
مجھے ایسے لوگوں سے ملنے کی ھمیشہ تمنا رھتی ھے جو بادلوں کی طرح ھوتے ھیں ۔ جو ھر مقام سے گزرتے ھیں ، بلند و بالا پہاڑوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے کچے گھروں تک جاتے ھیں ۔ ھر مظبوط انسان سے لے کر کمزور ترین انسان تک ملتے ھیں ۔ کبھی بہت بلند تو کبھی زمین پر محبت کی صورت برستے ھیں پر اپنی ھستی کو کبھی گم نہیں کرتے بلکہ جدا تشخص کے ساتھ الگ دکھائی دیتے ھیں ۔
جو منفرد ھوتے ھیں پر ایک ساتھ رھتے دیکھائی دیتے ھیں ۔ ایسے ھی بادلوں جیسے کئی انسانوں میں سے چند لوگوں سے مجھے ملنے کا ا اتفاق ھوا ُس وقت ھوا جب میں نے اٍسی سال جنوری میں فیصلہ کیا تھا کہ چھ ماہ کے لیئے ملٹی کلچر ٹراما ، ٹارچر اینڈ ری ھیبلیٹیشن سینٹر ( ایسے ادارے جہاں پر ایسے لوگوں کا علاج ھوتا ھے جو جنگوں سے متاثر ھوئے ھوتے ھیں ) کو جوائن کرونگی ۔
چونکہ اٍس ادارے میں زیادہ تر مریض افغانستان ، عراق ۔ ایران ، فلسطین ، سپین اور سرلنکا اور ویتنام کے تھے سو مجھے سارا علاج کسی نہ کسی انٹر پریٹر کی مدد کے ساتھ ھی کرنا پڑتا تھا سو میرے کنسلٹنٹ ڈاکٹر کرس سوحن نے مجھے تجویز کیا کہ ھر دن ایک ملک کے مریض دیکھا کروں تاکہ کئی زبانوں کے انٹر پریٹر ارینج کرنے کی مشکل سے بچ سکوں ۔
اُس دوران میری ملاقات اکتالیس سالہ “لاما ھیمو “ سے ھوئی جو جورڈن کی رھنے والی تھی اور میرے لیئے عربی کی ترجمان کے طور پر ساتھ رھتی تھی ۔ میں نے لاما سے بہت کچھ سیکھا ۔ اُس کا خدا پہ یقین کا انداز حیران کن تھا ۔ یو این او کے ساتھ ترجمان کی حثیت سے کام کرنے کی وجہ سے ملکوں ملکوں گھومی ھوئی تھی ، لیکن نیروبی اور پاپانیوگنی میں زیادہ وقت رھی وہ بھی صرف اٍس جذبے کے ساتھ کہ اپنے ھم وطنوں کی مدد کر سکے ۔
ھر دن کو اپنا آخری دن گزارنے والی لاما ھیمو کے ساتھ وقت کی تفصیل ایک کتاب ھے لیکن اُس کے حوالے سے ایک ایسے شخص سے ملنے کا اتفاق ھوا جنہیں یوں تو پورا آسٹریلیا ھی جانتا ھے لیکن خصوصی طور پر سڈنی والے اُن کی شخصیت اور اُن کے کام کے حوالے سے اُن کی خدمات کے متعرف ھیں ۔ سب انہیں “ فادر جم “ کے نام سے جانتے اور پکارتے ھیں ۔ فادر جم نے میرے کئی مریضوں کو سنبھالا تھا کہ مجھے انہیں دوا تک دینے کی ضرورت نہیں رھی تھی ۔
بادلوں جیسے پروقار اور منفرد سے فادر جم جن کو صرف لوگوں کی مدد کرنے کی دھن تھی ۔ اُن کے کاموں میں سرفہرست ضرورتمند لوگوں کو کم کرایہ پر گھر فراھم کرنا اور انہیں انگلش کے کورسسز سے لے کر ملازمت کے حصول تک بلا شرکت غیرے اور کسی بھی مذھب کو بیچ میں لائے بغیر سب کچھ کرتے تھے۔
اٍس کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا جیسے ملک جہاں امیگریشن کے اصول اتنے سخت ھیں
