شکریہ،شکریہ،شکریہ“تیسری قسط“
لندن-انگلینڈ
گزشتہ باب میں وعدہ ہوا تھا کہ شکریے کا مستحق یہ شریف زادہ ’’ناظم’’ بھی ہے جس نے میرے پاکستان پہنچنے سے واپسی تک سائے کی طرح ساتھ دیا ہے۔ ناظم آف حافظ آباد کے بارے میں تفصیلی باتیں تو سفر نامہ لکھتے ہوئے ہوں گی لیکن
صرف یہ بتاتا چلوں کہ میں نے میں نے 23جنوری سے 16 فروری تک کے عرصے میں اس ناظم کو پاکستان کے تمام بلدیاتی ناظموں سے مختلف پایا جو حکومت پاکستان کے قائم کردہ اس نظام کو چلا رہے ہیں جس کے بارے میں اس سے قبل بھی میں نے کسی کالم میں لکھا تھا کہ یہ عجب بات ہے کہ جس ملک میں کوئی نظام نہیں وہاں ناظم مقرر ہیں اور یہ ناظمین بھی ملک کے نظام کی طرح ہی کام کر رہے ہیں۔
خیر سچ تو یہ ہی ہے کہ اسلام آباد میں قیام کے دن ہوں یا اسلام آباد سے براستہ پنڈی بھٹیاں کا سفر ہو۔ملتان میں قیام ہو یا پھر مظفر گڑھ کی مریخ صفت سڑکوں پر آصف خان کھیتران کی گاڑی چلانے کی موت کے کنوئیں جیسی مشق، ملتان سے لاہور کا سفر ہو یا پھر لاہور سے اسلام آباد کا وہ سفر جس میں ہائی وے کی دُھند بھی اندھا دھند تھی اور یہ سوزوکی پائلٹ نہایت اطمینان سے اس سفر کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ لاہور سےا سلام آباد اور پھر اسلام آباد میں قیام کے دوران دن رات کا سفر۔ کون سی جگہ ہے جہاں یہ ’’ناظم’’ سائے کی طرح ساتھ نہیں رہا۔
اس ’’ناظم’’ نے مجھے سارے قیام کے دوران اس قدر’’مرشد’’ کہا ہے کہ اب میں واقعی خود کو مرشد سمجھنے لگا ہوں لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہاں لندن میں ساری کی ساری مرشدی بیکار ہے کیونکہ کوئی ناظم یہاں موجود نہیں۔
’’ناظم’’ ایک ایسی نیک روح ہے کہ جس کا اس زمانے میں ہونا جیسے ایک معجزہ ہے اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنی تمام عمر ایسے ہی معجزات میسر آتے رہے ہیں۔ ریڈیو
پاکستان لاہور میں ایسا ہی ایک معجزہ مجھے ’’یوسف’’ کی شکل میں میسر ہے جسکے بارے میں ایک کالم میں کچھ عرصہ قبل میں نے لکھا تھا کہ یہ شریف روح مجھے اسی ریڈیو کے کتنے ہی بڑے بڑے افسران سے اس لیئے پیارا ہے کہ اس میں انسانیت اور بلا مفاد محبت کا وہ مادہ ہے جو اس دور اب عنقا ہے۔ اب میرے انہی الفاظ کا اطلاق’’ناظم’’ پر بھی ہوتا ہے۔ آصف خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ناظمین کے ناظم کو موبائل لے دے گا۔ بھائی آصف خان اگر آپ نے وعدہ پورا کیا ہو تو مجھے بھی اس یارِ مہربان کا نمبر عنایت کر دیں تا کہ اُس سے بھی رابطہ رہے۔
ملتان کے بعد ہمار اگلا پڑاؤ لاہور تھا۔ اگرچہ اس آبائی شہر میں فقط چند گھنٹے ہی گزرے لیکن ان چند گھنٹوں کی یاد کئی برسوں پر بھاری ہے۔
لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر اور میرے عزیز دوست ستار سید کے علاوہ میری شاگردہ عزیز اور ریڈیو لاہور کی پروگرام مینجر نزاکت شکیلہ نے۔انکے میاں بھائی جاوید اور دونوں بچوں نے جس محبت کا ثبوت دیا وہ اگر چہ میرے لیئے نیا نہیں لیکن پھر بھی ہر بار کی طرح ایک اچھوتا تجربہ ضرور ہے۔
لاہور میں مرثیے کی محفل کا اہتمام کرنے والے برادرم سرفراز علی حیسن،برادر حکیم حیدر عباس،آفتاب اقبال،معروف ڈرامہ آرٹسٹ شجاعت ہاشمی،پنجابی کی مقبول شاعرہ ہجویری بھٹی اور ایسے ہی کتنے احباب کی محبتوں کا قرض لیئے ہم لوگ لاہور سے اسلام آباد پہنچے اور یہاں تو جیسے کوئی دو عشرے بعد ایسی عزت اور محبت ملی کہ میں تا دیر اسکے نشے میں رہوں گا۔
شکریے کے ضمن میں اگلا باب آخری ہو گا اور اس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے دوستوں کاذکر رہے گا۔ یار زندہ صحبت باقی!






























