Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

”کیا فرق پڑتا ہے؟”

Naveed Siddiqui سیشن کورٹ کوئٹہ میں خود کش بم حملے کے بعد ایک اخبار نے کمرئہ عدالت کی تصویر شائع کی ۔جس میں دکھایا گیا کہ اس عدالت کے جج کرسئی انصاف پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اخبار نے اس کے نیچے کیپشن میں لکھا”انصاف جاںبحق”۔لیکن حالاتِ حاضرہ کی مجموعی کیفیت پر نظر دوڑائی جائے تو احساس ہو تا ہے کہ انصاف تو اس خودکش حملے سے بہت پہلے ہی جاں بحق ہو چکا۔جب پہلی بار اس ملک میںکسی حاکم نے قانون کے برعکس عمل کا فرمان جاری کیا تو انصاف اسی روز جاں بحق ہو گیا تھا۔جس دن جمہوری اداروں پر شب خون مارنے کی روایت کا آغاز ہوا ،انصاف اسی دن جاں بحق ہو گیا تھا۔جب کسی غریب کی آہ عرش تک پہنچنے سے روک دی گئی،اسے سالہا سال تھانوںِعدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور کیا گیا،حکامِ بالا نے ‘سب ٹھیک ہے” کہنے اور تمام تر قباحتوں کے باوجود کہتے رہنے کا ڈھٹائی بھرا رویہ اپنایا ۔۔انصاف تو اسیBasant لمحے جاں بحق ہو گیا تھا۔انصاف توپانچ ارب کے خرچ سے جشنِ بہاراں پرمحض لائٹنگ لگانے سے بھی جان بحق ہو چکاجب کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی جلی ہوئی نعشیں ابھی تک لاہور پہنچ رہی ہیں۔حکومتی  بے حسی اورسرپرستی میںنام نہادبسنت کے اس تہوار سے بہت پہلے ایک نوجوان سے بسنت منانے یا نہ منانے کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے انتہائی لاپروائی سے شانے اچکا کر کہا”جہاں جگہ ملتی ہے ،پتنگ اڑائو یار۔کیا فرق پڑتا ہے ”۔اور بسنت گزرنے کے بعد جب ہم حساب کرنے بیٹھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ بہت فرق پڑ گیا۔کتنے ہی معصوم ۔۔گلے پر ڈور پھرنے،چھتوں سے گرنے ،پتنگ لوٹنے کی کوشش میں یا کرنٹ لگنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔
گودیں اجڑ گئیں،گھر ویران ہو گئے۔ہاں! مگر کیا فرق پڑتا ہے؟ انھیں بھی جنھوں نے اس پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہو ئے پتنگ اڑانے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس دن عام تعطیل کا اعلان بھی کیا اور انھیں بھی جنھوں نے چھتوں پر بھنگڑے ڈالے،دھاتی اورکیمیکل ڈورکے پنے Basant،چرخیاں،سی ڈی پلیئر،کھابوں،میوزک نائٹوں،ڈانس پارٹیوں،فائرنگ اور دیگر رنگینیوںکے ساتھ موج میلا کیا۔ا ن کو بھی جنھوں نے پتنگ بازی پر پابندی کا حکم دیا یہ سوچے بنا کہ ان کے حکم میںقوتِ نافذہ ہے بھی کہ نہیں۔ جب قانون ساز اورقانون کا نفاذکرنے والے ہی قانون کی دھجیاں اڑانے لگیں تو انصاف سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔کہنے والے اس نام نہاد بسنت میلے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ” دنیا میں اپنے ملک کا سافٹ امیج ابھارنے  کے لئے ایسی سرگرمیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں،سرسید بھی پتنگ اڑاتے تھے،یہ تو ایک کھیل ہے،نقصان کے ڈر سے کیا گاڑی چلانا،سڑکوں پر نکلنا چھوڑ دیں،گھٹن،ٹینشن کے دور میں ایسی تفریح  ہونی چاہیئے”
وغیرہ وغیرہ۔جواب میں بہت کچھ کہاجاسکتا ہے مگر مختصراً ۔۔اتنی بات سمجھنا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ملک کا سافٹ امیج مادرپدرآزادی یا لہوولعب کے عمل سے نہیں بنے گابلکہ تحقیق وایجادمیں آگے بڑھنے سے سامنے آئے گا۔پھرسرسید یا علامہ اقبال سمیت کسی نام ور فرد کا پتنگ اڑانا حجت نہیں۔ رائے کی غلطی یا دنیاوی معاملات میں لغزش کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ہاں!پتنگ بازی کھیل ہے لیکن اس کھیل میں فائرنگ،ڈانس پارٹی،میوزک ،مخلوط محافل شامل کر کے اور سرکاری سطح پر اسے قومی تہوار کا درجہ دے کر،عید سے زیادہ کوریج دے کر،اوڑھنا بچھونا بنا نا کون سی تفریح ہے؟گھٹن اور ٹینشن کو دور کرنے کے نام پر لوگوں کے لئے عرصہ ء حیات تنگ کرنا،ان میں احساسِ غربت بڑھانا،اربوں روپے اڑانا،اپنی تہذیب،ثقافت کو غیر کے رنگ میں رنگنا کون سی تفریح ہے؟اگر اس کھیل کو تفریح کے طور پر جاری اور زندہ رکھنا ہے توسب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بسنت،پتنگ بازی یا بہارمیلہ منانے کے موجودہ انداز سے بہت فرق پڑتا ہے۔ سرکار کے دعووں،قوانین بناتے چلے جانے سے بات نہیں بنتی۔بلکہ بسنت،پتنگ بازی یا بہارمیلہ کو دوبارہ سے ایک تفریح کے طور پربرقرار رکھنے کے لئے ہمیں چین،سنگا پور اور دیگر ممالک کی تقلید کرتے ہوئے پتنگ بازی کی اجازت ساحلوں،پارکوں یا کھیل کے میدانوں میں ہی دینی ہو گی۔دھاتی اور کیمیکل ڈور پر پابندی کوواقعی رو بہ عمل لانا ہو گا۔اپنی مذہبی،اخلاقی اور تہذیبی اقدار کی نفی کرنے والی محافل،میوزک اور ڈانس پارٹیوں کابائیکاٹ کرنا ہوگا۔تب ہی پتنگ بازی ایک کھیل کے طور پر ہر طبقئہ فکر میں قبولیت حاصل کرے گی اور تبھی اس کھیل سے موت کی جگہ تفریح کشید کی جاسکے گی۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو