Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Tue, 02 Dec 2008 22:09:55   |   |   |  Text Only Version

Sat, 23 Aug 2008 08:34:00

سڈنی میں صفدر ھمٰدانی کے اعزاز میں محفل غزل


سید ظفر حسین، مدیر اعلیٰ صدائے وطن سڈنی

اس طرح یہ یادگار اور خوبصورت ‘‘شام غزل‘‘ جو جمعے کی رات سات بجے شروع ہوئی تھی ہفتے کے روز کی نئی نوید کے ساتھ نصف شب کے بعد کوئی ساڑھے بارہ بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔

اس سال شعبان 2008میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے امام حسن سینٹر کی انتظامیہ نے اپنے پروگراموں میں ایک تنوع پیدا کیا اور روایتی
ذاکری کی بجائے قصائد اور منقبت کی خصوصی محافل کا انتظام کیا جس کے لیئے امام حسن سینٹر کےمحترم عباس علی نے لندن سے معروف شاعر، ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق،براڈکاسٹر اور انٹر نیٹ کی دنیا کے موقر اخبار ‘‘القمر آن لائن‘‘ کے چیف ایڈیٹر صفدر ھمدانی کو مدعو کیا ۔
 

جناب صفدر ھمدانی ان محفل میں شرکت کے لیے آٹھ اگست کو لندن سے سڈنی پہنچے تھے جہاں ہوائی اڈے پر امام حسن سینٹر کی انتظامیہ کی طرف سے عباس علی، انکی اہلیہ زہرا عباس ، معروف صحافی اور صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین اور مدیر سید جاوید حسین اور القمر آن لائن کی طرف سے ایڈیٹر نگہت نسیم، انکے شوہر محمد آفتاب اور بیٹی آمنہ آفتاب نے انکا خیر مقدم کیا اور اب وہ میلبورن میں ہونے والی محفل میلاد میں شرکت کے بعد واپس لندن روانہ ہو جائیں گے۔
 

سڈنی میں مقیم اردو افسانے کی ایک مستند قلم کار ، جدید اردو نظم کی ایک توانا آواز ،القمر آن لائن کی ایڈیٹر اور دو افسانوی مجموعوں کی خالق ڈاکٹر نگہت نسیم نے بائیس اگست جمعے کی شام اپنے گھر پر جناب صفدر ھمدانی کے اعزاز میں ایک نہایت شاندار ‘‘شامِ غزل‘‘ کا اہتمام کیا جس میں خاصی تعداد میں اہلِ سخن اور شعرا کے علاوہ صفدر ھمدانی کے متعدد دوستوں نے شرکت کی
جس میں صدائے وطن کے مدیر اعلیٰ سید ظفر حسین ۔سید جاوید حسین،ڈاکٹر شبیر حیدر،سید عباس گیلانی، صادق عارف، فریدہ لاکھانی،مولانا سبطین حسنی اور متعدد دیگر احباب شامل ہیں۔


اس موقع پر ڈاکٹر نگہت نسیم نے اپنے گھر کے وسیع کمروں کو روایتی مشاعرہ گاہ کا رنگ دے رکھا تھا جہاں فرشی نشست کا اہتمام تھا اور اس شام غزل سے قبل تمام مہمانوں کے لیئے ایک پر تکلف عشایئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔
 
اس شام غزل کی مہمان خصوصی معروف شاعر اور خطیب سید سبطین حسنی تھے جبکہ صدارت جناب صفدر ھمدانی نےکی اور نظامت کے
 فرائض ڈاکٹر نگہت نسیم اور ڈاکٹر شبیر حیدر نے ادا کیئے۔

اس کامیاب اور حسین ادبی شام کے تین دور تھے ۔پہلے دور میں شام غزل کی میزبان ، معروف افسانہ نگار، شاعرہ اور القمر آن لائن کی ایڈیٹر ڈاکٹر نگہت نسیم اورصدائے وطن سڈٍنی کے چیف ایڈیٹر سید ظفر حسین نے صفدر ھمدانی کی شخصیت اور فن کے بارے میں اظہار خیال کیا

مقامی گلوکار راجہ تاثیر نے صفدر ھمدانی کی غزل‘‘ اس کے بغیر رات بسر کیسے کیجئے۔۔۔اس ایک مرحلے کو بھی سر کیسے کیجئے‘‘اپنی خوبصورت آواز میں گا کر سنائی جس پر حاضرین نے دل کھول کر راجہ تاثیر کو داد دی۔








زاہد منہاس جہلم سے تعلق رکھتے ھیں ۔ عرصہ دراز سے آسٹریلیا میں سکونت رکھتے ھیں اور کئی دہایئوں سے ٹی وی اور ریڈیو سے تعلق رکھتے ھیں اور کافی عرصے سے نگہت نسیم کے ساتھ مل کر ریڈیو دوستی اور دیسی ٹی وی پر بھی پروگرام کرتے ھیں ۔

آج کل اُن کے ترتیب دیئے ھوئے اسٹیج پروگرام بہت مقبول ھو رھے ھیں ۔ انہوں نے جناب صفدر ھمدانی کا ذکر بڑی محبت سے کیا اور سابقہ انٹرویو کاحصہ ایک خوبصورت یاداشت کے طور پر خاص طور پر پیش کیا اور درخواست کی کہ دیسی ٹی وی کے لیئے ضرور ھی خصوصی انٹرویو دی

صفدر ھمدانی کے اعزاز میں ہونے والی شام غزل کی میزبان اور القمر آن لائن کی ایڈیٹر ڈاکٹر نگہت نسیم نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ‘‘ جناب صفدر ھمدانی سے میرا علمی اور قلمی تعارف یوں تو کئی برسوں پر محیط ہے لیکن ان سے بالمشافہ تعارف اور شناسائی بھائی سید ظفر حسین نے گزشتہ برس اسوقت کروائی جب وہ اردو سوسائٹی کے سالانہ مشاعرے کے لیئے سڈنی آئے تھے اور یہی وہ دن تھے جب میں نے القمر آن لائن سے منسلک ہونے کا طے کیا تھا اور یہ مشورہ بھی بھائی سید ظفر حسین کا تھا۔

لوگ مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ میں صفدر ھمدانی کو ‘‘بابا‘‘ کیوں کہتی ہوں تو مجھے میرے والد محترم نے بتایا تھا کہ جو لوگ آپ کی زندگی کے سفر کو مثبت سوچ اور فکر کے ساتھ آسان بنائیں اور مختصر کریں تو انہیں‘‘بابا‘‘ ہی کہتے ہیں کہ وہ اپنے سفر کے تمام استعارے آپ کے مقدر کے نام کرتے ہیں‘‘۔ اسی لیئے آپ سب کے صفدر ھمدانی اور میرے بابا تک کا سفر میرا ذاتی سفر ہے کہ جہاں انکی رہنمائی نے میرا بیس سال کا قلمی سفر بیس دنوں پر محیط کر دیا۔اور اس سارے عرصے کے دوران انہوں نے مجھے ایک افسانہ نگار کے طور پر جانا،ایک شاعرہ کے طور پر دریافت کیا،ایک کالم نگار کی شناخت دی اور پھر صحافت کی دنیا میں القمر آن لائن کا ایڈیٹر ہونے کا اعزاز بھی دیا۔

ڈاکٹر نگہت نسیم کے بعد آسٹریلیا سے نکلنے والے اور دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر پڑھے جانے والے اخبارصدائے وطن سڈٍنی کے چیف ایڈیٹر اور صفدر ھمدانی کے دیرینہ دوست سید ظفر حسین نے اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر میں شناخت کے اپنے اپنے معیار اور عمل ہوا کرتے ہیں۔ اور شناخت کے حوالے کبھی کبھی آپ کی اپنی ذاتی شناخت کو دور کر دیتے ہیں،لیکن صفدر ھمدانی کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ وہ ایک بہت بڑے اور تاریخی حیثیت والے باپ مصطفیٰ علی ھمدانی کے بیٹے ہیں جنہیں پاکستان کے قیام کاپہلا اعلان لاہور ریڈیو سے کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل ہوا اور جو اردو ،فارسی کے شاعر ہونے علاوہ ماہر لسانیات بھی تھے لیکن اسکے باوجود صفدر ھمدانی کی اپنی شناخت ہے۔

اسی طرح کچھ لوگوں کی بیویاں مشہور ہوتی ہیں اور وہ خود بیوی کی شہرت کے سائے میں گُم ہو جاتے ہیں لیکن یہاں بھی صفدر بھائی کی انفرادیت قائم ہے۔ انکی بیگم ماہ پارہ صفدر نشریات کی دنیا میں ایک قد آور نام ہے۔پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان سے لیکر بی بی سی تک کا انکا سفر ایک منفرد سفر ہے لیکن یہاں بھی صفدر ھمدانی کی اپنی شناخت قائم رہی ہے۔

صفدر ھمدانی کے قلمی،علمی اور ذاتی سفر پر گفتگو کے پہلے دور کے اختتام کے بعد دوسرا دور‘‘ شام غزل‘‘ کا تھا جسکی نظامت میزبان ڈاکٹر نگہت نسیم نے کی جبکہ دوسرے دور کے بعد چائے اور مفرحات کا وقفہ ہوا اور تیسرے دور کی نظامت کے لیئے مائیکروفون ڈاکٹر شبیر حیدر کے حوالے کیا۔

ڈاکٹر شبیر نے سب سے پہلے صفدر ھمدانی کی شاعری اور ذات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکی زندگی کی کئی جہتیں ہیں اور وہ ہر جہت کو کامیابی سے نبھا رہے ہیں۔ ایک شاعر،ادیب، محقق، مرثیہ نگار، صحافی، براڈکاسٹر اور کالم نگار،گویا وہ ہر رنگ میں ایک منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
ناظم مشاعرہ ہونے کے ناطے اس تیسرے دور میں سب سے پہلے ڈاکٹر شبیر حیدرنے اپنا کلام پیش کیا

میری آنکھوں میں موتیے کا جنوں
انکی نظروں میں شورِ ظلمت ہے
ان کو اب عارضہ ہے لُکنت کا
مجھ کو ہے مسلہ سماعت کا


آسٹریلیا میں مقیم شاعرات میں ایک اہم نام فریدہ لاکھانی فرح کا بھی ہے جنہوں نے ایک عرصے بعد سڈنی کے کسی مشاعرے میں اپنا کلام سنایا۔ انکے کلام سے انتخاب

ایسا لگتا ہے کہ سر تن سے جدا رکھا ہے
سر کو ڈھونڈھوں تو وہ پاؤں میں پڑا رکھا ہے
پیار کی بیل تو پروان نہ چڑھنے دے گی
تیری دنیا نے تو دستور بنا رکھا ہے

فریدہ لاکھانی فرح کے بعد سڈنی کے شاعرعارف صادق نے اپنی چند غزلیں سنائیں جنہیں بے حد پسند کیا گیا اور سامعین نے دل کھول کر داد دی۔

سوادِ عشق میں سودو زیاں نہیں نکلا
بس ایک درد نہاں ہے،نہاں نہیں نکلا

رہِ وفا میں بہت دور تک گئے لیکن
ہمارے ساتھ کوئی کارواں نہیں نکلا

تلاش کرتے رہے عمر بھر مگر عارف
کہیں چمن میں مرا آشیاں نہیں نکلا

جناب صادق عارف کے بعد جناب عباس گیلانی اپنا کلام سنایا

ہم ہیں ابو تراب کی اولاد دیکھ لو
کتنے یزید ہو گئے برباد دیکھ لو


صفدر ھمدانی کے اعزاز میں منعقد اس شام غزل کی منیزبان ڈاکٹر نگہت نسیم یوں تو اردو افسانے کا ایک مستند نام ہے لیکن انکی لکھی ہوئی نظمیں اپنے طرز کی الگ اور منفرد جدید نظمیں ہیں۔ ڈاکٹر شبیر حیدر نے انہیں دعوت کلام دی تو انہوں نے اپنی تازہ نظمیں پیش کیں جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔

میرے ساحر
یاد ھے نہ
تم نے بھی تو
مجھے راتوں کے پچھلے پہر سلگتے دیکھا تھا
ہجر زدہ شاخٍ بدن کو ٹوٹتے دیکھا تھا
میں آج بھی
اُسی طرح
تمھارے حصار میں سمٹی
اپنے احساس سے لپٹی
روشنی کے گھر میں رھتی ھوں


ڈاکٹر نگہت نسیم کی ایک اور نظم ‘‘یادیں ‘‘سے انتخاب

کل شب
تم نے جب سمندر کے دوسرے کنارے سے مجھے پکارا تھا
تھماری آوازٍ جاں نے جیسے سکوتٍ شب ھی توڑ ڈالا تھا
ھواؤں میں مہکی وہ سرگوشیاں
بادلوں میں اُڑتی وہ بے قراریاں
میرے لب و رخسار کو چھو رھی تھیں
بارش جیسی مجھ پر برس رھی تھیں
سُن کر جنہیں
آنکھوں میں میری رتجگے سے اترنے لگے ھیں
خواب مجھے تھماری ھی طرح اُوڑھنے لگے ھیں
میرے محبوب
وعدے بانٹتی تھماری آنکھیں
یوں مجھ سے لپٹی جاتی ھیں
جیسے
سمندر تھمارے قدموں سے لپٹ گیا ھوگا
اور پھر پیار سے سر رکھ کے سو گیا ھو گا ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے بعد جناب سبطین حسنی نے اپنی غزل گوئی کے جوہر دکھائے۔مولانا سبطین حسنی یوں تو خطابت کی دنیا کا ایک اہم نام ہے لیکن اردو شاعری میں بھی انکا اپنا مقام ہے اور ابھی حال ہی میں انکا تازہ مجموعہ کلام‘‘نجات کی جب سبیل کرنا‘‘ شائع ہوئی ہے جسے ادبی دنیا میں سراہا گیا ہے۔ سبطین حسنی نے اس شامِ غزل میں اپنی غزل گوئی کا جوہر دکھایا۔ انکے کلام کا انتخاب۔

مرا سر جھکا تو مرا خدا مجھے مل کیا
سو نشیب نے بھی کمال ہی کا سفر کیا

زخم دے کر بھی کٹ ہی جائے گا
وقت قاتل بھی ہے قتیل بھی ہے

تکلفات فقط لمسِ اولیں تک تھے
پھر اپنے آپ مرے سارے ڈر اُترتے رہے

آگہی ، تشنہ لبی، نوکِ سناں ، بے وطنی
قتل ہونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں


شام غزل کے آخری شاعر صدر محفل صفدر ھمدانی تھے جنہوں نے اپنی مزاحمتی نظمیں اورغزلیں سنائیں جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ انکی شاعری کا منتخب کلام۔

محبت ہی محبت ہے کہیں نفرت نہیں مجھ میں
جو عزت اُس کو ہے درکار وہ عزت نہیں مجھ میں
٭
مرے ہاتھوں میں اُس کا قتل لکھا ہو نہیں سکتا
خود اپنا قتل کرنے کی بھی توطاقت نہیں مجھ میں
٭
مری ناکامیوں کا مجھ کو یہ باعث نظر آیا
کسی کی بے وجہ تعریف کی عادت نہیں مجھ میں
٭
ہیں میرے پاؤں کس زنجیر نے جکڑے ہوئے صفدر
بچھڑ جانے کی اُس سے کس لیئے ہمت نہیں مجھ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ھمدانی کی مزاحمتی شاعری کی ایک جھلک

ہر روز اٹھ رہے ہیں ہر سمت سے جنازے
ہر گھر میں ایک ماتم،ہر آنکھ رو رہی ہے
لگتا ہے ملک بھر کی تقدیر سو رہی ہے
کیسی ہے یہ حکومت نفرت جو بو رہی ہے
یہ میرے شہر جیسے بغداد بن گئے ہیں
ہر شام آسماں سے خود کُش اتر رہے ہیں
قبروں کے منہہ کھلے ہیں
آفت جو آ رہی تو تنگ بستیوں پر
اور مر رہے ہیں وہ جو غربت کے ہاتھوں پہلے
مردہ ہوئے پڑے ہیں
سُنتا نہیں خدا بھی اب کس کو ہم پکاریں
بہتر ہے خون میں اب بارود کو اتاریں
سہمے ہوئے ہیں بچے،بوڑھوں پہ خوف طاری
یہ میرے گھر میں یارو ہے کس کی جنگ جاری
بتلاؤ کس کی جنگ ہم آپس میں لڑ رہے ہیں
اور کس نے موت ہم پر کر دی ہے یوں مسلط
مرنے کے خوف سے گھر ہونے لگے مقفل
کس طرح شہر بھر میں پھرتی ہے موت پاگل
شہروں میں اُگ رہے ہیں کتنے سروں کے جنگل
اب صحن میرے گھر کا لگتا ہے جیسے مقتل
اک کربلا تھی وہ بھی
ذروں میں جس کے اب تک شبیر کا لہو ہے
اور اک صدائے ماتم جس کی فضاؤں میں ہے
یہ بھی غلط نہیں ہے
‘‘اک کربلاسے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘
اس زندگی کے ہاتھوں ہم روز مر رہے ہیں
حکمت یزید کی پھر ہم پر ہوئی مسلط
جس سمت دیکھتا ہوں دم توڑتی ہے عزت
ساری صداقتوں کے پھر سامنے ہے نفرت
اب سب یزید مل کر پھر مانگتے ہیں بیعت
پھر جیسے نینوا میں لاشے بکھر رہے ہیں
سر دوش پر نہیں ہیں اور تیر چل رہے ہیں
‘‘اک کربلاسے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں
‘‘

پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس شام غزل کے اختتام پر میزبان ڈاکٹر نگہت نسیم نے ایک بار پھر حاضرین اور مہمان شعرا کا شکریہ ادا کیا۔اس شامِ غزل کے انعقاد اور انتظامات میں نگہت نسیم صاحبہ کے تمام اہل خانہ نے حصہ لیا بالخصوص انکے شوہر محمد آفتاب،بیٹوں منیب آفتاب اور نجیب آفتاب اور بیٹی آمنہ آفتاب نے۔اس طرح یہ یادگار اور خوبصورت ‘‘شام غزل‘‘ جو جمعے کی رات سات بجے شروع ہوئی تھی ہفتے کے روز کی نئی نوید کے ساتھ نصف شب کے بعد کوئی ساڑھے بارہ بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔
 



 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

دائیں سے صفدر ھمدانی،فریدہ لاکھانی،نگہت نسیم اور سید ظفر حسین
Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com