بے حِس لوگوں کے زیر سایہ زندگی
برسلز۔۔بلجیم
ہم پاکستان میں دوتین دن سے لاشیں اُٹھا رہے ہیں اور سمجھوتہ ایکسپریس حادثے کے بعد بسنت سانحہ ابھی باقی ہے۔آج شام لاہور میں آسودہ حال لوگ بسنت نائٹ کا آغاز اورنچلے طبقوں کے لوگ ہلاک اور زخمی ہونا شروع کریں گے۔ کل تک دیکھیں کتنی لاشیں گرتی ہیں ؟ پنجاب کی اشرافیہ کچھ غیر ملکی مہمانوں اور مقامی مقتدر سول و فوجی حکام کے ساتھ مل کرپاکستان کی سپریم کورٹ کا منہ چڑائے گی کیونکہ اس عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے بسنت جیسے جان لیوا تہوار کو روکنے کی کوشش کی تھی۔شکر ہے ہمارے عظیم ججوں نے موقع کی نزاکت کا خیال(جو کہ پاکستان کی تاریخ میں اکثر انہوں نے رکھا ہے) رکھتے ہوئے پنجاب حکومت اور فوجی حکام سے اُلجھنے سے گریز کیا ہے بصورت دیگر عین ممکن تھا صدر مملکت یا کوئی دوسرا شہ زور حرکت میں آتا اور ہماری اس بلند ترین عدالت کے معزز ججوں کو ’’آف دی ریکارڈ‘‘ معافی تلافی کرنا پڑتی۔ مقتدر اور بے حس لوگوں کو تاریخ میں کون روک سکا ہے۔سولہ کروڑ کے سروں پر سوار یہ چند بانکے لوگ اگر چند گھنٹوں کے لیے چند
ملین لوگوں کی گردن پر ڈور رکھنا چاہتے ہیں تو بھائی انہیں کون روک سکتا ہے؟
ہم ساٹھ سال سے ان بانکوں کو اور ان کی اولادوں کو نہیں روک سکے جنہوں نے اس ملک کی ترقی کی ڈور کاٹ دی ہے اب انہیں بسنت منانے اور چند گلے کاٹنے سے کون روکے گا؟یہ بے حسی کا نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ ہے جسے ہم نے بڑی چابکدستی کے ساتھ بنایا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو لوگ یعنی ہمارے مُلا ان قومی بے حسوں کو روکنا چاہتے ہیں وہ خود اِن سے زیادہ بے حس اور سفاک ہیں۔ یہ لوگ جاگیر دارانہ مزاج، سیاسی مخالفتوں، بدعنوانی، مہنگائی، غربت اور دیگر مقتدرانہ حربوں سے عام آدی کو موت کے گھاٹ اُتارتے ہیں جبکہ مُلا مسلکی بنیادوں، خود قرار دئیے گئے جہاد، مذہبی اقلیتوں کے لیے تیار کیے گئے گستاخی کی خود سزا دینے والے حربوں اور خودکُش حملوں میں عام آدمی کی جان لیتے ہیں۔حیران کُن امر یہ ہے کہ دونوں اکثر و بیشتر ایکدوسرے کے معاون و مددگار بھی رہے ہیں۔
اس سے بھی حیران کُن اور اندوہناک خبر اگلے روز کے اخبارات کی وہ بولتی ہوئی تصاویر ہوں گی جن میںوہ تما م بالا طبقات کے لوگ جو اقتدار کے لیے بظاہر دست وگریباں نظر آتے ہیں اس خونی کھیل میں ایکساتھ ہوں گے۔عمران خان، اعتزاز احسن، کورکمانڈر لاہور، چوہدری پرویز الہی، گورنر پنجاب،ہو سکا تو بذات خود مشرف،کئی جرنیل، سول بیوروکریٹس، جاگیردار، وڈیرے،فلمی اداکارائیں، پاپ سنگرز،وٹو، ٹوانے، لغاری، کھوسے،گردیزی، گیلانی، مخدوم،خان،چیمے ، چٹھے غرض ہر دستیاب قسم کے بڑے لوگ ہر چیز بھول کر بسنت منائیں گے اور راندہ درگاہ عوام کے گلے ان کی ڈوروں کی زد میں ہوں گے۔
کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ عوام کے نام پر ووٹ مانگنے والے، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کرنے والے اور عوام کے لیے سیاست کرنے والے سارے لوگ عوام کی گردن کاٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے چاہے وہ اقتدار میں میسر آئے چاہے مذہب کے نام پر ملے چاہے بسنت وغیرہ کی صورت میں دستیاب ہو؟































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
February 24, 2007 at 1:32 pm
برادرم مجاہد آپ نے حسب دستور ایک اور کینسر کی طرف اشارہ کیا ہے۔اللہ آپ کو اور آپ کے قلم و توانا رکھے۔ جس ملک میں پینے کا صاف پانی میسر نی ہو،جہاںانسانوں سے بہتر حالات میں اسلام آباد کے حکمرانوں کے جانور رہتے ہوں،جہاں اسلام جیسے دین کے ماننے والے علم سے بے بہرہ اور جاہل ہوں،جہاں علاج معالجے کی سہولتیں آبادی کے صرف دس فیصد لوگوں کو میسر ہوں وہاں سرکاری سرپرستی میں بسنت کے نام پر ایک دن میں کروڑوں بلکہ اربوں روپے ضائع کر دینا اجتماعی خودکُسشی ہے یا نہیں؟