١٥٠٢ ء ۔ ١٥٠٨ء کے دوران یہاں سے گذرنے والے اطالوی سیاح ورتھما Varthema کا کہنا ہے کہ
گوا بڑی وسعت اور آمدورفت کا شہر ہے،یہ بہت دولت والا ہے، یہاں کے باشندے تمام کے تمام مسلم ہیں۔
(Varthema p 38)
یہ عادل شاہی دو ر میں بیجاپور کے بعد دوسری راجدھانی بنا ، اس وقت اسے آبی خندق اور فصیل سے گھیرا گیا تھا ، اس کے احاطہ میں شاہی محل ، مساجد ،اور چند مندر بھی ہوا کرتے تھے، اب ان میں سے شاہی محل کے دروازے کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا ہے۔ اس کی آبادی ١٥٤٣ ء میں وبائی امراض پھیلنے کے باوجود دو لاکھ افراد تک پہنچ گئی تھی، اس کی سڑکیں لسبن کی سڑکوں جیسی او ر وسعت بیک وقت لندن او ر پیرس جیسی تھی، سترھویں صدی میں ملیریا اور وبائی امراض کی وجہ سے یہاں سے آبادی منتقل ہونے لگی ، یہاں تک کہ ١٧٠٠ئ میں اس کی آبادی بیس ہزار ، ١٧٧٥ء میں دیڑھ ہزار رہ گئی۔١٨٣٥ء میں وائسرائے نے صدر دفتر یہاں سے پاناجی Panaji عادل شاہ کے قدیم محل میں منتقل کیا ۔ پھر حکومت کے مذہبی احکامات اور ظلم کی وجہ سے شہر کا اکثر حصہ ویران ہوگیا، گوا کا صدر مقام ١٨٤٣ ء میں سرکاری طور پر پاناجی منتقل ہوا ، انیسویں صدی کے اواخر میں اس کی آبادی پادریوں اور راہبات پر سکڑ کر رہ گئی۔
(NaturalmirvanaWS , Britanica, Wikpedia)
یہ شہر گوا کیسے آباد ہوا ، اسے آباد کرنے والے کون تھے ، اس سلسلے میں جاؤ ڈی بیروس Jao De Barross کا بیان
ملاحظہ فرمائیں۔ واضح رہے بیروس کو سلطنت پرتگال نے اپنے عہد عروج میں سلطنت کا سرکاری مورخ مقرر کیا تھا، اس نے اپنی کتاب ایشیا چار دہائیوں میں Asia De 4 Decadas میں واسکوڈی گاما کے پہلے سفر تلاش ہند ١٤٩٨ء تا ١٥٣٨ ء جملہ چالیس
سال کی سلطنت پرتگال کی معاصر تاریخ چار عشروں پر تقسیم کرکے لکھی ہے ، یہ کتاب اور گاسپر کوریا Gasper Correa کی کتاب سرزمین ہند Landas De India عینی گواہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں پرتگالی زبان میں ہیں ۔ آخر الذکر کتاب کے ابتدائی حصہ کا انگریزی ترجمہ ہوا ہے، اور یہ بھی نایاب ہے، بی یس شاستری B.S.Shastry کاکہنا ہے۔ بیروس سرکاری نامہ نگار ہونے کی وجہ سے بہ نسبت کوریا کے زیادہ متعصب تھا۔(Goa-Kanara Portuguese Relation p318 )
بیروس کا بیان ہے کہ : ہناور کی یہ بندرگاہ اور بھٹکل کی بندرگاہ جو کہ سات فرسخ کی دوری پرتھی دوسرے ساحلی علاقوں کی طرح وجے نگر کے تابع تھی ، راجہ ہناور اس کا باجگذار تھا ، چالیس سال کے دوران ان دونوں بندرگاہوں کی پورے ساحل پر بڑی دھوم تھی ، اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں کی زمین زرخیز تھی ، اور بڑی مقدار میں یہاں غلہ ملتا تھا ،اور تمام جگہوں کے لئے یہاں سامان لادا جاتا تھا ، بلکہ ان کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ سلطنت وجے نگر کی جملہ در آمدات اور برآمدات انہی بندرگاہوں سے ہوتی تھی ، یہاں سے اسے نہ صر بہت سا لگان ملتا تھا بلکہ اس کی خاص وجہ عرب و فارس سے یہاں در آمد ہونے والے گھوڑے بھی تھے، جن کی وجے نگر کی فوج میں بڑی اہمیت تھی ، کیونکہ دکن کی مسلم سلطنت سے اس کی مسلسل جنگ جاری تھی ، اس نے شمال کی جانب سے وجے نگر کا گھیرا تنگ کر رکھا تھا ، اس کے بہت سارے علاقوں پر اس نے قبضہ کر لیا تھا ، جنگی مدافعت میں یہ گھوڑے بنیادی قوت فراہم کرتے تھے،
ان بندرگاہوں کی زرخیزی اور یہاں کی تجارت کی وجہ سے یہاں پر Naiteas (نائطی) کہلائے جانے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی ، یہ گھوڑے خرید کر دکن کے مسلمانوں کو فروخت کیا کرتے تھے، اس وجہ سے راجہ وجے نگر کو اس وقت بڑا نقصان اٹھانا پڑاتھا جب کہ دکن کے ساتھ گھڑسوار فوج کی جنگ چھڑ گئی، یہ خسارہ اس وقت بہت بڑھ گیا جب کہ گھوڑوں کی مانگ کی وجہ سے گھوڑوں کی قیمت دگنی ہوگئی۔
جب ریاست کو اس سے تکلیف محسوس ہونے لگی تو وجے نگر نے ہوناور کے اپنے باجگذار راجہ کو حکم دیا کہ وہ یہاں کے جتنے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرسکتاہو کرے، تا کہ یہ ڈر کے مارے ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں، پھر مسلمانوں کے سال ٩١٧ھ جو کہ ١٤٧٩ ء بنتا ہے ہوناور اور بھٹکل کے تمام علاقوں میں سازش کے الزام میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا ۔جس میں دس ہزار مسلمان مارے گئے، جو بچ گئے انہوں نے جتھے بنائے اور یہاں سے نکل کر زوڈی Tissuari جزیرے میں بود و باش اختیار کی ، یہیں سے شہر گو ا کی بنیاد پڑی۔
ہوناور کے باجگذار کی جانب سے جو بد سلوکی ان مسلمانوں کے ساتھ کی گئی تھی ، اس کے نتیجہ میں ہوناور کے ہندؤوں سے انہیں نفرت سی ہوگئی، انہوں نے گوا کو آباد کرنے اور یہاں کی تجارت کو دلکش بنانے ، خاص طور سے گھوڑوں کی تجارت کو فروغ دینے ، انہیں
بآسانی سلطنت دکن کو روانہ کرنے کے انتظامات کے تعلق سے بڑی پھرتی سے اپنا کام پورا کیا ، یہ کام انہیں اس وجہ سے بھی آسان ہوا کہ یہ سامان تجارت جہازوں پر چڑھانے والے جہازراں مسلمان ہی ہوا کرتے تھے ،انہیں بھٹکل اور ہوناور میں جو تکلیف دی گئی تھی اس کی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کردیا تھا کہ ہندوؤں کے مقابل وہ اپنے ہم مذہب مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ، اس کی وجہ سے ہوناور اور بھٹکل کی بندرگاہوں کا نقصان ہونے لگا۔
(Asia De 4 Decadas 1.347.8 ,Goa-Kanara Portuguese Relations p 14)
اس سلسلے میں سلطنت وجے نگر کے مورخ روبرٹ سیول bert Sewell Ro نے یوں لکھا ہے۔
١٣ ذی قعدہ ٨٦٧ھ ٣٠ جولائی ١٤٩٣ء محمد شاہ بہمنی بادشاہ بنا ، ١٤٦٩ء کے اواسط میں جب کہ راج شیکھر ا یا ویرپکشا اول وجے نگر کا گدی نشین تھا ، محمد شاہ بہمنی کے وزیر محمود گاواں نے مغرب کی طرف کوچ کیا اور واضح طور پر ایک کامیا ب مہم چلاکر گوا پر حملہ کردیا، پھر اس کے بعد برو بحر دونوں راستوں سے وجے نگر کے رایا Raya کے مورچوں پر حملہ بول دیا ، اس حملہ میں اسے فتح نصیب ہوئی
اور یہاں کے تمام علاقہ جات پر اس کا قبضہ ہوگیا۔
