ہرشخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے آس پاس رہنے والے لوگ اُس کی بات توجہ سے سنیں،اُسے محبت دیںبلکہ اُس کے دیوانے ہو جائیں۔ کم و بیش شاعروں میں سے ہرایک کی یہ خواہش ضرورہوتی ہے۔احمدفرازبھی یہی تمنا لے کراُردو اَدب کے میدان میں اُترے۔قدرت جتنی اُن پر مہربان ہوئی کوئی اور اس کی خواہش ہی کر سکتا ہے۔نوجوانی ہی میں فراز کی شہرت کاڈنکااُردو دنیا میں بجنے لگا۔ کہنے والوں نے اُنھیں ''ٹین ایجرز'' کا شاعر کہا مگر وقت نے ثابت کیا کہ انھوں نے اہلِ زبان نہ ہوتے ہوئے بھی اُردوزبان کوجس خوب صورتی سے برتا اور فکرکی جونئی راہیں چنیںوہ لائقِ تحسین ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہیں۔
نقادوں کے حوالے سے فراز کچھ زیادہ خوش فہم نہیں تھے بلکہ کبھی کبھی تو وہ ان کے لیے سخت الفاظ استعمال کر نے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔بعض لوگ فیض کے بعد جب فراز کا نام لیتے تھے تو فراز کہتے'' میں فیض کا جانشین نہیں ہو سکتا ،وہ بہت بڑے شاعر تھے۔'' ساحرلدھیانوی اور فیض کے تقابل کے بھی وہ سخت خلاف تھے۔ انھوں نے ایک غیر ملکی ریڈیو سے انٹرویو میں کہا تھا۔''ساحر نے اچھی شاعری کی ہے مگر فیض سے ان کاتقابل ہی غلط ہے'' فیض کے حوالے سے وہ سخت گیر مؤقف رکھتے تھے۔ایک بار کنیڈا میں ان کی مجروح سلطان پوری سے بحث ہو گئی۔ مجروح صاحب فیض کے لیے اچھے جذبات نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی چیزیں انھوں نے فیض سے پہلے کہہ رکھی تھیں جیسے'' رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ''۔ فراز کہتے ہیں'' میں نے مجروح صاحب سے پوچھا آپ کو فلم انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے کتنے سال گزر گئے۔ توانھوں نے جواب دیا'' تیس سال''۔ پھر میں نے کہا تیس سال تو بیوی بھی بے نیازی نہیں برداشت کرتی محبوبہ کیسے کرلے۔شاعری تو محبوبہ ہوتی ہے۔''
فراز کی مجروح سے گفتگو کی یہ اہمیت تو ہے ہی اس سے اُن کا شاعری کے حوالے سے نظریہ بھی واضح ہوتا ہے۔ وہ شاعری کے تمام لوازمات کے نہ صرف قائل تھے بلکہ اس میں کمی بیشی کو بُرا مانتے اور تکنیک پر مکمل مہارت کو ضروری خیال کرتے تھے۔فراز کا کہنا ہے
'' تخلیقی عمل کے لیے زندگی میں عشق ضروری ہے۔پھر مسلسل محنت،تعلیم، تجربہ اور انسانوں کا مشاہدہ بھی ناگزیر ہے۔ساراتخلیقی عمل تحفے کے نتیجے میں نہیں پورا ہوتا بلکہ ان لوازمات تک رسائی خودحاصل کرنا پڑتی ہے۔'' اس سلسلے میں فراز نے خود اپنے آپ کو بھی معاف نہیں کیا۔ایک ایک خیال کو کئی کئی بار کہا اور ضائع کیا۔ کتنی ہی مرتبہ لکھنے کے بعد کاغذ پھاڑ دئیے۔جب تک پورا اطمینان نہیں ہوااُسے عام نہیں کیا۔ایسی ہی احتیاط ہمیں اساتذہ خصوصاً غالب کے ہاں ملتی ہے۔ فراز غالب سے بھی متاثر تھے اور بیدل کی شاعری کا بھی دَم بھرتے تھے۔
اپنے ابتدائی ایام میں فراز صاحب نے کیپیٹل ازم اور کمیونزم پڑھ لیا تھا۔ کیمونسٹوں کے ساتھ میل جول رکھا اور پھر ترقی پسند تحریک سے باقاعدہ وابستہ ہو گئے اور اس تنظیم کے جوائنٹ سیکرٹری بھی مقرر ہوئے۔فارغ بخاری اور رضا ہمدانی جیسے لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ریڈیو میں ملازمت کے دوران کراچی میں شاہد احمد دہلوی،ارم لکھنوی اور سیماب اکبرآبادی جیسے لوگوں سے ملاقاتوں کا موقع ملا تو پشاورمیں ن۔ م۔ راشد کی نگرانی اور شفقت بھی نصیب ہوئی۔ احمد فراز کوایم اے کرنے کے لیے تحریک ن ۔م۔ راشد نے ہی دی تھی۔پشاور یونی ورسٹی میں شوق سے پڑھایا مگرجب طالب علموں کی طرف سے کسی دوسرے پروفیسر کے لیے گالیاں سنیں تو''عزت سادات'' بچانے کے لیے پڑھانے سے توبہ کر لی۔اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ انھوں نے کئی رنگوں کوجذب کر لیا تھا اور کئی ایک مشاہدے اور تجربے اُن کی مٹھی میں تھے۔نیشنل سنٹر اور اکادمی ادبیات جیسے اداروں میں رہ کرایلیٹ کلاس سے ملنے ملانے اور ان کو سمجھنے کے بعدان کے نظریات میں مزید پختگی آگئی تھی۔اسی عرصہ میں ان کا سیاسی شعور پورے زور و شور سے رونما ہوتے نظرآتا ہے۔یہی وہ دن تھے جب انھوں نے فوج سے متعلق نظم'' پیشہ وَر قاتلو'' لکھی۔یہ ذوالفقار علی بھٹوکی حکومت کے آخری ایام تھے۔فراز کو فوج نے اُن کے دفتر سے گرفتارکیا۔آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرمانسر کیمپ منتقل کر دیااور پھربھٹو ہی کی مداخلت سے رہائی ملی۔بعدازاںضیاء الحق کے دور میںوہ جلاوطن بھی رہے۔
شب خون مارنے والے جرنیلو ں سے ان کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ انھیں فوج کا ہر افسر بُرا نظرآتا تھا۔ائیرپورٹ کی لابی یا کسی ہوٹل میں وہ کسی فوجی افسر کو دیکھ لیتے تو اُن کی طبیعت بوجھل ہوجاتی۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے'' ہلال امتیاز'' بھی ایک فوجی حکومت ہی سے وصول کیا۔اگرچہ بعدازاں وانا اور بلوچستان کے حالات کاحوالہ دے کر انھوں نے یہ اعزازواپس کردیا تھا تاہم ان کا یہ کہنا نہیں مانا جا سکتا کہ'' وہ سمجھتے تھے حکمران جمہوریت بحال کردیں گے۔'' اور جب فراز یہ بھی کہتے ہوں کہ''ایک جنرل ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی میں پھرتا ہے۔ایک سو چالیس جرنیل کس لیے پال رکھے ہیں؟'' پھر ایک آمرکے حوالے سے ایسی رعایت ______؟کم ازکم فراز جیسے شخص سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ فراز نے توجنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے پر یہ بھی کہا تھا:
عد و کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا
کوئی فراز سا کافر نہیں تھا غازی تھا
کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا''چوں کہ فراز کو ملازمت سے نکالا گیا اور ان کے گھر کاسامان باہر پھنکوایا گیا اس لیے انھیںآمریت کے ظلم نظر آئے۔''کہنے والوں نے ایسی کئی باتیں کہیںاور اَب بھی کہتے ہیں۔دوسری طرف فراز نے سیاست دانوں کے حوالے سے بھی تو اپنے نظریات کا کھلم کھلا اظہار کیا۔فراز کہتے تھے'' اَن پڑھ سیاست دانوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھاجوانھیں جرنیلوں سے بچاتا۔گھوم پھر کر یہ لوگ جرنیلوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔بکاؤ مال تو ہر عہد میں دستیاب ہوتا ہے۔''
فراز موجودہ سیاست دانوں کے حوالے سے بھی سخت تحفظات کا شکار تھے۔انھوں نے پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کونوکریاں،وزارتیں،ٹھیکے اور پرمٹ دلوانے والے کمیشن ایجنٹوں کا گروہ قراردیا اور این۔ آر۔او کورشوت کی ایک قسم کہا تھا جس کے تحت قوم کے اربوں روپے لوٹنے والوںنے ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالا۔
شایدایسی ہی کسی کیفیت میں انھوں نے کہا تھا:
فراز صحنِ چمن میں بہار کا موسم
نہ فیض دیکھ سکے تھے ، نہ ہم ہی دیکھیں گے
