Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 07 Jan 2009 16:24:38   |   |   |  Text Only Version

Tue, 06 May 2008 04:58:00

''ہے تجسس جو اگر شمس نہ تھک کر بیٹھو‘‘



چند ہفتے قبل میں نے اُن کرم فرماؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہ جنہوں نے اپنی تخلیقات اس طالب علم کے مطالعے کے لیئے روانہ کی ہیں ایک تفصیلی  مضمون  آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں مقیم شاعر احسن عزیز کے بارے میں لکھا تھا اور اسی مضمون میں ایک اجمالی سا ذکر اپنے نہایت ہی محترم اور عزیز بزرگ دوست حال مقیم وینکور کینڈا ڈاکٹر شمس جیلانی کا کیا تھا اور لکھا تھا کہ ‘‘جن محترم لکھاریوں نے اس طالبعلم کو اپنی تخلیقات روانہ کی ہیں ان میں کینڈا کے شہر وینکور سے میرے بہت ہی عزیز اور کرم فرما بزرگ دوست اور ساتھی جناب شمس جیلانی ہیں جو القمر آن لائن کے قارئین کے لیئے کوئی نئے نہیں ہیں کہ انکے فکری بصیرت کے کالم اور قطعات برابر اس ویب سائٹ پر شائع ہوتے رہتے ہیں‘‘

محترمی و محبی جناب شمس جیلانی کی شخصیت اور انکے ادبی کارناموں کے بارے میں تفصیل سے لکھنے کا وعدہ کرتے ہوئے میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ‘‘شمس جیلانی صاحب ایک ہشت پہلو شخصیت ہیں اور جب انکے بارے میں تفصیل سے لکھوں گا تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ دنیا کے ایک سرد ترین کونے میں بیٹھا ہوا ایک ادیب،شاعر اور تاریخ نویس کس طرح محبت کی حدت کو تقسیم کر رہا ہے اور وہ بھی بلا مفاد۔

محترم شمس جیلانی کی جو کتابیں ڈاک کے ذریعے ملی ہیں ان میں انکی تازہ ترین تصنیف ‘‘روشنی حرا سے‘‘ بھی شامل ہے جو سیرت النبی پر مشتمل ایک نادر اور قلب کُشا کتاب ہے اور ایسی کتاب‘‘تا نا بخشد خدائے بخشندہ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔
اسکے علاوہ انکی دیگر کتب ‘‘صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اسلام اور حقوق العباد اور ذیابیطس‘‘ کے موضوع پر ایک کتاب ہے جس کے وہ مترجم ہیں۔

میں اپنے اس خیال کا برابر اعادہ کرتا رہتا ہوں اور آج بھی کرؤں گا کہ اردو زبان کو بیرونی ممالک میں زندہ رکھنے کے لیئےادیبوں،شاعروں اور محققین  نے علم و ادب اور تحقیق و جستجو کی جو شمع روشن کر رکھی ہے اس کے ذریعے وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف سے بہت افضل ہے اور میں بلاکم و کاست یہ کہہ سکتا ہوں کہ شمس جیلانی اس فہرست میں صف اول کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی عمر کی دھونس جمانے کی بجائے اپنے مطالعے اور اپنی تحریر سے دل میں گھر کرتے ہیں۔

پروردگار لوح و قلم بعض اوقات کچھ خاندانوں کو ان کاموں کے لیئے منتخب کر لیتا ہے اور پھر انہیں اس امتحان سے گزارنے کے ساتھ ساتھ ان پر اپنی رحمت خاص کا سایہ بھی رکھتا ہے اور اسی سائے میں یہ چنیدہ لوگ اپنا قلمی،فکری اور تحریری سفر جاری رکھتے ہیں۔

شمس جیلانی صاحب بھی ایسے ہی ایک خانوادے کی کڑی ہیں جس میں قلم بمثل عَلَم رہا ہے اور اسی عَلَم کے سائے میں نماز عشق ادا ہوتی رہی ہے۔ سچ پوچھیں تو اس خانوادے میں قلم کی حرمت و تکریم کا سلسلہ شمس صاحب پر آ کر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ  دیئے سے دیا جلے کے مصداق شمس صاحب کے قلم کی امانت کا بار انکے چھوٹے بیٹے ۔۔۔۔نے اٹھانے کا عہد کر رکھا ہے۔

بات کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے ایک نظر ذرا شمس جیلانی صاحب کی شائع شدہ کتب پر ڈالتے چلتے ہیں جن میں ‘‘ سورہ فاتحہ اور اس کے تقاضے،اسلام اور حقوق العباد،قصے مخلصین کے،حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور ہفت مسائل،صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اتم ہے انسان، بنیادیات ذیابیطس اور تازہ کتاب سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم،روشنی حرا سے شامل ہیں۔

ان موضوعات سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس تنوع کے باعث میرا یہ کہنا کہ انکی ادبی زندگی ہشت پہلو ہے کوئی غلط نہیں ہے، اور جس طرح وہ ادبی زندگی میں اسقدر تہہ دار ہیں اسی طرح سماجی زندگی میں آپ کی شخصیت ایسی فعال اور متنوع ہے کہ اگر ایک عام آدمی اسکی تفصیل جان لے تو رشک کرے۔

ڈاکٹر شمس جیلانی گیارہ دسمبر 1931میں یو پی بھارت کے شہر پیلی بھیت میں وہاں کے معروف ڈھکیا خاندان میں پیدا ہوئے اور انکے خانوادے میں ادب و ادیب کے ڈانڈے انکے پردادا جلال الدین جلال سے ملتے ہیں جو جن کا مجموعہ ‘‘کلیات جلال ‘‘ کے نام سے موسوم اور علی گڑھ یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے۔ شمس جیلانی کے دادا بھی قلم کار تھے تا ہم انکی تخلیقات نایاب ہیں ۔

 قابل ذکر یہ بات بھی ہے کہ انکے والد کمال الدین کمال بھی صاحب دیوان تھے اور جب شمس جیلانی صاحب کی عمر سات برس کی تھی تو کمال الدین کمال صاحب نے 1938میں پیلی بھیت سے اردو کا اخبار‘‘الکمال‘‘ نکالا تھا۔

خود شمس صاحب نے بقول انکے پہلا شعر 1945 میں14برس کی عمر میں کہا تھا گویا اب ماشااللہ انکا ادبی سفر کوئی 63برس گویا کم ازکم چھ نسلوں پر محیط ہے۔

 انکے خاندان کا ایک اور معتبر نام ان کے چچا ڈاکٹر ذکا الدین شایاں ہیں جو  ایک شاعر اور نقاد کے طور پر بھارت اور دنیا کے دیگر شہروں میں اردو جاننے والوں کے لیئے ایک مقبول اور محترم نام ہے۔

اب ایسے ماحول میں اگر شمس جیلانی ادب کو حرزِ جاں نہ بنائے ہوتے تو حیرت ہوتی اور اسی قلم کی دعا ہے کہ اسوقت بھی لگ بھگ 77برس کی عمر میں وہ ماشااللہ جسقدر فعال اور متحرک ہیں وہ بھی رحمت پروردگار ہی کی بدولت ہے۔

 وطن مولد سے وطن ثانی کینیڈا آنے کے بعد بھی انہوں نے اپنے ادبی سفر کو پوری شدو مد سے جاری رکھا بلکہ اسمیں نئی جہتوں کا اضافہ کیا اور اسوقت وہ کم وبیش 20اداروں اور تنظیموں کے فعال رکن،سربراہ،مشیر اور معتمد ہیں اور اسی تعداد سے انکی مصروف زندگی کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔

شمس جیلانی کے روزمرہ زندگی کے کتنے ہی پہلو ہیں اورہر دوسرا پہلو پہلے سے زیادہ جاذب نظر،فعال اور قابل تقلید۔

وہ ایک خوبصورت اور مہذب خاندان کے سربراہ ہیں،ایک نہایت کامیاب شوہر، شفیق باپ،محبت کرنے والے بزرگ، روشنی پھیلانے والے چراغ، بچوں سے الفت کا مظاہرہ کرنے والے بزرگ، دوستوں کے دوست، ادبی،دینی اور سامجی محفلوں کی جان، اتحاد بین المسلمین کے داعی، مقامی حکومت کے فعال کارندے، دست شفا یاب کے حامل ڈاکٹر، دلوں میں اتر جانے والے ادیب اور شاعر، لوگوں کے مسائل حل کرنے والے منجی، اور محبتوں کی خوشبو پھیلانے والے گُل تر۔

شمس جیلانی ایک فرد اور سربراہ خاندان کے طور پر بھی اس لیئے قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے مغرب میں رہ کر بھی مشرق کی قابل فخر روایات کو زندہ رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر آپ کو اپنی ثقافت اور روایات پر یقین کامل ہے تو آپ کسی بھی معاشرے میں رہ کر اور انکے معاشرے سے غیر ضروری طور پر مرعوب ہوئے بغیر اپنی روایات کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔

ان میں سے سب سے اہم خاندان کی روایت ہے جسے انہوں نے کینڈا میں بھی زندہ رکھا ہے اور وہ اپنے بچوں اور پھر انکے بچوں کے ساتھ ایک کامیاب سربراہ خاندان کی زندگی گزار رہےہیں جو مغرب میں رہ کے بے وجہ طور پر مغرب سے متاثر ہونے والوں کے لیئے ایک روشن مثال ہے۔

پروردگار انکے اس خانوادے کو اسکی اس یگانگت و محبت کو ہر نظر بد سے محفوظ رکھے۔آمین

اسوقت مجھے دراصل شمس جیلانی صاحب کی ہشت پہلو شخصیت میں سے صرف ایک پہلو پر بات کرنا ہے اور وہ ہے انکا ادبی اور قلمی سفر۔وگرنہ یہ سچ ہے کہ اگر انکی شخصیت نگاری مطلوب ہے تو پھر ایک بھاری بھر کم کتاب کے برابر متعدد اقساط صرف انکی شخصیت نگاری کے لیئے درکار ہونگی اور اس پہلو کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں لیکن اس حقیقیت کا اعتراف بھی کرتا چلوں کہ انکی شخصیت باقی تمام پہلوؤں پر اسقدر حاوی ہے کہ بات چاہے کسی بھی رُخ سے کریں ان کی شخصیت کا ذکر ضرور کہیں نہ کہیں آئے گا۔

مضمون کی طوالت کے خوف سے میں انکی تمام کتابوں پر شاید سیر حاصل گفتگو بھی نہیں کر سکوں گا کیونکہ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ انکی ہرایک کتاب اپنے طور پر الگ تفصیل طلب موضوع ہے۔

شمس جیلانی کی کتب کا ایک اجمالی سا جائزہ لینے سے پہلے ایک تاثر کا اظہار کرتا چلوں کہ میں نے ایک ہفتے عشرے کے دوران انکی ارسال کردہ کتب کا مطالعہ کیا ہے اور نظم و نثر کی ان کتب کو پڑھنے کے بعد میں ذاتی طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شمس جیلانی کے ہاتھ میں قلم دراصل ایک مومن کے ہاتھ میں تلوار کی صورت ہے جس سے وہ تطہیر ظاہری اور تطہیر قلبی کا کام لے رہے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیئے وہ کسی سودے بازی یا سمجھوتے پر تیار نہیں ہیں۔

