خلاء کے سربستہ راز جانے کی غرض سے یورپی یونین کی طرف سے ساڑھے چار سال قبل روانہ کیا گیا مصنوعی سیارہ جمعہ کو مشتری اور مریخ کے درمیان موجود لاتعداد شہاب ثاقب پر مشتمل پٹی کے قریب سے گزرے گا۔ اس موقع پر اوڈیسی نامی مصنوعی سیارے میں لگے متعدد کیمرے خود بخود آن ہو کر شہاب ثاقب پر مشتمل پٹی کے اندر کی قریب سے تصاویر اتاریں گے جن کے مشاہدے اور مطالعے سے نظام شمسی کے وجود میں آنے کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اوڈیسی نے ساڑھے چار سال میں 36 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ اوڈیسی کی اصل منزل زمین سے ساڑھے چھ ارب کلومیٹر فاصلے پر واقع 67 پی کر یموف جیرا سیمینکو نامی دمدار سیارہ ہے جس تک یہ 2014 میں پہنچے گا۔ اوڈیسی اس دمدار ستارہ کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرے گا۔ یورپی یونین کے اس مشترکہ منصوبہ پر کئی ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