Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 01:44:53   |   |   |  Text Only Version

Tue, 02 Sep 2008 16:20:00

سڈنی اور میلبورن میں میلاد آئمہ کی محافل(آخری قسط)


ڈاکٹر نگہت نسیم اور سید ظفر حسین سڈنی

اس دورے کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے تمام میزبانوں اور احباب کا فرداََ َ فرداَ َ شکریہ ادا کیا اور اس امر پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ دینی اور ادبی محافل میں انکے کلام اور فکری گفتگو کو سراہا گیا۔

سڈنی اور میلبورن میں میلاد آئمہ کی محافل(آخری قسط)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے با برکت مہینے کی مبارکباد کہ یہ مہینہ خاص طور ماہِ الہی ہے اور اسی مہینے میں پروردگار نے کلامِ پاک نازل کیا اور ہزار راتوں سے بابرکت رات جو قدر کی رات ہے وہ بھی اسی مہینے کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں رکھی۔

رمضان اللہ کا خاص مہینہ ہے اور شعبان خاتم النبین کا مہینہ .رمضان المبارک کی طرح شعبان المعظم کے بھی اپنے مخصوص اعمال ہیں اور رمضان کی طرح اس مہینے کے روزے بھی افضل قرار پائے ہیں۔
اگرچہ شعبان کے روزے فرض نہیں لیکن مسےحب ترین ہیں۔ تین روزے شعبان کے آغاز کے،تین وسط ماہ شعبان کے اور تین آخر شعبان کے جو رمضان کے روزوں کے ساتھ وصل ہو جاتے ہیں۔

آسٹریلیا کے دیگر شہروں کے علاوہ سڈنی میں بھی شعبان کے مہینے کی محافل پورے جوش وخروش سے منائی گئیں اور ضمن میں سب سے اہم محافل امام زمانہ حجت القائم امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت چودہ اور پندرہ شعبان کی درمیانی شب منعقد ہوئیں اور اس موقع پر اس رات کے مخصوص اعمال بھی کروائے گئے جن میں مومنین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پندرہ اگست بروز جمعہ صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ  سید ظفر حسین کے بھائی اور صدائے وطن کے مدیر سید جاوید حسین کے گھر پر سڈنی میں روحانی اور متبرک‘‘ محفلِ ذکرِ اہلبیت‘‘ منعقد ہوئی

اس محفل میں مختلف مسالک کے خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور محمد وآل محمد کے حضور قصائد کا نذرانہ پیش کیا۔


محفل کی نظامت جناب محمد علی نے کی اور اسکا آغاز سید محمد مہدی نے تلاوت کلام پاک سے کیا جسکے بعد سید زوار حسین نے حدیثِ کساء پڑھی اور سید علی شاہ نے دعائے توسل کی تلاوت کی جس کے بعد فرحان منظر،مریم منظر،عباس علوی، ثمر عباس ،عمران ترمذی،سہیل رضوی،اسد علی،جناب صفدر، شجاعت شاہ، مولانا ریحان،ڈاکٹر شبیر حیدر، مولانا سبطین حسنی اور لندن سے تشریف لائے شاعر آلِ عبا اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی اور متعدد دیگر افرادنے کلام سنایا۔

سید جاویدحسین ہر سال اپنے دولت کدے پر باب العلم مولائے کائنات کے یوم ولادت پر محفل میلاد کا اہتمام کرتے ہیں لیکن اس برس انہوں نے جناب صفدر ھمدانی کی سڈنی آمد کے موقع پر اپنے سالانہ پروگرام کو موخر کر کے پندرہ اگست کو ‘‘میلاد آئمہ‘‘ کا اہتمام کیا جو لگ بھگ چار گھنٹے جاری رہا اور فضا نعرہ ہائے تحسین سے گونجتی رہی۔

اس محفل میلاد کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ اس میں تمام مسالک کے افراد نے شرکت کی ۔اس محفل کے اہتمام کے لیئے خود سید جاوید حسین،انکی اہلیہ صبا جاوید اور بچوں نے جس محبت اورعقیدت کا مظاہرہ کیا وہ اس مفاد پرستی کے دور میں خشیت الہی اور عشق اہلبیت کی ایک زندہ اور روشن مثال ہے

محفل مقاصدہ کے بعد بھارت کے مولانا ریحان نے دعا کروائی جس کے بعدحاضرین کے لیئے پر تکلف عشایئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

سولہ اگست ہفتے کے روز سڈنی کے امام حسن سینٹر میں حجت القائم امام زمانہ امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت اور نیمہ شعبان کی مناسبت سے ایک خوبصورت محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا جس سے قبل امام حسن سینٹر کے زیر اہتمام چلنے والے مدرسے کے بچوں نے ڈرامائی انداز میں اس دن اور دینی ارکان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔


امام حسن سینٹر میں ہونے والےاس میلاد کی نظامت عمران نذیری نے کی اور مولانا جعفر خوارزمی کے علاوہ لندن سے آئے ہوئے مہمان شاعر آلِ عبا صفدر ھمدانی کے علاوہ متعدد دیگر افراد نے امام زمانہ کے حضور اشعار کا نذرانہ پیش کیا۔

اس موقع پر مختصر سی معلومات بارہویں امام،حجت القائم، امام مہدی بن حسن العسکری کے بارے میں۔

مکمل نام محمد بن حسن
ترتیب بارہویں اور آخری امام
تاریخ ولادت 15 شعبان، 256 ہجری
لقب مہدی
کنیت ابو القاسم
والد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
والدہ بی بی نرجس (ملیکہ)

امام مھدی علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اختلاف ہےکہ وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مھدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کر کے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مھدی علیہ السلام ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی حدیث میں تفصیل موجود ہے پھر بھی اب تک مھدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔

حوالوں میں دی گئی قدیم کتابوں میں ان کے کئی القاب ملتے ہیں۔ جن میں سے مھدی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کا اصل نام محمد ہے مگر مھدی اس قدر مشہور ہے کہ اسے ہی ان کے نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے القاب و خطابات یہ ہیں

مھدی : ھدائت پائے ہوئے
القائم  : کھڑا ہونے والا۔ یہ لقب اوپر دی گئی حدیث میں ہے جس میں ان کے بارے میں یہ لقب استعمال کیا گیا ہے۔
المنتظر : جن کا انتظار کیا جا رہا ہے
صاحب الزمان : اھل تشیع کے مطابق وہ زمانے کے امام ہیں
امام عصر یا امامِ زمانہ : یہ بھی صاحب الزمان کے معنی میں ہے

اھل تشیع کے عقیدہ کے مطابق امام مھدی علیہ السلام پیدا ہوچکے ہیں۔ وہ پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے مگر اپنے عمال یا نائبین کے ساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ کے دوران وہ اپنے معاملات اپنے نائبین کے ذریعے چلاتے رہے۔ ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ 260ھ سے 329ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے جسے غیبت کبریٰ کہتے ہیں اس دوران انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق قیامت کے قریب ہوگا۔

امام مھدی علیہ السلام کے ظہور کی بے شمار علامات کتب اھل سنت اور اھل تشیع دونوں میں ملتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی پوری بھی ہو چکی ہیں۔ ان علامات میں سے کچھ حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی۔ حتمی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن کا بروایتے پورا ہونا ضروری ہے۔ کچھ ان کے ظہور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہونگی اور کچھ ظہور کے نزدیک۔ یہاں ان میں سے کچھ درج کی جاتی ہیں۔

سب سے مشہور علامت دجال کا خروج ہے۔ مغربی مفکر اسے عیسی علیہ السلام کا مخالف (Antichrist) کہتے ہیں۔ یہ ذکر تورات میں بھی ملتا ہے۔
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق متوقع ہے۔
علم نجوم و فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور پندرہ کو سورج گرہن لگے گا۔
سفیانی کا خروج۔ یہ ابو سفیان کی اولاد سے ایک شخص ہوگا اور ماں کی طرف سے بنو کلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا۔ اس کا پورا لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔ بیدا مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا۔
بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا۔ اور عراق پر روپے اور غلہ کی پابندی لگنا
امام مھدی علیہ السلام کا ظہور مکہ سے ہوگا اور لوگ رکن و مقام کے درمیان ان کی بیعت کریں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور وہ امام مھدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
دجال کا قتل ہوگا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔

اسی مناسبت سے سڈنی میں ایک اور نہایت یادگار اور ایمان افروز محفل ہوئی۔

سترہ اگست بروز اتوار سڈنی کے معروف قصیدہ خوان اور محافل کی نظامت کرنے والے عمران نذیری اور انکے بھائی کی طرف سے جشن امام زمانہ کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں عاشقان محمد و آل محمد نے شرکت کی اور پوری محفل بدستور نعرہ حیدری اور نعرہ تحسین سے گونجتی رہی۔ حدیث کساء پڑھنے کی سعادت میر ہانی نے حاصل کی۔

اس میں محفل میں اسلام آباد سے آنے والے نوجوان شاعر ذیشان کے علاوہ لندن سے آئے ہوئے معروف شاعر،مرثیہ نگار،صحافی اور براڈکاسٹر صفدر ھمدانی،سڈنی کے معروف شاعر سبطین حسنی، مولانا ریحان، عباس علوی،ذیشان حیدر،کاظم کیانی،جناب مرتضیٰ، جناب عباس، سہیل رضوی،شجاعت شاہ اور عمران نزیری نے امام زمانہ کے حضور ہدیہ تبریک پیش کیا۔

 شعرائے اہلبیت میں جناب سبطین حسنی اور صفدر ھمدانی کے کلام نے وہاں موجود لوگوں میں جیسے ایک بجلی سی دوڑا دی اور پوری محفل نعرہ حیدری سے گونجتی رہی۔


امام حسن سینٹر سڈنی کے منتظم اعلیٰ جناب عباس علی کی دعوت پر لندن سے آنے والے شاعرِ آلِ عبا صفدر ھمدانی نے اپنی مسدس میں ‘‘نعرہ حیدری‘‘ کا فلسفہ اور ضرورت بیان کی جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

سورہء فتح کا اس نعرے میں سارا زور ہے
نعرہء حیدر کا اپنا رنگ اپنا طور ہے
ہاں حصارِ نعرہء حیدر میں ہر اک دور ہے
حشر کے میدان میں بھی یا علی کا شور ہے

ہر منافق نعرہء حیدر سے طشت از بام ہے
نعرہء حیدر کا مطلب نعرہء  اسلام ہے

نعرہء حیدر سنو جینے کا ایک دستور ہے
لوحِ دل پر خون سے لکھا ہوا منشور ہے
یہ فقط نعرہ نہیں ہے زندگی کا نور ہے
نعرہء حیدر لگا کر موت بھی منظور ہے

نعرہء حیدر خدا کے دین کی تکمیل ہے
نعرہء حیدر خدا کے حُکم کی تعمیل ہے

میلاد مہدی کے اختتام پر بھارت کے مولانا ریحان نے نیمہ شعبان کے اعمال کروائے اور حاضرین کی تواضع پر تکلف عشایئے سے کی گئی۔

مہمان شاعرِ آلِ عبا۔مرثیہ نگار،صحافی،براڈکاسٹر اور القمر آن لائن کے چیف ایڈیٹر نے چوبیس اگست اتوار کے روز آسٹریلیا کے شہر ‘‘میلبورن‘‘ کے پنجتنی سینٹر میں اپنا کلام پیش کیا۔

سڈنی سے میلبورن پہنچنے پر پنجتنی سینٹر کے نوجوان نمائندوں نے صفدر ھمدانی استقبال کیا اور صفدر ھمدانی کا مختصر قیام میلبورن کی معروف سماجی اور دینی شخصیت جناب افتخار شاہ کے ہاں رہا۔

سہ پہر میلبورن کے پنجتنی سینٹر میں ایک محفل میلاد ہوئی جس میں جناب صفدر ھمدانی نے اپنا کلام سنایا جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور فضا نعرہ حیدری سے گونجتی رہی۔

اس محفل میں معروف عالمِ دین اور مقرر مولانا صادق حسن صاحب نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود بطور خاص شرکت کی ۔ مولانا صادق حسین جناب صفدر ھمدانی اور انکے مرحوم والد مصطفیٰ علی ھمدانی کے مداحین میں سے ہیں اور صفدر ھمدانی کو اس عدہ کا قابل ذکر اور اہم مرثیہ نگار قرار دیتے ہیں۔


اس محفل کے اختتام کے فوری بعد صفدر ھمدانی میلبورن سے سڈنی واپس روانہ ہو گئے۔

سڈنی کے امام حسین سینٹر کے روح رواں عباس علی کی دعوت پر ماہ شعبان کی مخصوص تقریبات میں شرکت کے لیئے لندن سے تشریف لانے والے معروف شاعر،صحافی اور براڈکاسڑ صفدر ھمدانی کا دورہ میلبورن کے پروگرام کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچا جس کے بعد صفدر ھمدانی 26اگست کی سہ پہر سڈنی سے لندن روانہ ہو گئے۔

 
سڈنی کے ہوائی اڈے پر انکے احباب بالخصوص صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین، القمر آن لائن کی ایڈیٹر اور معروف افسانہ نگار ڈاکٹر نگہت نسیم،انکے شوہر محمد آفتاب اور بیٹی آمنہ آفتاب نے انہیں  خدا حافظ کہا اور وہ 27اگست کی علی الصبح بخیر و عافیت لندن واپس پہنچ گئے۔

اس دورے کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے تمام میزبانوں اور احباب کا فرداََ َ فرداَ َ شکریہ ادا کیا اور اس امر پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ دینی اور ادبی محافل میں انکے کلام اور فکری گفتگو کو سراہا گیا۔

 انہوں نے اس ضمن میں خاص طور پر امام حسن سینٹر کے جناب عباس علی،انکی اہلیہ زہرہ عباس،والدہ اور والد کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور دیگر احباب اور کرم فرماؤں میں خاص طور پر آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی اور انکی اہلیہ شائستہ جیلانی، صدائے وطن کے سید ظفر حسین  اور انکی اہلیہ نفیسہ ظفراور جاوید حسین اور انکی اہلیہ صبا جاوید، ڈاکٹر شبیر حیدر اور انکی اہلیہ فرحت شبیر، ڈاکٹر نگہت نسیم اور انکے شوہر محمد آفتاب،ڈاکٹر دل آرا، مولانا جعفر خوارزمی، امام حسن سینٹر کے باقر رضا، پاکستان ایسوسی ایشن کے اعجاز خان، منظر مرزا،فریدہ لاکھانی، عمران نذیری اور مولانا سبطین حسنی کا شکریہ ادا کیا۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سڈنی کے امام حسن سینٹر میں میلاد آئمہ کی محافل(تیسری قسط)


امام حسن سینٹر سڈنی کی دعوت پر لندن سے آنے والے شاعر،ادیب،محقق،مرثیہ نگار اور براڈکاسٹر صفدر ھمدانی اپنے تین ہفتےکے دورے کے بعد اب سڈنی سے لندن واپس پہنچ چکے ہیں لیکن یہاں سڈنی اور میلبورن کے علمی اور ادبی حلقوں میں انکی فکری نشستوں اور شاعری کی باز گشت ابھی تک موجود ہے۔

سڈنی سےا نکی رونگی کی تفصیل اگلی کسی قسط میں شائع ہو گی تا ہم یہاں گزشتہ دو قسطوں کے تسلسل میں یہ بتانا ہے کہ خود صفدر ھمدانی نے اپنی نجی ملاقاتوں میں اس امر پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا کہ امام حسن سینٹر کی انتظامیہ محترم عباس علی کی قیادت میں ایسے ایسے نئے اور متنوع پروگرام ترتیب دے رہی ہے جن کا عمومی طور پر دینی،مذہبی اور مسلکی مراکز سے کوئی تعلق نہیں سوچا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ادب اور ثقافت کو خاص طور پر مقامی سطح پہ دین اور اسکے بنیادی عناصر سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور ‘‘اردو ادبی ورکشاپ‘‘ جیسے پروگرام بچوں اور نوجوانوں میں ادبی ذوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں لکھنے کی تحریک پیدا کرنے کا ایک اہم ترین عنصر ہے۔

یہاں ضروری ہے کہ چند سطور میں محترم عباس علی کا ذکر کیا جائے جو امام حسن سینٹر کے روح رواں ہیں اور جنکے نوجوان جذبوں کی روشنی میں امام حسن سینٹر اور اسکے کارپرداز نئی سوچ اور نئی فکر کے ساتھ نئی نسل کی پرداخت کر رہے ہیں

عباس علی پر اپنے والد اور والدہ کی دعاؤں کا سایہ ہے اور یہ امام حسن سینٹر انہیں والدین کی خواہش اور تمنا تھی جسے عباس علی نے حقیقت کا روپ دیا اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ مالی طور پر بھی وہ اعانت کی جس کے بارے میں لکھنے سے عباس علی ہمیشہ منع کرتے ہیں اور ہم بھی انکی اس خواہش کا احترام کرتے ہیں۔

اس خاندان کی روح رواں عباس علی والدہ محترمہ حمیدہ صاحبہ ہیں جنکو خانوادہ رسالت کے ایک ایک فرد سے عشق ہے اور غلامان اہلبیت کی فہرست میں شامل ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس خانوادے میں اردو سے عشق کرنے والی اور اردو بولنے اور سمجھنے والی خاتون بھی عباس علی کی والدہ ہی ہیں۔

محمد و آلِ محمد سے ان خاتون کا عشق ہی تو ہے کہ انکی کوکھ سے جنم لینے والے عباس علی نے سڈنی میں ایک ایسے مرکز کی کمان سنبھال رکھی ہے جو میرے نزدیک دنیا بھر کے ایسے بہت سے مذہبی مراکز کے لیئے ایک مثال ہے۔

عباس علی کےوالد غلام حسین برسوں پہلے جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا تشریف لائے تھے بلکہ یوں کہوں کہ قدرت نے انہیں ایک اس مقصد کے لیئے یہاں بھیجا تھا اور پھر زندگی کے عجیب عجیب نشیب و فراز کے بعد اس خاندان نے اپنے عزم صمیم کے ساتھ اسلام کی خدمت کے لیئے جس نظریے کے تحت تمام تر مقامی مخالفتوں کے باوجود یہ امام حسن سینٹر قائم کیا اور اسمیں ہر سن و سال کے بچوں،بچیوں،خواتین و حضرات اور بزرگوں کے لیئے نئی سوچ اور فکر کے ساتھ جس طرح پروگرام اور مصروفیات کو ترتیب دیا ہے وہ اس امر کی نفی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں عزا خانوں اور مساجد میں شدت پسندی کا درس دیا جاتا ہے۔

ہاں ان جگہوں پر اگر کسی شدت پسندی کا درس دیاجاتا ہے تو وہ ہے محبت میں شدت پسندی،انسان دوستی میں شدت پسندی،حق گوئی اور حق شناسی میں شدت پسندی،احترام آدمیت میں شدت پسندی۔

خود صفدر ھمدانی صاحب کے بقول “ یہ انکی خوش بختی ہے کہ محمد و آل محمد کے کرمِ خاص سے انہوں نے اردو مرثیے کا یورپ بھر میں احیا کیا ہے اور یہ ایک ایسا عطیئہ خالق لوح وقلم ہے کہ اس میں انکا اپنا کمال بہت کم اور پروردگار کی عطا بہت زیادہ ہے ۔اسی اردو مرثیے کو اور خود تصنیف مرثیے کو آسٹریلیا میں بھی آغاز کرنے کا اعزاز عزت دینے والے نے انہیں عنایت کیا اور میں دنیا کے اس حسین خطے آسٹریلیا میں خود تصنیف مرثیہ پڑھنے والا پہلا شخص قرار پایا اور اس سعادت کے حصول میں جہاں ڈاکٹر شبیر حیدر اور برادر معظم سید ظفر حسین کے علاوہ سید زوار حسین اور دیگر بہت سے احباب کا حصہ ہے وہاں خاص توجہ سڈنی کے امام حسن سنیٹر کی انتظامیہ بالخصوص اس مرکز کے ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمی اور اس مرکز کے روح رواں برادرم عباس علی اور انکے خانوادے کی ہے‘‘۔

