Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 01:07:16   |   |   |  Text Only Version

Sat, 06 Sep 2008 06:34:00

بھارتی پانی کا بم



    گزشتہ دنوں بھارت نے دو دفعہ دریائے ستلج میں سیلابی ریلے چھوڑ کر ہزاروں ایکڑ اراضی پر مکئی  کپاس اور دھان کی فصلیں تباہ کر دیں جبکہ کسانوں کو بے گھر اور دربدر ہونا پڑا۔ دوسری طرف بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی روک دیا جس کے نتیجے میں ہیڈمرالہ بیراج پر اچانک پانی کی سطح 53ہزار کیوسک کے مقابلے میں صرف 20ہزار کیوسک تک گر گئی۔ بھارت نے بگلیہار ڈیم بھرنے کیلئے پانی کی چوری اور سینہ زوری کا کھلا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے شدید احتجاج کو بھی خاطر میں نہ لایا گیا۔ اَشک شوئی کیلئے لاہور میں سندھ طاس کمشنر سید جماعت علی شاہ کے بقول اُنہوں نے ایک خط کے ذریعے وفاقی حکومت کو صورتحال سے آگاہ کر دیا اور نئی دہلی میں بھی اپنے ہم منصب اورنگاناتھن سے بھی احتجاج کیا جو مقبوضہ کشمیر کی حکومت سے پانی روکنے کے واقعہ سے نمٹنے معلومات حاصل کرینگے۔

زرعی ماہرین کے مطابق چناب کا پانی رُکنے سے پنجاب اور سندھ میں خریف کی فصلیں بری طرح متاثر ہونگی۔ پاکستانی دریائوں کا پانی روکنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں  قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی بھارت نے پاکستان کی طرف بہنے والے تمام دریائوں کا پانی روک دیا تھا۔ پاکستان کے خلاف بھارت کا پانی بم انتہائی سٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے جس کا اِستعمال بھارت بھرپور انداز میں کرکے پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے اور خوراک کی سلامتی سے دوچار کرنے کے عزائم اور عملدرآمد کی حکمت عملی رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر پنجاب کے تین دریائوں کا بھارت سے سودا کرکے ماضی کے حکمرانوں نے پنجاب کا تشخص ہی تباہ کر دیا۔ اس طرح پنج آب عملاً دو آب بن کر رہ گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان بھارت سے ستلج کا واٹر کنٹریکٹ کرے تاکہ بہاولپور کو صحرا میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔ ایک اِنتہائی اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کرتے وقت ریاست بہاولپور کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟ سندھ طاس معاہدہ کیا ہے اور اسکے تحت پاکستان اور بھارت کو دریائی پانی کے استعمال کیلئے کیا شرائط اور قواعدو ضوابط طے شدہ ہیں یہ تمام تفصیلات کسانوں اور خوراک کی خودمختاری و سلامتی سے تعلق رکھنے والوں کی دلچسپی کیلئے نذر قارئین کی جاتی ہیں۔
 
  آزادی سے قبل موجودہ ہندوستان اور پاکستان میں برطانیہ کا بنایا ہوا کینال کا نظام تھا  آزادی کے بعد پانی کی تقسیم پر دونوں ممالک کے درمیان کئی مسائل نے جنم لیا۔ بھارت سے گزر کر جو دریا پاکستان میں بہتے تھے یہ سندھ اور پنجاب کی زرعی زمینوں کو سیراب کرتے اور کراچی کے جنوب میں بحیرہ عرب میں جا گرتے تھے۔ نہروں کا وسیع نظام اور پانی کے ذخائر سے تقریباً 26ملین ایکڑ رقبہ پانی کی فراہمی سے مستفید ہوتا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پانی کے معاملے پر ایک تنازع پیدا ہوگیا۔ 1947ء میں جب پنجاب دونوں جانب تقسیم کیا گیا تو بھارت کی طرف کینال کا وسیع نظام تھا جبکہ پاکستان کیلئے کافی مسائل پیدا کر دیئے گئے۔ یکم اپریل 1948ء کو بھارت نے اپنے ہاں سے پاکستان کو آنیوالی تمام کینالوں کا پانی بند کر دیا۔ پاکستان نے اس پر احتجاج کیا تو بھارت نے 4مئی 1948ء کو ایک عارضی معاہدہ پاکستان کے ساتھ کیا جس کی رو سے بھارت پاکستان کی حکومت سے سالانہ رقم کی ادائیگی کے عوض پاکستانی علاقوں کو پانی فراہم کریگا  مگر یہ کوئی مستقل حل نہیں تھا۔ پاکستان نے معاملے کو عالمی عدالت انصاف تک لے جانا چاہا مگر بھارت اس سے انکاری تھا۔ 1951ء میں ٹی وی اے اور امریکی ایٹمی کمیشن کا چیئرمین ڈیوڈ للینتھل  برصغیر کے دورے پر آیا۔ وہ ایک سلسلہ وار آرٹیکل لکھنا چاہتا تھا اور برصغیر کے امور میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے اعلیٰ سطحوں سے اسے خوش آمدید کہا گیا۔ اُس نے اپنے آرٹیکل میں پاک بھارت پانی کے مسئلے کو اجاگر کیا اور عالمی بینک سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دفاتر میں دونوں ممالک کو مذاکرات کیلئے بلائے اور انڈس ترقیاتی پروگرام کیلئے مالی معاونت کرے۔

ورلڈ بینک نے اِسکی تجویز کو خوش آئند قرار دیا اور اس طرح اس پر کام شروع ہو گیا لہٰذا معاملے کے پائیدار حل کیلئے دونوں ممالک کے درمیان عالمی بینک کے دفاتر میں مذاکرات ہوئے اور آخرکار ستمبر 1960ء میں جب پاکستان میں صدر محمد ایوب خان کا دور تھا اور بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو تھے تو یہ معاہدہ طے پا گیا جسے ''انڈس واٹرز ٹریٹی'' کا نام دیاگیا۔ سندھ طاس معاہدے کا نظریہ پیش کرنے والے ڈیوڈ للینتھل نے میگزین Colliers میں اپنے مضمون میں اس طرف اشارہ دیا کہ ''بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر کے اوپر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں  مذاکرات کے ذریعے معاملہ کو حل کرنے کا امکان نظر نہیں آ رہا  اس کیلئے پہلے ذہنی تنائو کو ختم کرنا ہو گا۔ اس عداوت کو کم کرنے کا ایک راستہ ہے وہ یہ کہ دوسرے اہم مسائل پر معاونت کو ممکن بنایا جائے۔ ان علاقوں میں ترقی سے لوگوں میں ایک شعور اجاگر ہو گا اور دونوں طرف کی عوام ایک وقت مسئلہ کشمیر کا حل بھی تجویز کر لیں گے۔ اس حوالے سے میں ایک پروگرام کی تجویز پیش کرتا ہوں جسے بھارت اور پاکستان مشترکہ طور پر شروع کرکے ترقی اور مشترکہ استعمال سے خوراک کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں۔ دونوں مل کر انڈس بیسن دریائی نظام چلا سکتے ہیں۔ نئے ڈیموں اور کینالوں کی تعمیر سے آبپاشی کا نظام جو دونوں ممالک کی ضرورت ہے بہتر ہو گا۔ میں ورلڈ بینک کو اسکے اعلیٰ دفاتر کے استعمال سے دونوں پارٹیوں (بھارت اور پاکستان) کو معاہدے کا پابند کرنے اور انڈس ڈیویلپمنٹ پروگرام کیلئے مالی معاونت کی تجویز پیش کرتا ہوں'' ڈیوڈ للینتھل کا نظریہ عالمی بینک کو موصول ہوا تو اُنہوں نے اِسکی تجویز کو سراہا اور اس کیلئے دلچسپی ظاہر کی۔ عالمی بینک کے اس وقت کے صدر یوجین آربلیک نے جلدبازی سے کام لینا چاہا مگر بھارت اور پاکستان دونوں کو تحفظات تھے اور وہ اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹ رہے تھے۔ پاکستان اپنے تاریخی حق کی بات کرتا تھا جبکہ بھارت بضد تھا کہ گزشتہ پانی کی تقسیم مستقبل کیلئے قابل عمل نہیں ہے  اسے نئے طرح سے شروع کیا جائے کیونکہ تقسیم ہند کے بعد بھارت اور پاکستان الگ الگ ممالک بن چکے ہیں۔ بھارتی طرف سے ایک نئی تجویز پیش کی گئی یعنی مغربی دریائوں کا پانی پاکستان اور مشرقی دریائوں کا پانی بھارت کو دیا جائے۔