انکا تعلق کسی ادبی دھڑے سے نہیں ہیں،وہ کسی تشہیر کی ضرورت محسوس نہیں کرتے،اردو کے بڑے ادبی مراکز سے دور وینکور جیسے دور دراز خطہ زمین میں بیٹھے خاموشی کے ساتھ اردو ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔حمد ،نعت،غزل،نظم،رباعی،قطعہ،قومی اور ملی نظمیں،کالم،دینی۔سماجی،سیاسی اور اخلاقی موضوعات پر مضامین لکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق،تراجم اور تاریخ نویسی کا کام بھی کرتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ کہوں کہ یہ پروردگار کا کرم خاص ہے کہ عمر عزیز کے اس حصے میں جہاں اکثر لوگ زندگی کے سفر سے تھک کر آرام کا سوچتے ہیں محترم و محبی شمس جیلانی پہلے سے بھی زیادہ فعال ہیں اور بلاشبہ انکے ان سب کاموں کی تکمیل میں سب سے زیادہ حصہ انکی اہلیہ محترمہ اور بچوں کا ہے کہ جو  اس ادبی ،سماجی اور دینی خدمت کے کاموں میں انکے سچے اور حقیقی معاون ہیں۔

ڈاکٹر شمس جیلانی کی کتب پر گفتگو شروع کرنے کے لیئے میں نے انکی سب سے تازہ شائع شدہ کتاب ’روشنی حرا سے‘ کا انتخاب کیا ہے جو سیرت رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم ہے۔

اس کتاب پر میں ایک تفصیلی مضمون پہلے ہی لکھ چکا ہوں لہٰذا اس وقت اس مضمون کے چند مختصر اقتباسات آپکی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس مضمون کا عنوان ہے’’ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘‘

اہلِ قلم کی دنیا میں معدودے چند ہی ایسے قلم کار ہیں کہ جن کی تحریر سے انکی ہو بہو شکل و صورت اور شخصیت کا خاکہ بنایا جا سکتا ہے اور میں اپنی تمام تر خامیوں اور کم علمی کے باوجود ایک بات نہایت وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر شمس جیلانی بلا شبہ ایسے ہی خوش نصین قلم کاروں میں سے ہیں جنکی تحریر ان کی شخصیت کا آئینہ ہے۔

خالقِ لوح وقلم نے انہیں جیسا نفیس،حساس،صاف گو،محبت کرنے والا،انصاف پسند اور عادل صفت ناقدقلم دیا ہے اسی طرح انہیں ایک حساس دل،نفیس خیالات،مطہر جذبات،حق گوئی کا وصف،بلا لحاظِ مذہب و ملت اور رنگ ونسل سب سے محبت کرنے کاسلیقہ،سب کے لیئے انصاف کی طلب اور سب سے انصاف اور اپنے قلم سے نہایت عادلانہ طور پر نقد ونظر کی نعمت خاص سے بھی نوازا ہے۔

میں لگ بھگ گزشتہ بیس برس سے انکے نام اور کام سے شناسا بھی ہوں اور معترف بھی۔لیکن پچیس برسوں میں سے غالب حصہ ایک خاموش قاری کی طرح گزرا لیکن گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے ان سے بالمشافہ ملاقات ہے اور وہ بھی ایسی کہ اگر چند روز بھی ان سے ملے بغیر گزر جائیں تو ایک بے چینی سی ہونے لگتی ہے۔ اس معاملے میں یہ صورت حال ایسی ہی ہے کہ ’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘۔ پانچ برس سے زائد عرصہ ہونے کو آیا کہ ڈاکٹر شمس جیلانی نے القمرآن لائن کے مستقل لکھنے والوں میں شرکت کی اور اس طرح نہ صرف ہمیں اور اپنے قارئین کو عزت بخشی بلکہ مجھ جیسے طالب علموں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا اور انہوں نے بھی فیض پہنچانے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا۔

 اللہ کے محبوب،خاتم النبین،رحمت اللعالیمن،سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی ذات با برکات پر ہر کس وناکس قلم اٹھانے کی ہمت و جرآت نہیں کر سکتا۔ اس لیئے پہلے اذنِ خالقِکونین اور بعد ازاں اذنِ باعثِ خلقِ کونین کی ضرورت ہے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ عشق رسول کا بیج ہر دل میں پروان چڑھ کر شجر سایہ دار نہیں بنتا بلکہ کون و مکان کا خالق اس مقصد کے لیئے جن لوگوں کو منتخب کرتا ہے وہ ماں کے پیٹ سے ہی طاہر و اطہر پیدا ہوتے ہیں اور عشق رسول کی خوشبو اپنے ساتھ اپنے سینے میں لے کر آتے ہیں۔

ڈاکٹر شمس جیلانی بھی ایسے ہی نابغہ روزگار لوگوں میں سے ہیں جن سے پروردگار علم نے اپنی رحمت خاص سے ’’سیر ت نبی‘‘ مرتب کروانے کا کام لیا ہے اور یہ اعزاز شمس صاحب کی سات پشتوں کی بخشش کا وسیلہ ہے کہ یہ خود خلاقِ دو جہاں کا وعدہ ہے۔.

سیرتِ رسول کا موضوع ایسا موضوع ہے کہ جس پر چودہ سو سال سے لکھا جا رہا ہے اور جب تک دنیا قائم ہے لکھا جاتا رہے گا لیکن یہ بھی بہت بڑی حقیقت ہے کہ ذکرِ حبیبِ کبریا کبھی بھی مکمل نہ ہو پائے گا اور یہی اس ذکر کی خوبصورتی ہے کہ یہ کبھی بھی مکمل نہ ہو اور تشنگی ہمیشہ باقی رہے۔ڈاکٹر شمس جیلانی بھی اسی قافلے کے ایک خوش نصیب مسافر ہیں جنہوں نے سیرت رسول پر قلم اٹھا کر جہاں اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے وہاں ہم جیسے تشنہ لبوں کے لیئے ایک جرعہ عشق مصطفیٰ کا سامان بھی کیا ہے۔ پروردگار انکی مساعی کو قبول کرے اور اس کتاب کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کے بدلے انہیں ایک ایک کروڑ سے زیادہ نیکیاں عطا کرے کہ عشق رسول میں کسی سودائی کا یہ سودا بھی بہت کم ہے.

’’روشنی حرا سے‘‘ سیرت نبی  کی اس کتاب کو مرتب کرنے میں شمس جیلانی صاحب کو5 برس کا عرصہ لگا ہے اور ان پانچ برسوں میں وہ جس طرح خشبوئے رسول  کے حصار میں رہے ہوں گے اس کے بارے سوچ کر ہی مجھ جیسا عاصی ایک عجب سی سرمستی سے گزر رہا ہے۔ کیا معلوم کتنی بار ہوائے مدینہ نے اس قلم کو چوما ہو،نہ جانے کتنی بار جبرئیل نے نوک قلم کواپنے پروں سے مَس کیا ہو کہ اس قلم سے حبیب کبریا کی سیرت لکھ جا رہی تھی۔

683صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایک ایسا سرمایہ ہے جس کے ایک ایک لفظ میں قلم کار کی سانسیں اور جس کے ایک ایک نکتے میں آنکھوں کی بینائی شامل ہے. بقول خود شمس جیلانی کے یہ انکا بچپن کا خواب اور خواہش تھی کہ حضور کی حیات طیبہ مرتب کریں اور پروردگاردو عالم نے انکی اس خواہش کو کس اہتمام سے پورا کیا.

ڈاکٹر شمس جیلانی نے ’’روشنی حرا سے‘‘ لکھ کر اس روشنی کو ہم عاصیوں کے سینے میں منتقل کیا ہے جو غارِحرا میں جلوہ گر ہوئی تھی اور جس نے اس صفحہ ہستی کے کونے کونے کومنور کیا تھا اور جس نور کی ضیا باریاں آج بھی فقط اس عالم کو نہیں بلکہ تمام عالمین کو دولت عشق محمد تقسیم کر رہا ہے.

اس کتاب کے 137عنوانات ہیں جو دراصل 137ابواب ہیں اور ان میں سے ہر ایک عنوان اپنے اندر مزید ہزاروں عنوانات لیئے ہوئے ہے۔اس کتاب کی میرے نزدیک ایک طالب علم کے طور پر سب بڑی خوبی تحریر کی مناسبت سے یہی ہے کہ وہ ’’اختصار نویسی‘‘ کے فن نے کسی بھی موضوع کو حتیٰ المقدور تشنہ نہیں رہنے دیا۔ وہ باتیں جو متعدد جلدوں میں کی گئی ہیں انہیں شمس جیلانی صاحب نے اپنے اختصار نویسی کے فن سے ایک عام قاری کے لیئے سہل بنا دیا ہے.

ایک اورخوبی اس تحریر کی یہ بھی ہے کہ مصنف اپنے مزاج کے مطابق فروعات اور متنازعے مسلکی موضوعات میں نہیں الجھے بلکہ زیادہ تر اتحادِ ملت کو ہی سامنے رکھ کر اپنی تحقیق اور تفسیر کو سپرد قلم کیا ہے.

’’روشنی حرا سے‘‘ کی ایک ایک سطر، ایک ایک لفظ لفظ اور ایک ایک حرف روشنی ، خوشبو ،اجالا اور ترغیبِ عمل ہے۔ یہ ایک عاشقِ رسول کا والہانہ لگاؤ اور اظہارِ عقیدت ہے۔ قلب و دماغ کی اثر انگیزی اورعشق مستی میں ڈوبے ہوئے قلم کی صفحہ سیرت پر وہ گلکاری ہے جو قاری کے ذہن کو مہکا مہکا دیتا ہے.

 شمس تبریز کے وصفِ عاشقی میں ڈوبے ہوئے ڈاکٹر شمس جیلانی نے اس سرمایہ حیات کو اپنا توشہ آخرت بھی بنایا ہے اور اپنے اشکوں سے الفاظ کے ایسے ہیرے تراشے ہیں کہ جن کا ایک ایک رُخ نور ہی نور ہے.

میری دعا ہے کہ پروردگارعالم اور خالق لوح و قلم شمس جیلانی صاحب کی فکر کو مزید وسعت دے،انکے قلم میں طاقت،الفاظ میں اثر،فقروں میں روانی،خیالات کو جوانی،اسلوب کو انداز جاودانی،قوتِ تخلیق کو ہیبت سلمانی اور علم کو تائید یزدانی عطا کرے اور ہم مسلمانوں کو حصول علم کی طرف راغب ہونے کی توفیق عطا کرے. انکے اس بے پایاں عشق رسول کے بدلے پروردگار انکے اہل خانہ اور اعزہ و اقربا پر اپنی رحمتوں کانزول برابر جاری رکھے.

جُز عشقِ مصطفیٰ کے مانگوں میں کیا خدا سے
پیغام دے رہی ہے یہ’’ روشنی حرا سے‘‘
کیا شمس  کا مقدر صفدرچمک اُٹھا ہے
بخشش کا گھر بنی ہے یہ’’ روشنی حرا سے‘‘

آپ قارئین نے ملاحظہ کیا کہ کیسا جان گسل کام ہے یہ سیرت نویسی اور کس شان سے باآسانی شمس جیلانی اس مقام سے گزر گئے ہیں۔

انہیں نظم اور نثر پر ایک ہی طاقت کے ساتھ قدرت حاصل ہے وگرنہ ادبی دنیا میں ایسا عمومی طور پر بہت کم ہوتا ہے کہ کسی لکھاری کو نظم اور نثر پر ایک جیسی قدرت حاصل ہو۔ اسی لیئے شاید بہت سے دوسرے قلم کاروں کی نسبت جیلانی صاحب کو یہ آسانی حاصل ہے کہ وہ اپنے خیال کی ہیت تو طے کرتے ہی ہیں بلکہ خیال کی مناسبت سے یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ انکی کون سی تخلیق منظوم ہو گی اور کون سی نثر کا لباس پہنے گی۔

مجھے یہاں اپنی ایک خواہش کا اظہار بھی کرنا اور جیلانی صاحب سے درخواست بھی کہ وہ اب اپنے کالموں کا مجموعہ بھی شائع کروا لیں۔ میں جانتا ہوں کہ شائع شدہ کتابوں کی تعداد سے کسی لکھاری کا قد بڑا نہیں ہو جاتا بلکہ قد تو کتاب کے اندر لکھی ہوئی تحریر سے بڑھتا ہے۔ میں کچھ ایسے کالم نگاروں کو بھی جانتا ہوں جو کسی ویب سائٹ پر جب تیس چالیس کالم لکھ لیتے ہیں تو فوری طور پر اسکا مجموعہ شائع کرا لیتے ہیں۔ لیکن کیا کریں شمس جیلانی صاحب کا کہ وہ اس مرض سے بھی محفوط ہیں۔ انکی توجہ شائع کروانے کی بجائے لکھنے پر ہے اور وہ عشروں سے بلا تکان لکھے چلے جا رہے ہیں۔

اس دور میں جہاں انٹرنیٹ کی بدولت ہر کس وناکس تبصرہ نگار، محقق، مفسر اور کالم نگار بن گیا ہے وہاں شمس جیلانی جیسے صاحبان قلم بھی ہیں جو ‘‘جینوئین‘‘ لکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں اور دل کی بات واضع اور سہل انداز میں کہہ جاتے ہیں۔ اگر ہم اخبارات اور ویب سائٹوں پر شائع ہونے کالموں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ نوے فیصد کالم تو کالم نگاری کی تعریف پر پورے ہی نہیں اترتے۔ لکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو کہانی، افسانے، روزنامچے اور کالم کے درمیان فرق ہی معلوم نہیں مگر وہ کسی بیان کو تحریر کر کے اسے کالم کا نام دے دیتے ہیں۔ لیکن شمس جیلانی صاحب کے ہاں ایسا نہیں ہے۔وہ ہر صنف اور ہر ہیت کو اسکی اکثر جزئیات اور ضروریات کے ساتھ سپرد قلم کرتے ہیں۔ اسوقت میں انکے ایک کالم سے اقتباس پیش کر رہا ہوں جس پڑھ کر آپ کو احساس ہو گا کہ کالم کے موضوعات ہی الگ ہوتے ہیں اور اسکی اٹھان میں افسانہ نگاری اور ڈرامے کے عناصر استعمال نہیں کیئے جاتے۔ انکا ایک کالم جو خود مجھے بھی پسندہے اسکا عنوان ‘‘صحافت کی کالی بھیڑیں‘‘ ہے

‘‘حضرات! کالی بھیڑیں سب جگہ نظر آتی ہیں۔اس کی وجہ ان کی رنگت ہے۔ مثلا ً سر میں کالے جو ئیں نما یاں دکھا ئی دیتے ہیں، آپ آسانی پکڑ لیں اور چٹکی سے مسل کر ماردیں۔ اس کی وجہ ان کی رنگت ہے کہ وہ نمایاں جونظر آتے ہیں ؟ اس کے علاوہ کالی رنگت کی دو خو بیاں اور بھی ہیں، ایک تو کالے پر کسی کا رنگ نہیں چڑھتا ،دوسرے انہیں منہ وغیرہ کالا ہو نے کا خوف نہیں ہو تا۔ مگر ان کے قریب رہنے والے یہ بھو ل جا تے ہیں کہ ان میں ایک اور خوبی بھی ہے کا لے کاڈسا پانی نہیں مانگتا؟ جیسے تاریخ میںجعفر اور صادق کے نام مو جود ہیں اور پوری اسلامی تاریخ دیکھ جائیں دشمن ہمیشہ ان ہی کا لی بھیڑوں کے ذریعہ کامیاب ہوااور ابھی تک ہو رہا ہے ۔ بہر حال اس کو تو چھوڑیئے ہر دور اور ہر ملک اور صنف میں کالی بھیڑیں مو جود ہیں اور رہیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیہا تی زبان میں ان کو پسر چرنے کو جو ملتی ہے۔ اب آب پو چھیں گے کہ یہ پسر کیا ہے ؟
کیو نکہ ہماری نئی نسل تو اردو پڑھتی ہی نہیں ہے، نہ ماں باپ پڑھانا پسندکرتے ہیں اس ڈرسے کہ بچے انگریزی سکو لوں میں پڑھتے ہیںکہیں ان کا انگریزی کا تلفظ نہ خراب ہو جا ئے۔ مگر ہم آپ کو بتا ئے دیتے ہیںکہ پسر وہ اوپری گھاس کہلاتی ہے۔ جس کے لیئے چرواہے اپنے جانور منہ اندھیرے ،اپنی نیند خراب کر کے ان کوچرانے کے لیئے لے جاتے ہیں اور اس وقت شبنم پڑی گھاس ان کو چرا تے ہیں۔ بس اس کو پسر چرا نا کہتے ہیں‘‘ ۔

شمس جیلانی صاحب اسی کالم میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔

‘‘  اس وقت خوش قسمتی یہ ہے کہ اللہ نے جنرل بیگ کےبعد پھر جنرل کیا نی دیدیا ہے ،جن کا کوئی ارادہ سیاست میں دخل دینے کا نہیں ہے۔ لہذا میڈیا کی سفید بھیڑوں کی اکثریت سے عرض ہے کہ اسوقت جبکہ تمام قوم قر بانیاں دے رہی حتیٰ کہ وکیل تک جو بغیر مہنتانے کے کوئی کام نہیں کرتے تھے اب مار کھا رہے ہیں اور روزیاں بند ہیں کیا پتہ کتنوں کہ چو لہے نہ جل رہے ہوں ؟ لہذا مالکانِ اخبار بھی اپنے اخبار کی اپنی مقبولیت کی تھوڑی سی قر بانی دیدیں ۔ اور صرف وہ خبر یں شائع کریں جو قوم کے لیئے خوش آئند
 ہوں ،اسوقت وزیر اعظم ایسا آدمی چا ہیئے جو دن رات کام کر سکے، کیو نکہ پہلی تر جیح عوام کی رو ٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ امن بھی ہے۔ جو آمر کی موجودگی میں ممکن نہیں ہے اس لیئے کہ اس کی بقا بد امنی میں ہے امن میں نہیں۔اور آج ملک کا عالم یہ ہے کہ ً انسان کو انسان سے ڈر لگتا ہے۔ اس کے اندر چھپے شیطان سے ڈر لگتا ہے۔جس کو اللہ نہ میزان سے ڈرلگتا ہے۔ نہ اسے حشر کے میدان ڈر لگتا ہے‘‘۔

آپ نے دیکھا کہ کالم نگاری میں بھی ان کا اپنا ایک الگ انداز ہے اور وہ بڑی سے بڑی بات کو بھی بڑی آسانی سے کہ جاتے ہیں۔اسے ہی تو کہتے ہیں کہ ‘‘سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘‘۔

شمس جیلانی صاحب کی ایک اور نہایت کار آمد کتاب شوگر یعنی ذیابیطس کی بیماری کے بارے میں ہے جو دراصل ترجمہ ہے۔اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر اے ایس مہناس ہیں اور ڈاکٹر شمس جیلانی نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔انہوں نے اس کتاب کو ترجمہ کرنے کی غایت اور ذیابیطس کے بارے میں اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کیا ہے۔انکے بقول کینڈاآنے پر انکی شوگر ناقابل کنٹرول تھی اور جب وہ ڈاکٹر مہناس سے ملے تو انہوں نے اپنی کتاب شمس صاحب کو پڑھنے کو دی اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ اگر اسکو اردو میں ترجمہ کر دیا جائے تو بہت سے لوگوں کا بھلا ہو گا۔

شمس جیلانی صاحب نے عین اسلامی اصول کے مطابق پہلے خود اس کتاب کو پڑھا اور اس سے فائدہ اٹھایا اور صدقہ جاریہ کے طور پر اسے اردو دان طبقے کے لیئے ترجمہ کیا اور متعدد طب کی اصطلاحات کو بھی آسانی سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں یہ خوبی پیدا کی کہ یہ ترجمہ کم اور طبع زاد زیادہ لگتی ہے۔ میرے اپنے خیال میں ایسی طب کی ترجمہ شدہ کتابوں کی تعداد نہایت کم ہے اس لیئے ضرورت ہے اس امر کی ایسی امتہ الناس کے فائدے کی کتب زیادہ سے زیادہ ترجمہ کی جائیں مگر یہ کام افراد کا نہیں جماعتوں کا ہوتا ہے۔ یہ تو فقط رحمت پروردگار ہے کہ شمس صاحب بہت سے کام جماعتوں کے بھی انفرادی طور پر کرتے ہیں۔

 یہاں چند الفاظ ترجمہ نگاری کے حوالے سے ضرور کہنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ ترجمہ نگاری ایک تخلیق کی ہی صورت ہے اور انگریزی زبان میں اب اس کے لیئے صحافت میں ٹرانسلیشن کا نہیں بلکہ‘‘Trans creating‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی کی لکھی ہوئی چیزکو ایک دوسری زبان میں منتقل کرنا اور پھر کسی دوسرے معاشرے کے لیئے منتقل کرنا کوئی ایسا آسان کام بھی نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب ترجمہ نگار کے لیئے کہا جاتا تھا کہ اسے دونوں میں سے ایک زبان پر قدرت ہونی چاہیئے لیکن اب کوئی دو یا تین عشروں سے یہ نظریہ تبدیل ہو گیا ہے اور طے پایا ہے کہ ترجمہ نگار کے لیئے ضروری ہے کہ اسے دونوں زبانوں پر قدرت ہو،وہ زبان جس میں ترجمہ کر رہا ہے اور وہ زبان جس سے ترجمہ کر رہا ہے۔میں نے اگرچہ انگریزی میں اس کتاب کونہیں پڑھا لیکن اسکے ترجمے کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ شمس جیلانی صاحب نے بلاشبہ اسکا معیاری ترجمہ کیا ہے۔

شمس جیلانی صاحب کی اگلی کتاب جو اسوقت میرے سامنے ہے میرے اپنے خیال میں یوں تو ہر عہد اور ہر زمانے کی ضرورت ہے لیکن خاص طو پرعہد حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ گزشتہ کئی عشروں سے اسلام پر جس جس انداز اور جس جس خطے سے وار کیا جارہا ہے اور خاص طور پر مغرب کے کچھ ممالک اپنے ذرائع ابلاغ کے زور پر اسے دہشت گرد دین کہنے پر تُلے ہوئے ہیں اس نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی وضاحت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ مسلمانوں کی بے عملی اور دین حقہ کے عالمگیر اصولوں سے لا علمی نے خاکم بدہن اسلام کو بدنام کر رکھا ہے اورمیرے نزدیک اسکی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ‘‘علم و عمل‘‘ سے دوری ہے۔

ڈاکٹر شمس جیلانی کی یہ کتاب‘‘ اسلام اور حقوق العباد‘‘ دراصل معاشروں اور ادیان کے ساتھ ساتھ مذاہب کے درمیان مکالمے کے آغاز کی کلید ہے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس کا کُلی  زور عبادات پر نہیں بلکہ سب سے زیادہ زور معاملات پر ہے اور معاملات میں بھی حقوق العباد کو فوقیت حاصل ہے۔ میں نے کچھ عرصہ قبل ایک لیکچر میں بالتحقیق یہ بات کی تھی کہ قرآن جو رہتی دنیا تک کے لیئے ہر عالم میں ایک ابدی معجزہ ہے اسمیں عبادات کا حصہ تو کوئی بیس فیصد کے برابر ہے جبکہ کتاب وافی ہدایہ کا غالب حصہ معاملات کاہے۔ مگر یہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ ہمارے مولوی،ملا،ذاکر،خطیب اور کچھ علما جو سارا زور دیتے ہیں تو وہ عبادات پر جبکہ معاملات کے ذکر سے گریز کیا جاتا ہے۔

184صفحات کی اس کتاب کو شمس جیلانی صاحب نے کسی واعظ یا عالم دین کے طور پر نہیں بلکہ ایک عام انسان کے طور پر عام انسانوں کے لیئے لکھا ہے۔ میں نے یہاں شعوری طور پر ‘‘مسلمان‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ میرے نزدیک اسلام صرف مسلمان کے لیے نہیں ہے بلکہ سارے عالمین کے لیئے ہے بالکل ایسے جیسے رب العالمین اور رحمت الالعالمین۔

اسکا انتساب انہوں نے اپنی اہلیہ قریشہ جیلانی کے نام کیا ہے جنہوں نے انہیں اس کتاب کی اشاعت پر مجبور کیا جبکہ اسکا پیش لفظ مولانا سید وصی مظہر ندوی نے لکھا ہے اور انکے اس کلام میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ‘‘جناب شمس جیلانی چونکہ اپنے احساسات کو نظم و نثر میں بخوبی پیش کرنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی انسان ہیں جو اپنا شاندار ماضی رکھنے کے باوجود محض اپنے ماضی پر تکیہ  کرنے کی بجائے خود ‘‘ آپ اپنا جہاں پیدا کرنے‘‘ کے اصول ہر عمل پیرا ہیں‘‘۔

مولانا سید وصی مظہر ندوی نے آگے چل کر لکھا ہے کہ‘‘میں یہ بات بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ جناب شمس جیلانی نے نہایت دردمندی اور دلسوزی کے ساتھ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان سے نجات پانے کے طریقوں کو دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے‘‘۔

پروفیسر آفاق احمد نے ‘‘خدمت و اثیار کی تصویر‘‘ کے عنوان سے نہایت فکر انگیز مقالہ تحریر کیا ہے جس میں شمس صاحب کی حیات کا عکس بڑا روشن اور قابل تقلید ہے لیکن انکا یہ کہنا دریا کو کوزے میں بند کرنا ہے کہ ‘‘ اگرچہ ‘حقوق العباد‘ کے مخاطب ہم آپ سب ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کی اصل مخاطب وہ نئی نسل ہے جس کی آنکھوں سے موجودہ معاشرے نے دور تک دیکھنے کی صلاحیت چھین لی ہے اور جو مانگے تانگے کے اجالوں کو ہی سب کچھ سمجھ کر گمرہی کے راستوں پر گامزن ہے‘‘۔

نشریات اور صحافت کی دنیا سے ایک طویل وابستگی کی بنا پر میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کتاب  کا ترجمہ انگریزی میں تو ہو چکا لیکن اس کے علاوہ دیگر یورپی زبانوں میں بھی ہونا چاہیئے تا کہ بیرونی دنیا اسلام کے ان سنہری اصولوں اور ضابطوں سے آشنا ہو سکے جو اس کی روح ہیں۔اس طرح سے معاشروں اور مذاہب کے درمیان اخوت،یگانگت اور اپنائیت کے پُل تعمیر ہوں گے۔

اگر میں اپنی اوقات اور اپنی قلمی و ادبی حیثیت سے تجاوز نہ کرؤں تو یہ کہوں کہ یہی وہ ‘‘پیغمبرانہ‘‘ کام ہیں جن سے معاشروں کی تطہیر اور قولو للناس حُسنہ کی تشہیر کا کام لیا جاتا ہے۔

میرے سامنے میری میز پر رکھی ہوئی جناب شمس جیلانی کی مزید دو کتابیں شاعری کے مجموعے ہیں جن میں سے ایک تو انکا پہلا شعری مجموعہ‘‘صدا بہ صحرا‘‘ ہے جو 2000میں شائع ہوا اور دوسری کتاب ‘‘ گمانِ معتبر‘‘ ہے جو 2002میں شائع ہوئی۔

شمس جیلانی صاحب کے معتقدین کے لیئے انکی شاعری ایک نہایت وقیع حوالہ ہے لیکن وہ خود اسکو اپنا حوالہ نہیں مانتے اور میں بھی یہاں ان سے اتفاق کرتا ہوں۔ شاعری انکا ایک حوالہ تو ہوسکتی ہے لیکن واحد یابڑا حوالہ نہیں ہے۔

 ما فی الضمیر کو بیان کرنے کی جو صورتیں ہیں ان میں شاعری چونکہ قدرے آسان فہم  اور عوام الناس کے قریب تر ہے اس لیئے اکثر لوگوں کی پہچان انکی شاعری قرار پاتی ہے۔

‘‘صدا بہ صحرا‘‘  میں حمد،نعت،منقبت،قطعات،متفرقات،غزلیں اور نظمیں موجود ہیں اور کُل ملا کر کوئی انکی کوئی دو سو تخلیقات اس کتاب کی زینت ہیں۔

ممکن ہے کہ میں غلط ہوں  لیکن میرا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ غزل شمس جیلانی صاحب کا میدان نہیں ہے کیونکہ غزل کے لیئے جو مزاج درکار ہے ہمارے جیلانی صاحب کے خمیر میں پالنے والے نے وہ مزاج بیس تیس فیصد ہی رکھا ہے۔ غزل کے مقابلے میں انکے قطعات اور نظمیں زیادہ مضبوط ہیں اور شاید اسکی وجہ انکا دردمند مزاج ہے۔

قطعہ نگاری شاعری میں ایک ایسی صنف ہے جس کی عمر بہت کم ہوتی ہے یعنی کس بھی حالات حاضرہ کے موضوع پر لکھے ہوئے قطعے کی عمر اکثر اگلے روز ختم ہو جاتی ہے موضوعاتی کالم کی طرح۔ لیکن انور شعور، رئیس امروہوی،انور مسعود،محسن نقوی اور متعدد ایسے شعرا کے قطعات کی طرح شمس جیلانی کے قطعات بھی ہر دم تروتازہ کا رنگ لیئے ہوئے ہیں۔
میرے عزیز دوست اور جواں مرگ محسن نقوی کا یہ قطعہ دیکھیں کہ عشرے گزر جانے کے باوجود آج بھی کل کی طرح تازہ ہے۔

