ایک شعر ہی کافی ہے
اب جو بات چل رہی ہے تو سوچا کہ میں بھی حبیب جالب ہی کی بات کرؤں کہ وہ ہم میں سے کتنے ہی لوگوں کی نمائیندگی کرتا تھا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ہم زود فراموش لوگ ہیں اور اس حد تک کہ اپنے ایسے محسنوں کو بھی بھول جاتے ہیں جو ہماری بات اپنے الفاظ میں کرتے ہیں، جالب بھی ایسے ہی محسنوں میں سے ہے۔ کتنی ہی ایسی نظمیں ہیں جنہیں لکھنے کو جی چاہتا ہے لیکن کبھی کبھی ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک شعر پورے دیوان پر غالب آ جاتا ہے۔
حبیب جالب کا یہ شعر بھی کیا اسی زمرے میں نہیں آتا؟
































Nasar Malik
نے لکھا؛
March 22, 2007 at 1:46 am
محترم و مکرم آصف خان صاحب ۔
سلام مسنون ۔
ملک و قوم کے ہمدرد (مرحوم ) حبیب جالب کے حوالے سے آپ نے جو کچھ تحریر خیا وہ اپنی جگہ درست ہے ۔ قوموں کی پستی یہیں سے شروع ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو فراموش کرنے لگتی ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے سے منحرف ہو جاتی ہیں ۔ حبیب جالب امر ہے امر رہے گا اور اُس کے اشعار ہر زمانے کے فرعون و یزید کے لیے شمشیر بنے رہیں گے ۔ لیکن برادرم بڑی معذرت کےساتھ ‘ بڑی انکساری کیساتھ یہ کہنے کی اجازت چاہونگا کہ آپ نے جس شعر کو حبیب جالب سے منسوب کیا ہے وہ تو حبیب جالب کا شعر ہی نہیں ۔ یہ شعر افتخار عارف کا ہے ۔ افتخار عارف کی پوری غزل جس میں یہ شعر ہے کچھ یوں ہے :
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
اور اب وہ شعر جسے آپ نے حبیب جالب ست منسوب کیا ہے :
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
نہ جانے خلق خدا کون ست عذاب میں ہے
ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے میں
کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں
یہی ہے مصلحت جبر احتیاط تو پھر
ہم اپنا حال کہیں گے چھپا کے لہجے میں ۔
افتخار عارف کی یہ غزل ان کے مجموعہ ‘ مہر دو نیم ‘ میں صفحہ نمبر 122 پر موجود ہے ۔ وسلام ۔ آپ کا خیر اندیش و خاکسار
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک