الیکشن کمیشن نے 18 فروری 2008ء کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے سرکاری نتائج کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 808 کامیاب امیدواروں میں قومی اسمبلی کے 258، پنجاب اسمبلی کے 291، سندھ اسمبلی کے 122، سرحد اسمبلی کے 89 اور بلوچستان اسمبلی کے 48 کامیاب امیدوار شامل ہیں۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کے طویل اجلاس کے بعد ہفتہ کی شب نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران جسٹس نسیم سکندر (پنجاب)، جسٹس احمد خان لاشاری (بلوچستان)، جسٹس جہانزیب رحیم (این ڈبلیو ایف پی) اور جسٹس غلام دستگیر اے شاہانی کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد نے شرکت کی۔
اجلاس میں کمیشن کی باقاعدہ منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 18 فروری 2008ء کو ہونے والے عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں سے کامیاب اراکین اسمبلی کی کامیابی کا سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کیا جن کی مجموعی تعداد 808 ہے جس میں قومی اسمبلی کے 258، پنجاب اسمبلی کے 291، سندھ اسمبلی کے 122، سرحد اسمبلی کے 89 اور بلوچستان اسمبلی کے 48 اراکین شامل ہیں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین اور قانون کے تحت ایک قومی ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے مکمل کر لیا ہے جس پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے انتہائی مسرت کے ساتھ یہ اظہار کر رہے ہیں کہ ان انتخابات کو ملک کی تاریخ میں شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں انعقاد کو تسلیم کیا گیا ہے اور پاکستان کے تمام سول سوسائٹی اداروں، سیاسی جماعتوں، عالمی و مقامی مبصرین اور میڈیا نے نہ صرف ان انتخابات کے شفاف، آزادانہ اور پرامن انعقاد کو تسلیم کیا ہے بلکہ الیکشن کمیشن کی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نتائج کے تین دن کے اندر اب آزاد امیدواروں کو اپنی پسند کی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہو گا اور متعلقہ سیاسی جماعت کے سربراہ کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو مطلع کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر دراصل تمام امیدواروں کے حوالہ سے یہ اطمینان اور تصدیق حاصل کرنے کی وجہ سے ہوئی کہ انتخابی نتائج سے قبل ہم یہ امر یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ان تمام امیدواروں کے حوالہ سے تصدیق حاصل کر لی جائے جن کے حوالہ سے عدالتی حکم امتناعی جاری کئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں سے کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں سے انتخابی اخراجات کے گوشوارے داخل کرانے کی جو آخری تاریخ 28 فروری مقرر کی تھی اس سلسلہ میں تمام امیدواروں نے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسروں کے پاس اپنے گوشوارے داخل کرا دیئے۔ چنانچہ دیگر تمام قانونی لوازمات مکمل ہونے کے بعد آج یکم مارچ 2008ء کو کامیاب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی کامیابی کا سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے تاہم مختلف عدالتوں کی جانب سے بعض قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں پر جاری ہونے والے حکم امتناعی کی مجموعی تعداد 26 ہے جن میں قومی اسمبلی کے 10، پنجاب اسمبلی کا ایک، سندھ اسمبلی کے 7، سرحد اسمبلی کے 7 اور بلوچستان اسمبلی کا ایک حلقہ شامل ہے، اس کے علاوہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مجموعی طور پر 13 ایسے حلقے بھی تھے جہاں انتخابات سے قبل کسی امیدوار کی وفات یا پھر امن و امان کی وجہ سے پولنگ کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بلوچستان اسمبلی کی دو نشستیں اس کے علاوہ ہیں جن میں ایک نشست پر امیدوار کامیاب ہو کر وفات پا گئے جبکہ دوسری نشست پر کامیاب ہونے والے امیدوار نواب ذوالفقار علی مگسی نے گورنر بلوچستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، ان دونوں نشستوں پر بھی ضمنی انتخاب ہو گا یوں مجموعی طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے 15 حلقوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی کامیابی کے سرکاری نوٹیفیکیشن کی مکمل فہرست اپنی ویب سائٹ www.ecp.gov.pk پر بھی جاری کر دی ہے۔ پنجاب کی 291 نشستوں پر سرکاری نتائج کا اعلان کیا ہے جبکہ 5 حلقوں میں امیدواروں کی وفات یا امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے ضمنی انتخابات ہوں گے۔ ایک حلقہ میں عدالت کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہوا ہے۔ صوبائی اسمبلی سرحد کی 89 نشستوں پر سرکاری نتائج کا ا علان کیا گیا۔ 3 حلقوں میں امیدواروں کی وفات یا امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے ضمنی انتخابات ہوں گے جبکہ 7حلقوں میں مختلف عدالتوں کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلی سندھ کی 122 نشستوں پر سرکاری نتائج کا اعلان کیا ہے جبکہ ایک حلقہ میں ضمنی انتخانب ہو گا۔ 7 حلقوں میں مختلف عدالتوں کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہوا ہے۔
صوبائی اسمبلی بلوچستان کی 48 نشستوں پر سرکاری نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ دو حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے جبکہ ایک حلقہ میں عدالتی حکم امتناعی جاری ہوا ہے۔سکریٹری الیکشن کمیشن کنوردلشاد نے کہاکہ انتخابات میں ہارنے والے ارکان نے الیکشن کمیشن کو پریزنٹیشن دی،جن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست تھی،الیکشن کمیشن نے ہردرخواست کو پرکھا اور اس پر احکامات جاری کئے اور سب کو نمٹادیا۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ قواعد اور قانون کے مطابق الیکشن ٹریبونل قائم کردئیے گئے ہیں،اب شکایات گزاروں کے لئیے یہ ہی دادرسی کے لئے بہترین فورم ہیں جن سے وہ رجوع کرسکتے ہیں۔کنوردلشاد نے کہاکہ ان نتائج کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے تین دن کے اندر آزادکامیاب ہونے والے امیدواروں کو اپنی پسند کی سیاسی جماعت میں شامل ہو نا ہو گا اور متعلقہ سیاسی جماعت کے سربراہ کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو مطلع کرنا ہو گا، اس مقررہ مدت کے گزرنے کے بعد تین دن کے اندر اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں کے نتائج سامنے آئیں گے، 26 نومبر 2007ء کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن قواعد و ضوابط کی روشنی میں متعلقہ سیاسی جماعتوں کو یہ نشستیں مختص کر دے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ان نتائج کو فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹ تک پہنچا دے گا۔ انتخابات میں اخراجات اور اخراجات کی تفصیل کے حوالہ سے سوال پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات میں 15 اور 10 لاکھ کے اخراجات کی شرط ہے جن افراد کے پاس اس حد سے زیادہ اخراجات کے حوالہ سے دستاویزی ثبوت دستیاب ہیں وہ الیکشن ٹریبونل میں جا سکتے ہیں کیونکہ اس معاملہ میں تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضمنی انتخابات کے حوالہ سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے حلف اٹھانے کے بعد اور ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کی جانب سے اپنی نشست کے حتمی فیصلہ کے اعلان کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کے نظام الاوقات جاری کر دے گا۔
انتقال کر جانے والے امیدواروں کی نشستوں پر بھی اسی روز انتخاب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داریاں آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انجام دی ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری انتخابات کا انعقاد اور نتائج کا اجراء ہے، ہم نے یہ ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی کے حوالہ سے سوال پر سیکرٹری ا لیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران مقرر کئے تھے جو قانونی اختیار کے ساتھ معاملات پر فیصلہ کرنے کے مجاز تھے، ان کے فیصلوں کے خلاف اپیلٹ ٹریبونل سے رجوع کیا جا سکتا تھا جبکہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے حوالہ سے الیکشن کمیشن اپنے فیصلے کا اظہار کر چکا ہے۔