پاکستان کا 61 واں جشن آزادی پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے پورے جوش و جزبے اور پاکستان کے استحکام کے
لیئے دعاؤں کے ساتھ منایا۔ لندن، پیرس، واشنگٹن، ماسکو، فرینکفرٹ اور دیگر شہروں کی طرف آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے پاکستانی ہائی کمیشن میں بھی پاکستان کے جشن آزادی کی تقریب پورے جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی جس میں کینبرا میں مقیم پاکستانیوں کے علاوہ سڈنی سے آئے ہوئے مہمانوں نے بھی شرکت کی جن میں
صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین، آسٹریلیا میں القمر آن لائن کی مدیر ڈاکٹر نگہت نسیم کے علاوہ لندن سے آسٹریلیا کے دینی اور ادبی تقریباتی دورے پر آئے معروف براڈکاسٹر،شاعر،محقق ، دانشور اور القمر آن لائن کے چیف ایڈیٹر صفدر ھمٰدانی نے پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت کے سامنے پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی نے بڑی تعداد میں پاکستانی خواتین و حضرات کی موجودگی میں پاکستانی پرچم لہرایا تو وہاں موجود افراد نے بلند آواز میں قومی ترانہ پڑھا۔
اس تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاکستان سے ہوا جس کے بعد ہائی کمیشن میں ملٹری اتاشی بریگیڈیر وردک نے صدر پاکستان اور وزیر

اعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے جس کے بعد ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی نےحاضرین کو یوم آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان کی آزادی قائد اعظم کی مدبرانہ قیادت اور ان بے شمار قربانیوں کی مرہون منت ہے جن کی لہو کی خوشبو آج بھی وطن عزیز کی مٹی میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جنہیں ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم کا سامنا ہے۔ عزت مآب جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس وقت جہاں جمہوریت کا دور شروع ہو رہا ہے وہاں صنعتی اور اقتصادی طور پر بھی ملکی ترقی قابل فخر ہے اور یہ ہماری خوش بختی ہے کہ اپنے وطن عزیز میں ہر بڑی صنعت فروغ پا رہی ہے۔
جناب جلیل عباس جیلانی نے اپنی تقریر کے بعد سڈنی سے کینبرا آئے ہوئے معروف صحافی اور براڈکاسٹر صفدر ھمدانی کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اس موقع پر اپنی تازہ نظم پیش کرنے کی دعوت دی۔
صفدر ھمدانی نےاس منفرد اعزاز پر عزت مآب جلیل عباس جیلانی کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تازہ نظم پیش کی جسے موجود حاضرین نے خوب

سراہا۔ اس نظم کا
موضوع تھا‘‘ یہی وہ دن تھا‘‘
یہی دن تھا کہ جب
سورج نئے انداز سے دھرتی پہ اُبھرا تھا
یہی دن تھا کہ میرے قائد اعظم نے اپنی فکر سے
کاٹی تھیں زنجیریں غلامی کی
یہی دن تھا کہ ماہ و سال کی تقویم نے رنگ گلستان ایسے بدلا تھا
کہ اس گلشن کے کانٹوں میں گلوں نے سر نکالا تھا
ہمارے شہروں میں ہر سو اجالا ہی اجالا تھا
یہی دن تھا کہ اس دھرتی کی مٹی میں فلک سے نور اُترا تھا
یہی دن تھا کہ جب ہر گھر کی چھت پر جھوم اٹھا تھا
یہ پرچم چاند تارے کا
اسی اک دن کی خاطر ماؤں نے بیٹے دیئے تھے اور بہنوں نے دیئے تھے خوبرو بھائی
اسی اک دن کی خاطریاد ہے کتنے سہاگ اجڑے تھے دھرتی پر
چلوکہ آج ہم اک بار پھر سے
خود اپنے آپ سے،اس چاند تارے واے پرچم سے
ہم اپنے قائد اعظم کی مرقد سے
ہم اپنی پاک دھرتی کی شفق رنگ پاک مٹی سے
ہم اپنے شہر کی گلیوں سے،بازاروں پہاڑوں سے
مچلتی وادیوں سے،مسکراتی جھیلوں،جھرنوں سے
ہواؤں سے،ہوا کے دوش پر رقصاں گلابوں سے
یہ وعدہ کر کے کہتے ہیں
قسم ہے ہم کو اس دھرتی پہ روشن چاند سورج کی
قسم ہے ہم کو خوشبو کی صبا کی گُل کی گلشن کی
ہم اس دھرتی کو تا با حشر مثلِ نور رکھیں گے
ہم اس دھرتی سے ظالم آمریت دور رکھیں گے
ہم اس دھرتی کا بس جمہوریت منشور رکھیں گے
جناب صفدر ھمدانی کے بعد مقامی شاعر محمد علی نے اپنے اشعار پیش کیئے جس کے بعد ہائی کمیشن کے ہال میں وہاں موجود افراد کو مشروبات اور مفرحات پیش کی گئیں اور جناب جلیل عباس جیلانی اور انکی اہلیہ شائستہ جیلانی نے عوام میں گھل مل کر انہیں اس دن کی مبارکباد دی۔
ہائی کمیشن میں ہونے والی اس تقریب کے بعد پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی نے پاکستان ہاؤس میں القمر آن لائن کے

چیف ایڈیٹر , معروف براڈکاسٹر اور شاعر جناب صفدر ھمدانی اور سڈنی سے آئے ہوئے مہمانوں اور منتخب افراد کے اعزاز میں نہایت پر تکلف ظہرانہ دیا۔
اس موقع پر موجود افراد نے ادبی،دینی، سماجی اورسیاسی موضوعات پر نہایت کھلے انداز میں گفتگو کی۔جناب جلیل عباس جیلانی نے اس موقع پر اردو ادب کے حوالے سے جو سیر حاصل گفتگو کی اس سے اندازہ ہوا کہ وہ آسٹریلیا میں اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیئے جو مساعی کر رہے ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔

جناب جلیل عباس جیلانی نے اس موقع پر صفدر ھمدانی، نگہت نسیم، سید ظفر حسین اور دیگر احباب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کیا اور انہیں خدا حافظ کہا۔