کہ کسی کو کسی بھی وقت ڈی پورٹ کر دیتے ھیں ۔ فادر جم نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نہ صرف اپنی آواز کو اُونچا کیا بلکہ اپنی بات کو منوا بھی لیا اور اب یکم ستمبر سے کئی عراقی گھروں میں غیر یقینی کی فضایئں ختم ھونے والی ھیں ۔اور انہیں مستقل سکونت ملنے والی ھے ۔اُن سارے کاموں کے بدلے میں مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی کو مذھب بدلنے پر آمادہ کیا ھو ۔ بلکہ اگر کوئی ایسا کہتا بھی تھا تو فادر جم سکون سے کہہ دیتے کہ جب تم سیٹل ھو جاؤ گے اور سکون سکھ کا سانس لو گے جب سوچنا کہ تم نے کیا کہا ھے ۔
ایسی مہربان اور بادلوں جیسی شخصیت کو جب میں نے فون کیا کہ اُن سے ملنا

چاھتی ھوں اور
القمرآن لائن کے لیئے خصوصی انٹرویو کرناچاھتی ھوں تو حیران ھو کر پوچھا کہ مجھے اُن کا کیسے پتہ چلا ۔
میں نے انہیں اپنے مریضوں کے حوالے دیئے تو بڑی شفقت سے گویا ھوئے کہ انہیں نام و نمود کی کوئی خواہش نہیں ھے پر میرے اصرار پر انہوں نے بدھ مورخہ نو جولائی کو ملاقات کا وقت دے ھی دیا ۔ اور اب اُن سے ملنے کے لیئے بیچ میں پورے دس دنوں کا انتظار تھا ۔
مجھے یاد ھے کہ لاما اور میں دونوں روزانہ ھی کسی نہ کسی بہانے فادر جم کا زکر نکال لیتے تھے ۔
سنا یہی تھا کہ انسانوں کے مزاج میں دوسرے انسانوں کو ٹراما اور ٹارچر میں رکھنا اور دیکھنا دونوں ھی مشکل ھوتا ھے ۔ لیکن چھ ماہ کی اٍس زہنی تھکن کے بعد احساس ھوا کہ آج کی صدی کا من پسند کام صرف ایک دوسرے کو ازیت ھی دینا ھوتا ھے ۔ آج میں معمولی سٹریٹ لڑایئوں ، چور ڈکیتی کی بات نہیں کر رھی جو روز ھر جگہ کہی نا کہی ھوتا ھی رھتا ھے بلکہ اُس ٹراما (ذخموں ) کی بات کر رھی ھوں جو ٹارچر ( اذیت ) سیل میں دیا جاتا ھے یا پھر جنگوں میں عام لوگوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ھے یا جیتنے والی قوم میدان ٍ جنگ کے قیدیوں کے ساتھ کرتی ھے ۔ مجھے اٍس وقت وہ سب مریض یاد آ رھے ھیں جنہیں ٹارچر سیل میًں ھفتوں مہینوں رکھ کر تشدد کیا جاتا رھا تھا ۔ میں اُس وقت خود پر قابو نہ رکھ سکی تھی جب مجھے ایک چوبیس لڑکی نے بتایا کہ وہ نہیں جانتی کی اُس کی دو سالہ بیٹی کا باپ کون ھے کہ وہ جنگ کے دوران گھر سے زبردستی اٹھائی گئی تھی اور کئی ھفتے کسی انجان مقام پر دن رات ایک اندھیرے کمرے میں جانے کتنے فوجیوں کی درنگدگی کا نشانہ بنی تھی اور جب وہ کسی قابل نہ رھی تو فوجی اُسے سڑک پر لاوارث چھوڑ گئے تھے ۔

ایسے ھی ایک ماں سے ملی جس کے سامنے اُس کے بچوں کو زبح کر دیا گیا تھا ۔ اُس دن سے وہ سونا بھول گئی تھی ۔ ایک مریض نے مجھے اپنی تشدد کی تصاویر دیکھائی جو اگر مجھے پروفیشنل مجبوری نہ ھوتی تو آپ سب کو دیکھاتی کہ کیسے اُس کے ھاتھ پاؤں فوجی جیلوں میں توڑے گئے تھے ۔
ایسے میں ایک مریض نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے پر تشدد سہہ گیا تھا پر جب فوجی کہتے تھے کہ دوسروں کی چیخیں بھی سنوں تووہ سننے پر وہ بے ھوش ھو جاتا تھا ، پھر فوجی اُن اذیت کے ماروں کو اُس کی زمہ داری میں اُس کے سیل میں چھوڑ جاتے تھے کہ رات بھر ان کے ذخموں کی دیکھ بھال بھی کرے ۔
