امریکی نائب صدر کے عہدے کے لیے ریپبلکن پارٹی کی امیدوار سارہ پیلن الاسکا کی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون گورنر منتخب ہو کر ریاستی تاریخ میں اپنا نام رقم کر چکی ہیں۔
چوالیس سالہ سارہ 2006 میں الاسکا کی گورنر منتخب ہوئی تھیں اور انہیں گورنری کے دو سالہ دور میں اصلاحات متعارف کروانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
سنہ 2008 کے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں انہیں بطور اپنی نائب کے متعارف کرواتے ہوئے ریپبلکن صدارتی امیدوار جان میکین نے کہا کہ سارہ ایک بااصول اور رحمدل خاتون ہیں جن میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔
الاسکا کی گورنر منتخب ہونے سے قبل سارہ وسیلا نامی شہر کی کونسل ممبر اور 1996 سے 2002 تک اسی شہر کی میئر رہ چکی ہیں۔ 1987 میں اداہو یونیورسٹی سے صحافت اور سیاسیات میں ڈگری حاصل کرنے والی سارہ سیاست میں آنے سے قبل نہ صرف ٹیلیویژن پر کھیلوں کی خبریں پڑھتی رہی ہیں بلکہ وہ اپنے آبائی شہر میں ہونے والے مقابلۂ حسن کی فاتح بھی ہیں۔
سارہ پیلن کو ان کے مضبوط سماجی اور قدرے قدامت پسند رویے کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔وہ اسقاطِ حمل کی مخالف کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی اپنی بیٹی بھی امید سے ہیں۔ 17 سالہ bristol پانچ ماہ کی حاملہ ہیں۔ سارا نے ان لبرل بلاگر کی طرف سے قیاس آرائیوں، کہ سارا کا پانچ ماہ کا بیٹا دراصل ان کی بیٹی برسٹل کا بیٹا ہے اور سارا نے دراصل ڈھونگ رچایا ہے، کے بعد تنگ آ کر بیان جاری کیا ہے کہ ان کی بیٹی اسقاط حمل نہیں کروائے گی اور بچے کے والد سے شادی کرے گی۔ یاد رہے کہ نہ صرف سارا اسقاط حمل کے خلاف ہیں بلکہ ری پبلکن پارٹی بھی اس کو ایک بڑے ایشو کے طور پر لیتی ہے۔
سارا نے کہا کہ برسٹل اور اس کا ہونے والا خاوند جلد جان لیں گیں کہ بچہ پالنا کتنا مشکل ہوتا ہے لہذا وہ اس کو مکمل سپورٹ کریں گی۔
برسٹل کو پتہ لگے نہ لگے کہ بچہ پالنا کتنا مشکل کام ہے سارا کو ضرور پتہ لگ گیا ہو گا کہ اسقاط حمل کی مخالفت کبھی کبھی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔ جان مکین campaign نے اس صورتحال پر کہا ہے کہ وہ پہلے سے برسٹل کا معاملہ جانتے تھے اور سارہ کی candidacy پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