پاکستانی وزیر اور انسانی سمگلنگ
کوپن ہیگن۔ڈنمارک
پاکستان کے دارلحکومت اسلام اآباد میں متعین ناروے کے سفیر نے پاکستان کے ایک وزیر جس کا نام بوجہ فی الحال صیغہ راز میں رکھا گیا ہے، اس پر الزام لگایا ہے کہ وہ وزیر پاکستان سے بیرون ملک انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث ہے ۔
ناروے کے شہر ، موس کے ایک ایف ایم ریڈیو ،، وائس آف ناروے ،، کی نشریات کے مطابق ، ریڈیو وائس اآف ناروے کے مطابق ، اسلام آباد میں ناروے کے سفیر نے مذکوہ پاکستانی سفیر کے خلاف باقاعدہ ایک مقامی تھانے میں رپورٹ درج کراتے ہوئے شکایت کی ہے کہ مذکورہ وزیر نے کم سی کم سات عورتوں اور اکیس بچوں کو اپنے کنبے کے افراد ظاہر کرکے ان کے لیے ویزے حاصل کیے اور پھر انہیں براستہ ناروے، اآسٹریا ، بلجیئم ، جرمنی ۔ اٹلی اور سپین سمیت یورپ کے دوسرے ملکوں میں روپوش ہونے میں مدد مہیا کی ہے اور جیسا کہ ناروے کے مذکورہ ریڈیو نے دعویٰ کیا ہے اس پاکستانی سفیر نے ان پاکستانیوں کو ویزے جاری کرانے اور انہیں یورپ کے ممالک میں پہنچانے اور سیٹ کرانے کے عوض کم سے کم تین تین لاکھ روپے فی فرد وصول کیے ہیں ۔
یورپی یونین کے شین گین معاہدے کے تحت اگر یورپی یونین کے کسی ایک ملک کے لیے ویزا جاری کردیا جاتا ہے تو یہ ویزا یورپی یونین کے شین گین معاہدے میں شامل دوسرے ممالک کے لیے خودبخود کارآمد ہوتا ہے اور ناروے کے مذکورہ بالا ریڈیو کے مطابق، اسلام آباد میں جس پاکستانی وزیر کے خلاف ناروے کے سفیر نے ایک مقامی تھانے میں جو رپورٹ درج کرائی ہے کہ وزیر موصوف نے اس سہولت کا غلط استعمال کیا اور لوگوں سے بھاری رقوم وصول کرکے انہیں ناروے کے راستے شین گین میںشامل دوسرے یورپی ممالک میں سمگل کیا ہے ۔
ریڈیو وائس آف ناروے کی اس خبر کے بعد ناروے کی پاکستانی برادری میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں جاری ہیں اور پاکستانی حلقوں میں کئی ایسے پاکستانی صوبائی وزیروں کے نام لئے جا
رہے ہیں جو پچھلے کئی مہینوں کے دوران ناروے کے کئی کئی دورے کرچکے ہیں ۔ ان وزیروں میں سے پاکستانی حلقوں میں ہر ایک کو مشکوک سمجھا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستانی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جس پاکستانی وزیر نے یہ مکروہ اقدام اٹھایا ہے اس کے خلاف خودپاکستان کی مرکزی حکومت کیا اقدام لیتی ہے ۔
ناروے میں پاکستانیوں کی اکثریت کا تعلق پاکستان کے ضلع گجرات اور تحصیل کھاریاں کے دیہاتوں سے ہے اور ناروِے آنے اور شاہوں کی طرح خرچ کرنے اور اپنی شاموں کو رنگین بنانے والے مرکزی اور صوبائی وزیروں میں اکثریت بھی ضلع گجرات ہی سے تعلق رکھنے والوں کی ہوتی ہے ۔ یہ وزرا اور ناظم جو ناروے آتے ہیں گجرات کے بڑے چوھدریوں کے اپنی اپنی حیثیت میں دست راست ہونے کے دعوے کرتے ہیںاور مقامی پاکستانی برادری کی حب الوطنی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کی مرکزی حکومت ، محتسب اعلیٰ اور گجرات کے بڑے چوھدری جو سابق وزیر اعظم کا دم چھلہ بھی لگائے پھرتے ہیں انسانوں کی سمگلنگ کرنے کے مبینہ مرتکب وزیر کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں






