میرے سارے مریضوں میں جو بات مشترک تھی اُن میں اُن کا ڈرنا ، کسی پر اعتبار نا کرنا اور راتوں کو نییند نہ آنے کا مرض تھا ۔ اٍس کے ساتھ ھی مجھے ایک اخباری نیوز رپورٹر بھی یاد آ گیا جو جنگ میں لاشوں کے انبار نہیں دیکھ سکا تھا اور اپنا زہنی توازن کھو بیٹھا تھا ۔
ایک اور بات جس نے مجھے حیران کیا تھا وہ ان دکھی انسانوں کا مذھب بدلنا تھا ۔ جس سے متاثر ھو کر میں نے ایک کالم لکھا تھا “ کیا مذھب کی بھی اب تجارت ھو گی “ ۔ جس میں بڑے تلخ حقائق درج تھے کہ ھمارے اطراف کیا ھو رھا ھے ۔
سچ تو یہ کے ہجرت بذاتٍ خود ایک ٹراما ھے، چاھے وہ اندورنٍ شہر ھی کیوں نہ ھو اور یہاں پر تو بات سات سمندر پار ھجرتوں کی ھو رھی ھے ۔ ایسے میں جہاں کہی کوئی ھم زبان یا ھم وطن مل جائے عید لگتی ھے ۔ مجھے یاد ھے کہ انیسو چورانوے میں جب میں اپنی فیملی کے ساتھ آسٹریلیا آئی تھی تو ھمیں فلیٹ فورب اسٹریٹ پر ملا تھا جو لیورپول ھوسپٹل کے قریب تھا جس کی وجہ سے ھر وقت رونق رھتی تھی ۔ ھماری ایک پڑوسن ھوا کرتی تھی “ کویتا “ ۔ جسے میں نے اپنے ھم مزاج نہ ھونے پر بھی دوست بنا رکھا تھا کہ کم از کم اُس سے مل کر زبان کی ھجرت کا دکھ کم ھو جاتا تھا ۔ میں ابھی تک اُس سے اُس کے اُس احسان کا رشتہ جوڑا ھوا ھے ۔ کویتا آج بھی مجھے ایک “دیا “ لگتی ھے جس کی روشنی میں بیٹھ کر کبھی میں نے اپنی ھجرت کے دکھ ڈھوئے تھے ۔ اپنے مریضوں کو دیکھ کر کبھی کبھی میں خود کو “ کویتا “ ھی لگتی تھی ۔
آخر وہ دن بھی آن پہنچا جس دن میں نے لاما ھیمو کے ساتھ فادر جم سے ملنے جانا تھا۔ لاما کی ایک خوبی اُس کی ڈرائیونگ بھی ھے ۔ وہ کہی بھی پہنچ سکتی ھے اور گاڑی کہی نہ کہی پارک بھی کر سکتی ھے اور خیر سے یہ دونوں خوبیاں مجھ میں مجبورا تھی ۔ ھمارا سینٹر فادر جم کے بتائے ھوئے پتے کے پاس ھی تھا سو دس منٹ کی ڈرایئو کے بعد ھم دونوں “ ھاؤس آف ویلکم “ کے سامنے تھے ۔
تین کمروں کا یہ آفس اور بیچ میں مناسب سی انتظار گاہ کئی لوگوں کے لیئے گھروں سے بھی بڑھ کر تھی ۔ جیسے ھی میں کال بیل کو دبایا اور پوچھنے والی کو اپنا تعارف دیا تو بڑی اپنایئت سے اُ س نے دروازہ کھولتے ھوئے کہا کہ انہیں ھمارا ھی انتظار تھا ۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ ھاؤس آف ویلکم نان گورمنٹ فنڈڈ آرگنایئشن ھے جو صرف چیرٹی پر چلتا ھے ۔فادر جم کو دیکھ کر ھم دونوں ھی حیران تھے ۔ فادر کہی سے بھی تیئس اگست انیسو انتالیس کے نہیں لگ رھے تھے ۔ ایک ھی وقت میں سٹاف سے باتیں کرتے جاتے تھے ،ساتھ ھی ایک افغان فیملی کے لیئے گھر ارینج کر رھے تھے اور ساتھ ساتھ ھم دونوں سے باتیں بھی ۔ بڑی دیر بعد ایک وقت آ ھی گیا جب انہوں نے ساری توجہ ھماری طرف کی ۔فادر بلیک پینٹ پر گرے جرسی میں ملبوس بہت مدبر دیکھنے پر بھی اپنی عمر سے کہی کم اور توانا لگ رھے تھے ۔ اُن کی آنکھوں میں ٹھاٹیں مارتا ھمدردی اور پیار کا سمندر چھلکے پڑتا تھا ۔

