Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Tue, 02 Dec 2008 23:01:26   |   |   |  Text Only Version

Sat, 06 Sep 2008 07:43:00

سن پینسٹھ کی جنگ کی کہانی



گو چالیس سال سے زیادہ گزر گئے لیکن وہ دن اب بھی ایسے یاد ہیں جیسے کل کی بات ہو کہ کس تیزی سے ہندوستان اور پاکستان، یکے بعد دیگرے واقعات اور ان سے جڑے اثرات کے نتیجہ میں، سنگین مضمرات اور نتائج سے بے خبر، زمین سخت آسمان دور کے مصداق بھر پور جنگ کی مہلک دلدل میں دھنستے جارہے تھے۔

میں اس زمانہ میں سرحدکے اس پار دلی میں جنگ گروپ کے اخبارات کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ اگست سن پینسٹھ کے پہلے ہفتہ سے جنگ کے بادل اسی وقت سے چھانے شروع ہو گئے تھے جب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے چھاپہ مار کارروائی اپنے عروج پر تھی۔ حکومت پاکستان کا اصرار تھا کہ یہ کشمیری ’حریت پسندوں‘ کی کارروائی ہے لیکن ہندوستان کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ مار پاکستان کے فوجی ہیں جو جنگ بندی لائین پار کر کے آرہے ہیں۔

اگست کے دوسرے ہفتہ میں دلی میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اب آپریشن جبرالٹر کا دوسرا مرحلہ آپریشن مالٹا کے نام سے شروع ہوا ہے جس کے تحت بڑے پیمانہ پر پاکستان کی فوج نے مداخلت شروع کی ہے۔

سولہ اگست کو دائیں بازو کی ہندو قوم پرست جماعت جن سنگھ نے جس کے بطن سے موجودہ بھارتیا جنتا پارٹی نے جنم لیا ہے، دلی میں عام ہڑتال کا اہتمام کیا تھا اور ایک لاکھ سے زیادہ مظاہرین نے جو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے تھے بقول ان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی بودی پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ تک جلوس نکالا تھا۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کشمیر میں مبینہ دراندازوں کے حملے روکنے کے لیے پاکستان پر حملہ کیا جائے۔

بلاشبہ لال بہادر شاستری کو اس وقت چو مکھی دباؤ کا سامنا تھا۔ ایک طرف ان پر سیاسی مخالفین کا دباؤ تھا دوسری طرف فوج ان پر شکنجہ کس رہی تھی۔

میں دلی میں پارلیمنٹ سے پتھر کی مار کے فاصلے پر رائے سینا ہوسٹل میں رہتا تھا۔ اس ہوسٹل میں زیادہ تر صحافی، آل انڈیا ریڈیو کے براڈکاسٹر اور اعلی سرکاری افسر رہتے تھے۔ اسی ہوسٹل سے ملحق پریس کلب تھا۔

یہ بیس اگست کی بات ہے مشہور بین الاقوامی انقلابی ایم این راؤ کی تحریک کے ترجمان جریدہ ’تھاٹ‘ کے نایب مدیر این مکرجی جو غالبا کافی دیر سے پریس کلب میں بیٹھے تھے میرے کمرے میں آئے۔ وہ چہرے سے سخت الجھن میں گرفتار اور باتوں سے پریشانی کا شکار نطر آرہے تھے۔

میں نے پوچھا خیریت تو ہے ؟ کہنے لگے حالات نہایت خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کر لے۔ پھر خود ہی انہوں نے بتایا کہ انہیں بے حد باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صبح کابینہ کے اجلاس میں ہندوستا ن کی بری فوج کے سربراہ جنرل جے این چودھری نے شرکت کی تھی اور خبر دار کیا تھا کہ رن آف کچھ کے معرکہ میں شکست کے بعد ہندوستانی فوج کے حوصلے بہت پست ہیں اور فوج کے حوصلے بڑھانے کے لیے پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی لازمی ہے۔ مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل چودھری نے صاف صاف الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ملک کی سیاسی قیادت کے لیے اس کے نتایج خطرناک ہوں گے جس کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔

مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ ہندوستان میں جمہوریت کے لیے کٹھن آزمائش کا ہے۔اب یہ واضح ہے کہ لال بہادر شاستری چوبیس اگست کو اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے جواب میں ہندوستان کو پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی کرنی ہوگی جب انہوں نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ کشمیر میں پاکستان کے در اندازوں کو روکنے کے لیے ہندوستانی فوج جنگ بندی لائین کے پار کارروائی سے دریغ نہیں کرے گی۔

اس اعلان کے دوسرے دن لائین آف کنٹرول کے آر پار لڑائی بھڑک اٹھی۔ یکم ستمبر کا دن میں نہیں بھول سکتا۔ رائے سینا ہوسٹل میں ایسا لگتا تھا کہ سب نے ریڈیو پاکستان لاہور لگا رکھا تھاجس پر یہ اعلان ہوا کہ ’آزاد کشمیر‘ کی فوجوں نے پاکستانی فوج کی مدد سے چھمب پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت ہوسٹل اور آس پاس اراکین پارلیمنٹ کے بنگلوں اور پارلیمنٹ کے اردگرد پورے علاقہ میں ایک عجب قسم کی خاموشی چھا گئی کہ سوئی بھی زمین پر گرے تو سب اس کی آواز سن لیں۔ ریڈیو پاکستان پر قومی اور فوجی نغمے نشر ہو رہے تھے۔
اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ اللہ اکبر
شام کو پرانی دلی گیا۔ ترکمان گیٹ سے جامع مسجد تک تمام گلیوں میں گھروں میں پان والوں کی دکانوں پر ریستورانوں میں، کبابیوں کے ٹھیّوں پر غرض ہر جگہ ریڈیو کھلے ہوئے تھے جن پر لاہور اسٹیشن لگا ہوا تھا اور پوری فضا پاکستان کے نغموں سے گونج رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ دلی نہیں لاہور ہے۔

تین ستمبر کو جب لال بہادر شاستری نے اپنی نشری تقریر میں دلی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں بلیک آوٹ کا اعلان کیا تو کسی کو شبہ نہیں رہا تھا کہ دونوں ملکوں میں جنگ کا بگل بج گیا ہے۔

پانچ ستمبر کو جب یہ خبر آئی کہ پاکستانی فوج نے جوڑیاں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ اکھنور سے صرف چھ میل دور رہ گئی ہے تو اسی رات کو دیر گئے ہندوستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد پار کر کے لاہور کی سمت پیش قدمی کی۔

چھ ستمبر کو علی الصبح دلی میں پاکستان ٹائمز کے نمائندہ اسلم شیخ نے گھبرا کر ٹیلی فون کیا۔وہ اور ڈان کے محبوب العالم ذرا دور ڈیفنس کالونی میں رہتے تھے۔ دونوں لوک سبھا کے اجلاس سے پہلے میرے کمرے پر آگئے۔ اس دوران اے پی پی کے نمائندے خلیل بٹالوی بھی جو قریب پٹودی ہاوس میں رہتے تھے آگئے۔ وہ بیس روز پہلے ہی اپنے بیوی بچوں سمیت دلی آئے تھے۔ ہم نے انہیں یہی مشورہ دیا کہ وہ فورا بیوی بچوں کو لے کر چانکیہ پوری میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی عمارت میں پناہ لے لیں۔

یہ اتفاق تھا کہ چند ماہ قبل پرانے قلعہ کے قریب پرانی فوجی بیرکوں میں بکھرے پاکستان ہائی کمیشن کے دفاتر چانکیہ پوری میں نئی عمارت میں جو ابھی زیر تعمیر تھی منتقل ہو گئے تھے۔

ہائی کمشنر میاں ارشد حسین کو جون سن پینسٹھ ہی میں خطرہ تھا کہ اپریل میں رن آف کچھ کے معرکہ میں ہندوستانی فوجوں کی شکست کے بعد ہندوستان ، پاکستان کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گا۔ ستمبر کی جنگ کے بعد میاں ارشد حسین نے مجھے بتایا تھا کہ در اصل لال بہادر شاستری نے تین جولائی کو انتقامی حملہ کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا تھا۔ اس ملاقات میں میاں ارشد حسین نے رازداری کے وعدہ پر یہ انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے چار ستمبر کو دلی میں ترکی کے سفارت خانہ کے توسط سے پاکستان کے دفتر خارجہ کو خبردار کردیا تھا کہ ہندوستان چھ ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔

بہر حال صبح ساڑھے دس بجے میں ، اسلم شیخ اور محبوب العالم ، لوک سبھا پہنچ گئے۔ مارننگ نیوز کے ٹونی مسکرینس بھی ہانپتے کانپتے وہاں آگئے۔ ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کے ویت نام، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سنگا پور اور نہ جانے کہاں کہاں سے امریکی اور دوسرے غیر ملکی صحافیوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔

وزیر دفاع وائی بی چوان نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج پنجاب پر پاکستان کے حملہ کے خطرہ کے پیش نظر سرحد پار کرے لاہور سیکٹر میں داخل ہو گئی ہے۔ اس اعلان پر پورے ایوان میں ہر طرف سے تالیوں کا ایسا شور اٹھا کہ جیسے ہندوستان نے جنگ جیت لی ہو۔

اس اعلان کے فورا بعد ہم سب چانکیہ پوری میں پاکستان ہائی کمیشن کی طرف دوڑے۔ ہم میں سے ایک جہاں دیدہ صحافی نے بالکل مختلف سمت پارلیمنٹ اسٹریٹ میں اپنے بنک کی راہ لی۔ ان کا یہ اقدام بڑا بروقت اور دانشمندانہ تھا کیونکہ اسی روز سارے پاکستانیوں کے بنک اکانٹ منجمد کر دیے گئے تھے۔

جب ہم پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو وہاں سخت ہل چل مچی ہوئی تھی اور ریڈیو پر ایوب خان کی تقریر سننے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔

ایوب خان کی تقریر کے بعد میاں ارشد حسین نے سب صحافیوں سے کہا کہ اگر وہ باہر اپنی جان کو خطرہ محسوس کریں تو ہائی کمیشن میں پناہ لے سکتے ہیں۔

خلیل بٹالوی تو پہلے ہی اپنے بیوی بچوں سمیت ہائی کمیشن کی عمارت پہنچ چکے تھے۔ ٹونی مسکرہنس اور محبوب العالم نے بھی ہائی کمیشن منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب رہ رگئے اسلم شیخ اور میں۔ ہم نے کہا کہ صحافی ہوتے ہوئے یہ مناسب بات نہیں ہوگی کہ جنگ کے پہلے ہی دن ہم چانسری کی عمارت میں چھپ کر بیٹھ جائیں۔ چنانچہ ہم ہائی کمیشن سے واپس آگئے۔

دوسرے دن جب ہم لوک سبھا گئے تو دیکھا وزیر دفاع چوان ایوان میں نہیں ہیں۔ ہندوستانی صحافی دوستوں سے پوچھا کہ چوان کہاں ہیں تو ان میں سے کچھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور گئے ہیں جہاں وہ جنرل چودھری کے ساتھ ہندوستان کے فتح مند فوجی دستوں کی سلامی لیں گے۔

آٹھ ستمبر کی دوپہر کو جب میں اور اسلم شیخ ہائی کمیشن کی عمارت سے نکلے تو ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ ہم دو رویہ ہیج میں چھپتے چھپاتے رائے سینا ہوسٹل کے قریب پہنچے تو راستہ میں اخبارات کے ضمیمے فروخت ہو رہے تھے۔ شہہ سرخیاں تھیں ’لاہور فتح ہوگیا۔ ۔ ۔ اور ہندوستانی فوج کراچی سے پچیس میل کے فاصلہ پر پہنچ گئی‘

ہمارے حواس باختہ ہو گئے، اسلم شیخ نے سوالیہ انداز سے میری طرف دیکھا اور میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم نے فیصلہ کرلیا کہ ہم ہائی کمیشن ہی کا رخ کریں۔ اسلم شیخ ہوسٹل میں میرے کمرے میں آئے اور اپنے ملازم کو ٹیلیفون کیا کہ ایک بیگ میں ان کے کپڑے رکھ دے اور یہ کہ کر نیچے ٹیکسی لے کر اپنے مکان روانہ ہوگئے۔

اسلم شیخ کے روانہ ہوئے دو منٹ بھی نہیں گزر ے تھے کہ دروازہ پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا سی آئی ڈی کے دو افسر کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیے۔ میں نے محسنہ سے کہا کہ تم ہائی کمیشن میں پریس قونصلر انصاری صاحب کو ٹیلی فون کرکے وہاں چلی جاؤ۔

سی آئی ڈی کے افسر مجھے اپنے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کے دفتر لے گئے۔ جہاں انہوں نے مجھے انٹرنمنٹ آڈر دیا۔ یہ آرڈر دراصل سن باسٹھ میں چین کے ساتھ جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا جس کے تحت ہندوستان میں رہنے والے چینی باشندوں کو نظر بندی کیمپوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔ مجھے جو حکم دیا گیا تھا اس پر چین کا نام کاٹ کر پاکستان لکھ دیا گیا تھا۔

میں سمجھا کہ اس حکم کے تحت مجھے گھر میں نظربند کر دیا جائے گا لیکن مجھے فورا تہاڑ جیل لے جایا گیا اور جیلر کے حوالہ کر دیا گیا جس کی
سمجھ میں نہیں آیا کہ اس انٹرنمنٹ آرڈر کے تحت وہ مجھے کس کلاس میں رکھے۔ اتنے میں بلیک آوٹ کا سائرن بجا۔ جیلر نے ہڑبڑا کر کہا کہ اسے قصوری چکیوں میں ڈال دو۔ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ یہ قصوری چکیاں کیا ہوتی ہیں۔ جب دور جیل کے ایک کونے میں ایک دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے ایک ’سینیر قیدی‘ کے حوالہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ جیل میں گڑبڑ کرنے والے قیدیوں کو سزا دینے کے لیے قید تنہائی میں رکھنے کے سیلز ہیں۔

یہ لمبی داستان ہے کہ تہاڑ جیل میں قصوری چکیوں، سی کلاس اور بعد میں بی کلاس میں اکتوبر کے وسط تک دن کیسے گزارے جہاں پورے ہندوستان کے چین نواز کمیونسٹ رہنما قید تھے جن میں اے کے گوپالن، نمبودری پد اور سرجیت سنگھ بھی شامل تھے اور انہوں نے میری کیسی آؤ بھگت اور خاطر تواضع کی۔

کیا 1965 کی جنگ ضروری تھی؟
چالیس سال سے زیاد عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی جب میں سن پینسٹھ کی جنگ کے ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو اسی نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ یہ جنگ قطعی غیرضروری، بے معنی لاحاصل تھی جس سے گریز بہت آسان تھا اگر دونوں ملکوں کی قیادت بصیرت سے کام لیتی اور حالات کی یرغمالی نہ بن جاتی۔

کیونکہ سن پینسٹھ کی جنگ سے صرف اٹھارہ مہینے قبل ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے افق پر اچانک نہایت جو خوشگوار تبدیلی آئی تھی اور امیدوں کی دھنک ابھری تھی جب طویل تیس برس کے تعطل کے بعد مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے امکانات روشن ہوئے تھے۔
گو سن تریسٹھ میں مسئلہ کشمیر پر بھٹو سورن سنگھ مذاکرات ناکام رہے تھے لیکن ان مذاکرات میں پہلی بار پاکستان نے استصواب رائے شماری کے علاوہ تصفیہ کے لیے دوسرے حل تلاش کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور جنگ بندی لائین میں ردوبدل کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم کی تجویز بھی پیش کی تھی۔

امریکا کے محکمہ خارجہ کی ستائیس جنوری سن چونسٹھ کی یادداشت میں اس کی تصدیق کی گئی تھی کہ ’سن تریسٹھ کے دو طرفہ مذاکرات میں پاکستان نے استصواب رائے کے علاوہ دوسری تجاویز پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور ہندوستان نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا تھا اور علاقائی ردوبدل پر آمادگی ظاہر کی تھی‘۔