اُس نے جِس راہ کو لہو بخشا
میں بھی اُس راہ کا مُسافر تھا
وہ سرِدار میں سرِ مقتل
وہ پیمبر تھا اور میں شاعر تھا
یا پھر محسن کا ہی یہ قطعہ!
جب ہواچار سُو بِکھر جائے
آدمی امن کو ترستا ہے
جب زمیں تیرگی سے اَٹ جائے
آسماں سے لہو برستا ہے
اسی طرح شمس جیلانی کے بھی متعدد قطعات سدا بہار ہیں جیسے!
قدروں کو بدل ڈالا ہے دولت کی طلب نے
ہے  قصہء  پارینہ کہ چھوڑا جو  سلف نے
خود اپنی تباہی ہے وسائل کا زیاں ہے
آدم کو ہے بانٹا ہوا رنگوں نے نسب نے

شمس جیلانی کی غزل خود انکی اپنی غزل ہے۔ اب کوئی نقاد چاہے تو بے شک اسےغزل نہ کہے لیکن میں اسے غزل کہوں گا لیکن شمس جیلانی کی اپنی غزل کہ جو نہ تو کسی سے مستعار ہے اور نہ ہی کسی کا رنگ ہے۔ انکا درمندانہ مزاج اور قلب میں راسخ دینِ محمدی کے ساتھ ساتھ خشیت الہی انکی غزلوں میں بھی نظر آتی ہے۔ چھوٹا منہہ اور بڑی بات،میں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ شمس صاحب نے غزل کو ایک ہیئت کے طور پر استعمال کیا ہے اسمیں برتے جانے والے موضوعات اور مضامین کے اعتبار سے نہیں۔

بٹتے گئے جو لوگ جہاں تلخ ہو گیا
میں راہِ اصفیا کا ہی حامل ہوں آج کل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریدوں کو افعال سے کیا تعلق
نمازِ فجر کیا قضا کیجیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں شمس روایاتِ مقدس کا امیں ہوں
یہ اس کا تصدق ہے کہ منظوم رہا ہوں۔

شمس جیلانی دراصل مولانا ظفر علی خان ،الطاف حسین حالی اور اقبال کی شاعری کے امین ہیں۔ وہ مشاعروں کے شاعر نہیں کیونکہ شاعر ہونا اور مشاعرے کا شاعر ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں ذاتی طور پر خود ایسے مشاعروں میں شرکت کر چکا ہوں جہاں فیض صاحب اور حبیب جالب اکٹھے موجود تھے اور فیض صاحب نے منتظمین سے درخواست کی کہ انہیں جالب سے پہلے پڑھوا دیا جائے۔

اسکی وجہ جالب کا کوئی فیض سے بڑا شاعر ہونا نہیں تھا لیکن عوام کے مجمع میں خواص کی شاعری پِٹ جایا کرتی ہے یہ ایک عام سا فارمولہ ہے۔ جالب مشاعرے کے شاعر تھے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔ اسی طرح میرے نزدیک شمس صاحب کی شاعری فکری شاعری ہے جو عوامی شاعری سے یکسر مختلف ہوا کرتی ہے۔

انکی شاعری کا یہی عنصر انکے دوسرے مجموعہ کلام ‘‘گمانِ معتبر‘‘ میں بھی موجود ہے اور میرے عزیز دوست تسلیم الہی زلفی نے اس کتاب میں ‘‘ایک دردمند انسان،ایک مصلح ،ایک شاعر‘‘ کے عنوان سے بجا طور پر یہ لکھا ہے کہ ‘‘جیلانی صاحب چونکہ ہر کام پورے خلوص نیت،انکساری اور عبادت سمجھ کر رکتے ہیں لہٰذا ن کے دیگر افعال کی طرح انکی شاعری میں بھی تقدس در آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انکے اشعار،سامع اور قاری کی سماعت اور بصارت کی راہ سے گزر کر دل میں نقش ہو جاتے ہیں‘‘۔

زمیں خدا کی ہے چلیئے تو انکساری سے
کسی کو راس نہ آیا زمیں پہ اِترانا
۔۔۔۔۔
ہے احساس زیاں تک مٹ چکا اب بزم ہستی سے
نہ گھر اپنا، نہ سر اپنا،نہ اس پر آسماں اپنا
۔۔۔۔۔
سب اہلَ کرم اہلَ ستم شمس سے سُن لیں
اُڑ جائے گا پنچھی ابھی پر تول رہا ہے

مجھے احساس ہے کہ میں اپنی اس تاثراتی تحریر میں بزرگوارم، محترم اور محبی شمس جیلانی صاحب کی نہ تو شخصیت سے اور نہ ہی انکی تخلیقی قوت سے انصاف کر پایا ہوں کیونکہ وہ جتنے رُخ سے زندگی کو گزار رہے ہیں اُن تمام جہتوں کو ایک مضمون میں سمونا ناممکن کام ہے اور پھر مجھے اپنی کم علمی اور بے بساطی کا بھی بخوبی ادراک ہے۔

اس تحریر کا واحد مقصد دنیا کے دیگر ممالک میں بیٹھے ہوئے اردو دان طبقے کو اس امر سے آگاہ کروانا ہے کہ کس طرح ایک فردِ واحد ایک جماعت کے طور پر کسقدر کام اپنی عمر کی طوالت اور ادب کی تخلیق کے لیئے نامساعد حالات کے باوجود کسی صلے اور انعام کی لالچ کے بغیر کام کرتا چلا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ فرد واحد صرف مسلمانوں میں ہی نہیں،ہندوؤں،سکھوں،عیسائیوں،پارسیوں اور بودھ متوں میں بھی مقبول ہے ۔

وہ مسالک ،اعتقادات و مذاہب میں الجھا ہوا فرد نہیں بلکہ اپنے نام کی طرح فکر و نظر اور دانش و فہم کی روشنی بکھیرتا ہوا اقبال کامرد مومن ہے کہ جس کی زندگی کا فارمولہ فقط انسانیت ہے ۔

میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شمس جیلانی نے شاعری میں اکثر شعر اور نثر میں متعدد تحریریں خود تجربے سے گزر کر لکھی ہیں لیکن انکا یہ شعر تو انکی زندگی کا نصب العین اور ماٹو ہے۔

ہے تجسس جو اگر شمس نہ تھک کر بیٹھو
کوئی لمحہ ہے مقدر سے جو مل جاتا ہے

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

 مزید خبریں اورمضامین

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa