ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
شاید صدر پاکستان کے لیئے یہ کہہ دینا بہت آسان ہو لیکن کیا کسی بھی پاکستانی کے لیئے یہ سن لینا اتنا ہی آسان ہو سکتا ہے؟ سارا ملک ایک بحران میں مبتلا ہے اور ملک بھر میں ججوں کے مستفی ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا جبکہ ملک بھر کی عدالتوں میں کام ٹھپ پڑا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کو سڑکوں پر اتنا رسوا کیا گیا ہے کہ خود عدالت نے اسکا نوٹس لیا ہے۔ سڑکوں پر روزانہ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور پھر صحافت کے ادارے پر بھی ایک ایسا وار ہوا کہ تاریخِ صحافت ششدر رہ گئی۔ اور اب جب یہ سب کچھ ہو چکا تو صدرِ محترم نے کتنی معصومیت سے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ‘‘ معطل چیف جسٹس کی سرگرمیاں محدود کرنے اور پولیس تعینات کرنے کے بارے میں حکم نامے پر دستخط کرکے غلط کیا‘‘۔































سلیم بٹ ۔ایل ایل ایم ۔کنگ کالج لندن نے لکھا؛
March 20, 2007 at 2:33 pm
اسلام وعلیکم
جناب صفدر ہمدانی صاحب
میں اکثر آپ کی تحریرات کو بڑے غور سے پڑھتا ہوں ۔مگر آپ کی تحریروں میں بھی سوائے تنقید نگاری کے کچھ نہیں ہوتا۔
اگر آپ کو پاکستان کا صد ر بنا دیا جائے تو آپ سب سے پہلے کیا کریں گے۔؟؟؟
نوازشریف۔زرداری،بےنظیر بھٹو۔وغیرہ یہ جمہوریت کے لیڈر ہیں۔یہ لوگ عوام سے فراڈ کرکے کہاں بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی پوری تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ
آج تک فوج کا کوئی بھی آفسیر عوام کی دولت لےکرپاکستان سے باہر نہیں بھاگا۔
صدرمشرف نے جج کی ناہلی حرکتوں سے الگ کیا ہے ۔جو کوئی بھی نہیں کرسکتا تھا۔فیصلہ کونسل ہی کرئے گی ۔عوام کو وردی سے کیا ۔تنقید فتنہ فساد آپ جرنلسٹ حضرات عوام کے زہنوں میں ڈالتے ہیں ۔پاکستان کا کوئی بھی اخبار رسالہ اٹھا کر دیکھ لیں ۔
پاکستان میں اس وقت صرف دو ادارے ہیں۔ایک ان پڑھوں کو ادارہ جس میں عوام اور اور انکے لیڈر جاگیر دار اور وڈیرے جس کو جمہوریت کہتے ہیں ۔ دوسرا ایک منظم ادارہ فوج کا ادارہ جس میں سخت ٹرینگ اور جان جھوکوں کے امتحان کے بعد اس شامل ہونا۔ ان کا آپس میں ٹکراؤ ایک لازمی امر ہے ۔ کیونکہ ایک منظم اور ٹرینڈ ادارہ اپنے اوپر جاہل طبقے کی حکومت برداشت کر ہی نہیں سکتا ۔
جس کا نتیجہ کچھ عرصہ کے بعد مارشلاء آنا فطرتی عمل ہے ۔
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
March 20, 2007 at 7:15 pm
برادرم سلیم بٹ صاحب
السلام علیکم
خوش رہیں۔ آپ کے خیالات سے آگاہی ہوئی۔ میں آپ کا ممنون ہوں اس لیئے بھی کہ اگر آپ جیسے قاری نہ ہوں تو ہم جیسے قلم کاروں کی آواز بھی صدا با صحرا ہو۔ اگر آپ بُرا نہ منائیں تو سب سے پہلے یہ عرض کرؤں کہ لفظ ‘اسلام علیکم نہیں‘ السلام علیکم ہے ۔ امید ہے کہ آپ اسے میری تنقید نہیں اصلاح سمجھیں گے کہ اس کا در مرتے دم تک کھلا رہتا ہے۔
میں آپ کے خیالات کی قدر کرتا ہوں اور یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ تنقید میں اور تنقیص میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور میں تنقید لکھتا ہوں تنقیص نہیں۔ یہ تو اتفاق ہے کہ میں اور آپ ایسے ملک اور شہر میں ہیں جہاں کریٹکس یعنی ناقدین کو ایک اعلیٰ مقام ملتا ہے۔ ہمیشہ تنقید کرنے والے کو دشمن نہیں سمجھنا چاہیئے بلکہ یہ تو معاشرے کے وہ دماغ ہوتے ہیں جو دیوار کے اُس پار دیکھ سکتے ہیں۔ میں آزادی اظہار کا قائل ہوں اس لیے آپ کی کسی رائے سے اختلاف نہیں ورنہ اگر آپ چاہیں تو میں ایک نہیں کم از دس یا بیس ایسے فوجیوں کے نام بتا سکتا ہوں جو عوام کی دولت لوٹ کر لندن،پیرس،واشنگٹن اور نیویارک میں مقیم ہیں۔ صرف ایک مثال فی الوقت کافی ہے اور وہ واپڈا کے سابق چیرمین اور سابقہ جرنیل کی ہے جو یہاں لندن میں ہیں اور احتساب بیورو کو مطلوب ہیں۔
میرے لیے نواز شریف یو یا بے نظیر،ضیا الحق ہو یا ذوالفقار علی بھٹو یا پھر جنرل مشرف ۔۔جو بھی اس ملک کے عوام کی قسمت کے ساتھ کھیلے گا میرے قلم کی زد میں آئے گا ۔ شکر ہے اُس خالق لوح و قلم کا کہ 35 سالہ قلم کاری کی زندگی میں نہ کبھی قلم بیچا،نہ فکر اور نہ ضمیر۔ آپ کی کامیابی کا دعا گو۔۔۔صفدر ھمدانی ۔۔۔لندن
راشد عباسی
نے لکھا؛
March 24, 2007 at 12:35 pm
من حیث القوم یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی “مارشل لا“ کی حمایت ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ بٹ صاحب اس کی ذمہ دار آپ کی یہی منظم فوج ہے جس کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن یہ ایر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر “حکم انکل سام“ کی بجا آوری پر سارا زور صرف کر رہے ہیں۔
نویدصدیقی
نے لکھا؛
March 29, 2007 at 4:47 am
بٹ صاحب! میں آپ کا حامی ھوں،بندہ مرے تو کسی پروفیشنل کے ہاتھوں تومرے اور ہمارے لئے وہ پروفیشنل ہماری اپنی آرمی کیوں نہیں ؟