دفاعی اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے اُس پار تقریباً500تربیت یافتہ جنگجو دراندازی کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور ان جنگجوئوں کو سرحد کے نزدیک پاکستانی رینجرس باضابطہ طور پر عسکری تربیت دے رہے ہیں۔ادھر آر ایس پورہ سیکٹر کے کمانڈنگ آفیسر اور بی ایس ایف کے ڈی آئی جی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرحد پار بڑی تعداد میں جنگجو کنٹرول لائن کے نزدیک پاکستانی رینجرس کی چھتر چھایا میں موجود ہیں اور وہ دراندازی کے انتظار میں ہیں۔
نجی ٹیلی ویژن چینل ٹائمز نو (Times now )نے دفاعی ذرائع سے حاصل کردہ ایک ویڈیو فلم جاری کی ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں جنگجو جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار پاکستانی رینجرس سے تربیت حاصل کررہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق یہ فلم دفاعی ایجنسیوں نے بنائی ہے لیکن اسکی ایک کاپی کسی طرح سے ٹائمز نو نیوز چینل کے ہاتھ لگی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً500جنگجو الگ الگ گروپوں میں جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے اُس پار مختلف مقامات پر خیمہ زن ہیں اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ وہ کب دراندازی کرکے وادی کشمیر یا جموں میں داخل ہوجائیں نیز سرحد پر تعینات بھارتی سیکورٹی فورسز پر حملے کرسکیں۔ نیوز چینل کی طرف سے دکھائی گئی ویڈیو فلم میں کئی مقامات پر سول کپڑوں میں ملبوس اسلحہ برداروں کو باوردی پاکستانی رینجرس کیساتھ مشکوک انداز میں سرحد کے اس پار کنٹرول لائن کے نزدیک ادھر اُدھر آتے جاتے دیکھا گیا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق کنٹرول لائن کے اُس پار دراندازی کے انتظار میں خیمہ زن جنگجوئوں کی تعداد تقریباً500کے لگ بھگ ہے۔ جن کو دراندازی میں مدد دینے کیلئے پاکستانی رینجرس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کنٹرول لائن پر محفوظ راہوں کی تلاش میں مضروف رہتے ہیں۔ آر ایس پورہ سیکٹر کے کمانڈنگ آفیسر ایم ایل گارگ نے بتایا ہے کہ سول کپڑوں میں ملبوس اسلحہ برداروں کی پاکستانی رینجرس کیساتھ نقل و حمل سرحد کے اُس پار دیکھی گئی ہے۔ ادھر ڈی آئی جی بی ایس ایف مسٹر دیس راج نے جنگجوئوں کی کنٹرول لائن کے اُس پار موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان جنگجوئوں کو دراندازی میں مدد دینے کیلئے پاکستانی رینجرس سرحد پر بھارتی پوسٹوں پر فائرنگ شروع کرتے ہیں تاکہ جنگجوئوں کو دراندازی کرکے جموں و کشمیر میں داخل ہونے کا موقعہ مل سکے۔