
پیغمبر اکرم کے چوتھے جانشین و تاجدار امامت حضرت امام علی ابن الحسین زین العابدین نے 68ھ میں سندھ کی شہزادی سیدہ ھریہ سے عقد فرمایا جن سے آپ کے جلیل القدر فرزند حضرت سیدنا زید ابن علی تشریف لائے جو مؤرخین میں زید شہید کے نام سے معروف ہیں اور جن کی نسل زیدی سادات کہلاتی ہے۔ اس کے باعث سر زمین سندھ امام سجّاد کا سسرال اور مولائے کائنات کا سمدھیا نہ ہونے کا بھی اعزاز رکھتی ہے اور یہ دھرتی زیدی سادات عظام کا ننھیال بھی ہے۔ اسی شہزادی نے آستانۂ امامت میں تین پھول اور بھی مہکائے جن کے اسمائے گرامی سیدنا حسن بن علی، سیدنا حسین بن علی اور سیدنا علی ابن علی ہیں۔
سیدنا زیدابن علی نے مولا علی مشکلکشا، شیر خدا کی پڑپوتی سیدہ ریطہ دختر سیدنا ابو ہاشم عبداللہ فرزند حضرت محمد حنیفہ بن امام علی سے عقد فرمایا اور ۔"صاحبِسیف و قلم"سیدنا یحےیٰ بن زید، 107ہجری میں پیدا ہوئے ۔ آپ روحانی کمالات و معنوی جمالات کے ساتھ ساتھ شجاعت حیدر کرّار کے بھی وارث تھے۔
علی کا گھر بھی وہ گھر ہے کہ اس گھر کا ہر اک بچہ جہاںپیدا ہوا ، شیرِ خدا معلوم ہوتا ہے
سیدنا یحییٰ بن زید نے اپنی انتہائی مختصر زندگی اہداف اسلامی کے دفاع اور دشمنان دین خدا کے ظلم و ستم گری کے خلاف نبردآزما رہتے گزار دی اور اپنے عظیم الشان والد کے نقش قدم اپناتے ہوئے شہادت پائی۔ آپ اہل علم میں’’ سیف ُ الاسلام‘‘ کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔
سیف ُالاسلام ،حضرت یحییٰ بن زید کی دلیری اور بہادری کے باعث اموی حکمرانوںکی نیندیں حرام ہو گئیں اورعمالِ حکومت جو تمام سلطنت میں خیانت ،خونریزی اور اموالِ مسلمین ہتھیانے کے ماہر تھے آپ کے وجود سے خوف کھانے لگے۔ آپ نے دشمنانِ اسلام ، بنی امیہ کی حکومت کی بنیادیں متزلزل کر دیں۔ حیدری خون، قصرِ سفیانیت فتح کرنے لگا۔ آپ نینوا سے مدائن اور مدائن سے خراسان تشریف لے گئے۔ قیامِخراسان کے دوران آپ نے کچھ دلیرانہ معرکوں کے بعد اپنے اثر ورسوخ قائم کر لیا اور حضور نبی کریم کے افکار و سیرتِ عالیہ کو اہل خراسان میں پھیلانا شروع کیا۔

اہل خراسان مین آپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر دشمنان اسلام اور منافقین کو آپ کا وجود مسعود سنگین ترین خطرہ محسوس ہوا اور اس خطرے کے پیش نظر والیء ہرات، نصر بن سیاراور والیء خراسان سلم بن احو ذمازنی نے آپ پر حملہ کر دیا۔ آپ کے جانثار ساتھی داد شجاعت دیتے شہید ہوتے گئے اور بالاآخر بروز جمعہ، 125ہجری اپنے دادا سیدنا امام عالیمقام، امام حسین کے وقتِ شہادت، بوقت عصر خراسان اور ہرات کے درمیان واقع جو ز جان میں، کنپٹی پر تیر لگنے کے باعث آپ کی شہادت ہو گئی۔ اہل خراسان کے ہاں ایک سال تک جو بچہ پیدا ہوتا اس کا نام یحےیٰ یا زید رکھا جاتا۔حضرت زید شہادت سے قبل بار بار یہ شعر پڑھتے تھے،
’’ہم اپنی جانوں کو ہیچ سمجھتے ہیں اور جنگ کے روز جانوں کو ہیچ سمجھنا ہی ان کے حق کا پورا کرنا ہے‘‘۔
آپ نے صرف اٹھارہ برس حیات دنیا پائی اور ان اٹھارہ برسوں میں کمالاتِ سیادت کے وہ جواہر صفحات تاریخ کی نظر کئے کہ مؤرخ ان کے بدل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ بعد شہادت آپ کے جسد اطہر کو سولی پہ چڑھا دیا گیا اور سر اقدس کاٹ کر ولید بن یزید بن عبدالملک بن مروان کے پاس دمشق بھیج دیا گیا۔ آپ کا سر اقدس، سر حسین کی مانند دمشق کے بازاروں سے ہوتا مدینہ پہنچا جہاں آپ کی مقدس والدہ معظمہ کی گود اطہر میں پھینک دیا گیا۔ ام المصائب کی وارث نے آپ کے سر اقدس کو جنت البقیع میں دفن کیا۔

آپ کا تن اقدس کئی سال سولی پہ رہا اور اس میں ذرہ بھر بھی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ ابو مسلم خراسانی نے آپ کو سولی سے اتار کر غسل و کفن دیا اور آپکے بے سر بدن کو نہایت احترام سے سپرد لحد کر دیا۔ آپ کے بدن اطہر سے کئی سال گزرنے کے بعد بھی خوشبوئے مصطفی آتی تھی جو آج بھی آپ کے روضئہ اطہر کی زیارت کرنے والے عارفین محسوس کرتے ہیں ۔ آپ کی نورانی بارگاہ مستجاب الد عوات ہے اور ایران کے شہر، مشہد مقدس سے نصف گھنٹے کی مسافت پر گاؤں ’’مےٰامی شریف ‘‘ میں جلوہ نما ہے۔ انوارِ سجّادیہ وزیدیہ کی یہ درگاہ ہزاروں زائرین کا مرکز ہے اور جگرگوشۂ زین العابدین کا بے سر بدن انوارِ الٰہیہ کے نزول کا منبع ہے۔
امت پر احسانِ عظیم:
متوکل ابن ہارون کا کہنا ہے کہ میں نے امامزادہ یحےیٰ بن زید سے خراسان میں ملاقات کی اور سلام عرض کیا۔ آپ نے پوچھا۔ "تم کہاں سے آرہے ہو؟"میں نے کہا حج سے واپس آرہا ہوں۔ آپ نے اپنے اعزا، چچا زاد بھائیوں کے حالات دریافت کئے جو مدینہ منورہ میں تھے اور بہت دیر تک چھٹے تاجدار امامت سیدنا امام جعفر صادق کے حالات دریافت فرماتے رہے۔آپ نے عنقریب اپنے شہید ہو جانے کے متعلق بیان فرمایا:
پھریہ آیت مبارکہ کہ تلاوت فرمائی،
’’ےَمْحُوا اللّٰہ ما ےَشا ء ُ وَ ےُثبِتُ وَ عِنْدَہُ اُمّ الکتاب‘‘
اللہ جس بات کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس بات کو چاہتا ہے نقش کر دیتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ ہے۔
پھر فرمایا،
’’ اے متوکل ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے ذریعے اس دین کو تقویت پہنچائی اور ہمارے حصے میں علم اور تلوار آئی ہے‘‘۔
آپ نے زمین میں آنکھیں گاڑ دیں اور پھر سر اٹھایا اور فرمایا،
’’علم سے تو ہم سب ہی بہرہ مند ہیں۔ کیا تم نے میرے ابن عم حضرت امام جعفر صادق کے افادات لکھے ہیں؟‘‘۔
میں نے عرض کیا،جی ہاں۔ فرمایا،’’۔ جو کچھ لکھا ہے مجھے دکھاؤ ‘‘۔میں نے مختلف علوم کے سلسلے میں حضرت کے ارشادات دکھائے اور ایک دعا بھی دکھائی جو حضرت نے مجھے لکھوائی تھی اور فرمایا تھا کہ میرے والد بزر گوار محمد ابن علی الباقرنے مجھے لکھوائی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ دعا میرے والد علی بن الحسین کی ادعیہ ’’ صحیفۂ کاملہ‘‘ میں سے ہے۔
سےّدنا یحییٰ نے اسے آخر تک دیکھا اور فرمایا،
’’میں تمہیں دعاؤں کا ایک صحیفہ دکھاؤں گا جو میرے پدر بزرگوار نے اپنے والد بزرگوار سے یاد کی تھیں اور مجھے میرے والد نے ان کے محفوظ رکھنے کی ہدایت کی تھی کہ نا اہل لوگوں سے انہیں پوشیدہ رکھوں‘‘۔
متوکل نے اُٹھ کر آپ کے سرِ اقدس کو بوسہ دیا اور عرض کیا۔ "خدا کی قسم!اے فرزندِرسول ،میں آپ کی دوستی و اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ وہ میری زندگی اور میرے مرنے کے بعد آپ کی محبت و دوستی کی وجہ سے سعادت و نیک بختی بخشے‘‘۔
اس کے بعد سے ایک صندوقچہ طلب کیا اور اس میں سے ایک مقفّل و سربمہر صحیفہ نکالا۔ اس مہر کو دیکھا تو اسے بوسہ دیا اور گر یہ فرمایا۔ پھر اس کی مہر توڑی ، قفل کھولا اور صحیفہ کو پھیلا کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور چہرے پر ملا اور فرمایا:
’’اے متوکل! خدا کی قسم! اگر میں شہید نہ کیا جاتا اور سولی پہ نہ لٹکایا جاتا تو میں ہرگز یہ صحیفہ تمہارے حوالے نہ کرتا ۔ میں ڈرتا ہوں کہ یہ علمی ذخیرہ بنی امیہ کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اسے چھپا ڈالیں اور اپنے خزانوں میں صرف اپنے لئے ذخیرہ کر لیں۔ لہذا تم اسے اپنے پاس رکھو اور میری جگہ اس کی حفاظت کر واور منتظر رہنا اور اس صحیفہ کو اپنے پاس امانت رکھنا اور جب اللہ میرا اور اس قوم کا جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے، کر دے تو اسے میرے چچا زاد بھائیوں محمد و ابراہیم کے پاس پہنچا دینا کیونکہ وہی میرے بعد اس سلسلے میں میرے قائمقام ہیں۔
متوکل نے وہ صحیفہ لے لیا اور جب سیف الاسلام ،سےّدنا یحییٰ بن زید شہید کر دئیے گئے تو مدینہ پہنچ کر عالم اسلام کی پہلی یونیورسٹی کے چانسلر سےّدنا امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یحےیٰ کا تمام واقعہ بیان کیا۔ حضرت امام جعفر صادق بہت دیر تک روتے رہے اور یحییٰ کے واقعات سن کر انتہائی غمگین ہوئے اور فرمایا،
’’خدا رحمت نازل کر ے میرے ابن عم پر اور انہیں ،ان کے آباء واجداد کے ساتھ رکھے، وہ صحیفہ کہاں ہے ؟‘‘۔
متوکل نے پیش کیا۔ آپ نے اسے کھولا اور فرمایا،
’’ خدا کی قسم ! یہ میرے چچا زید کی تحریر ہے اور میرے دادا علی ابن الحسین کی دعائیں ہیں‘‘۔ پھر آپ نے اپنے فرزند اسمٰعیل سے فرمایا کہ جا کر وہ دعائیں لے کر آئیں جن کی حفاظت و نگہداشت کی میں نے ہدایت کی تھی۔ امامزادہ اسمٰعیل گئے اور ایک صحیفہ لائے جو بالکل ویسا ہی تھا جیسا سےّدنا یحےیٰ بن زیدنے دیا تھا۔
