بھارت کی ایک ہائی کورٹ نے حادثاتی معذوری کی صورت میں فوجیوں کو پنشن کی ادائیگی کو بلاجواز قرار دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے بھارتی فوجیوں میں مایوسی پھیل گئی ہے جبکہ دوسری جانب دفاعی ماہرین نے بتایا ہے کہ اس صورتحال میں فوج میں بھرتی کا عمل مزید سست روی کا شکار ہو جائے گا۔
نئی دہلی کی ہائی کورٹ نے یہ حکم ایک معذور فوجی نائیک کی درخواست پر دیاہے۔ ہائی کورٹ کے بینچ نے نائیک دل باغ کی پنشن بصورت حادثاتی معذوری کی درخواست حکم قلم بند کیا کہ فوجی سروس کے علاوہ کسی قسم کا زخم یا موت پنشن بصورت حادثاتی معذوری کا حقدار نہیں ٹھہرے گا۔ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ چاہے وہ زخم یا موت دوران ڈیوٹی رونما ہوا ہو کسی بھی صورت میں پنشن بصورت حادثاتی معذوری کا حق دار نہیں بنتا۔
عدالت کا یہ فیصلہ فوجیوں اوردوسرے سیکورٹی اہلکاروں کیلئے مایوسی کا باعث بنا ہے۔ بھارت کی ناردرن اور ایسٹرن کمانڈ کے بعض فوجیوں نے عدالت کے حکم کے بعد فوج سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دیدی ہے۔ بھارت کے دفاعی ماہرین نے بتایا ہے کہ فوج میں پہلے افسروں اور جوانوں کی تعداد میں کمی کا سامنا تھا جبکہ بھرتی کے عمل میں بھی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ حالیہ فیصلے سے فوج میں بھرتی کے عمل پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