اسی پس منظر میں ہندوستان کے وزیراعظم نہرو نے آٹھ اپریل سن چونسٹھ کو شیخ عبداللہ کو طویل نظر بندی کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلہ کے دفاع میں انہوں نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لیے پاکستان کے ساتھ آئینی تبدیلوں کے خواہاں ہیں۔ گو انہوں نے ان آئینی تبدیلیوں کی وضاحت نہیں کی تھی لیکن یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ وہ ہندوستان پاکستان اور کشمیر کا ڈھیلا ڈھالا کنفیڈریشن چاہتے تھے یا کشمیر کے کچھ علاقوں کو مشترکہ کنٹرول میں رکھنا چاہتے تھے۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ شیخ عبداللہ نہرو کی آشیرباد کے ساتھ پاکستان گئے تھے جہاں انہوں نے ایوب خان سے نہرو کے ساتھ سربراہ مذاکرات کے امکان پر بات کی تھی لیکن اسی دورے میں دلی سے نہرو کے انتقال کی خبر آئی اور شیخ عبداللہ کو ہندوستان واپس جانا پڑا۔
بلاشبہ نہرو کے جانشین لال بہادر شاستری نہرو کے انداز فکر کے مطابق کشمیر کے تصفیہ کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے خواہاں تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے ستمبر سن چونسٹھ کے اوائل میں جے پرکاش نارائین کی قیادت میں ایک وفد پاکستان بھیجا تھا۔ پھر اسی پس منظر میں لال بہادر شاستری نے بارہ اکتوبر سن چونسٹھ کو کراچی کے ہوائی اڈے پر ایوب خان سے ملاقات کی تھی۔ چونکہ چند ماہ بعد پاکستان میں صدارتی انتخاب ہونے والے تھے لہذا اس ملاقات میں لال بہادر شاستری نے صدارتی انتخاب کے بعد کشمیر کے تصفیہ کے لیٔے مذاکرات کا وعدہ کیا تھا۔

لیکن حالات نے اس وقت پلٹا کھایا جب ہندوستان میں وزیر داخلہ گلزاری لال نندہ اور حزب مخالف جن سنگھ نے لال بہادر شاستری پر اس قدر سخت دباؤ ڈالا کہ وہ کشمیر کو ہندوستان میں مزید مدغم کرنے کے لیے آئین میں ترمیمات پر مجبور ہو گئے جن کے تحت ریاستی اسمبلی کو صدر ریاست کے انتخاب کے حق سے محروم کر کے دلی کو گورنر کی تقرری کا حق دے دیا گیا اور لوک سبھا میں پہلی بار کشمیر کی چار نشستیں مخصوص کی گئیں۔

دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو اور عزیز احمد نے رن آف کچھ کے معرکہ میں پاکستان کی جیت کے بعد آپریشن جبرالٹر کا ایسا جال پھیلایا کہ ایوب خان بے دست و پا رہ گئے۔ ائر مارشل اصغر خان نے سن پینسٹھ کی جنگ کے بارے میں اپنی کتاب ’دی فرسٹ راؤنڈ انڈو پاک وار سکسٹی فائیو‘ میںلکھا ہے اور اس زمانہ کے فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل نور خان نے ڈیلی نیوز اور جنگ کے ایک انٹرویو میں اور خود آپریشن جبرالٹر میں شامل بریگیڈیر فاروق اور کرنل غفار مہدی سب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی میں بہت سقم تھا اور جب ایوب خان نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ اس آپریشن کے نتیجہ میں دونوں ملکوں میں بھر پور جنگ بھڑک سکتی ہے تو بھٹو اور عزیز احمد نے یہ کہا تھا کہ امریکیوں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اگر کوئی ایسی یقین دہانی تھی تو وہ چھ ستمبر کو درست ثابت نہیں ہوئی۔

بہرحال اس زمانہ میں دونوں ملکوں میں ایسے عناصر طاقت ور اور باثر ثابت ہوئے جو برصغیر کو معرکہ آرائی اور جنگ کی آگ میں دھکیلنے پر تلے ہوئے تھے اور اسی وجہ سے حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ دونوں ملک تیزی سے بھرپور جنگ میں کود پڑے جس نے بہت جلد بر صغیر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔


 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com