روہی میں کتنا پیاسا ہوں۔ ۔ ۔ !
القمر آن لائن کی بلاگ کیمونٹی کے لیئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ معروف صحافی اور اپنی طرز کے شاعر جناب رضی الدین رضی ہماری درخواست پر اس بلاگ کی دنیا میں شامل ہو رہے ہیں ہم انکو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ان کا ممنون ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود وقت نکا ل کر اس بزم میں شرکت کرتے رہیں گے۔ اس بار تو رضی بھائی میرے بلاگ کے صفحے میں ہیں جو میرے لیئے ایک اعزاز ہے۔
لیکن اگلی بار وہ اپنے صفحے میں اپنی تحریر کے ساتھ شامل ہوں گے۔ آج آپ سب کے لیئے رضی بھائی کی ایک خوبصورت نظم۔۔۔۔
روہی میں کتنا پیاسا ہوں۔ ۔ ۔ !
دل ہے پیاسا
روح بھی پیاسی
پیاسا میرا جیون
میری آنکھ میں دور تلک ہے بس صحرا ہی صحرا
روہی میں کتنا پیاسا ہوں، بالکل تیرے جیسا
میرے چاروں جانب ٹیلے
مدھر مدھر سی تانیں
پورا چاند کبھی چمکے تو
مہکیں میری راتیں
دن میں سر پر تپتا سورج ، ڈھونڈرہا ہوں سایہ
روہی میں کتنا پیاسا ہوں، بالکل تیرے جیسا
آسمان کو دیکھ کے میری
آنکھ سے برسے ساون
چاہت کے خودروپودوں میں
اُلجھگیا ہے جیون
تیز ہوا میں بھول چکا ہوں میں اب اپنا رستہ
روہی میں کتنا پیاسا ہوں، بالکل تیرے جیسا
تیرے جیسے موسم میرے
تیرے جیسے منظر
جیسا میں باہر سے ویراں
ویسا ہی میں اندر
دل کے ٹوبے خشک رہے اور گزر گئی ہے برکھا
روہی میں کتنا پیاسا ہوں، بالکل تیرے جیسا
کن ہیروں کا ذکر کروں
کیا یاد کروں اب سسیاں
میرے من میں بھی رہتی تھیں
نازک نازو جٹیاں
لیکن دل پھر بھی ویراں ہے ، پھر تنہا کا تنہا
روہی میں کتنا پیاسا ہوں، بالکل تیرے جیسا
روہی میرے من میں بھی
اک پیر فرید کاڈیرا
روہی میرا عشق بھی تو
ایمان بھی تو ہے میرا
روہی تیری ریت میں دیکھوں میں اپنا ہی چہرہ
روہی میں کتنا پیاسا ہوں، بالکل تیرے جیسا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضی الدین رضی۔ملتان






























