قاضی القضاہ، امیر المومنین ،حضرت ۔۔۔
سید پرویز مشرف جنہیں پاکستان کا باوردی سربراہ ہونے کا شرف حاصل ہے، گزشتہ چند دنوں سے اپنے ناہنجار وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج کے ہاتھوں خاصی سبکی اٹھا رہے ہیں۔اور یہ لوگ وہ فرائض منصبی پوری ایمانداری اور تندہی سے انجام نہیں دے پائے ہیں جس کیلئے انہیں مقرر کیا گیا تھا۔ جب مشرف صاحب کی وردی کا مسئلہ درپیش تھا۔ اس دورمیں چند نابغہ شخصیات نے دلیل دی تھی کہ دو عہدے رکھنا عین اسلامی نظام سیاست و حکومت کے مطابق ہے، کیونکہ نبوی عہد اور خلفائے راشدین کے دور میں سربراہ مملکت کے پاس فوج کے سربراہ کے ساتھ ساتھ سربراہ مملکت کا عہدہ بھی ہوتا تھا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آسکی کہ محمد علی درانی جیسا فطین شخص جن کا پس منظر بھی اسلامی رجحانات سے میل کھاتا رہاہے، اس چیز سے بے خبر کیوں ہیں کہ نبوت و خلافت کے ابتدائی دنوں میں چیف جسٹس کا عہدہ بھی سربراہ مملکت کے پاس ہوتا تھا۔ درانی صاحب اگر اس بات سے بے خبر ہیں لیکن ہمارے صدراورامیر عساکر تو ضرور اس بات کو جانتے ہونگے۔ آخر وہ سادات گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ جانے ہمارے وزراء اور مشیران کب سمجھ پائیں گے کہ اگر عین نبوی طرز حکومت کی طرح چیف جسٹس کا عہدہ بھی سربراہ مملکت کو دے دیا جائے تو اس سے نہ صرف اس پامال شدہ عہدے کو چار چاند لگ جائیں گے۔ بلکہ چیف جسٹس صاحبان کی توہین کرنے کی کوئی ہمت کرے گا اور نہ ہی عدالتوں پر حملوں جیسے واقعات رونما ہوں گے۔ امید ہے کہ پاکستان کی حزب اقتدار اور جمہوری اقدار کے پاسبان پارلیمنٹیرین اس بات پر ضرور غور فرمائیں گے۔ اور ایک ہمدردانہ مشورہ یہ بھی ہے کہ اس مہم کے لئے حدود آرڈینینس campaign کی طرح کسی ٹی وی چینل کی مدد ضرور حاصل کی جائے۔































سید عباس نقوی
نے لکھا؛
March 19, 2007 at 10:20 am
جنرل پرویز مشرف کا تعلق سادات سے ہے بھی کہ نہیں یہ ایک جانچ کا موضوع ہے،لیکن بادی النظر میں جس طرح سے وہ ظالمانہ حکومت کر رہے ہیںسادات کی یہ طرہ امتیاز نہیںہے۔