عالمی بینک جلد ہی مایوسی کا شکار ہو گیا  اس دشوار مسئلے کا کوئی ممکنہ حل نظر نہیں آ رہا تھا۔ بھارت اور پاکستان پانی کی تکنیکی تقسیم پر رضامند نہیں ہو رہے تھے  آخرکار دو سال کی سخت محنت اور مذاکرات کے بعد عالمی بینک نے اپنی تجویز پیش کی اور دونوں ممالک کو سختی سے اس پر عمل درآمد کیلئے کہا۔ تجویز تین مشرقی دریائوں کو بھارت کے استعمال کیلئے اور تین مغربی دریائوں کے پانی کو پاکستان کو دینے کے متعلق تھی۔ کینال اور ذخیرہ کیلئے پانی کے ڈیم مغربی دریائوں سے مڑنے والے پانی پر تعمیر ہوتے تھے اور پاکستان کو مشرقی دریائوں کی سپلائی کھونا پڑی۔ بھارت نے عالمی بینک کی تجویز کو مانا جبکہ پاکستان نے اسے ناقابل تسلیم قرار دیا۔ ورلڈ بینک کی تجویز بھارتی منصوبے کے زیادہ قریب تھی اور اس نے پاکستانی وفد کو غصہ دلا دیا۔ اُنہوں نے ورکنگ پارٹی سے واپس ہونے کی دھمکی دی اور اس طرح معاہدے پر بات چیت ختم ہونے تک پہنچ گئی  لیکن دونوں طرفین بات چیت کو ختم کرنے میں خوش نہ تھے۔ کئی بڑے منصوبے اور ترقیاتی کام مذاکرات نہ ہونے اور مسئلہ کے حل نہ ہونے کی بناء پر ادھورے پڑے تھے۔ دسمبر 1954ء میں دونوں طرف سے پر مذاکرات کی میز سجائی گئی۔ عالمی بینک کی تجویز پہلے سے تبدیل ہو چکی تھی۔ مذاکرات اور بات چیت کا عمل مسلسل چھ سال وقفے وقفے سے جاری رہا  بعض دفعہ تعطل کا شکار بھی رہا۔ ایک اہم مسئلہ مالی تعاون کا بھی تھا  اس کیلئے عالمی بینک نے برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ بیرونی مالیاتی ترسیل کا منصوبہ دیا۔ آخرکار ستمبر 1960ء کو معاہدہ طے پا گیا جس پر پاکستانی صدر فیلڈ مارشل محمدایوب اور بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کئے۔ معاہدہ نے ایک کمیشن بھی قائم کیا ہے جو مستقبل میں پانی کی تقسیم پر اُٹھنے والے تنازعات کو حل کریگا۔
    1947ء میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے معاملہ پر تنازعات نے جنم لیا۔

 1951ء میں ڈیوڈ للینتھل نے Colliers میگزین میں ایک رُعب دار آرٹیکل لکھا اور عالمی بینک کو بھارت اور پاکستان میں یہ تنازع حل کرانے کیلئے متوجہ کیا۔ عالمی بینک کے اُس وقت کے صدر یوجین آربلیک نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع ختم کرانے اور معاہدہ کرانے کی حامی بھری۔ سخت محنت طلب مذاکرات کے بعد آخرکار 19ستمبر 1960ء کو ایک معاہدہ طے پا گیا جسے ''انڈس واٹر ٹریٹی'' کا نام دیاگیا۔ یہ واحد معاہدہ ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں ممالک نے مکمل ایمانداری سے عمل درآمد کیا اور اسکی پاسداری کی۔ سندھ طاس معاہدے کے مختصر مندرجات یہ تھے۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے اور اسکے استعمال کی مساوی طور پر خواہشمند رہتے ہوئے اپنی ضروریات کو پہچان کر دوستی اور جذبہ خیرسگالی کے تحت معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے میں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال کریں گی اور دونوں جانب کی حکومتیں ایک تعاون کی فضا قائم رکھیں گی۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے جو معاہدے میں درج ہیں اور عہدو پیمان کو پورا کرنے کیلئے بطور مختار معاہدہ ممالک کی طرف سے یہ نام ہیں۔ (1) بھارت کی طرف سے جواہر لال نہرو  وزیراعظم بھارت (2)پاکستان کی طرف سے فیلڈ مارشل محمد ایوب  صدرپاکستان۔

مشرقی دریائوں سے متعلق شرائط۔
 
  مشرقی دریائوں کا تمام پانی بغیر کسی پابندی کے بھارت استعمال کریگا ماسوائے اسکے جو اس آرٹیکل میں واضح طور پر فراہم کئے گئے ہیں۔ سوائے گھریلو استعمال اور پاکستان وعدے کے تحت دریائوں کے بہائو میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ دریائے ستلج اور راوی جہاں سے یہ دونوں بہتے ہیں اور مکمل طور پر پاکستان کو عبور نہیں کرتے وہاں تک پاکستان اِس میں مداخلت نہیں کریگا  سوائے گھریلو استعمال  زرعی استعمال اور پاکستان وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے کسی قسم کی مداخلت کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔ پاکستان میں بہتے ہوئے تمام پانی اپنے قدرتی رخ پر کسی باجگزار یا نالے کو ساتھ ملاتے ہوئے چاہے وہ راوی کا پانی ہو یا ستلج کا پاکستان میں سے عبور ہونے کے بعد نالوں کا پانی پاکستان بغیر پابندی کے استعمال کریگا۔ ایک تبادلہ کا وقت یا ٹرانزیشن پیریڈ ہو جسکے دوران بھارت (١)زرعی استعمال کیلئے اپنی پابندی یا حدود سے دستبردار ہو گا۔ (٢) ذخیرہ کرنے کیلئے پانی کا استعمال محدود کریگا۔ (٣) مشرقی دریائوں سے پاکستان کو پانی مہیا کریگا۔ یہ ٹرانزیشن پیریڈ یکم اپریل 1960ء سے شروع ہو گا اور 31مارچ 1970ء کو ختم ہو گا۔ یہ وقت شرائط کے تحت زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ وقت 31مارچ 1973ء کے بعد ختم نہیں ہوگا۔ اس وقت کے دوران پاکستان بغیر کسی پابندی کے مشرقی دریائوں کا پانی استعمال کریگا جو کہ اس پانی کو شرائط کے مطابق جاری کریگا۔ ٹرانزیشن پیریڈ کے خاتمے کے بعد پاکستان کسی قسم کا دعویٰ یا احتجاج بھارت سے نہیں کریگا۔ مشرقی دریائوں کے جاری شدہ پانی کو پاکستان استعمال کر سکے گا۔

