بھارت حکومت کو ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری معاہدے کرنے پر حزب اختلاف سے شدید مخالفت کاسامنا ہے اور حزب اختلاف نے وزیراعظم من موہن سنگھ سے مستعفی ہونے کامطالبہ کیا ہے ۔ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت بھارت امریکہ سے سویلین مقاصد کلئے جوہری توانائی حاصل کرسکے گا تاہم 2006ء میں طے پانے والے اس معاہدے نے کئی شکوک وشہبات کو جنم دیا ۔ بھارت میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جوہری معاہدے پرنیا تنازعہ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی ایٹمی تجربہ کیا تو امریکہ بھارت کے ساتھ جوہری تعاون روک دے گا۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ معاہدے کے تحت بھارت کے ایٹمی تجربات پرکسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری معاہدے کے مختلف پہلووں کا جائزہ لینے کیلئے سپلائرز گروپ کا اجلاس ویانا میں شروع ہورہا ہے