امریکی ایجنڈہ یا مسلم وزرائے خارجہ کا اجلاس
اسلام آباد میں 7 مسلم وزرائے خارجہ کے ہونے والے اجلاس کو پاکستان کے وزیر خارجہ نے ہم خیال مسلم ممالک کا اجلاس قرار دیا ہے۔ ہم بھی تو اسے ہم خیال ممالک ہی کہہ رہے تھے لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ اجلاس امریکی ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جب ایک اخباری نمائیندے نے جناب خورشید قصوری سے یہ سوال کیا کہ آیا یہ اجلاس امریکی ایجنڈے کئ تحت نہیں تھا تو ایک لمحے کے لیئے وزیر خارجہ اس طرح ٹھٹھکے جیسے سوچ رہے ہوں کہ کہ یہ بات اس اخباری نمائیندے کو کیسے معلوم ہوئی۔ تا ہم ایک لمحے توقف کے بعد انکا جواب یہ تھا کہ یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ یہ اجلاس مغربی ممالک اور امریکہ کی اسلامی دنیا کے بارے میں پالیسیوں پر عمل کروانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
ایک عجب نکتہ ہم جیسے صحافت اور سیاست کے طالب علموں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کا ایجنڈہ تو خود میزبان وزیر خارجہ جناب قصوری نے یہ بتایا تھا کہ اس اجلاس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے مختلف عوامل پر غور کرنا ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کے وہی ممالک اس اجلاس میں موجود نہیں تھے جن کے بڑے مسائل ہیں جیسے فلسطین،شام،عراق،لبنان اور ایران۔![]()
اس ضمن میں جناب قصوری کا استدلال یہ ہے کہ اس اجلاس میں تنازعات میں براہ راست ملوث کسی بھی فریق کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی کیونکہ اجلاس کا مقصد ایک جیسی سوچ رکھنے ملکوں کے ذریعے ایک مشترکہ اعلامیے اور نئے منصوبے کے خدوخال تیار کرنا تھا۔
ادھر عرب ذرائع ابلاغ میں بعض جگہ اس خدشے کے اظہار کو کیا کہا جائے کہ امریکہ کے ایما پر ہونے والے اجلاس کا ایک مقصد مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے شیعہ اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اجلاس کے ذریعے ایک ’سُنی بلاک‘ بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
ایک بات عرض کرتا چلوں کہ جب کوئی بھی حکمران اپنے عوام کو بے وقوف سمجھنے لگتا ہے تو جان لیں کہ اسکی حکمرانی کے دن گنے جا چکے ہیں اور ایسی ہی کچھ حالت عالمِ اسلام کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی ہے۔






