حضرت امام جعفر صادق نے اس صحیفہ کو بوسہ دیا، اپنی آنکھوں سے لگایا اور فرمایا:۔
"یہ میرے والد بزرگوار کا خط ہے جسے میرے سامنے میرے دادا علی ابن الحسین زین العابدین نے لکھوایا تھا‘‘۔
متوکل نے عرض کی، "اے فرزند رسول! اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس صحیفہ کا زید و یحےیٰ کے صحیفے سے موازنہ کر لوں‘‘۔
حضرت نے اجازت دی اور فرمایا کہ میں تمہیں اس کا اہل پاتا ہوں۔ دیکھا تو معلوم ہوا کہ دونوں صحیفے ایک ہی ہیں اور ایک حرف بھی دونوں کا ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔
حضرت امام جعفر صادق نے وہ دعائیں متوکل ابن ہارون کو لکھوا دیں اور انہیں نشر کرنے اور پھیلانے کا حکم دیا۔ ان دعاؤں کی تعداد پچھتر (75) تھی۔
بلا شبہ یہ سیف الاسلام، سیدنا یحےیٰ بن زید شہید کا امت مسلمہ پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے ا پنے باپ دادا کے نورانی تبرکات و ملفوظات کو عام فرمایا اور ان کی خاطر صرف اٹھارہ برس کی عمر میں شہید ہو کر سولی چڑھا دئیے گئے۔
صحیفہ کا ملہ سجّادیہ :
ائمہ اہلِ بیتِ اطہار کے چوتھے تاجدار ، سیدنا و مولانا و مرشدنا، حضرت امام علی زین العابدین کی دعاؤں کے مقدس و متبرک مجموعے کو ’’صحیفہ کاملہ سجادیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ عوام کی مشکلات، تکالیف اور شدائدِامورِ دنیا میں مدد گار ہے اور خواص کی تحقیق و جستجو، سلوک الیٰ اللہ اور تلاشِ حق میں مرشدِ کامل اور رہبر و راہنما ہے۔
اسلام دشمن عناصر کے زہریلے ہتھکنڈے جب عقیدۂ توحید مجروح کرنے لگے ،تو وارثِ اسلام حضرت امام زین العابدین کی رقت انگیز، درد بھری، عاجزی و انکساری سے لبریز دعاؤں نے شانِ وحدت بیان کر کے ان مکروہ عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
عصر حاضر کے مادہ پرستی کے سیلاب میں جب کہ گمراہ کن عقائد، رنگ برنگے افکارا ور نت نئے فتنے سرا ٹھا رہے ہیں، اس نورانی دعاؤں کی کتاب کا
ہر گھر میں ہونا اشد ضروری ہے۔ افکارِ امام زین العابدین کی روشنی میں عقیدۂ توحید کو سمجھنا واجب ایمانی ہے۔
یہ نورانی مجموعہ، ای میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
السلام اے یحییٰ ابنِ زید، دیں کے پاسباںالسلام اے مصطفی و مرتضٰی کی کہکشاںالسلام اے فاطمہ زھرا کے دل کے ترجماںالسلام اے زین العابدین کے جری جواںالسلام اے زید کے لختِ جگر، ریطہ کی جاںالسلام اے آلِ پیغمبر کے میر کارواںالسلام اے دین کی تلوار ، نگہبانِ قرآںالسلام اے حق کے نگہدار ، اے صاحبقراںالسلام اے کشتۂ راہِ صداقت السلامالسلام عبّاس کے پیرِ طریقت السلام