یورپ میں اسلام بڑی تیزی سے پھیلتا ہوا دین تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی دو بڑی وجوہ ہیں ۔ اولاً اسلامی ممالک سے ہجرت کرکے یورپی ممالک میں آکر آباد ہونے والے مسلمان تارکین وطن اوردوئم ان مسلمان تارکین وطن کے ہاں مقامی یورپی باشندوں کے مقابلے میں شرح پیدایش کا زیادہ ہونا ۔ ان وجوہ کی بنا پر جہاں یورپی ممالک میں مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے وہاں خود کئی یورپی باشندے اور خاص کر یورپی عورتیں بھی حلقہ بگوش اسلام ہو رہی ہیں ۔ یورپی ممالک میں مقامی اصل آبادی کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد یا شرح تناسب کا اصل تخمینہ لگانا مشکل ہے لیکن جو اعداد و شمار میسر ہیں ان کو سامنے رکھا جائے تو بھی مسلمانوں کی اصل تعداد کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کئی یورپی ممالک اپنے ہاں مذہبی بنیادوں پر آبادی کی تعداد جاننے کے لئے شاذو نادر ہی کوئی سروے کرتے ہیں ۔ بہرحال یورپ میں مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں جو اعداد و شمار فی الوقت مختلف ذرائع سے میسر ہیں آیئے اُن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ یورپی ممالک میں فرداً فرداً مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے ۔
البانیہ :
ملک کی اپنی آبادی تین عشاریہ ایک ملین نفوش پر مشتمل ہے جن میں دو عشاریہ دو ملین مسلمان ہیں ۔ بدیگر الفاظ البانیہ کی کل آبادی میں مسلمانوں کی شرح ستر فیصد ہے ۔۔ البانیہ میں مذہبی عبادات پر ملک میں سٹالن ازم کے نفاذ کیساتھ ہی ممنوع قرار دے دی گئیں تھیں تا آنکہ سن انیس سو نوے کے جمہوری انقلاب کے بعد ان پر سے پابندیا ختم کردی گئیں ۔ جس کے نتیجے میں اسلام کو اب البانیہ میں ایک دین کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اوراس کے ماننے والے بلا خوف و خطر اپنی عبادات بھی کرتے ہیں ۔ البانیوی مسلمانوں کی اکژریت سنی العقیدہ ہے ۔ ترک سلطنت عثمانیہ کا ایک حصہ رہ چکنے کی وجہ سے البانیوی مسلمان اپنے دینی تشخص اور البانوی تاریخ میں اپنے سیاسی و سماجی اور تجارتی کردار کے ماضی پر فخر کرتے ہیں ۔ سلطنت عثمانیہ کو ختم ہوئے زمانہ گزر جانے کے باوجود البانوی مسلمان ترک تہذیب و ثقافت کو ابھی تک سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ البانوی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ملک سے ہجرت کرکے یورپ کے کئی دوسرے ممالک میں بھی آباد ہو چکی ہے لیکن اس کا اپنے آبائی وطن سے رابطہ کبھی نہیں ٹوٹا
اٹلی :
اٹھاون عشاریہ چا ملین نفوس پر مشتمل اطالوی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد آٹھ لاکھ پچیس ہزار کے قریب ہے جو اپنی شرح تناسب کے لحاظ سے ایک عشاریہ چار فیصد بنتی ہے ۔ ان مسلمانوں میں اپنی قومیت کے لحاظ سے سب سے بڑا گروپ مراکو کے مسلمانوں کا ہے ۔ جس کے بعد شمالی افریقہ‘ جنوب ایشیا کے ممالک بشمول پاکستان و بنگلہ دیش ‘ پھر البانیہ اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک اور ریاستوں کے مسلمان آتے ہیں ۔ ایران و عراق کے مسلمانوں کی تعداد بھی قابل شمار ہے ۔ اٹلی میں ان مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ سن انیس سو اسی میں شروع ہوا ۔ اٹلی ان مسلمانوں اور مملکت کے درمیان تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کے لیے کوشاں ہے ۔ اس وقت کم سے کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار مسلمان اٹلی ہی کی پیدائش ہیں ۔ یہ ان تارکین وطن کی اولادیں جو سن انیس سو اسی میں یہاں آکر آباد ہو گئے تھے ۔
آسٹریا :
آسٹریا کی کل آبادی آٹھ عشاریہ دو ملین نفوس پر مشتمل ہے جس میں مسلمانوں کی شرح تناسن چار عشاریہ ایک فیصد ہے جو اپنی تعداد کے لحاظ سے تین لاکھ انتالیس ہزار کے لگ بھگ ہیں ۔ آسٹریا اور ہنگری نے سن انیس سو آٹھ میں جب بلکان کی ریاست بوسنیا ہرزیگووینیا پر قبضہ جمایا تو بیشتر مسلمان‘ آسٹریا کے قوانین کے تابع کر دیئے گئے ۔ آسٹریا کے بیشتر مسلمانوں کی خاندانی جڑیں ترکی میں ہیں ۔ یعنی ان کے ابا و اجداد ترکی سے ہیں ۔ جب کی ایک خاصی تعداد اُن مسلمانوں کی بھی ہے جو سن انیس سو نوے میں بلکان کی جنگ کے دوارن یہاں منتقل ہوگئے تھے ۔ آسٹریا میں اسلام کو بطور ’’دین‘‘ سرکاری طور ہر کئی سال پہلے منظور کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے اسلام کے بارے میں سکولوں میں تعلیم دیا جانا ممکن ہے اور آسٹریا کے بارے میں تو یہاں تک کیا جاتا ہے کہ یہی وہ ملک ہے جہاں اسلامی دینا کے ’’مغربی پہلو ‘‘ کا آغاز ہوتا ہے ۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سولھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کا آغاز بھی یہی سے شروع ہوا تھا ۔
بلجیئم:
بلجیئم کی دس عشاریہ تین ملین نفوس پر مشتمل کل آبادی یں مسلمان کی تعداد صفر عشاریہ چار ملین کے قریب ہے یعنی صرف چار فیصد ۔ لیکن ’’دین سالام ‘‘ بلجیئم میں سرکاری سطح پر تسلیم شدہ سات ادیان میں سے ایک ہے ۔ اپنی اس سرکاری حیثیت میں اسلام اب بلجیئم میں سرکاری مراعات کا حقدار ہے اور اس کے ماننے والوں کو اپنی مذہبی روایات و اقدار کو اپنانے انہیں وسعت دینے اور جمہوری طریقوں سے ہر معاشری معمالے میں حصہ لینے کی اجازت ہے ۔لیکن اس کے ساتھ ہی ملک میں ملک کے بعض حصوں اور شہروں میں مسلمانوں کا نسلی تعصب کا نشانہ بنائے جانے کی شکایات بھی سننے کو ملتی ہیں ۔ یہاں کے مسلمانوں کی اکثریت اپنی جڑیں ترکی یا کراکو میں رکھتی ہے ۔ جب کہ البانوی مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد بھی اب یہاں مستقل آباد ہو چکی ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کے بھی کئی مسلمان گھرانے پچھلے تین چار عشروں سے آباد ہیں ۔ اوڑ اپنا دینی تشخص بنانے میں مصروف ہیں ۔
بوسینا ہرزیگووینیا :
سابق یوگوسلاویہ اس آزاد و خود مختار اس ریاست کی تین عشاریہ آٹھ ملین نوفس پر مشتمل آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب چالیس فیصد ہے جو اپنی تعداد میں ڈیڑھ ملین کے قریب ہیں ۔ سن انیس سو بانوے سے لے کر انیس سو پچانوے کی خانہ جنگی کے دوران یہاں ڈھائی لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے جن میں اکژریت مسلمانوں کی تھی ۔ سن انیس سو پچانوے میں سربرینیسا میں بوسنائی سربوں کے ہاتھوں آٹھ ہزار مسلمانوں کا دن دیہاڑے قتل عام کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس خانہ جنگی کے دوران بیشتر مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور اب یہ کئی ایک یورپی مملکوں میں پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں ۔بوسینا ہرزیگووینیا میں جنگ بندی کے باوجود مستقل امن و امان پر ابھی تک سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے اور یہی وجہ سے کہ اقوام متحدہ کی امن افواج ابھی تک ملک میں موجود ہیں ۔ بوسینا ہرزیگووینیا کی سرحدوں کو یورپ میں ’’اسلام کی مغربی سرحد ‘‘ قرار دیا جاتا ہے ۔
ڈنمارک :
ڈنمارک کی پانچ عشاریہ چار ملین نفوس پر مشتمل اپنی کل آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب پانچ فیصد کے بھگ اور ان کی تعداد دو لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے ۔ یہ مسلمان انیس سو ستر کے عشرے میں یہاں بسلسلہ روزگار آنے شروع ہوئے اور میں اکثریت کا تعلق ترکی ‘ پاکستان‘ مراکو ‘ سابق یوگوسلاویہ اور الجزائر سے تھا لیکن اب افغانستان ‘ اعراق ‘ ایران اور صومالیہ کے علاوہ لبنانی و فلسطینی مسلمانوں کی خاصی بڑی تعداد یہاں آباد ہے ۔ ڈنمارک میں اسلام کو تا حال سرکاری طور پر بطور دین تسلیم نہیں گیا حالانکہ مسیحیت کے بعد اسلام کے پیروکار دینی لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا گروپ شمار ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں کو شکایت ہء کہ انہیں ڈنمارک میں نسلی تعصب اور مذہبی منافرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ تاہم آئین مملکت ان کے ہر طرح کے دینی و ثقافتی رسم و رواج اور اقدار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ ان مسلمانوں کی ایک سو سے زیادہ عبادتی جگہیں ہیں لیکن ان میں سے صرف چند ایک ہی ایسی ہیں جو اندرو باہر سے مسجد دکھائی دیتی ہیں ۔قرآن کریم کا ڈینش زبان میں ترجمہ کوئی تیس پنتیس سال پہلے کیا گیا تھا جس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں یہ ترجمہ’’ مسجد نصرت جہاں ‘‘ کی طرف سے کیا گیا اور شائع کرایا گیا تھا ۔ قرآن کریم کا آسان فہم ڈینش زبان میں نیا ترجمہ ابھی حال ہی میں شائع ہوا ہے اور پچھلے سال سن دوہزار چھ میں ڈنمارک میں فروخت ہونے والی کتابوں میں اس کی فروخت سر فہرست رہی ۔ یہ ترجمہ ایک ڈینش نے کہا ہے ۔ ڈنمارک میں خالص ڈینش النسل مسلمانوں کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہے جن میں اُن عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے مسلمان تارکین وطن سے شادیاں کر رکھی ہیں ۔ بیشتر تارکین وطن مسلمان جو انیس سو ستر کے عشرے میں آئے تھے انہوں نے وہ اب یہاں کی شہریت اپنا چکے ہیں ۔ پاکستانی النسل مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور انکی اکثریت بھی ڈینش شہریت اپنا چکی ہے ۔ ان پاکستانی مسلمانوں کی اب تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے ۔
جرمنی :
بیاسی عشاریہ پانچ ملین نفوس پر مشتمل جرمنی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تین ملین کے قریب ہے جو برطانیہ و فرانس کے بعد کسی یورپی ملک میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ جرمنی میں مسلمانوں کی اکثریت کا تعلق ترکی سے ہے جو آبائی وطن سے گیرے تعلقات و روابط رکھتے ہیں ۔ پاکستانی مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد بھی یہاں آباد ہے ۔ یہ انیس سو ستر کے عشرے میں یہاں آئے ۔ اس کے عالوہ بوسینیا ہرزیگووینیا اور کاسوو کے مسلمان بھی کافی تعداد میں یہاں آباد ہیں ۔ ایک طویل عرصے ےی یہاں رہنے کے باوجود ان مسلمانوں کو ابھی تک ’’مہمان کارکن ‘‘ کے طور پر پکارا جاتا ہے ۔ لیکن بذات خود یہ مسلمان اب جرمنی کو اپنا وطن ثانی قرار دیتے ہیں ۔ انہیں نسلی و مذہبی بنیادوں پر تعصب و تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حاکم اس تفریق کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کا ذکر تو کرتے ہیں عملاً کچھ نہیں کیا جاتا ۔
ہالینڈ :
ہالنیڈ کی اپنی آبادی سولہ عشاریہ تین ملین نفوس پر مشتمل ہے جس میں نو لاکھ پنتالیس ہزار مسلمان ہیں جو کہ کل آبادی کا پانچ عشاریہ آٹھ فیصد حصہ بنتے ہیں ۔ ان مسلمانوں کی اکژیت سن اینس سو پچاس میں ان ملکوں سے ہالینڈ منتقل ہوئی جو ہالینڈ کی نو آبادیات میں شمار ہوتے تھے ۔ ان میں انڈونیشیا اور سرینام کے مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ لیکن صومالی مسلمان اب ہالینڈ میں سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کا ایک بااثر گروپ شمار کیا جاتا ہے ۔ پاکستانی مسلمانوں کی کئی ایک تنظیمات بھی کافی متحرک ہیں لیکن قومی سطح پر یہ کوئی اثر نہیں رکھتیں ۔ ترکی اور مراکو کے مسلمان بھی سیاسی و ثقافتی لحاظ سے کافی متحرک اور ایک طرح سے سماج میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے والے شمار ہوتے ہیں ۔ نسلی تعصب اور مذہبی منافرت یہاں بھی پائی جاتی ہے لیکن سرکاری سطح پر حکومت تمام اقلیتی گروپوں کو برابری کی بنیادوں پر سماج میں انٹگریٹ کرنے کے لیے ہمہ تن کوشاں رہتی ہے ۔
سپین :
کم و بیش آٹھ صدیوں بعدسنہ چودہ سو بانوے میں سپین میں اسلامی خلافت کے خاتمے کے باوجوداسلامی طرز معاشرت کے نشان اور خاص کر سپین میں اسلامی طرز تعمیرات آج بھی اپنی عظمت رفتہ کی گواہی دے رہے ہیں ۔ سپین کی تنتالیس عشاریہ ایک ملین نفوس پر مشتمل اپنی آبادی میں اب مسلمانوں کی تعداد ایک ملین ہے جو کل آبادی کا دو عشاریہ تین فیصد حصہ بنتے ہیں ۔ یہ مسلمان ‘ سپین میں سن انیس سو ستر کے عشرے ہیں تارکین وطن کارکنوں کے طور پر آنے شروع ہوئے اور پھر وقت کیساتھ ساتھ انہوں نے جب پاؤں جما لئے تو انہوں نے اپنے بال بچوں کو بھی سپین بلا لیا ۔ ان میں اکثریت مراکو کے مسلمانوں کی تھی ۔ سپین میں اسلام کو سرکاری طور پر بحیثیت ’’ دین ‘‘ تسلیم کیا جا چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کو سپین میں سرکاری سطح پر وہ تمام مراعات و سہولتیں میسر ہیں جو دوسری مذہبی برادریوں کو حاصل ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں مسلمانوں کو تضحیک کا نشانہ بنانئے جانے اور ان کے ساتھ نسلی و مذہبی تعصب و منافرت روا رکھنے جانے کی شکایات بھی سننے ہیں آتی رہتی ہیں ۔ اور سن دو ہزار چار میں سپین میں ہوئے بموں کے دھماکوں کے بعد سے اب تک مسلمانوں کی وفاداریوں پر سوالیہ نشان بھی لگایا جا رہا ہے ۔ سپین میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد ہے جبکہ ان میں سے بیشتر وہاں پر غیر قانونی طور پر قیام رکھتے ہیں
سویڈن :
نو ملین نفوس پر مشتمل سکینڈینیویا کے اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے جو اپنی شرح تناسب کے لحاظ سے صرف تین فیصد بنتی ہے ۔ ان مسلمانوں میں ترکی ‘ بوسنیا ‘ عراق‘ ایران ‘ لبنان اور شام کے مسلمان بالترتیب تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہیں ۔ پاکستانیوں کی تعداد کمسے کم چھ سات ہزار بتائی جاتی ہے ۔ ان مسلمانوں کی تنظیموں کو سرکاری کی جانب سے بلدیاتی سطحوں پر باقاعدہ مالی امداد مہیا کی جاتی ہے ۔ سویڈن اگرچہ اپنے انسانی ہمدردی کے کاموں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششوں کی وجہ سے بیرون ملک کافی نیک نامی رکھتا ہے لیکن سویڈن میں مسلمانوں کے ساتھ نسلی تعصب کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں ۔ اور سویڈش حلقوں کی جانب سے مسلمانوں پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ سماج میں جرائم پیدا کرتے ہیں