بھارتی سپریم کورٹ نے مشرقی ریاست اڑیسہ میں عیسائی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پولیس کی مزید 4 بٹالین نفری کی تعیناتی کی ہدایت کر دی۔
اڑیسہ ریاست میں ایک ہندو رہنما کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کے باعث ہندو آبادی سے گرجا گھروں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ عیسائی آبادی کے گھروں کو بھی آگ لگانا شروع کر دی تھی۔ ان فسادات میں 16 افراد ہلاک بھی ہوئے جن میں زیادہ تعداد عیسائی باشندوں کی ہے۔
بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ کی حکومت نے کہا ہے کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں میں اب تک 17 گرجا گھروں اور 558 رہائشی مکانوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔
پیر کو وزیراعلیٰ نوین پٹناٹک کی زیر صدارت اجلاس میںریاست کے فسادات سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ریاستی چیف سیکرٹری اجیت کمار ترپاٹھی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہندو انتہا پسند رہنما سوامی لکشمی نندا کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد اڑیسہ کے مختلف علاقوں میں عیسائیوں کی املاک کو حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فسادات کے بعد اب ہزاروں مسیحی باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اور دس امدادی کیمپوں میں ساڑھے بارہ ہزار سے زائد عیسائیوں کو امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں فسادات کے دوران 16 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے بعض کو زندہ جلایا گیا۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ حملوں میں ملوث 185 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ فسادات سے شدید متاثرہ ضلع کندھمال میں حکام نے سات پناہ گزین کیمپ قائم کردیئے ہیں جن افراد نے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لی ہے ان میں سے بعض ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے بعد کئی دنوں تک جنگل میں بھوکے پیاسے چھپے رہے۔ ریاست کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اڑیسہ کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ رہا۔ دریں اثناء اڑیسہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس گوپال نندا نے بتایا کہ فسادات سے متاثرہ ضلع کندھمال میں پیرا ملٹری فورسز کی 12 کمپنیوں کے علاوہ آرمڈ پولیس اور خصوصی آپریشن گروپ کے ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نے ملک کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں پر ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے بعد شدید عالمی دبائو اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی سخت تنقید کے پیش نظر ریاستی حکومت کو عیسائیوں کی ہلاکتوں اور گرجا گھروں پر حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اڑیسہ میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے پیر کو اڑیسہ حکومت کو حکم دیا کہ وہ عیسائیوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہندو انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔ نئی دہلی میں جاری سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے عیسائیوں پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ریاستی وزیراعلیٰ نوین پٹناٹک سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
بھارتی وزیراعظم نے اڑیسہ میں پرتشدد واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ اڑیسہ میں عیسائیوں پر ہونے والے منظم حملوں کی عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینڈیکٹ کے علاوہ امریکہ' یورپی یونین اور کئی دیگر ممالک نے بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ نے بھی اڑیسہ میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی حالیہ تاریخ میں عیسائیوں کے خلاف ہونے والے شدید حملوں میں متاثرہ لوگوں کی مالی امداد کی یقین دہانی کرائی۔ اڑیسہ میں عیسائیوں پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث دو سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ یاد رہے بھارت میں ماضی میں بھی عیسائیوں کو ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کا نشانہ بننا پڑا ہے۔
اڑیسہ میں ہندو عیسائی فسادات کے بعد جنگلات میں پناہ لینے والے ہزاروں عیسائی صورتحال بہتر ہونے کے بعد اپنے گھروں کو واپس آنا شروع ہوگئے۔ یہ عیسائی ہندو بلوائیوں سے جان بچانے کے لئے کئی دنوں تک جنگلات میں چھپے رہے جن میں یتیم خانے کے 21 بچے بھی شامل ہیں۔ اڑیسہ کے ضلع کندھامن میں ہندو عیسائی فسادات ایک ہندو مذہبی رہنما کے قتل کے بعد شروع ہوئے۔ ان فسادات میں کئی افراد مارے گئے جبکہ متعدد گرجا گھروں اور مشنری سکولوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ لاوارث بچوں نے بتایا کہ یتیم خانہ ہمارا گھر تھا جسے جلا دیا گیا' اب ان کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ انتظامیہ نے متاثرہ افراد کے لئے بحالی کیمپ لگا دیئے ہیں جہاں انہیں ضروری اشیاء مہیا کی جائے گی۔ ہندوئوں کے مطابق پادری غریب ہندوئوں کو عیسائی بننے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ ہندو فرسودہ خیالات سے تنگ آکر مذہب تبدیل کر رہے ہیں۔