اُن کے لیے تو اُن کا فرمودہ سچ ثابت ہوا۔ جب وہ اس دُنیا سے رخصت ہوئے تب بھی ہمارے شہروں میں موت کا ننگاناچ جاری تھااورجاری ہے۔انسانیت کے دشمن مختلف ناموں سے دندناتے پھرتے ہیں اور ہم اپنے گھروں،بازاروں،معبدوںاور درس گاہوں میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔سنگینوں کی چھاؤں میں عبادت کرنے پر مجبور ہیں۔
اُن کے نظریات اور طرزِزندگی سے اختلافات اپنی جگہ مگرفراز اپنی ذات میں بہت خوب صورت انسان تھے۔محفلوں میں آتے تو لوگ دیوانہ وار ان کی جانب کھنچے چلے جاتے اور پھر وہ خود بھی اسی قدرشدت کا مظاہرہ کرتے۔1994ء میں سکائی ویز ہوٹل کھاریاں میں ایک ملک گیر مشاعرہ میں دیگر نامی گرامی شعرا کے ساتھ فراز بھی شریک تھے۔''قلم قافلہ'' کی طرف سے غزل کا مقابلہ ہوا تھا اور شیلڈز فراز کے ہاتھوں ملنا تھیں۔اس مقابلے میں پہلا اور دوسرا انعام اٹک کے شعرا نذر عابد اور ارشد محمودناشاد(ڈاکٹر)کے حصہ میں آیا۔ڈاکٹرارشدمحمود ناشاد کی عدم موجودگی کے باعث اُن کی شیلڈ جب میں نے فراز صاحب سے وصول کی تو انھوں نے میرے کاندھے پرشفقت سے ہاتھ رکھ کر اپنی ہر دل عزیزی کاثبوت دیا۔اس مشاعرے کے اختتام پرمجھے اپنا ایک شعر
زندگی ہے کہ بے وفا محبوب
جتنی ظالم ہے ، اتنی پیاری ہے
بھی لکھ کردیا تھا۔نوجوانوں کے لیے تو وہ ہمیشہ اپنا دل کھلا رکھتے تھے۔اسی جذبے اور محبت کا نتیجہ تھا کہ فوج کے بعض نوجوان افسربھی ان سے آٹو گراف لیتے ہوئے نظرآتے تھے۔
نوجوانوں سے اس دلی لگاؤ کے باوجود وہ دوسرے ہم عصروں کی طرح نئے شعرا کی ''حوصلہ افزائی'' کی غرض سے'' فلیپ '' وغیرہ نہیں لکھتے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ:
عطر آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید
یہی وجہ ہے کہ بیشتر نئے لوگوں کی کتابیں فراز کی آرا سے محروم ہیں۔فراز صاحب نے اپنے غیر ملکی انٹرویو میں کہاتھا کہ:
'' بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں اُن پررائے دوں۔کئی ایک توکہتے ہیں ایک پیرا ہی لکھ دیں۔انڈیا میں توجان کو ہی آتے ہیںاورایک دو لائنوں کامطالبہ کرتے ہیں۔بعض اوقات نوبت ڈھٹائی تک آجاتی ہے۔''
احمدفرازکوایسے لوگوں کی طرف سے تنقید کا سامنا رہا ہی ہے مگرفرازاُ ن لوگوں کا بھی نشانہ بنے جواپنی کتابیں انھیں بھیجتے تھے۔فراز کے پاس ان کتابوں کو پڑھنے بلکہ دیکھنے کا بھی وقت نہیں ہوتاتھا اس لیے وہ ساری کتابیں فٹ پاتھوں پر منتقل ہو جاتی تھیں۔کبھی کبھی ان کے نام دستخطی کتاب بھی کباڑ خانوں میں مل جاتی۔کسی نے گلہ کیا تو فراز نے'' نقل مکانی'' کا بہانہ بنا دیا۔یقینا اُن کو وقت کی کمی کا مسئلہ درپیش تھا مگراُن کے اس رویے کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ زیادہ بہتر تو یہ نظر آتا ہے کہ وہ کتاب وصول ہی نہ کرتے مگریہاں مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ دینے والے کی دل شکنی کا خطرہ بھی تو موجود رہتا ہے۔
فراز نے اپنے نوعمری کے عشق کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بھی اُن کی شخصیت کی کجی کو ظاہر کرتے ہیں۔وہ جس کے لیے فراز نے کہا تھا:
ہم نے جس جس کو بھی چاہا ترے ہجراں میں وہ لوگ
آتے جاتے ہوئے موسم تھے ، زمانہ تو تھا
جس کے لیے پائلٹ بننا چاہتے تھے،انٹرویو دیا،سلیکٹ بھی ہو ئے اور کال بھی آگئی مگروالدہ کے نہ چاہنے پریہ خیال ترک کرنا پڑاتھا_____ جب وہی تیس برس بعدسامنے آیا تو فرازنے کہا:
''او ہوہو______مجھے اُس سے مل کرسخت مایوسی ہوئی۔مجھ میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی تھی۔اَب تو خیرمیرا وزن بڑھ گیا ہے۔ لیکن تب تک میں بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوا تھا۔اُس نے ساری باتیں کیں، اس طرح کہ مجھے شوگر ہے اور مجھے یہ ہے اور مجھے وہ ہے اور میں سوچ رہا تھا کہ چائے کی پیالی کب ختم ہو گی۔ مجھے دکھ اور افسوس ہو رہا تھا کہ کس کے لیے تیس سال کٹے۔''
ان کے اس فرمودہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فراز نے آتے جاتے موسموں سے ہی محبت کی تھی ،زمانے سے نہیں۔انھوں نے اُن لمحوں سے محبت کی تھی جوتیس سال پہلے اُن پر اُترے تھے اور پھر انھی لمحوں کے لیے تیس سال کا زمانہ گزار دیا۔جب وہ لمحہ تیس سال بعدبھی نہ لوٹا(اورلوٹ بھی نہیں سکتا تھا) توفراز کو اپنے آپ پردکھ ہوا۔یہی کچھ تو خود ان کے حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے۔ سچ یہی ہے کہ انھی لمحوں کے صدقے سے ہونے والی شاعری نے احمدشاہ کو احمدفراز بنایا اور وہ لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ان کی عشقیہ شاعری کاثبات انھی لمحوں کی دین ہے۔بعد کے دور میں فراز نے انقلابی شاعری بھی کی اور خوب کی۔ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ہر دو میدانوں میں طبع آزمائی کر کے حظ اٹھانے والوں اور سمت اختیار کرنے والوں کو بہت کچھ دیا۔فراز کا یہ کہنا بجا ہے کہ:
''شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتابلکہ اس کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔وہ ایک بے حس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گردوپیش کے حالات سے بے نیاز ہوکر زندگی نہیں گزار سکتا۔''ان چند لفظوں میں گہرا اور مکمل فلسفہ موجود ہے۔خصوصاً نئے لوگوں کویہ باتیں بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
نصف صدی کی طویل شعری مسافت میں فراز کے فکر و فن کے کئی ایک رنگ ہماری بصارتوںکوخیرہ کرتے رہے ہیں۔اُردو اَدب کو تیرہ(١٣) شعری مجموعے دینے والا فراز ہمارے درمیان ہمیشہ موجود رہے گا۔بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنی زندگی میں ہمارے ساتھ تھا۔ان کی موت پر کسی نے کہا تھا:
'' فراز ہمیشہ فرازصاحب ہی رہے۔آخری دَم تک انھیں کسی نے فراز انکل یافرازبابا نہیں کہا۔''
تو میں کہتا ہوںاُن کے چلے جانے پر بھی انھیں جواںفکرشاعر کے طور پر ہی زیادہ تر یاد رکھا جائے گا۔خصوصاًاُن کی عشقیہ شاعری کی وجہ سے____پھر فراز کے سیاسی نظریات اور''ہلالِ امتیاز'' کی واپسی جیسے اقدامات بھی انھیں تادیر یاد رکھنے کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔اُن کی ''محاصرہ''جیسی نظمیںوقت کے آمروںکے لیے ہمیں یاد آتی رہیں گی۔نیشنل سنٹر سے شروع ہونے والے سفرسے نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے ادارے سے بے دخلی تک کے عمل تک کی روداد ہمارے دماغوں میں موجود رہے گی۔حاشیہ برداروں ، ابن الوقت لوگوںاورا ن کے آقاؤں کی خودغرضیاں ہمارے حافطوں میں محفوظ رہیں گی۔حرمتِ لفظ کے پاسداراحمدفراز کا قدمزید بڑھتا رہے گا۔ہم اُن کے اشعارکی گونج تادیر بلکہ ہمیشہ سنتے رہیں گے:
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تیری جستجو کرے
یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا
پھر نہیں یاد کہ کیا یاد آیا
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
دانے کی ہوس لا نہ سکی دام میں مجھ کو
یہ میری خطا میرے شکاری نہیں بھولے
کیا مالِ غنیم تھا میرا شہر
کیوں لشکریوں میں بٹ گیا ہے
یارو مجھے مصلوب کرو تم کہ مرے بعد
شاید کہ تمھارا قد و قامت نکل آئے