اپنے بچپن کا زکر کرتے ایسے لگ رھا تھا جیسے وہ وھی پہنچ گئے ھو ۔ کہنے لگے انہوں نے فادر ببنے کا اُس وقت ھی سے سوچ لیا تھا جب جاپان کی جنگ ھوئی تھی اور اُن کے والد اور والدہ ایسے لوگوں کے بھی زخم دھویا کرتے تھے جو اُن کے کھُلے دشمن تھے ، انہوں نے دشمنوں سے محبت کا عملی مظاہرہ اپنی آنکھوں اپنی چھوٹی سی عمر میں ھی دیکھا لیا تھا ۔
ایک دن انہوں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ وہ اُن لوگوں کو کھانا بناکر کیوں دیتی ھے ، کیوں اُن کا خیال رکھتی ھے جو ھم سب کے دشمن ھیں تو اُن کی ماں نے بتایا کہ یسوع مسیح نے ایک دن سب سے پوچھا تھا کہ بتاؤ کہ اگر کوئی سڑک کے کنارے زخمی پڑا ھو۔ تم کیا اُس سے اُس کا مذھب اُس کی مدد سے پہلے پوچھو گے ۔ تو سب نے کہا تھا کہ نہیں ۔بس تو میں بھی یہی کرتی تھی اور اب فادر بھی اپنی ماں کی طرح وہی کرنا چاھتے ھیں ۔ سو اُن کا ھاؤس سب کو ویلکم کہتا ھے ۔پر اٍس مقام پر پہنچنے کے لیئے انہوں نے “تھیولوجیکل انسٹیوٹ سڈنی “ سے فلاسفی آف تھیولوجی پر ماسٹر ڈگری لی پھر اُس کے بعد کیلی فورنیا کی برکلے یونیورسٹی سے اپلایئڈ تھیولوجی میں ڈگری بھی لی۔ اور اب کئی پراجیکٹ پر کام کر رھے ھیں ۔
میرے اٍس سوال پر کہ وہ آخر رفیوجی سینٹر اور اسائلم سیکرز جو جنگ سے متاثر ھوتے ھیں اُن کی مدد پہلے دن ھی سے کیوں کرتے ھیں تو سُن کر مسکرا دیئے ۔ اور بڑی محبت سے گویا ھوئے کہ انہوں نے سات سال کی عمر میں جاپان کی جنگ دیکھی تھی ۔ اور اُس کے بعد کی بے سروسامانی بھی اُٹھائی تھی ، شاید اٍسی لیئیے اُن کو متاثرین کا درد اپنے درد سے ملتا جلتا لگتا ھے ۔
نہ صرف یہ بلکہ وہ پورے پندرہ سال جاپان رہ کر بھی آئے ھیں اور وھاں پر بھی رفیوج ھی میں کام کرتے تھے ۔ فادر نے اپنی بات کو جاری رکھتے ھوئے کہا کہ خدا پر یقین ایک الگ سی بات ھے کہ اٍس کا تعلق انسان کا اپنے خدا سے ایک زاتی سا ھوتا ھے ، باقی انسانیت اور اس کے تقاضے ھر سطح پر ھم سب کے سانجھے ھیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ قران کا مطالعہ وقت کی کمی کے باعث مکمل نہیں کر سکے ھیں لیکن روزانہ پڑھتے ضرور ھیں ۔ لیکن جو بھی عملی

اسلام کا انہیں پتہ چلا ھے ، وہ سب کچھ عراق ، ایران اور افغان کے مسلمانوں سے ھی پتہ چلا ھے ۔ اٍس ضمن میں اُن سے اپنا وہ سوال پوچھ ھی بیٹھی جو مجھے یہاں تک لے آیا تھا کہ وہ ھر رنگ و نسل اور مذھب سے بالا تر ھو کر سب سے محبت اور مدد کرتے ھیں ۔ وہ بھی انہیں عیسایئت کا پیغام دیئے بغیر کیوں آخر ؟ ۔ فادر نے میرا سوال بڑے تحمل سے سنا اور اُتنی ھی بردباری سے کہا کہ وہ مذھب کی تجارت نہیں کرتے ۔ وہ اپنے مذھب کو چاول کے عوض بیچنا گناہ سمجھتے ھیں بلکہ اٍسے “ ھیومن بلیک میلنگ“ سمجھتے ھیں ۔ وہ اُن لوگوں کے خلاف لکھتے ھیں اور برملا احتجاج کرتے ھیں چاھے وہ کسی بھی مذھب سے ھوں ۔ اُن کا ایسا ماننا ھے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی مجبوری کی قیمت اُس کے مذھب اور اعتقاد کی آزامایئش سے لیں ۔
پھر بڑی آرزدگی سے گویا ھوئے کہ وہ بڑے ملکوں کے سوشل جسٹس اور انسانیت کے معیار پر حیران ھیں ۔ اور مثال دیتے ھوئے کہا کہ امریکہ کو دیکھیئے ۔ اٍس روئے زمیں پر اُس جیسا انسانیت سوز سلوک کرنے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا اور خود کو کہتا ھے کہ وہ انسان کی آزادی کا رکھوالا ھے ۔ کتنی ھیپوکریسی ھے یہ ، جس کا اقرار اور ادراک امریکہ کو نہیں ھے ۔ فادر سمجھتے ھیں کہ عقائد میں ھر انسان کو آزاد ھونا چاھیئے ۔ اور اٍس آزادی کے لیئے ھر مذھب اور فرقے کو ایک دوسرے کی آزادی کی جنگ لڑنی چاھیئے اور سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاھیئے ۔

فادر جم کو باتوں کے دوران کئی بار فون اٹینڈ کرنا پڑا تھا ۔ ھر بار وہ سوری کہتے اور کہتے کہ ڈاکٹر نسیم تم بہت مشکل سوال پوچھتی ھو ۔ اور مجھے اُس وقت بہت خوشی ھوئی جب انہوں نے کہا کہ جس طرح ھم باتیں کر رھے ھیں اٍسی طرح سے ھمیں بات چیت سے آپس کی دوریوں کی دیواروں کو گرانا چاھیئے اٍس طرح سے کچھ آپ ھماری سنے اور کچھ ھم آپ کی سنیں ۔ لیکن افسوس اب لوگوں کو اٍس بات کی اہمیت کااحساس نہیں رھا ھے ۔ بس صرف زبانی جمع خرچ ھے رہ گیا ھے جیسے گیارا سال تک جان ھاورڈ نے آسٹریلیا میں ایب اورجینل نیٹیو کے ساتھ غیروں سے بھی بدتر سلوک کیا تھا ۔ اور ابھی یہ بات ایک ھی ملک اور ایک ھی قوم کی بات تھی تب بھی “سور ی“ کہنے میں اتنے سال لگ گئے ۔ جہاں معاملہ دوسرے ملک اور مذھب کا آ جائے تو اٍن دیواروں کو گرانے کے لیئے خاص دل چاھیئے ۔
بات فادر کی صحیع ھی تھی کہ ایسا کون کرے گا اور کون چاھے گا ، کون بتائےگا کہ ضمیر کی غربت کیا ھوتی ھے ؟ فادر جم میری بات سن کر مسکرا دیئے اور کہنے لگے کہ مایوسی گناہ ھے لیکن انسان غلطیوں سے اپنے ضمیر کو پہچانتا ھے اور انہی غلطیوں سے اپنے خدا کہ بھی ڈوھونڈ لیتا ھے ۔انسان کا ضمیر اُس کی پہچان ھوتا ھے ۔ انہوں مثال دیتے ھوئے کہا کہ جیسے انسان انتقام بھی لے سکتا ھے اور معاف بھی کر سکتا ھے اور فیصلہ ضمیر کرتا ھے کیا کرنا ھے ۔ انہوں نے اٍس پر ایک اور مثال دیتے ھوئے کہا کہ جیسے “ نیلسن منڈیلا “ اپنی ستایئس سالہ رھائی کے بعد اگر اپنی قوم، سے کہتا کہ آؤ گوروں کے خلاف لڑتے ھیں تو بچہ بچہ سڑکوں پر آ جاتا لیکن اُس کے ضمیر نے کہا کہ یہ دانشمندی نہیں ھے ۔ اُس نے سب کو معاف کیا اور اپنا مقام رھتی دنیا تک بنا لیا تاریخ میں بھی اور ھمارے دلوں میں بھی ۔ پھر ایک دم اچانک ھی فادر جم نے ھم سب کی توجہ اٍس طرف کروائی کہ جیسے ھم لوگ اپنے گھر میں مہمانوں کا وارم ویلکم کرتے ھیں

ویسے ھی ھمیں رفیوجیز کا بھی کرنا چاھیئے کہ وہ بھی تو ھمارے ملک کے مہمان ھوتے ھیں لیکن اُن کے خیال کے مطابق ھم سب کے دل چھوٹے اور تنگ پڑ جاتے ھیں ۔ انہوں نے مجھ سے سوال پوچھ کر مجھے چونکا دیا تھا ۔ فادر مجھ سے پوچھ رھے تھے کہ ڈاکٹر تمہیں نہیں لگتا کہ ھم محبت کرنا بھول رھے ھیں ۔ میں نے مسکرا کر اُن کی طرف دیکھا جو مجھے اپنے سوال کے ساتھ دیکھ رھے تھے ۔ فادر آپ محبت کس کو کہتے ھیں ؟ میرے اٍس طرح پوچھنے پر لاما ھیمو ھنس پڑی اور وہ جو سارا وقت کیمرہ سنبھالے تصویریں اتار رھی تھی ۔ کیمرے کو اپنی گود میں رکھ کر فادر جم کو سننے لگ گئی کہ وہ کہہ رھے تھے کہ
محبت ایک “یاد دھانی “ ھے دوسروں کے لیئے بھی اور اپنے لیئے بھی کہ ھم ابھی تک کار آمد ھیں اور اچھے ھیں ۔اور ھم اٍسی محبت سے اگر خود غرضی نکال دے تو خدا کی محبت جیسی ھو جاتی ھے ۔ انہوں نے کہا یہ ھم تم جیسوں کا کام ھے کہ ھم لوگوں کو یاد کراتے رھے کہ ھمیں ایک دوسروے سے صرف محبت کرنی ھے ۔ اور صرف محبت کا ھی معجزہ ھے کہ وہ روحانی سرشاری عطا کرتی ھے ۔

فادر جم کے ساتھ باتوں میں وقت کا پتہ ھی نہیں چلا کب دو گھنٹے گزر گئے ۔ باتوں کے سمیٹنے کا دل نہ بھی چاھتے ھوئے مجھے سمیٹنا ھی تھا ۔ میں نے پوچھ ھی لیا فادریہ بتایئں اب کیا کریں ؟ تو سوال سن کر وہ اُٹھ کھڑے ھوئے اور بڑے بے چین سے ھو کر کہنے لگے ھمیں اپنے خدا کو خوش کرنے کے لیئے ایک دوسرے کو مارنا نہیں چاھیئے ۔ چاھے کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے ملک میں رھتا ھو یا کوئی مسلمان غیر مسلموں کے ملک کا باشندہ ھو ۔ خدا کے لیئے سب سے کہو ، ھر جگہ لکھو کہ خدا اٍس بات سے خوش نہیں ھوتا ۔۔ پھر اُن کے ساتھ ھی ھم دونوں بھی اُٹھ کھڑے ھوئے اور دروازے تک آ گئے ۔ میں نے فادر جم سے پوچھا کہ اگر وہ کوئی بات ایسی کہنا چاھے جو اُن کو سب سے کہنی ھو تو محبت سے کہا کہ کاش میں لوگوں کو بتا سکوں کہ اکثر میں خود کو کہتا ھوں کہ میں نے اتنی اچھی باتیں سیکھنے میں اتنی دیر کیوں کر دی ۔
میں اور لاما اُن سے اور اُن کے مہربان مسکراتے ھوئے سٹاف سے اجازت لے کر ھاؤس آف ویلکم سے باھر آ گئے ۔ واپسی پر ڈاکٹر کرس سوحن اور سروس منیجر مریانو کو فادر جم سے اپنی ملاقات کی تفصیل بتائی تو دونوں نے فادر جم کا شکریہ کرنے پر میرا شکریہ ادا کیا کہ ھمارے ٹراما سینٹر کے مریضوں کی دیکھ ریکھ میں وہ ایک اھم ستون کی طرح ھمارے ساتھ کھڑے تھے ۔ اٍس خوبصورت اور یادگار ملاقات کی خوشبو ابھی تک میرے آس پاس مہک رھی ھے ۔ اور محبت بھرے بادلوں کی طرح مجھ پر برس رھی ھے ۔ سوچتی ھوں کہ بادلوں جیسا بننے کے لیئے اتنی کشادگی اور اتنی محبت کہاں سے لاؤنگی کہ ھر بلند پہاڑ سے لے کچے مکانوں تک برس جاؤں !