Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

پھول کے دھوکے میں ہم نے!

shamsپاکستان میں وردی دکھا کر استعفیٰ لینے کی تا ریخ پرا نی ہے۔اور یہ شروع اس دن سے ہو ئی ۔ جس دن کہ مرحوم لیا قت علی خان نے فو ج میں ایوب خان کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دے کر ایسٹ پا کستان کا کمانڈر بنادیا ۔
آدمی ذہیں تھے وہ پھر اپنی کو ششوں سے کما نڈر انچیف کے بجا ئے با د شاہ گر بن گئے ۔ یہ پتا نہیں کہ لیا قت علی خان کی شہا دت کے بعد ناظم الدین مرحوم کو گورنر جرنلی سے فارغ کرتے ہو ئے وردی استمال ہو ئی یا نہیں ہو ئی۔ مگر شبہ یوں ہوتا ہے کہ کو ئی اپنی مرضی سے تنزلی قبول نہیں کر تا ۔لیکن اس کے بعد تو مسلسل ہو تی رہی ۔سوائے ایک کیس کہ وہ تھا وزیر آعظم محمد علی چو دھری کامعاملہ ۔ جو درویش صفت انسان تھے ۔عوام نے ان کا احسان اتا ر نے کے لیئے نشتر مر حوم کی حمایت میںجو کہ اس وقت مسلم لیگ کے صدر تھے استعفیٰ طلب کیا ۔اور انہو ں نے عوام کی امانت عوام کے سپرد کی ، خود گھر چلے گئے ۔ان کے علاوہ جتنے بھی استعفے ہو ئے ۔ وہ وردی کے سامنے ہو ئے جیسے ججوں کے سا منے حلف برداری۔ ناظم الدین صاحب کے بعد محمد علی بو گرہ آئے دستور ساز اسمبلی دو بارہ بنی اور مری کی ٹھنڈی فضا میں اجلا س ہوا۔ اس نے بھی دستور سازی کا کافی کام مکمل کر لیاتھا ۔مگرایک کا م اٹھا رکھا تھا، وہ تھاگورنر جنرل کے اختیا رات کے حدود ۔
وہی سب سے مشکل مسئلہ تھا کہ بلے کے گلے میں گھنٹی با ند ھے کو ن؟ وہ بیچا رے کیو نکہ امریکہ سے امپو رٹ ہو ئے تھے لہذا امریکہ یا ترا پر چلے گئے ۔وہا ں کیا ہو ا کچھ پتہ نہیں ۔مگر جو بعد میںہو ا ،وہ یہ ہو ا کہ ہو ائی اڈے سے ان کو سیدھا گور نر جنر ل ہا ؤس لے جا یا گیا۔ اور وہا ں صا حبِ فراش گور نر جنرل نے کہا کہ استعفیٰ دیدو ۔ وزیر اعظم منمنا ئے ! حضورمیر ا کیا قصور گناہ گار تو اسمبلی ہے مجھ پر تو ان کا قا ئد ہو نے کی صرف تہمت ہے وہ بھی آپ کی ہی عطا کردہ ؟
لیکن انہو ں نے کہا دیتے ہو استعفٰی یا نہیں؟ اورآہستہ سے سامنے کاپر دہ ہٹا دیا ۔وہاں ایو ب خان وردی میں جلوہ افروز تھے ۔ وزیر اعظم نے پہلے سے تیا ر شدہ استعفٰی پر دستخط کردیئے اور باہر نکل گئے۔ مگر گور نر جنرل نے اتنا رحم کیا کہ ان کے بال بچو ں کا خیال رکھا۔ اور جہاںکی سفارت سے آئے تھے، واپس سفا رت پر امر یکہ بھیجدیا ۔ پھر تو نسخہ ایسا تیر بحدف ہو ا کہ جس سے استعفٰی لینا ہو تا جنرل کی تصویر دکھا دیتے ۔ وزیر اعظم آتے ،جاتے رہے ۔ پھر تو وزیر اعظم ہی نہیں قومی ہیرو اور صدور بھی تختہ مشق بنے۔ لہذا ہر آمر کی نگاہوں میں یہ سب پھو ل نظر آنے لگے کہ جب چا ہا وردی کے کا لر میں لگال لیا۔ اور جب چا ہا پھینک دیا ۔ مگر اس مر تبہ جو صاحب اس کا نشانہ بنے ،لگتے تو پھو ل جیسے تھے، کہ ہم نے جب بھی ان کی تصویر دیکھی تو مسکرا تی ہو ئی پتہ نہیں مسکراہٹ تنزیہ تھی یا اصلی ۔مگر تجربے سے نکلے ً اوکھے بندے ً ۔
شاید کچھ اندازہ پہلے سے سمجھنے والوں کو تھا ،اسی لیئے توانہو ں نے بجا ئے وردی والا دکھا نے یا تصویر دکھا نے کے پوراملٹری ہیڈ کوارٹر دکھا دیا ۔ مگر وہ استعفٰی دینے کے بجا ئے اکڑ گئے۔آگے کیا ہو ا آپ کو پتہ ہی ہے۔ اب آگے کیا ہو گا وہ بھگوان کوپتہ ہے ۔بس دعاکریںکہ اللہ ملک کی خیر کرے ۔ اس شعر کے خالق کو بھی شاید ایسا ہی کو ئی تلخ تجربہ ہواہو گا۔ جبھی تو فر ما گئے۔
ً پھو ل کے دھو کے میں ہم نے رکھدیئے کانٹوں پہ ہو نٹ ً

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو