Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ریاست کا بڑھتا ہوا زوال

برسلز۔بلجیم

mujahidگوجرانوالہ میں ایک مخبوط الحواس لیکن راسخ العقیدہ مسلمان کے ہاتھوں خاتون صوبائی وزیر کا قتل پاکستانی سماج میں انفرادی تفہیم شریعت کا ایک عبرتناک مظاہرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ریاست کی طرف سے بیرون پاکستان استعمال اور اندرون پاکستان سماجی تطہیر کے نقطۂ نظر سے تیار کیے جانے والے’’ مذہبی میزائلوں ‘‘کا رُخ خود اس کے کل پرزوں کی طرف پھر گیا ہے۔صدر مملکت ، وزیر اعظم اور کورکمانڈروں پر فدائی حملوں کے بعد تطہیر پسندوں نے نسبتاً آسان حکومتی اہداف کو نشانہ بنانے کا آغاز کردیا ہے۔ضیاء الحق کی طرف سے پاکستان کو ’’مدرسیانے‘‘ کے عمل کا آغاز دراصل پاکستان کی معاشرتی تباہی کا آغاز تھا ۔ملٹری اکیڈمیوں کے متوازی قائم کردہ ’’مُلا عسکری اکیڈمیوں‘‘ سے فارغ التحصیل ہونے والے ’’کمانڈوز‘‘ کو آئی ایس آئی اور اس کے معاون اداروں اور افراد نے کچھ عرصے تک افغانستان اور کشمیر میں آن ڈیوٹی رکھا لیکن جوں ہی مذکورہ علاقوں میں ریاست کو نیا کردار ادا کرنے کا بین الاقوامی حکم ملا تو ان ’’تیار شُدہ‘‘ راسخ العقیدہ ملاؤں کو ایکدم سرپرستی سے محروم کردیا گیا۔

چونکہ ریاست نے ایک سو اسی ڈگری سے اپنے بیرونی اہداف سے مجبوراً انحراف کرلیا تھا اس لیے ان بے روزگار ہوجانے والے اعزازی مجاہدوں کو شروع میں اندرون ملک مسلکی تطہیر کی طرف لگایا گیا تاکہ حتی المقدور اندرونی انارکی کو ہوا دے کر اچانک انتخابی فتح حاصل کرلینے والے ملا اتحاد کی سیاسی مقبولیت کو نشانہ بنایا جاسکے۔ اس طرح حکومت اپنے غیر متوقع سیاسی حریفوں کو بھی شکست دے سکے گی اور بین الاقوامی سطح پر آسانی کے ساتھ یہ باور کروا سکے گی کہ اسے اندرون ملک شدت اختیار کرتی ہوئی کٹر ملُائیت کے ساتھ سابقہ ہے اس لیے ریاست کے بیرونی دوست اس کی امداد جاری رکھیں اور اس کی مجبوریوں کو بھی مدنظر رکھیں۔ان مجبوریوں میں بیک وقت فوجی سربراہ اور صدر مملکت کے عہدوں کا اپنے پاس رکھنا بھی شامل تھا۔
اس ساری مشق نے پاکستان کے سماج کو اُدھیڑ کر رکھ دیا ہے اور آج عراق اور پاکستان کی صورتحال میں پائی جانے والی مماثلت میں صرف خودکُش حملوں میں مارے جانے والوں کا عددی فرق ہی باقی بچا ہے۔عراق میں قابض فوجوں اور مسلکی مخالفین پر خودکش حملے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں مسلکی مخالفین پر عراق سے پہلے خود کُش حملے شروع ہوگئے تھے اب فوج بھی خودکُش حملوں کا شکار ہے۔عراقی عوام کے مصائب کے اکثر ذمہ دار اس کی سرحدوں میںباہر سے داخل ہوئے ہیں لیکن ہمارے موجودہ اور متوقع مصائب کا سرچشمہ ہماری سرحدوں کے اندر پلا بڑھا ہے جسے ہماری ریاست نے ہمارا خون پلا کر توانا بنایا ہے۔
اب یہی ریاست اس دیو کے سامنے سرنگوں ہے ۔ریاست کے خدوخال وضح کرنے والی علاقائی وحدتیں اس کی یکطرفہ مرکزیت اوراستحصالی اہلیت کے ہاتھوں زک ہیں اور ناراض صوبوں کے درمیان مفاہمت کا کردار ادا کرنے کے شوقین اس قدر سطحی لوگ ہیں کہ اُلٹا ناراضگیاں بڑھ رہی ہیں۔معاشی ناہمواری نے اکثریت کو خودسوزی، خودکشی اور جرائم کی طرف راغب کردیا ہے۔اس کیفیت کا سب سے ہولناک پہلو عمومی سطح پر سرائیت کرجانے والی متشدد راسخ العقیدگی ہے جس کو بودے حکمرانوں کی طفلانہ حرکتوں، بغیر کسی سماجی تبدیلی کے شروع کی جانے والی مخلوط میراتھنوں، کارپوریٹ میڈیا کی تشہیر کی حامل ست رنگے بسنت تہواروں اور دیگر اس نوعیت کی حکومتی سرپرستی کی حامل سرگرمیوں سے مہمیز ملتی ہے۔اس صورت حال میں کوئی ایک متشدد اور ردعمل کے طور پر راسخ العقیدگی کی طرف مائل شخص کسی نسبتاً آسان ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے اور اس طرح کی مثال ہم نے گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کے ہولناک قتل کی صورت میں دیکھی ہے۔
اب یہ انفرادی تفہیم شریعت کے حامل راسخ العقیدہ لوگ جب سماج کی نچلی سطحوں پر تطہیر کا عمل شروع کریں گے تو لامحالہ طور پر ان کو ان جیسی سوچ کے حامل راسخ العقیدگان اور محروم طبقوں کی خاموش حمایت حاصل ہوگی۔ جس کا واضح ترین مطلب ہوگا کہ ریاست اپنی عملداری بحال رکھنے کا حق کھوچکی ہے۔خاکم بدہن یہ وہ اندوہناک منظر نامہ ہوگا جب ہم بے نشان ہونے کی طرف عملی پیش قدمی کریں گے۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو