لوٹ مار صرف
عراقی عوام کا نقصان نہیں بلکہ پوری انسانیت کا نقصان ہے۔
لندن میں دنیا کے اعلیٰ ترین عجائب گھروں کے مندوبین کے ایک مشترکہ اجلاس
کے دوران ڈاکٹر جارج نے کہا کہ یہ اس صدی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ برطانوی
عجائب گھر میں ہونے والے اس اجلاس کے شرکاء کو بغداد کے بین الاقوامی
عجائب گھر میں ہونے والی لوٹ مار کی تصاویر دکھائی گئیں اور انہیں بتایا
گیا کہ اس لوٹ مار میں کم از کم ایک لاکھ ستر ہزار نوادرات تباہ و برباد
ہوگئے ہیں یا پھر لوٹ لئے گئے ہیں۔
لندن میں منعقدہ اس اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ یہ طے کیا جائے کے کس طرح بین
الاقوامی برادری عراق کے اس لٹے ہوئے یا تباہ و برباد ہوجانے والے ورثہ کی
بقا، حفاظت و بحالی کے لئے کیا کرسکتی ہے۔
ان گم، لاپتہ یا پھر لٹ جانے والے نوادرات میں پانچ ہزار برس پرانا سنگ
مرمر کا ایک گلدان اور کسی بادشاہ کا ایک بے سر کا مجسمہ بھی شامل تھیں۔

ایک آسیریائی بادشاہ کا ایک اور بت جو اس عجائب گھر میں واپس لایا گیا ہے
وہ بھی اب ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہے۔ ان اعلیٰ ترین بین الاقوامی عجائب گھروں نے
امریکہ سے کہا ہے کہ عراقی سرحدوں کو محفوظ بنائے تاکہ ان لٹے ہوئے عراقی
نوادرات کو بیرون ملک منتقل یا برآمد نہ کیا جاسکے۔ان بین الاقوامی عجائب گھروں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی کہا
ہے کہ اس لٹے ہوئے عراقی ثقافتی ورثہ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی
جائے۔
ڈاکٹر جارج کا کہنا ہے کہ ان نوادرات میں سے کئی تو صحافیوں کے ہاتھوں ملک
سے باہر جاچکے ہیں اور سرحدیں امریکی دائرہ اختیار میں نہیں ہیں۔
برطانوی عجائب گھر کے ڈاکٹر جان کرٹس نے بھی ان مندوبین کو عراقی نوادرات
کی لوٹ مار سے آگاہ کیا جو پیرس، کیلیفورنیا، نیویارک، اور سینٹ پیٹرسبرگ
کے عجائب گھروں سے تعلق رکھتے ہیں۔

برطانوی عجائب گھر کے ڈاکٹر کرٹس حال ہی میں بغداد میں واقع عراق کے بین
الاقوامی عجائب گھر کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے بذات خود عراقی
لٹیروں کے ہاتھوں اس عجائب گھر کی تباہی و بربادی کا جائزہ لیا ہے۔
برطانوی عجائب گھر، جو روایتی طور پر عراق سے باہر نوادرات کا سب سے بڑا
ذخیرہ رکھتا ہے نے پہلے ہی محاصرہ میں گھرے اپنے عراقی ہم منصبوں کو
ماہرانہ معاونت کی پیشکش کی ہے۔