تیل کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں نے یوں نے زندگی کے ہر شعبے پر اثر ڈالا ہے مگر ٹرانسپورٹ کا شعبہ بطور خاص متاثر ہوا ہے اور دنیا بھر میں لوگوں کو آمدورفت اور مال برداری کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں جو ترقی پذیر ملکوں میں اکثر لوگوں کی استعاعت سے باہر ہیں۔
مغربی افریقی ملک سینگال کے لوگ اور کارکن آمدورفت کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ پوری دنیا کو اس تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے۔ آمدورفت اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے مگر تنخواہوں میں نہیں۔ سینگال میں لوگ اپنے دفتروں، اسکولوں، بازاروں، مسجدوں اور خاندانی تقریبات میں آنے جانے کے لیے بسوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے کرایوں میں حال ہی میں 25 سے40 سینٹ تک کااضافہ ہوچکاہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک بڑا اضافہ جن کی آمدنیاں لگ بھگ ایک ڈالر یومیہ ہیں۔
محمد پاپے کا کہنا ہے کہ ایک غریب مضافاتی آبادی میں رہنے والے محمد پاپے کو اپنی مختلف ملازمتوں اور گھر آنے جانے کے لیے روزانہ چار مرتبہ بس استعمال کرنی پڑتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں لازمی طورپر کام کرنا ہے اس لیے بس کے مہنگے سفرکے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اب لوگ آمدورفت کے نئے ذرائع ڈھونڈنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں میں کچھ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر ترک کررہے ہیں اور اب پیدل اپنے کام پر جاتے ہیں۔ نسبتاً امیر اور صنعتی ملکوں میں مہنگے تیل کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی کاریں گھروں میں چھوڑ کر عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کررہےہیں۔ امریکہ کے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں گذشتہ سال بھر میں 5 سے 15 فی صد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
تیل قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خوراک سمیت دوسری بہت سی چیزوں اور سروسز کے معاوضوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں 30 ملکوں میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بلوے تک ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں سیاسی استحکام کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ موریشو لوپیز میامی میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ کولمبیا میں امریکہ آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی زندگی میں بے پناہ مشکلات پید ا ہوگئی ہیں۔
لوپیز کہتے ہیں کہ اس سال تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہماری زندگی واقعی بہت مشکلات میں گھر گئی ہے کیونکہ بنیادی طورپر ہماری تمام آمدنی پٹرول خریدنے پر خرچ ہوجاتی ہے۔ ہم نے حال ہی میں تیل کی قیمتوں کے مقابلے کے لیے اپنے کرایوں میں اضافہ کیا تھا لیکن اس سے ٹیکسی پر سفر کرنے والوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ایئر لائنز پر بھی انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں خاص طورپر امریکہ میں۔ امریکن ایئر لائنز اور ڈیلٹا ایئر لائنز ، دونوں کواس سال اب تک ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ کا نقصان ہوچکاہے۔ اس صنعت کے ترجمان جم مے یہ سمجھتے ہیں کہ صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
جم مے کہتے ہیں کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قمیتوں کے باعث زندگی کے ہر شعبے میں پڑنے والے اثرات کو دیکھتے ہوئے ہم اس صنعت کے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ ، بہت ہی زیادہ پریشان ہیں۔
ایئر لائن کے ایک ماہر رک شائےنی کہتے ہیں کہ کرایوں میں اضافہ کاروبار کو متاثر کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ایک وقت آئے گا کہ یہ اس حد تک بڑھ جائیں گی کہ لوگ فضائی سفر چھوڑ دیں گے۔
اس صنعت کے ایک تجزیہ کار ڈیوڈ فیلڈ کہتے ہیں کہ کچھ ایئر لائنز تو ممکن ہے اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکیں۔ او ممکن ہے کہ ہم ایک بار پھر ایئر لائنز کو دیوالیہ ہوتے ہوئے دیکھیں۔
تیل کی مہنگائی سے گاڑیوں کی صنعت میں بھی بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ امریکہ کی دو سب سے بڑی کارکمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ کوامریکی کساد بازاری کے نتیجے میں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جی ایم کے چیئر مین رک ویگنر نے کہا ہے کہ فورڈ کی طرح ان کی کمپنی بھی اپنی کچھ ایسی فیکٹریاں بند کردے گی جہاں زیادہ تیل استعمال کرنے والی گاڑیاں بنتی ہیں۔
جنرل موٹرز کے جی ایم رگ ویگنر کہتے ہیں کہ ہم بیٹھ کرامریکہ کے حالات بہتر ہونے کا انتظار نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنی بقا اور کامیابی کے لیے مستعدی او رسخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
آٹو انڈسٹری اب اپنی توجہ چھوٹی اور کم تیل پر چلنے والی گاڑیوں پر مرکوز کررہی ہے اور ایسی گاڑیاں بنا رہی ہے جو متبادل توانائی مثلاً ہائیڈروجن اور بجلی اور بائیو فیول سے چلیں۔ کچھ اور لوگ موٹر گاڑیوں کے متبادل ڈھونڈ رہے ہیں۔ لاس اینجلس کی رامونا مارکس اب سائیکل پر اپنے کام پر جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے اس شہر اور یہاں کے لوگوں کے بارے میں اچھی امیدیں ہیں۔ کچھ لوگ بہتری کے لیے تبدیلی لارہے ہیں۔
یہ واضح ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے بعد دنیا بھر کے لیے ٹرانسپورٹ ایک اہم مسئلہ بن ہےجس کے حل کے لیے مختلف شعبوں میں کئی اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