دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے با برکت مہینے کی مبارکباد کہ یہ مہینہ خاص طور ماہِ الہی ہے اور اسی مہینے میں پروردگار نے کلامِ پاک نازل کیا اور ہزار راتوں سے بابرکت رات جو قدر کی رات ہے وہ بھی اسی مہینے کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں رکھی۔رمضان اللہ کا خاص مہینہ ہے اور شعبان خاتم النبین کا مہینہ .رمضان المبارک کی طرح شعبان المعظم کے بھی اپنے مخصوص اعمال ہیں اور رمضان کی طرح اس مہینے کے روزے بھی افضل قرار پائے ہیں۔
اگرچہ شعبان کے روزے فرض نہیں لیکن مسےحب ترین ہیں۔ تین روزے شعبان کے آغاز کے،تین وسط ماہ شعبان کے اور تین آخر شعبان کے جو رمضان کے روزوں کے ساتھ وصل ہو جاتے ہیں۔
آسٹریلیا کے دیگر شہروں کے علاوہ سڈنی میں بھی شعبان کے مہینے کی محافل پورے جوش وخروش سے منائی گئیں اور ضمن میں سب سے اہم محافل امام زمانہ حجت القائم امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت چودہ اور پندرہ شعبان کی درمیانی شب منعقد ہوئیں اور اس موقع پر اس رات کے مخصوص اعمال بھی کروائے گئے جن میں مومنین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پندرہ اگست بروز جمعہ صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین کے بھائی اور صدائے وطن کے مدیر سید جاوید حسین کے گھر پر سڈنی میں روحانی اور متبرک‘‘ محفلِ ذکرِ اہلبیت‘‘ منعقد ہوئی
اس محفل میں مختلف مسالک کے خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور محمد وآل محمد کے حضور قصائد کا نذرانہ پیش کیا۔ محفل کی نظامت جناب محمد علی نے کی اور اسکا آغاز سید محمد مہدی نے تلاوت کلام پاک سے کیا جسکے بعد سید زوار حسین نے حدیثِ کساء پڑھی اور سید علی شاہ نے دعائے توسل کی تلاوت کی جس کے بعد
فرحان
منظر،مریم منظر،عباس علوی، ثمر عباس ،عمران ترمذی،سہیل رضوی،اسد علی،جناب صفدر، شجاعت شاہ، مولانا ریحان،ڈاکٹر شبیر حیدر، مولانا سبطین حسنی اور لندن سے تشریف لائے شاعر آلِ عبا اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی اور متعدد دیگر افرادنے کلام سنایا۔
سید جاویدحسین ہر سال اپنے دولت کدے پر باب العلم مولائے کائنات کے یوم ولادت پر محفل میلاد کا اہتمام کرتے ہیں لیکن اس برس انہوں نے جناب صفدر ھمدانی کی سڈنی آمد کے موقع پر اپنے سالانہ پروگرام کو موخر کر کے پندرہ اگست کو ‘‘میلاد آئمہ‘‘ کا اہتمام کیا جو لگ بھگ چار گھنٹے جاری رہا اور فضا نعرہ ہائے تحسین سے گونجتی رہی۔

اس محفل میلاد کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ اس میں تمام مسالک کے افراد نے شرکت کی ۔اس محفل کے اہتمام کے لیئے خود سید جاوید حسین،انکی اہلیہ صبا جاوید اور بچوں نے جس محبت اورعقیدت کا مظاہرہ کیا وہ اس مفاد پرستی کے دور میں خشیت الہی اور عشق اہلبیت کی ایک زندہ اور روشن مثال ہے
محفل مقاصدہ کے بعد بھارت کے مولانا ریحان نے دعا کروائی جس کے بعدحاضرین کے لیئے پر تکلف عشایئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔
سولہ اگست ہفتے کے روز سڈنی کے امام حسن سینٹر میں حجت القائم امام زمانہ امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت اور نیمہ شعبان کی مناسبت سے ایک خوبصورت محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا جس سے قبل امام حسن سینٹر کے زیر اہتمام چلنے والے مدرسے کے بچوں نے ڈرامائی انداز میں اس دن اور دینی ارکان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔امام حسن سینٹر میں ہونے والےاس میلاد کی نظامت عمران نذیری نے کی اور مولانا جعفر خوارزمی کے علاوہ لندن سے آئے ہوئے مہمان شاعر آلِ عبا صفدر ھمدانی کے علاوہ متعدد دیگر افراد نے امام زمانہ کے حضور اشعار کا نذرانہ پیش کیا۔
اس موقع پر مختصر سی معلومات بارہویں امام،حجت القائم، امام مہدی بن حسن العسکری کے بارے میں۔
مکمل نام محمد بن حسن ترتیب بارہویں اور آخری امام تاریخ ولادت 15 شعبان، 256 ہجری لقب مہدی کنیت ابو القاسم والد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام والدہ بی بی نرجس (ملیکہ) 
امام مھدی علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اختلاف ہےکہ وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مھدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کر کے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مھدی علیہ السلام ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی حدیث میں تفصیل موجود ہے پھر بھی اب تک مھدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔
حوالوں میں دی گئی قدیم کتابوں میں ان کے کئی القاب ملتے ہیں۔ جن میں سے مھدی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کا اصل نام محمد ہے مگر مھدی اس قدر مشہور ہے کہ اسے ہی ان کے نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے القاب و خطابات یہ ہیں
مھدی : ھدائت پائے ہوئے القائم : کھڑا ہونے والا۔ یہ لقب اوپر دی گئی حدیث میں ہے جس میں ان کے بارے میں یہ لقب استعمال کیا گیا ہے۔ المنتظر : جن کا انتظار کیا جا رہا ہے صاحب الزمان : اھل تشیع کے مطابق وہ زمانے کے امام ہیں امام عصر یا امامِ زمانہ : یہ بھی صاحب الزمان کے معنی میں ہے 
اھل تشیع کے عقیدہ کے مطابق امام مھدی علیہ السلام پیدا ہوچکے ہیں۔ وہ پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے مگر اپنے عمال یا نائبین کے ساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ کے دوران وہ اپنے معاملات اپنے نائبین کے ذریعے چلاتے رہے۔ ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ 260ھ سے 329ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے جسے غیبت کبریٰ کہتے ہیں اس دوران انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق قیامت کے قریب ہوگا۔
امام مھدی علیہ السلام کے ظہور کی بے شمار علامات کتب اھل سنت اور اھل تشیع دونوں میں ملتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی پوری بھی ہو چکی ہیں۔ ان علامات میں سے کچھ حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی۔ حتمی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن کا بروایتے پورا ہونا ضروری ہے۔ کچھ ان کے ظہور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہونگی اور کچھ ظہور کے نزدیک۔ یہاں ان میں سے کچھ درج کی جاتی ہیں۔
سب سے مشہور علامت دجال کا خروج ہے۔ مغربی مفکر اسے عیسی علیہ السلام کا مخالف (Antichrist)

کہتے ہیں۔ یہ ذکر تورات میں بھی ملتا ہے۔
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق متوقع ہے۔ علم نجوم و فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور پندرہ کو سورج گرہن لگے گا۔ سفیانی کا خروج۔ یہ ابو سفیان کی اولاد سے ایک شخص ہوگا اور ماں کی طرف سے بنو کلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا۔ اس کا پورا لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔ بیدا مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا۔ بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا۔ اور عراق پر روپے اور غلہ کی پابندی لگنا امام مھدی علیہ السلام کا ظہور مکہ سے ہوگا اور لوگ رکن و مقام کے درمیان ان کی بیعت کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور وہ امام مھدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ دجال کا قتل ہوگا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔ اسی مناسبت سے سڈنی میں ایک اور نہایت یادگار اور ایمان افروز محفل ہوئی۔
سترہ اگست بروز اتوار سڈنی کے معروف قصیدہ خوان اور محافل کی نظامت کرنے والے عمران نذیری اور انکے بھائی کی طرف سے جشن امام زمانہ کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں عاشقان محمد و آل محمد نے شرکت کی اور پوری محفل بدستور نعرہ حیدری اور نعرہ تحسین سے گونجتی رہی۔ حدیث کساء پڑھنے کی سعادت میر ہانی نے حاصل کی۔
اس میں محفل میں اسلام آباد سے آنے والے نوجوان شاعر
ذیشان کے علاوہ لندن سے آئے ہوئے معروف شاعر،مرثیہ نگار،صحافی اور براڈکاسٹر صفدر ھمدانی،سڈنی کے معروف شاعر سبطین حسنی، مولانا ریحان، عباس علوی،ذیشان حیدر،کاظم کیانی،جناب مرتضیٰ، جناب عباس، سہیل رضوی،شجاعت شاہ اور عمران نزیری نے امام زمانہ کے حضور ہدیہ تبریک پیش کیا۔
شعرائے اہلبیت میں جناب سبطین حسنی اور صفدر ھمدانی کے کلام نے وہاں موجود لوگوں میں جیسے ایک بجلی سی دوڑا دی اور پوری محفل نعرہ حیدری سے گونجتی رہی۔
امام حسن سینٹر سڈنی کے منتظم اعلیٰ جناب عباس علی کی دعوت پر لندن سے آنے والے شاعرِ آلِ عبا صفدر ھمدانی نے اپنی مسدس میں ‘‘نعرہ حیدری‘‘ کا فلسفہ اور ضرورت بیان کی جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
سورہء فتح کا اس نعرے میں سارا زور ہےنعرہء حیدر کا اپنا رنگ اپنا طور ہےہاں حصارِ نعرہء حیدر میں ہر اک دور ہےحشر کے میدان میں بھی یا علی کا شور ہے
ہر منافق نعرہء حیدر سے طشت از بام ہےنعرہء حیدر کا مطلب نعرہء اسلام ہےنعرہء حیدر سنو جینے کا ایک دستور ہےلوحِ دل پر خون سے لکھا ہوا منشور ہےیہ فقط نعرہ نہیں ہے زندگی کا نور ہےنعرہء حیدر لگا کر موت بھی منظور ہےنعرہء حیدر خدا کے دین کی تکمیل ہےنعرہء حیدر خدا کے حُکم کی تعمیل ہےمیلاد مہدی کے اختتام پر بھارت کے مولانا ریحان نے نیمہ شعبان کے اعمال کروائے اور حاضرین کی تواضع پر تکلف عشایئے سے کی گئی۔
مہمان شاعرِ آلِ عبا۔مرثیہ نگار،صحافی،براڈکاسٹر اور القمر آن لائن کے چیف ایڈیٹر نے چوبیس اگست اتوار کے روز آسٹریلیا کے شہر ‘‘میلبورن‘‘ کے پنجتنی سینٹر میں اپنا کلام پیش کیا۔سڈنی سے میلبورن پہنچنے پر پنجتنی سینٹر کے نوجوان نمائندوں نے صفدر ھمدانی استقبال کیا اور صفدر ھمدانی کا مختصر قیام میلبورن کی معروف سماجی اور دینی شخصیت جناب افتخار شاہ کے ہاں رہا۔
سہ پہر میلبورن کے پنجتنی سینٹر میں ایک محفل میلاد ہوئی جس میں جناب صفدر ھمدانی نے اپنا کلام سنایا جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور فضا نعرہ حیدری سے گونجتی رہی۔
اس محفل میں
معروف عالمِ دین اور مقرر مولانا صادق حسن صاحب نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود بطور خاص شرکت کی ۔ مولانا صادق حسین جناب صفدر ھمدانی اور انکے مرحوم والد مصطفیٰ علی ھمدانی کے مداحین میں سے ہیں اور صفدر ھمدانی کو اس عدہ کا قابل ذکر اور اہم مرثیہ نگار قرار دیتے ہیں۔اس محفل کے اختتام کے فوری بعد صفدر ھمدانی میلبورن سے سڈنی واپس روانہ ہو گئے۔

سڈنی کے امام حسین سینٹر کے روح رواں عباس علی کی دعوت پر ماہ شعبان کی مخصوص تقریبات میں شرکت کے لیئے لندن سے تشریف لانے والے معروف شاعر،صحافی اور براڈکاسڑ صفدر ھمدانی کا دورہ میلبورن کے پروگرام کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچا جس کے بعد صفدر ھمدانی 26اگست کی سہ پہر سڈنی سے لندن روانہ ہو گئے۔

سڈنی کے ہوائی اڈے پر انکے احباب بالخصوص صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین، القمر آن لائن کی ایڈیٹر اور معروف افسانہ نگار ڈاکٹر نگہت نسیم،انکے شوہر محمد آفتاب اور بیٹی آمنہ آفتاب نے انہیں خدا حافظ کہا اور وہ 27اگست کی علی الصبح بخیر و عافیت لندن واپس پہنچ گئے۔
اس دورے کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے تمام میزبانوں اور احباب کا فرداََ َ فرداَ َ شکریہ ادا کیا اور اس امر پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ دینی اور ادبی محافل میں انکے کلام اور فکری گفتگو کو سراہا گیا۔
انہوں نے اس ضمن میں خاص طور پر
امام حسن سینٹر کے جناب عباس علی،انکی اہلیہ زہرہ عباس،والدہ اور والد کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور دیگر احباب اور کرم فرماؤں میں خاص طور پر آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی اور انکی اہلیہ شائستہ جیلانی، صدائے وطن کے سید ظفر حسین اور انکی اہلیہ نفیسہ ظفراور جاوید حسین اور انکی اہلیہ صبا جاوید، ڈاکٹر شبیر حیدر اور انکی اہلیہ فرحت شبیر، ڈاکٹر نگہت نسیم اور انکے شوہر محمد آفتاب،ڈاکٹر دل آرا، مولانا جعفر خوارزمی، امام حسن سینٹر کے باقر رضا، پاکستان ایسوسی ایشن کے اعجاز خان، منظر مرزا،فریدہ لاکھانی، عمران نذیری اور مولانا سبطین حسنی کا شکریہ ادا کیا۔