فی الحال
ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں
جو آگے بڑھتا ہے پہلے امام کہتے ہیں
ہم ہر ایک شخص کو عالی مقام کہتے ہیں
کھلے ہےجب جہل اسکاتو کھینچ کر کرسی
ادب کے ساتھ پھر اس کو سلام کہتے ہیں
بات یہ ہے کہ حالات کُچھ اِتنے سنجیدہ ہیں کہ کم گوئی یاروں کا خاصہ ہو رہا ہے اِس لیئے کِسی ہلکے پُھلکے موضوع پر بحث کر لی جائے اگر طبع نازُک پر گِراں نہ گُذرے تو
اب بحث کرنے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ تعطیل میں ایک بار ‘ت‘ اور ایک بار ‘ط‘ کیوں اِستعمال کیا گیا ہے اِسی طرح کالج دور کی بات ہے کہ کیمسٹری لیب میں چٹھہ صاحب ہُوا کرتے تھے، ایک دِن کِسی نے کالج فون کیااور کہا کہ چیمسٹری کے چٹھہ سے بات کرا دیں تو آپریٹر نے کہا کہ جناب انگریزی میں سی اور ایچ اِکٹھا آ جائیں تو ‘کاف‘ کی آواز نِکلتی ہے، تو کالر نے فورا“ کہا جناب ٹھیک ہے آپ ایسا کریں کہ کیمسٹری کے کٹھہ صاحب کو بُلا دیں۔ ویسے ہے تو یہ ایک لطیفہ نُما واقعہ لیکن ایک دعوتَ سُخن بھی ہے یارانِ نُکتہ داں کے لئے، کہ زُبانوں میں اِس طرح کیوں کیا جاتا ہے، اب یہ اہلَ زُبان زیادہ بہتر بتا سکیں گے لیکن ہم جیسے بے زُبانوں کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ اِس لئے سب بتائیں کہ ایسا کیوں ہے
جہاں عورتوںسے تعلیم کے حصول کے وسایل چھین لیے جائیں اُن کو معاشرے میں تیسرے درجے کا شہری رکھنے کیلئے جبر کی اِنتہا کر دی جائے، وہاں اسلام نہیں بلکہ قبلِ اِسلام کے دورِ جہالت کا نظارا ہوتا ہے، اور کہاں یہ طالبانِ اِسلام۔ کِسی بھی قوم کے خِلاف سب سے بڑی سازش ہوتی ہے کہ اُس قوم کی خواتین کو تعلیم سے دور کر دیا جائے، تاکہ آیندہ نسل کو تعلیم یافتہ ماں نصیب نہ ہو سکیں، اللہ اکبر کتنا ذہین ہے پاکِستان اور اِسلام کا دُشمن۔۔۔
جن جوتوں کو پہننے سے آپ کے پاؤں میں تکلیف محسوس ہو
انہیں پہننے سے دوسررں کو بھی تکلیف ہی ہو گی
ہمیشہ خیال رکھیئے کہ دوسرے کے لئے وہی پسند کیجئے
جو آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں
دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ہموطنوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین ہے کہ
“ہم مُسلمان ہیں ۔ ہم بخشے جائینگے”
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں ایسے لوگوں کا نظریہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ ذہین سے ذہین طالب علم کے متعلق بھی یہ کوئی نہیں کہے گا کہ وہ بغیر تمام مضامین اچھی طرح سے پڑھے کامیاب ہو جائے گا ۔ یا کوئی شخص بغیر محنت کئے تجارت میں منافع حاصل کرے گا ۔ یا بغیر محنت سے کام کئے دفتر میں ترقی پا جائے گا
علامہ اقبال صاحب نے کیا خُوب کہا ہے ۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
قرآن شریف کے ذریعہ عمل کیلئے دیئے گئے تمام احکامات کے ساتھ کوئی نا کوئی شرط ہے جس کی وجہ سے کُلی یا جزوی یا وقتی استثنٰی مِل جاتا ہے سوائے نماز کے جس کی بیہوشی کی حالت کے علاوہ کسی صورت معافی نہیں ۔ ہمارے ہموطن ایسے بھی ہیں جو نماز بھی نہیں پڑھتے اور دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور چونکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اسلئے اُنہیں کوئی کچھ نہیں سِکھا سکتا ۔ کیا اس سائنسی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریاضی اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی ریاضی دان بن جائے یا کیمسٹری اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی کیمسٹ بن جائے ۔ علٰی ھٰذالقیاس ؟
اگر ہم اللہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو ہم ہر لغو خیال سے بچ سکتے ہیں ۔
سُورت 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 45 ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةِ إِنَّ الصَّلَاةِ تَنْهىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّہِ أَكْبَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
ترجمہ ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں ۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔ بیشک اﷲ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اﷲ خبردار ہے
تبصرہ ۔ اگر نماز پڑھنے والا بے حیائی اور بُرائی میں ملوث رہتا ہے تو اس میں نماز کا نہیں بلکہ نماز پڑھنے والے کا قصور ہے یعنی وہ نماز صرف عادت کے طور پر یا بے مقصد پڑھتا ہے ۔ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اُسے سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔
مسلمان ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کی بجا آوری میں ہو اور اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے ہو یہاں تک کہ وہ مَرے بھی تو اللہ کی خوشنودی کیلئے ۔
سُورت ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیت ۔ 162 ۔ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ ۔ کہہ دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اﷲ ہی کا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے
سورت ۔ 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 2 ۔ أحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُونَ
ترجمہ ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔
تبصرہ ۔ یہاں آزمانے سے مُراد امتحان لینا ہی ہے جس میں کامیابی کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے ہر دنیاوی کام یا علم کیلئے امتحان اور مشکل مراحل میں صبر و تحمل اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم دین کو اس سے مستثنٰی کیوں سمجھتے ہیں ؟
سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیت 208 ۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّہً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّہُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو ۔ بیشک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے
وضاحت ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے تمام احکامات کی پابندی کرو ۔
حرفِ آخر ۔ میں نے مُسلمان کے فرائض کا احاطہ نہیں کیا وہ پوری زندگی ۔ سلوک ۔ لین دین بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ہیں اور قرآن شریف میں واضح طور پر مرقوم ہیں ۔
آخر وہ دن بھی آن پہنچا جس دن میں نے لاما ھیمو کے ساتھ فادر جم سے ملنے جانا تھا۔ لاما کی ایک خوبی اُس کی ڈرائیونگ بھی ھے ۔ وہ کہی بھی پہنچ سکتی ھے اور گاڑی کہی نہ کہی پارک بھی کر سکتی ھے اور خیر سے یہ دونوں خوبیاں مجھ میں مجبورا تھی ۔ ھمارا سینٹر فادر جم کے بتائے ھوئے پتے کے پاس ھی تھا سو دس منٹ کی ڈرایئو کے بعد ھم دونوں “ ھاؤس آف ویلکم “ کے سامنے تھے ۔ ۔۔۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
سبحان اپنے نام کی طرح تعریف کے قابل تھا اپنے ھوں یا غیر سب اس کی تعریف کرتے تھے .اسکول میں نمبر ون تھا کالج اور یونیورسٹی میں نصابی اور غیر نصابی پروگرام میں سبحان کا نام سب سے پہلے آتا تھا تقریر کرتا تو لوگ دم سادھے سنتے تھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
نظریات کو کبھی قتل نہیں کیا جا سکتا، ہاں البتہ نظریات رکھنے والے افراد پر موت ضرور طاری کی جا سکتی ہے۔ اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے، بوسنیا کے مُسلمان لاکھوں کی تعداد بے گھر و بے آسرا ہو گئے اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
ا ے بندے تو دیکھتا یہاں وہاں کیا ھے
محبت تو تیرے اندر ھی پنہاں ھے
یہ تو کبھی خدا کی صورت میں جلوہ گر ھے
تو کبھی خدا کی بنائی ھوئی خدائی میں ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