پالکی یا ڈولی جسے برطانیہ میں پالکیا اور سیڈان چئیر بھی کہا جاتا ہے دو بانسوں پر مشتمل ایک کرسی جس پر ایک یا دو افراد بیٹھ کر سفر کیا کرتے ہیں کوریا میں اسے گاما کے نام سے جانا جاتا ہے اس کے استعمال کا بنیادی مقصد طبقہ امراء کا عام لوگوں سے میل جو ل دور رکھنے اور حفاظتی مقاصد کیلئے استعمال ہونا ہے اس پالکی کو ابتداء ہی سے مضبوط اور توانا مرد اٹھایا کرتے تھے -
پالکی یا ڈولی کے استعمال سے متعلق کوئی واضح تاریخ نہیں ملتی تاریخ دانوں کے مطابق جب سے دنیا میں جنگوں کا آغاز ہوا اس وقت میدان جنگ میں ایسے کرسی کی ضرورت پڑی جس میں ایسے مریضوں یا زخمیوں کو لایا جاسکے جہاں پر گھوڑوں یا ہاتھیوں کی رسائی نہیں ہوسکتی ایمرجنسی مقاصد کیلئے استعمال ہونے کیلئے آغاز میں بانس کے دو حصوں کے درمیان بستر بنا دیا گیا جو بعد میں سٹریچر بن گیا جنگوں میں زخمی ہونیکی رفتار عام افراد کیساتھ شاہی خاندان و طبقہ امراء کی بھی ہوتی تھی اس لئے ان کی خاطر سٹریچر پر پردہ اور چھتری باند ھ دی گئی تاکہ سپہ سالار زخمی ہونے کے بعد بھی جنگ کے میدان کا پتہ چلانا چاہے تو اسے آسانی ہو اور دوسرے لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات نہ ہو-ابتداء میں دو بانسوں سے بننے والی پالکی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی اس میں انسان کی اپنی انا کا عمل دخل بھی بڑھتا گیا کہ دوسروں کے کندھوں پر بیٹھ کر اوپر اٹھنا اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنا مقصود تھا اس لئے اس کا استعمال جنگوں کے ساتھ ساتھ زمانہ امن میں بھی بڑھتا گیا-
پالکی کا استعمال دنیا بھر کی مختلف تہذیبوں میں مختلف اوقات میں ہوتا رہا روم میں 250 قبل ازیں مسیح کی مختلف ادوار میں اس کے استعمال کی شہادتیں ملی ہیں 1700- ء میں بنجامن فرینکلن اسے امریکہ میں استعمال کیا کرتا رہا جبکہ سترھویں اور آٹھارھویں صدی میں برازیل میں تجارت پیشہ افراد شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیوں بازاروں میں سفر کیلئے یہ استعمال کیا کرتے تھے مصر چین سپین میکسیکو پیرو ہانگ کانگ ویت نام فرانس اور انگلینڈ میں اس کے استعمال کی شادتیں ملی ہیں 1880 ء میں ہانگ کانگ اور 1890 ء میں بنارس میں شادی کی تقاریر کیلئے پالکیوں کے استعمال سے متعلق کتابوں میں لکھا گیا ہے انگلینڈ کے ہنری ہفتم ساری عمر پالکی استعمال کرتے رہے اس طرح ملکہ شیرولیٹ کے زیر استعمال مخصوص پالکی آج بھی بکنگھم پیلس میں موجود ہے کوریا اور جاپان میں پالکی کا استعمال شاہی خاندان کے افراد کیلئے مخصوص تھا کوریا میں چھ مختلف ڈیزائن کی پالکیاں آمدورفت کیلئے استعمال ہوتی تھی جس میں سرکاری ملازمین عہدوں کے لحاظ سے سفر کیا کرتے تھے ایک وقت میں برطانیہ میں لوگوں کی حیثیت کا اندازہ اس کی پالکی اور پالکی کیساتھ چلنے والے افراد اور اٹھانے والے کمہاروں کی صحت سے کیا جاتا تھا -
برطانیہ میں ایک دور ایسا بھی تھا جب طبقہ امراء کی خواتین نہانے کیلئے یا بیوٹیشن کے پاس جانے کیلئے پالکیاں استعمال کیا کرتی تھی خواتین ایک دوسرے کے پالکی اٹھانے والے ملازمین جسے پورٹر یاکسی زمانے میں چیئرمین بھی کہا جاتا تھا کی صفائی و صحت کے حوالے سے اپنے مخالف خواتین کو طعنے بھی دیا کرتی تھی خواتین ان پالکیوں کو چرچ جانے کیلئے بھی استعمال کیا کرتی اور پھر آہستہ آہستہ اس کا استعمال غمی یا خوشی میں خواتین کو لانے جانے کیلئے ہونے لگا غمی کے مواقع پر بزرگ خواتین اس کے ذریعے تقریب میں آجاتی جبکہ شادیوں کے موقع پر اس کو اٹھانیوالے کمہار خود بھی بن سنور کر آتے اور اپنی ڈولی کو سرخ رنگ کے کپڑوں سے سجاتے-وقت کے نزاکتوں کے پیش نظر ڈولی آہستہ آہستہ چوڑی ہوتی گئی اور مختلف ثقافتوں میں دلہن کو لانے کیلئے بطور فخر و وقار کے اس کا استعمال بڑھتا گیا برصغیر پاک و ہند میں دلہاکو گھوڑے پر جبکہ دلہن کو ڈولی پر لایا جاتا رہا جبکہ اس کے مقابلے میں یورپ میں دلہن کیلئے استعمال ہونے والی ڈولی میں اس کے مقابل دلہا بھی بیٹھ جاتا وقت کی تیز رفتار رخ نے برصغیر پاک و ہند کے معاشرے میں تبدیلیاں لانا شروع کردی اور یوں دلہن کیساتھ اس کی سہلیاں /اورنوکرانیاں بھی جانے لگی جس کے باعث بعض اوقات انہونی کہانی بننے لگی جسے ڈولی میں آنے والے دلہن کی سہیلی دلہا کے ساتھ فرار سمیت دلہا کے دوست کی دلہن کی سہیلی کی شادیو ں جیسے کہانیاں بھی شامل ہیں جس کے بعد ڈولی صرف دلہنوں کو لانے لے جانے کیلئے استعمال ہونے لگی اور یوں دلہنوں کو لانے کیلئے ڈولی کلچر پھیل گیا تاہم ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولتوں اور مغربی کلچر کی اندھا دھند تقلید نے ہمارے معاشرے جہاںتبدیلیاں لانی شروع کردی وہاں ڈولی کلچر کو جو ابتداء میں فخر و وقار کیلئے استعمال ہوتا تھا اب دلہن کو لانے کیلئے َ حقیرگرانا جانے لگا اور شہروں کے ساتھ ساتھ اب گائوں میں بھی اس ڈولی کلچر کا آہستہ آہستہ خاتمہ ہورہا ہے -