بیروس کے بقول یہ غالبا ١٤٦٩ء میں ہونے والے مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کا بدلہ تھا ، اس زمانے میں ساحلی علاقہ کی جملہ تجارت مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی، یہ مسلمان بڑی تعداد میں گھوڑے در آمدکرتے تھے ، یہ گھوڑے بنیادی طور پر سلطنت دکن اور وجے نگر کی دو مد مقابل کثیر تعداد فوج میں استعمال ہوتے تھے، ہندو راجہ کی فوج کا دارو مدار انہی گھوڑوں کی درآمد پر تھا۔ ۔۔ (اس قتل عام کے بعد) بچ کرنکلنے والوں نے گوا میں پناہ لی، یہیں سے اس شہر کی بنیاد پڑی جسے ہندستان میں پرتگالیوں نے اپنی راجدھانی بنایا۔۔۔ پرچیس
Purcheas کا بیان ہے کہ یہ قتل عام ١٤٧٩ء میں ہوا تھا ۔ (A Forgotten Empire Vijayanagar p 99 )
ڈیمس ML Dames نے بھی گوا کی تاسیس کے بارے میں یہی بات کہی ہے۔ (١٨٢١) اس کا مزید کہنا ہے کہ گجرات کا شہر راندیر بھی انہی ایام میں بھٹکل کے نوائط نے آباد کیا تھا۔
بھٹکل میں اہل نوائط کا قتل عام سلطنت وجے نگر کے راجاؤں کے پہلے خاندا ن کے دور میں ہوا تھا، ١٤٩٠ء میں اس سلطنت کے دوسرے خاندان کی حکومت کا جب آغاز ہو ا ، اہل نوائط کے ساتھ دشمنی کی وہ صورت حال نہیں رہی، حالانکہ اس خاندان کے راجاؤں کی مسلمانان دکن کے ساتھ سخت ناچاقی تھی، لیکن چونکہ اہل نوائط بحری تجارت کے بادشاہ تھے،اور وجے نگر کے مفادات ان سے وابستہ تھے ، لہذا جب تک سلطنت قائم رہی پرتگالیوں کوچھٹ پٹ واقعات کے علاوہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں ہوئی۔(یہ موقعہ ان کی تفصیلات کا نہیں )
١٤٨٢ء میں سلطنت بہمنی کے خاتمہ کے بعد گوا پر سلطنت عادل شاہی کا تسلط ہوا۔ اس دوران یہاں اہل نوائط کو زبردست عروج ہوا۔ بھٹکل میں سپرد خاک مخدوم فقیہ محمد اسماعیل سکری کے پڑپوتے قاضی محمود بن احمد بن ابو محمد نائطی ٩٩٤ء یہاں پر سرکاری قاضی مقرر ہوئے، آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند قاضی مرتضی بن محمود نائطی فرمان عادل شاہی سے قاضی مقرر ہوئے۔ غلطی سے اس فرمان کو فرمان اکبری سمجھا گیا ہے، یہ فرمان اب بھی اس خاندان میں محفوظ ہے۔ (تاریخ النوائط ٦٨٤، نزہة الخواطر ٢٩٧٤) قریبی دور کے مایہ ناز محقق ڈاکٹر حمید اللہ حیدرآبادی مرحوم اور ماہر لسانیات ڈاکٹر نصیر الدین ہاشمی مرحوم اور ماہر قرآنیا ت ڈاکٹر حسن الدین احمد وغیرہ اسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کینرا کے علاوہ حیدرآباد ، چنئی اور دوسرے علاقوں میں جو نوائط آباد ہیں یہ سب سقوط گوا کے بعد بیجاپور کے راستے جنوب کی مختلف اسلامی ریاستوں میں پھیلنے والے اہل نوائط کی نسل سے ہیں۔
شیخ علاء الدین علی ابن احمد المہائمی ٨٣٥ھ جن کے بارے میں مورخ ہند مولانا عبد الحی حسنی نے یاد ایام میں لکھا ہے کہ گجرات کے لئے سرمایۂ ناز ہیںاور میرے نزدیک ہندوستان کے ہزار سالہ دور میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے سوائے حقائق نگاری میں ان کا کوئی نظیر نہیں۔۔۔۔ ایسا شخص جس کو ابن عربی ثانی کہنا زیبا ہے۔ اور مولانا حمید الدین فراہی نے لکھا کہ آپ کی تفسیر تبصیر الرحمن و تیسیر المنان نظم قرآن کے موضوع پر اس وقت تک چھپی واحد تفسیر ہے۔ آپ ممبئی (مہایم) میں آسودہ خاک ہیں اور خواجہ معین الدین اجمیری کے بعد بر صغیر کے سب سے مقبول بزرگ شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا تعلق بھی اسی قبیلہ نوائط سے ہے۔