Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

کیوں ہم سے خفاء ہیں؟ ہم بے خطا ہیں

برسلز۔بلجیم

mujahidپاکستانی ارباب اقتدار ابھی’’ ہم خیال وزرائے خارجہ‘‘ کے ساتھ ذہنی مالش سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ انہیں وہ دھمکی آپہنچی جس کا ایک طویل عرصے سے انتظار تھا۔ عالمی دھمکی باز صدر بش نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف تک دوٹوک انداز میں یہ جملہ پہنچا دیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے وعدہ کردہ کردار سے ہٹ رہا ہے اوراب اس کی وہ امداد بند کر دی جائے گی جو اِسے صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی اورپاکستان میں مقیم غیرملکی جہادیوں کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کرنے اور اپنے قبائلی علاقوں میں بمباری کرکے مستقبل کے مجاہدین کا قلع قمع کرنے کے لیے اور بوقت ضرورت اس علاقے میں امریکی بمباری کو اپنے ذمے لینے کے لیے دی جارہی تھی۔
صد افسوس کہ ہمارے اعدادوشماری وزیر اعظم جنہوں نے ہمیشہ امریکی امداد اور زلزلہ زدگان کے لیے جاری ہونے والی امداد کو بھی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی اونچ نیچ میں ظاہر کیا ہے، اب انہیں اعدادو شمار کی پیش کاری میں دِقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ ہونا طے تھا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طوالت اور کامیابی کے بارے میں جو اندازے امریکی و برطانوی تھنک ٹینک کے تھے سب کچھ اُن کے اُلٹ ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ہم اس جنگ میں ساتھ دینے کے لیے چُنے نہیں گئے تھے بلکہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کا مشہورِزمانہ جملہ اور ملک میں فوجی آمریت کو درکار ضیاء الحقی ٹائپ سہارا ہمیں اس گھناونے چکر میں لے آیا تھا۔فوجی جنتا کے سول حواریوں نے ہماری اس مجبوری کو پاکستان کی بقاء کے نعرے سے جوڑ دیا اور چوہدری شجاعت حسین سے لے کر مشاہد حسین تک کے پاس مشرف آمریت کے دفاع کے لیے یہی جملہ تھا’’ قائداعظم نے پاکستان بنایا اور مشرف نے پاکستان بچایا‘‘۔
چوہدری شجاعت حسین ہر وہ بات جس کی انہیں سمجھ نہیں آتی اس پر مخصوص انداز میں’’مٹی ڈالتے‘‘ رہتے ہیںاور مشاہد حسین جو اپنی بے تحاشہ ذہانت کے باعث نواز شریف کو پھانسی گھاٹ تک لے آئے تھے ان کے لیے بُری خبر ہے کہ اب امریکہ ان کے مُربی و آقا پر مٹی ڈالنا چاہتا ہے۔پنجاب کے وزیراعلی جو ہر وقت جنرل مشرف کو وردی میں دیکھنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ فوراً بش کو رام کرنے کے لیے چوہدری شجاعت حسین کو واشنگٹن روانہ کریں کیونکہ وائٹ ہاوس پاکستان اور مشرف سے ناراض ہو چکا ہے۔
اگرچہ خفت مٹانے کے لیے ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان ڈکٹیشن نہیں لے گا لیکن کیا یہ جملہ ہمارے صدر مشرف نے ڈک چینی کے سامنے دُھرایا ہے؟ کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ایسا دوٹوک جملہ کس قدر مہلک ہوتا ہے؟ قارئیں آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے غلام اسحاق خان اور جی ایچ کیو کے ساتھ تنازعے کے دوران ٹی وی پر آکر کہا تھا ’’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا ‘‘تو اگلے بیس منٹ کے بعد کورکمانڈر راولپنڈی نے اپنی چھڑی نواز شریف کے پیٹ میں گھونپ کر موٹی سی گالی دی اور پانچ منٹ میں ان سے استعفی لے لیا تھا۔
اللہ خیر کرے اب ہم نے اپنے حکمرانوں کے بقول یہ جملہ پوری دنیا کے کورکمانڈر کے سامنے کہا ہے۔ہمار ے لکھاری صدر مملکت کی کتابی محنت جسے حاسدوں نے’’ اِن دی لائن آف ہائر‘‘ کہا تھا اس میں امریکی خوشنودی کے حصول کے لیے تراشی ہوئی بہادری کی داستانیں لگتا ہے اکارت جانے والی ہیں اور جن لوگوں کے خوش کرنے کے لیے’’ پاکستان کے خاندانی سوانح نگار‘‘ الطاف گوہر کے بیٹے ہمایوں گوہر کی خدمات لی گئی تھیں وہ ضائع ہوتی نظر آرہی ہیں۔
کوئی ہے جو بش اور ڈک چینی سے پوچھے کہ ہم نے کتنی محنت کے بعد آپ کو مطلوب ہر اُس شخص کو پکڑکر آپ کے حوالے کیا جو آپ اور آپ کے ملک کے خلاف سوچ رہا تھا ۔ہم نے سینکڑوں قبائلیوں کو آپ کے دئیے ہوئے بموں سے ناقابل شناخت لاشوں میں تبدیل کردیا۔ جب بھی آپ نے ان قبائلیوں پر خود بمباری کرنا چاہی ہم نے کبھی اعتراض نہ کیا اوراس بمباری کا سارا ذمہ اپنے سر لے لیا۔آپ کے حکم کی تعمیل میں ہم ایران کے خلاف ممکنہ ناکہ بندی کے لیے سعودی عرب اور دیگر کے ساتھ مل کر راہ ہموار کررہے ہیں۔خدا را ہمارے سروں پر وردی ک

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو