Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے

رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے

بے    نواؤں   کی   دستار  نہ  اچھالی  جاۓ

 

دیپ   اشکوں کے سر شام بھلے لگتے ہیں

ہجر  کی شب  بھی   سر  شام    منالی  جاۓ

»۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

ہندستانی طلبہ پر آسٹریلیا کا نسلی تعصب

آسٹریلیا میں ہندستانی طلبہ پر نسلی تعصب کے جو انسانیت کو شرمسارکرنے والے واقعات سامنے آءے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہیں۔آج دنیا میں ہر جگہ حقوق انسانی کی باتیں کرنے والے موجود ہیں ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ لوگ محض اسلامی ممالک کے واقعات پر ہی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے لیے شاید اس طرح کے واقعات میں کوئی قابل مذمت بات نہیں ۔ہندستا ن کے لوگ اپنا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں ۔لیکن  آسٹریلیا حکومت نے بھی اب تک کوئی قابل تحسین قدم نہیں اٹھایا ہے ۔اس طرح کے واقعات سے آسٹریلیا کا ہی نقصان ہے۔کینوکہ بڑی تعداد میں ہندستانی طلبہ تعلیم کی غرض سے وہاں جاتے ہیں اور ا ب شاید یہ تعدا د بہت جلد کم ہوجاءے گی۔

تبصرہ جات

سلام علیکم : مزید تاخیر ہوئی معذرت

قارئین سلام مسنون

میں نے کل ہی کشمیر کا سفر نامہ ایڈیٹوریل بورڈ کی خدمت میں روانہ کیا ہے ۔ امید ہے جلد ہی کالم کےزمرے میں شائع ہوگا، آپ حضرات کے تاثرات کا انتظار رہےگا۔

تبصرہ جات

غیر حا ضری کا سبب

قارئین / دوستو

سلام علیکم

گذشتہ دس پندرہ دنوں سے میں غیر حاضر رہا اس لیے کوئی تحریر نہیں لکھ سکا ۔ درا صل گرمی کی چھٹٰاں گزارنے ہم جنت نشان کشمیر گیا ہوا تھا۔ دس دن کا یہ سفر کافی دلچسپ رہا اور کئی تجربات اور مشاہدے ہیں جنھیں جلد ہی آپ سب سے شئیر کروں گا۔

تبصرہ جات

طالبان کے خلاف جنگ یا خون خرابہ

گذشتہ ایک ہفتے سے پاکستان  میں طالبان اور فوج کے درمیان تصادم کے نتیجے میں سینکڑوں لوگوں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔ہزاروں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور اب بھی لوگ کسی بھی طرح سے اپنی جان بچا کر سوات اور مالاکنڈ سے نکلنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن اب طالبان کی جانب سے اس پر بھی پابندی لگ چکی ہے کیونکہ اس سے قبل طالبان ہی یہ کہہ رہے تھے کہ جو لوگ اس نظام عدل کے خلاف ہیں وہ اس علاقے سے نکل جائیں ، نتیجہ یہ ہے عوا م کے بڑی آبادی امن وامان کی تلاش میں نکل پڑی ۔ پاکستان کی تاریخ میں  نقل مکانی کا یہ سب سے بڑا سانحہ ہے ۔ پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت دس لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جن کی ٹرانسپورٹ ، خوراک اور سر چھپانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ طویل کرفیو کی وجہ سے لوگ اپنے رشتہ داروں کی لاشیں بروقت دفنا نہیں سکے۔ انٹر امتحان کیلئے آنے والے بچے اور سٹاف ممبران شہید کیے گئے۔ابھی موسم بھی موافق نہیں ہے یہ لوگ سردموسم سے گرم موسم کی جانب ہجرت کر رہے ہیں ، جہاں ان کے پاس نہ تو کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی حکومت نے ابھی تک کوئی انتظام کیاہے۔ ابھی حکومت کی پہلی ترجیح یہ ہےکہ طالبان کو نیست و نابود کیا جائے ۔لیکن طالبان نے اب ایک اور لائحہ عمل مرتب کیا ہے ۔ وہ اپنی حفاظت کے لیے اب مقامی آبادی اور معصوم شہریوں کا ڈھال بنا کر اپنی جان بچانا چاہتے ہیں ۔ اس لیے اب طالبان ہجرت کرنے والوں کو بھی اسی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کررہے ہیں جس حالت میں طالبان ہیں۔طالبان کے خلاف فوجی آپریشن میں اس وقت تیزی آئی ہے اور ایسی کہ اب ہر طرف لاش ہی لاش نظر آرہی ہے۔ سوال یہ ہےکہ حکومت نے اتنی جلدی میں یہ فیصلہ کیوں لیا ۔نہ صرف یہ بلکہ خود طالبان کے ساتھ مفاہمت اور معاہدے میں بھی جلدی کی تھی ۔ اس وقت بھی امریکہ اس معاہدے سے خوش نہیں تھا مگر حکومت پاکستان یہ سمجھ رہی تھی کہ اس سے خاطر خواہ نتائج نکلیں گے ۔ مگر اس معاہدے سے مزید خون خرابہ ہوا اور ہو رہاہے ۔حکومت کو پہلے سے معلوم تھا کہ پاکستان کے طالبان بتدریج طاقت ور ہورہے ہیں ۔ لیکن اس وقت کسی کی بات بھی اس سلسلے میں پاکستان کوبری لگتی تھی ۔ لیکن یہ اچانک یہ کیاہواکہ صدر آصف زرداری امریکہ گئے اور پاکستان کے وزیراعظم نے یہ سخت اقدام اٹھائے انھوں نے فوری طور پر پاکستان کی آرمی کو اس علاقے میں طلب کر لیا.

ظاہر ہے یہ کاروائی ایک منطقی نتیجے کی طرف اشارہ تو ضرور کرتی ہے لیکن اس سے کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ اگر حکومت نے بر وقت ان عناصر کو روکا ہوتا اور ان کی طاقت کو بڑھنے نہ دیتی تو یہ دن نہیں دیکھنے کو ملتا لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ پہلے ان کی طاقت کو تسلیم کیا جاتا ہے ، پھر ان سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد کاروائی کر کے انھیں ہی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ آخر یہ خون تو پاکستان کا ہی خون ہے جسے پانی کی طرح بہایا جا رہے ہے ، اس سے گریز کرنے کی صورت یہی تھی کہ روز اول سے ان کو موقع فراہم نہ کیا جاتا تو یہ خون خرابہ نہ ہوتا ۔اس سے  ایک عام تصور  یہ ابھرتا ہے کہ اس خون خرابے کے اصل ذمہ دار وہ سیاسی اور حکومتی طاقت بھی ہے جس نے ان کو بڑھا وا دیا ۔ اس لیے اس آُریشن کے بعد ایسے لوگوں کا بھی مواخذہ ہونا چاہیے۔

تبصرہ جات (8)

غزل

مسعود مُنّور ، اوسلو، ناروے ۔

حرف آشنا تھے ، حرف کی جادو گری نہ کی
ہم نے تو ایک عمر تلک شاعری نہ کی
ہم تو تُمھارے حسن کی دہشت سے مر گئے
جینے کی آرزو تھی مگر زندگی نہ کی
اُس بُت سے چوٹ کھا کے ہم ایسے ہوئے نراش
پھر بُت کدوں میں جا کے کبھی آزری نہ کی
الحاد کا سا عشق تھا، اُس شہرِ حسن میں
ہم کو کوئی خُدا نہ ملا ، بندگی نہ کی
دادو ستد کی ہم سے روایت نہیں نبھی
ہم نے تعلقات کی سوداگری نہ کی
دل کا دیا جو تم نے بجھایا تو اُس کے بعد
ان کھنڈروں میں ہم نے کبھی روشنی نہ کی
شاید اذیتوں کو ہی مذہب سمجھ لیا
سہتے رہے عذاب مگر خود کُشی نہ کی
مسعود، اُس بدن کی عبادت کے باب میں
دن تھا کہ رات،ہم نے کبھی کاہلی نہ کی

تبصرہ (1)

غزل

مسعود مُنّور ، اوسلو، ناروے ۔

حرف آشنا تھے ، حرف کی جادو گری نہ کی
ہم نے تو ایک عمر تلک شاعری نہ کی
ہم تو تُمھارے حسن کی دہشت سے مر گئے
جینے کی آرزو تھی مگر زندگی نہ کی
اُس بُت سے چوٹ کھا کے ہم ایسے ہوئے نراش
پھر بُت کدوں میں جا کے کبھی آزری نہ کی
الحاد کا سا عشق تھا، اُس شہرِ حسن میں
ہم کو کوئی خُدا نہ ملا ، بندگی نہ کی
دادو ستد کی ہم سے روایت نہیں نبھی
ہم نے تعلقات کی سوداگری نہ کی
دل کا دیا جو تم نے بجھایا تو اُس کے بعد
ان کھنڈروں میں ہم نے کبھی روشنی نہ کی
شاید اذیتوں کو ہی مذہب سمجھ لیا
سہتے رہے عذاب مگر خود کُشی نہ کی
مسعود، اُس بدن کی عبادت کے باب میں
دن تھا کہ رات،ہم نے کبھی کاہلی نہ کی

تبصرہ جات

شریعت سے شریّت تک

از: مسعود مُنّور ، اسلو ، ناروے ۔

نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے
شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے
عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہہ گئی ہے
شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے

—————————————————–
( از؛ مسعو منور ، اوسلو، ناروے )

تبصرہ جات (2)

شریعت سے شریّت تک

ار : مسعود منور ۔ اوسلو ناروے ۔

شریعت سے شریّت تک

مسعود مُنّور

نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے
شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے
عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہہ گئی ہے
شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
( از؛ مسعو منور ، اوسلو، ناروے )

تبصرہ جات

جزیہ کامطالبہ

پاکستان کی اورکزئی ایجنسی میں پاکستان کی جانب سے سکھوں سے جزیہ وصول کرنے کی خبر نے نہ صرف ہندستان میں سکھوں کو مشتعل کردیا ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک  کے تعلقات پر بھی حرف آئے گا۔اس کے علاوہ پاکستان پر عالمی دباو بھی بڑھے گا کہ وہ اپنے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کا یقینی بنائیں۔میرا خیال ہے کہ اب تک پاک  حکومت نے کوئی اہم فیصلہ نہیں لیا ہے۔اس سے پہلے کہ یہ عالمی معاملہ بنے اس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

تبصرہ جات