اقبال حیدر یا بلند اقبال حیدر
کبھی فرصت سے بیٹھ کر اپنے اس دوست عزیز کے بارے میں لکھوں گا کہ اول تومیں روا روی میں لکھنے کا عادی نہیں اور دوسرے اقبال حیدر ایسا دوست اور ایسی شخصیت نہیں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
کبھی فرصت سے بیٹھ کر اپنے اس دوست عزیز کے بارے میں لکھوں گا کہ اول تومیں روا روی میں لکھنے کا عادی نہیں اور دوسرے اقبال حیدر ایسا دوست اور ایسی شخصیت نہیں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مجھ جیسے قلم کار جو نثر اور نظم دونوں اصناف میں ما فی الضمیر بیان کرتے ہیں ان دونوں اصناف کو عزیز بھی رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھی یوں بھی توہوتا ہے نا کہ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
بچوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیم ’سیو دی چِلڈرن‘ نے کچھ روز پہلے شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا میں مسلح لڑائیوں کی وجہ سے کم سے کم 43 ملین بچے پرائمری سکول نہیں جاتے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم یعنی ”مرد آھن ”نواز شریف اور” بیباک” بی بی بے نظیر بھٹو نے لندن میں اپنی ملاقات کے بعد کہا ہےکہ انہوں نے اپنے اپنے جیالوں کو کہا ہے کہ وہ 26 مارچ کو پاکستان بھر میں ضلعی سطحوں پر حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
القمر آن لائن کی بلاگ کیمونٹی کے لیئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ معروف صحافی اور اپنی طرز کے شاعر جناب رضی الدین رضی ہماری درخواست پر اس بلاگ کی دنیا میں شامل ہو رہے ہیں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
اب جو بات چل رہی ہے تو سوچا کہ میں بھی حبیب جالب ہی کی بات کرؤں کہ وہ ہم میں سے کتنے ہی لوگوں کی نمائیندگی کرتا تھا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ہم زود فراموش لوگ ہیں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
پاکستان میں وردی دکھا کر استعفیٰ لینے کی تا ریخ پرا نی ہے۔اور یہ شروع اس دن سے ہو ئی ۔ جس دن کہ مرحوم لیا قت علی خان نے فو ج میں ایوب خان کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دے کر ایسٹ پا کستان کا کمانڈر بنادیا ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
شاید صدر پاکستان کے لیئے یہ کہہ دینا بہت آسان ہو لیکن کیا کسی بھی پاکستانی کے لیئے یہ سن لینا اتنا ہی آسان ہو سکتا ہے؟ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
واہ شاہ جی واہ۔۔کیا خوب نظم ہے۔عہدِ جبر میں جبری رخصت۔ آمد ہے سب آمد تُسی لکھدے رہو تے وسدے رہو۔ آج پھر ایک بار جالب یاد آ رہا ہے۔
رہ گیا کم ہمارا ہی صداقت لکھنا۔۔۔۔جالب کو ہم سے رخصت ہوئے چودہ برس گزر گئے اور یہی مارچ کا مہینہ تھا جب وہ ہم سے بچھڑ گیا۔ کس کو اسکی برسی یاد ہے؟
اور پھر یہ بھی کہ۔۔۔۔صبحِ بے نور کو ،،ایسی تنویر کو میں نہیں مانتا۔۔میں نہیں مانتا۔ ذرا یہ بھی سنتے چلو کہ شاید کسی کو یہ فقیر مگر غالب صفت شاعر ایسے یاد رہے کہ وہ 1928 میں دسوہہ ضلع ہوشیار پور ’’بھارتی پنجاب‘‘ میں پیدا ہوا اینگلو عربک ہائی سکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ پندرہ سال کی عمر سے مشق سخن شروع کی ۔ ابتدا میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں کہتے تھے۔ آزادی کے بعد کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔
یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔ ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت اور نام نہاد جمہوریتوں میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ نظموں کے پانچ مجموعے ۔ برگ آوارہ ، سرمقتل ، عہد ستم ، ذکر بہتے خون کا ، گوشے میں قفس کے ۔ شائع ہو ئے۔
ایوب خان،ذوالفقار علی بھٹو،جنرل ضیا اور بے نظیر کس حکومت نے اسکے اشعار کی کڑوی گولی کو نگلنے کی کوشش کی؟ اور وہ ہر دور میں پابند سلاسل رہا۔
حال اب تک وہی ہیں غریبوں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کامقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
سید پرویز مشرف جنہیں پاکستان کا باوردی سربراہ ہونے کا شرف حاصل ہے، گزشتہ چند دنوں سے اپنے ناہنجار وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج کے ہاتھوں خاصی سبکی اٹھا رہے ہیں۔اور یہ لوگ وہ فرائض منصبی پوری ایمانداری اور تندہی سے انجام نہیں دے پائے ہیں جس کیلئے انہیں مقرر کیا گیا تھا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