یہاں ایک بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ عباس علی کے خانوادے کی مثال ایک منفرد اور بہت الگ سی مثال اس حوالے سے ہے کہ اگر کوئی انسان کسی مقصد کو پورا کرنے کی ٹھان لے تو پھر قدرت بھی ایسے ایسے رُخ اور وسیلوں سے انکی مدد کرتی ہے کہ انسان خود حیران ہو جاتاہے۔


اسلامی کیلنڈر میں شعبان المعظم کا مہینہ دیگر مہینوں کی نسبت اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ اللہ کے پیارے نبی نے اس مہنیے کو اپنا مہینہ کہا ہے ۔شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔ حضور اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینے میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے۔

امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب ماہ شعبان کا چاندنموردار ہوتا تو امام زین العابدین علیہ السلام تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب !جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خداکی قربت کے لیے اس مہینے میں روزے رکھو۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی بن الحسین کی جان ہے، میں نے اپنے پدربزرگوار حسین بن علی علیہما السلام سے سنا۔ وہ فرماتے تھے میں اپنے والدگرامی امیرالمومنین علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کے لیے شعبان میں روزہ رکھے توخدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کرے گا قیامت کے دن اس کو عزت وحرمت ملے گی اور جنت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔

شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزے رکھنے پر آمادہ کرو! میں نے عرض کیا، اس کی فضیلت کیا ہے؟ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا ” اے اہل مدینہ ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے یعنی روزہ رکھے۔“صفوان کہتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے جب سے منادی رسول نے یہ ندا دی ہے، اس کے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہ ہوگا۔ نیز فرمایا کہ شعبان ورمضان دومہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔

شعبان کا مہینہ اہلبیت رسول کے لیئے خوشیوں کا مہینہ ہے کہ اس مہینے میں سید الشہدا امام حسین علیہ السلام، جناب زینب سلام اللہ، سید الساجدین امام زین العابدین، حضرت عباس علمدار، حضرت قاسم، اور حضرت علی اکبر کے علاوہ حجت آخر امام عصر امام مہدی عجل اللہ کی ولادت بھی ہے اور یہ ایام مسلم دنیا کے علاوہ ان ممالک میں جہاں مسلمان مقیم ہیں پوری عقیدت واحترام سے منائے جاتے ہیں۔

آسٹریلیا کے دیگر شہروں کے علاوہ سڈنی میں بھی شعبان کے مہینے کی محافل پورے جوش وخروش سے منائی گئیں اور ضمن میں سب سے اہم محافل امام حسن سینٹر کے علاوہ صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین کے بھائی اور صدائے وطن کے مدیر سید جاوید حسین اور عمران نذیری کے ہاں منعقد ہوئیں۔ ان محافل کی تفصیل اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیے گا۔

”جاری ہے“


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سڈنی کے امام حسن سینٹر میں میلاد آئمہ کی محافل(دوسری قسط)                                                  
                                     

نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین ابن امام حسین کی ولادت کے سلسلے میں ہونے والی امام حسن سینٹر سڈنی کی تقریب میں جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اس کی تفصیل کسی اگلی قسط میں پیش کی جائے گی لیکن یہاں امام حسن سینٹر کے ریزیڈنٹ عالم مولانا جعفر خوارزمی کا کچھ ذکر ضروری ہے جنہوں نے سڈنی اور اسکے گردو نواح کے بچوں اور نوجوانوں کی دینی تعلیم کا ذمہ کچھ اس طرح سنبھال رکھا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کے تقاضے بھی پورے ہوتے رہتے ہیں اور یہی دراصل دین اسلام کی خوبی ہے کہ دن اور دنیا الگ الگ نہیں۔ مولانا جعفر خوارزمی جس طرح اور جس انداز میں بچوں اور نوجوانوں کو درس دیتے ہیں وہ اچھی معلم کی تمام خوبیاں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔

میں نے انکی بہت مختصر سی گفتگو سُنی ہے اور ان سے ملاقات بھی کوئی طویل نہیں ہوئی لیکن اس مختصر سی مدت میں مجھے انکی شعر فہمی اور مرثیہ شناسی کاادراک ہوا ہے۔ انکے خانوادے کے بارے میں بھی تحریر کرؤں گا لیکن یہ بتاتا چلوں کہ وہ راولپنڈی کے لیفٹینٹ جنرل سید تصور حسین کے فرزند ارجمند ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کو دینِ حقہ کی تعلیم دلوا کر زمین پر ہی جنت خرید لی تھی۔ ستر کی دہائی میں مجھے ان سے ملاقات کا شرف رہا ہے اور میں اس خاندان کی نجابت و شرافت اور علم دوستی سے آگاہ ہوں۔

مسلہ یہ نہیں ہوتا کہ خودآپ نے کتنا علم حاصل کیا ہے۔اصل بات تو یہ ہوتی ہے کہ جو علم آپکو ودیعت ہوا ہے اس سے بنی نوعِ انسان کو کیسے اور کتنا فائدہ ہو رہا ہے اوراس علم کی ترسیل کیسے ہو رہی ہے۔ میں مولانا محمد جعفر خوارزمی سے برسوں سے تو واقف نہیں لیکن جو چند گھنٹے انکی صحبت میں گزرے ہیں انکی روشنی میں پورے صدق دل سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ان کے سینے میں موجود علم تاثر کی ایک بلند حد کے ساتھ انکی ہونٹوں کے راستے سننے والوں کے قلوب و اذہان کو منور و معطر کرتا ہے۔ اس شعبے میں شیریں بیانی بھی ایک وصف ہے جو انہیں خدائے متعال نے دے رکھا ہے۔

ہمارے خیال میں اگر ایسے مراکز کو ذہنی اور فکری طور پر بیدار کسی ایسے ریزیڈنٹ عالم کی خدمات میسر آ جائیں تو سونے پر سہاگہ ہوا کرتا ہے۔ اپنے علم اور اس علم کی ترسیل کے حوالے سے ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمی اس مرکز اور یہاں کے فیض حاصل کرنے والوں کے لیئے جس سادہ اور موثر انداز میں ترویج درسِ محمد و آلِ محمد اور تہزیبِ افراد کر رہے ہیں اس پر وہ واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

دس اگست اتوار کے روز امام حسن سینٹر میں ولادتِ علمدار حُسینی حضرت عباس علیہ السلام کی ولادت کا جشن تھا جس میں گزشتہ روز کی طرح اس روز بھی شعرائے کرام نے علمدارِ حُسینی کے حضور نزرانہ عقیدت پیش کیا اور اس محفل ِ متبرک کی صدارت لندن سے تشریف لائے شاعرِ آلِ عبا صفدر ھمدانی نے کی اور اس محفل میں جن شعرا،قصیدہ خوانوں اور منقبت خوانوں نے کلام پیش کیا اُن میں عمران نذیری، حسن زیدی، تنویر،اسد علی۔عباس علوی، شجاعت شاہ، عباس علوی،مولانا جعفر خوارزمی،ڈاکٹر شبیر حیدر، مولانا سبطین حسنی کے علاوہ مہمان شاعر صفدر ھمدانی بھی شامل تھے۔

حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔ روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اھلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھاحضرت علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کے مشورے سے جوانساب کے ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا کرے جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسین (ع) کی نصرت و مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا ، چار بیٹے امام علی کو عطا کردئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیااور شہید ہوئے لیکن عباس (ع) ان سب میں ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص نہج پر پرورش کی تھی ۔

واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے ذیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔

امام حسن سینٹر سڈنی میں ہونے والی محفل میلاد میں لندن سے آئے ہوئے مہمان شاعرِ اہلبیت صفدر ھمٰدانی نے طویل منقبت پیش کرنے سے پہلےایک تازہ رباعی پیش کی جسے بے حد پسند کیا گیا۔

خوں جسم میں گرماتا ہے عباس کا پرچم
جنت سے نظر آتا ہے عباس کا پرچم
جبریل کے ذمے ہے ہر اُس گھر کی حفاظت
جس گھر پہ بھی لہراتا ہے عباس کا پرچم (جاری ہے)












......................................................................................................................................................................................
سڈنی کے امام حسن سینٹر میں میلاد آئمہ کی محافل(پہلی قسط)                                              

سڈنی کا امام حسن سینٹر اپنی وسعت اور جدید طرز تعمیر کی وجہ سے تو منفرد ہے ہی لیکن اسکی ترقی کی ضمانت وہ قیادت ہے جس نے
اسکو صرف  نماز اور روزے کی تبلیغ کا ہی مرکز نہیں بنایا بلکہ کیمونٹی کے بچوں، بچیوں اور نوجوانوں کو معاشرے کا فعال اور با صلاحیت رکن بنانے کے لیئے اہم کردار کیا ہے۔

اس مرکز کی قیادت محترم عباس علی اور انکی اہلیہ زہرا عباس کے ذمے ہے جو اپنے والدین کی سربراہی میں اس کار خیر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس خانوادے کی تفصیل آگے چل کر بیان کرؤں گی لیکن یہاں سب سے پہلے یہ بتاتی چلوں کہ اس سال امام حسن سینٹر کی انتظامیہ نے ماہ شعبان کے پروگراموں میں ایک تنوع پیدا کیا اور روایتی ذاکری کی بجائے قصائد اور منقبت کی خصوصی محافل کا انتظام کیا جس کے لیئے محترم عباس علی نے لندن سے معروف شاعر، ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق،براڈکاسٹر اور انٹر نیٹ کی دنیا کے موقر اخبار ‘‘القمر آن لائن‘‘ کے چیف ایڈیٹر صفدر ھمدانی کو مدعو کیا جنہوں نے سڈنی میں اس نوعیت کی متعدد محافل میں ذکر محمد وآل محمد کے علاوہ میلبورن میں بھی ایسی محافل سے خطاب کیا۔

جناب صفدر ھمدانی ان محفل میں شرکت کے لیے آٹھ اگست کو لندن سے سڈنی پہنچے جہاں ہوائی اڈے پر امام حسن سینٹر کی انتظامیہ کی طرف سے عباس علی، انکی اہلیہ زہرا عباس ، معروف صحافی اور صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین اور مدیر سید جاوید حسین اور القمر آن لائن کی طرف سے ایڈیٹر نگہت نسیم، انکے شوہر محمد آفتاب اور بیٹی آمنہ آفتاب نے انکا خیر مقدم کیا۔

جناب صفدر ھمدانی کا قیام بنیادی طور پر عباس علی کے گھر پر رہا لیکن ادبی ، دینی اور سماجی تقریبات میں شرکت کی غرض سے مرکزی سڈنی میں انکا زیادہ تر قیام نگہت نسیم اور سید ظفر حسین کے ہاں رہا۔

سڈنی آمد کے بعد اگلے ہی روز نو اگست بروز ہفتہ جناب صفدر ھمدانی نے امام حسین سینٹر میں نواسہ رسول،شہید اعظم امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین کی ولادت کے سلسلے میں ہونے والی خصوصی محفل میلاد میں شرکت کی جس میں بڑی تعداد میں عاشقان محمد و آل محمد کے علاوہ ذاکرین اور شعرا نے شرکت کی جن میں اسد علی ,عمران نذیری،عباس علوی، اقتدار عابدی، حسن زیدی، تنویر،شجاعت شاہ، شبیر حیدر، مولانا سبطین حسنی اور صفدر ھمدانی کے نام قابل ذکر ہیں
۔(جاری ہے)
   
              

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

امام حسن سینٹر۔سڈنی
Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31