مغربی دریائوں سے متعلق شرائط۔
    پاکستان بغیر کسی پابندی کے مغربی دریائوں کا سارا پانی استعمال کریگا اور بھارت شرائط کے تحت اسکے بہنے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کریگا اور بغیر کسی چھیڑ چھاڑ کے جہلم  چناب اور سندھ کے دریائوں کا پانی پاکستان کو پہنچنے دیگا۔ ماسوائے مندرجہ ذیل ضروریات کے (١) گھریلو استعمال (٢) زرعی استعمال (٣) پانی سے بجلی پیدا کرنے کیلئے۔ پاکستان بغیر رکاوٹ کے مغربی دریائوں کو استعمال کریگا جبکہ بھارت اسے استعمال نہیں کریگا ماسوائے بیان کردہ ضروریات کے بھارت نہ تو پانی ذخیرہ کریگا اور نہ ذخیرہ کرنیکا کوئی کام تعمیر کریگا۔

مشرقی اور مغربی دریائوں کے متعلق شرائط۔
    بھارت اور پاکستان دونوں اپنے اپنے تئیں یہ کوشش کرینگے اور اپنے حصے والے دریائوں کو نکاسی کیلئے بہتر بنائیں اور جو جگہ دریا گھیرتے ہیں وہ گنجائش کم نہ ہونے دیں۔ اگر بھارت محسوس کرے کہ نالوں کو گہرا یا وسیع کیا جائے تو پاکستان کو اس سے متفق ہو کر اس پر توجہ دینا ہو گی جبکہ اخراجات بھارت پر عائد ہونگے۔ ہر پارٹی (بھارت اور پاکستان) اپنے اطراف کے دریائوں کو بہتر حالت میں رکھنے کے ذمہ دار ہونگے اور ان دریائوں کے بہائو میں کوئی مزاحمت کوئی رکاوٹ دوسری پارٹی کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ لاہور اور مادھوپور کے درمیان راوی یا ھرکہ اور سلیمانکی کے درمیان ستلج کے مڑ جانے کے اثرات پر کوئی پارٹی احتجاج نہیں کریگی اور دوسرے کو موردِ الزام نہیں ٹھہرائے گی۔ سیلاب یا فاضل پانی کے نکاس کیلئے دریائوں کے قدرتی دھارے کے استعمال پر کسی پارٹی پر دوسری پارٹی دعویٰ نہیں کریگی البتہ ہر پارٹی دوسری کو مطلع ضرور کریگی  اگر ایسی کوئی صورتحال پیش آتی ہے تو پیشگی اِطلاع ہونی چاہئے تاکہ دوسری پارٹی اسکے نقصان سے جتنا ممکن ہو سکے بچائو کرے۔ ہر دو میں سے ایک پارٹی اپنے ڈیموں  بیراجوں اور آبپاشی کیلئے کینال وغیرہ سے آگاہ کریگی جو اسکے ہائیڈرالک نظام کے عام آپریشن پر مشتمل ہونگے۔ ہر پارٹی حفاظت کیلئے اپنی تجاویز دوسری پارٹی کو بتائے گی اور بے جا پانی کی آلودگی نہیں پھیلائے گی جبکہ ضروری اقدام کے اپنی سفارشات سے آگاہ کریگی جس کیلئے صنعتی فضلے کو دریائوں میں بہنے کی اجازت ہو گی مگر اسکی ٹھوس اور مثبت وجوہات ہونی چاہئیں۔ دریائوں میں عمارتی لکڑی اور دیگر اشیاء بہانے پر مالکان کو ادائیگی یقینی بنائی جائیگی۔ مندرجہ بالا شرائط کے علاوہ معاہدہ کسی ریاستی حقوق یا پانی پر کسی قسم کی ریاستی تشریح کا حامل نہیںہے۔

مالی شرائط۔
    15اگست 1947ء تک پاکستانی علاقے کی آبپاشی کی نہروں کیلئے پانی کی فراہمی مشرقی دریائوں سے ہوتی تھی  اسکے تبادلے کے طور پر مغربی دریائوں کا پانی جب دیا گیا تو کام کی بحالی کے مقصد کیلئے حقائق پر غور کرکے 62,060,000 پائونڈز اسٹرلنگ کی امداد مقرر کی گئی جسے بھارت نے متفق ہو کر تسلیم کیا۔ یہ رقم 62,060,000 دس مساوی اقساط میں ادا کی جائیگی جو ہر سال کے یکم نومبر کو ادا ہوگی۔ ہر قسط بینک کو ادا ہو گی جو انڈس بیسن ڈیویلپمنٹ فنڈ کیلئے بینک کو ملے گی جسے وہ انتظام اور کاموں کیلئے استعمال کریگا۔ مالی شرائط بھارت پر لاگو نہیں ہونگی  اگر وہ پاکستان میں تعمیرو بحالی کے کاموں میں حصہ داری کا دعویٰ کرے یا تعمیر کی ذمہ داری اٹھائے۔ ماسوائے ان ادائیگیوں کے جو معاہدہ میں فراہم کی گئی ہیں دونوں میں سے کوئی پارٹی (بھارت یا پاکستان) کسی قسم کی رقم کا دعویٰ کرنے کی مستحق نہیں ہونگی۔

ڈیٹا کا تبادلہ۔
    مندرجہ ذیل ڈیٹا پانی کے بہائو اور استعمال کے حوالے سے دریا باقاعدگی سے دونوں پارٹیوں کے درمیان تبدیل کرینگے۔ (١) روزانہ تمام تجویز کردہ مقامات پر دریائوں کے بہائو کے متعلق (٢) روزانہ جاری ہونے والے پانی اور کھینچے جانے والے پانی کا تبادلہ (٣) روزانہ حکومت یا حکومتی ایجنسی کی جانب سے تمام کینالوں کے ہیڈز کو واپس لینے یا ہٹانے کے متعلق اس میں رابطہ کینال بھی شامل ہیں۔ (٤) روزانہ بمعہ لنک کینال تمام کینالوں سے بچائو (٥) روزانہ لنک کینالوں سے سپردگی۔

مستقبل کا تعاون۔
    دونوں پارٹیوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ دریائوں کی ترقی میں بہتر اور اچھی سوچ کے ساتھ مشترکہ دلچسپی رکھتی ہیں اور اس مقصد کیلئے دونوں نے باہمی معاہدہ کے ذریعے تعاون کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ اسے ممکنہ وسعت دی جاسکے۔

مستقل اِنڈس کمیشن۔
    بھارت اور پاکستان انڈس پانی کیلئے ایک مستقل آسامی برائے کمشنر مہیا کریں گے اور اِسے تعینات کرینگے  یہ ایسا شخص ہو گا جو کہ ہائیڈرالوجی کی فیلڈ میں ماہر انجینئر ہو گا اور اعلیٰ عہدے پر کام کرنے والا ہو گا۔ دونوں میں سے ہر کمشنر اس معاہدے پر اٹھنے والے تمام معاملات کیلئے اپنی حکومت کی نمائندے کریگا۔ یہ اس معاہدے کی عملداری سے متعلق معاملات پر باقاعدہ رابطے کا ذریعہ بن کر کام کریگا۔ یہ معلومات کے تبادلے کا کام سرانجام دے اور اس معاہدے میں فراہم کردہ کسی توجہ یا جواب کے حق میں تفصیلات اور حکومت کا موقف بیان کریگا۔ کمشنر کی ذمہ داریوں  فرائض اور اسکے معیار کا تعین اسکی حکومت کرے گی۔ دونوں کمشنر مل کر مستقل انڈس کمیشن کو حتمی شکل دینگے۔ کمیشن قائم کرنے کا مقصد دریائوں کے پانی کو ترقی دینے اور پارٹیوں کے باہمی تعاون کو اجاگر کرناہے۔

تضادات اور تنازعات کا حل۔
    کسی بھی قسم کے تضادات اور اس معاہدہ کے حوالے سے اُٹھنے والے تمام سوالات پہلے تجزیہ کیلئے کمیشن کے سامنے پیش کئے جائیں گے جن کے سدباب کا معاہدے کے تحت حل نکالا جائیگا۔ اگر کمیشن معاہدے پر نہیں رَسائی رکھ سکتا تو پھر تضادات کو کسی تیسرے ماہر کے ذریعے جو غیرجانبدار ہو گا حل کرایا جائیگا۔ اگر غیرجانبدار ماہر کمیشن کو آگاہ کریگا تو تضاد کو ایک تنازع کے طور پر غور کیا جائیگا اور اِسکے حل کی طرف توجہ دی جائیگی۔ دونوں جانب کی حکومتوں سے اس ضمن میں رپورٹ طلب کی جائیگی جس پر دونوں کمشنروں کے مذاکرات ہونگے اور معاملہ کو حل کرنے کی مکمل سعی کی جائیگی۔ ایک ثالثی فیصلہ کی عدالت جھگڑے یا تنازعے کے حل کی خاطر قائم کی جائیگی۔

فوری و ہنگامی شرائط۔
    31مارچ 1965ء سے قبل پاکستان بینک کو اپنے کنٹرول کی وجوہات کی بین الاقوامی عداوت کے ہنگامے کا سبب پیش کریگا۔ 31مارچ 1973ء تک تکمیل کیلئے ضروری سازو سامان اور میٹریل باہر سے حاصل کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس قسم کے ترقی کے کام کیلئے بھارت کے ساتھ مشاورت میں نمائندگی پر غور کے بعد بینک نے یہ تجویز کیا کہ بینک دونوں پارٹیوں کو مطلع کریگا کہ وہ ضروری سازو سامان اور تمام ذمہ دارانہ اقدامات سامان کے حصول کیلئے اٹھائیں خصوصاً پاکستان 1973ء سے قبل تکمیل کیلئے باہر کے ممالک سے حصول کو ممکن بنائے اور سامان اور ضروری مشینری حاصل کرے۔ دونوں پارٹیاں اطلاع ملنے پر فی الفور ایک دوسرے سے مشاورت کرکے  اپنی تجاویز مرتب کریں گی اور بینک کے دفاتر کو فہرست فراہم کرنے کی ذمہ دار ہونگی۔ باہمی معاہدہ پہنچنے پر واقعہ کی تفصیل کی روشنی میں اس معاہدہ کی شرائط میں کسی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو اسکی ترمیم کی جائیگی۔

حتمی شرائط۔
    یہ معاہدہ ''انڈس واٹرز ٹریٹی 1960ئ'' کے عنوان سے موجود ہے۔ اِس معاہدے کی منظوری اور اس کا تصدیق کا عمل نئی دہلی میں ہو گا۔ اس پر گزشتہ وقت کے جائزے کے بعد یکم اپریل 1960ء سے عمل درآمد شروع ہوگا۔ اس معاہدے کی شرائط میں وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم و اصلاحات دونوں جانب کی حکومتوں کی باہمی رضامندی سے حسب دستور کی جا سکیں گی۔ اس معاہدے کی شرائط یا ان میں ترامیم اس وقت تک قابل عمل رہیں گی جب تک دونوں حکومتیں اِس پر رضامند اورمتفق ہوں گی۔ یہ معاہدہ کراچی میں 19ستمبر 1960ء کو طے پایا۔

معاہدے پر دستخط۔
    اِس معاہدے پر حکومت پاکستان کی طرف سے صدر پاکستان فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان اور بھارت کی طرف سے وزیراعظم جواہر لال نہرو جبکہ انٹرنیشنل بینک آف ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈبلیو اے بی لف نے دستخط کئے۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com