جموں کی مسلم آبادی بھی ہندوستان کے تسلط سے آزادی کی خواہاں ہے جموں کے لوگ 60برسوں سے کشمیریوں کے ساتھ مکمل آزادی کے لئے برسرپیکار ہیں ۔ جموں کی مسلم آبادی نے بھی 60برسوں کے دوران آزادی کے حصول کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ 800کنال اراضی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فوج نے ہزاروں کنال اراضی پر زبردستی اپنے تحویل میں رکھی ہے۔ ریاستی سرکارنے بال تل کی 800کنال اراضی 3مہینے کے لئے شرائن بورڈ کو یاترا کے ایام کے دوران استعمال کرنے کی اجازت دی ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ ان باتوں کا اظہار فریڈم مومنٹ کے صدر اور مسلم ایکشن کمیٹی کے چیرمین شریف سرتاج نے پی بی آئی کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا۔ انہوںنے کہاکہ چندروز قبل ریاستی حکومت کے نمائندوں اور شنگھرش سمتی کے مابین ہوئے سمجھوتے کے بعد بال تل کی اراضی یاتراکے ایام میں امرناتھ شرائن بورڈ کی تحویل میں دیئے جانے کا اعلان کیا گیا۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس سے قبل بھی یاترا کا انتظام حکومت اور شرائن بورڈ سنبھالتی تھی۔ کیونکہ 3مہینے تک شرائن بورڈ کی تحویل میں دیئے جانے سے بال تل اراضی کی ملکیت تبدیل نہیں ہوگی ۔ مسلم ایکشن کمیٹی جموں کے چیرمین نے کہا کہ اراضی کو 3مہینے کے لئے شرائن بورڈ کی تحویل میں دیئے جانا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ ہمارا اولین مقصدنہ صرف فوج اور نیم دستوں کی تحویل میں موجود ہزاروں کنال اراضی کو چھڑانا ہے بلکہ جموں کشمیر کی سرزمین کو ہندوستان کے تسلط سے آزاد کرانا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کی طرح جموں کی مسلم آبادی بھی ہندوستان کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں۔جموں کی مسلم آبادی بھی گذشتہ 60برسوں سے آزادی کے لئے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دوبارہ کاروباری زندگی بحال ہوجانے سے اب جموں میں سکون کا ماحول ہے جان بوجھ کر جموں کی آبادی کو 2مہینے تک یرغمال بنا کران کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔ شریف سرتاج نے کہاکہ جموں میں پرتشد د مظاہروں کے دوران گوجرآبادی کے 300رہائشی مکان جنہیں گوجر چھن کہاجاتا ہے ،جمع پونجی سمیت آگ کی نذر ہوگئی۔ گورنر انتظامیہ نے جموں کی مسلم آبادی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ 2مہینے کے تشدد، ہڑتال اور کرفیو کے دوران مسلم آبادی املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے انہیں بھی معاوضہ دیا جائیگا۔ شریف سرتاج نے کہاکہ چونکہ 2مہینے کی تشدد کے دوران مسلم آبادی کا نقصان سب سے زیادہ ہواہے اس لئے متاثرہ مسلم آبادی کو اس کا بھر پور معاوضہ ملنا چاہئے ۔ فریڈم مومنٹ جموں کے سربراہ نے کہاکہ اگرچہ جموں کی مسلم آبادی اقلیت میں ہے اس کے باوجود ان پر کوئی خوف طاری نہیں ہے اور شرپسندوں کی دھمکیوں کے باوجود انہوںنے جموں سے ہجرت نہیں کی۔