پاکستان میں نیٹو افواج سے بحالی جمہوریت کی امید

پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم یعنی ”مرد آھن ”نواز شریف اور” بیباک” بی بی بے نظیر بھٹو نے لندن میں اپنی ملاقات کے بعد کہا ہےکہ انہوں نے اپنے اپنے جیالوں کو کہا ہے کہ وہ 26 مارچ کو پاکستان بھر میں ضلعی سطحوں پر حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں ۔ اور ملک میں جسٹس افتخار محمد چوھدری کی عہدے سے معطلی کی وجہ سے عدالت عالیہ کے وقار کو جو نقصان پہنچا ہے اسے بحال کرائیں ۔ ان دونوں رہنموں نے اسی موقع پر ‘ جیسا کہ برطانوی خبر رسان ایجنسی رائیٹر نے بتایا یہ بھی کہا ہے کہ“ ملک میں جاری ’عدالتی بحران‘ نے انتخابات کے انعقاد کو مشکوک بنا دیا ہے۔“ ان دونوں نے یہ بھی کہا ہے کہ “ نیٹو فورسز ہمسایہ ملک افغانستان میں جمہوریت کے لیے جانیں قربان کر رہی ہیں لیکن دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ پاکستان میں ملکی اداروں پر جنرل مشرف کے حملوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ نواز شریف اور بے نظیر نے مزید کہا کہ“ اگرافغانستان میں جمہوریت کا دفاع ضروری ہے تو پھر پاکستان میں بھی جمہوریت بحال کی جائے-“
ہم پاکستان میںجمہوریت کی بحالی سے تو ہرگز انکاری نہیں ۔ جمہوریت بحال ہونی چاہیے اور لازمی ہونی چاہیے ۔ لیکن اس کے لیے نواز شریف اور بے نظیر کی جانب سے برطانیہ اور امریکہ کو پاکستان میں اقدامات لینے کی دعوت دینے جانے
سے ہم خائف ضرور ہیں ۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں جموریت کی بحالی کے نام پر امریکہ کی سربراہی میں نیٹو افواج جو گل کھلا رہی ہیں اور جس طرح وہاں کشت و خون جاری ہے کیا پاکستان کے یہ دونوں جلا وطن رہنما بھی پاکستان میں یہی کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا بے نظیر بھٹو اور نواز شریف چاہتے ہیں کہ نیٹو افواج افغانستان ہی کی طرح جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان کا بھی رخ کریں ؟ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پاکستان میں جمہوریت کے لیے اگر افغانستان سے نیٹو افواج کی مدد چاہتے ہیںتو پھر ہم ئہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ دونوں رہنما لندن میں بیٹھے پاکستان میں اپنے جیالوں کو مظاہروں کے لیے کیوں کہہ رہے ہیں اور ان سے سیدھے الفاظ میں یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ وہ “ پاکستان میں نیٹو افواج کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنے اپنے پرچم لے کر درہء خیبر پہنچ جائیں ! او موقع پر ہمیں میر کا یہ شعر نجانے کیوں یاد آریا ہے ۔ آپ بھی سن لیجیئے:
میر بھی کیا خوب ہیں ‘ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں ۔































راشد عباسی
نے لکھا؛
March 24, 2007 at 11:59 am
ملک صاحب
ہماری بدقسمتی ہی یہی رہی ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم “میر جعفروں“ ، “میر صادقوں“ اور “مارشل لا“ کے رحم و کرم پر رہے۔ عوام کے اندر شعور حقیقی “علم“ سے آتا ہے جب کہ ہمارے ہاں ساری کی ساری توجہ “ڈگری“ پر دی گئ۔ نتیجتا اکثریت قومی امور سے لا تعلق ہوتی چلی گئ۔ اور سانحہ یہ ہوا:
نیرنگئ سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
اب کوئ ہمیں اندر رہ کر نیلام کر رہا ہے تو کوئ باہر بیٹھ کر ہماری بولی لگا رہا ہے۔ عوام کیڑے مکوڑے ہیں کیونکہ وہ کمزور ہیں اور بقول اقبال
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
Nasar Malik
نے لکھا؛
March 26, 2007 at 4:16 pm
محترمی و مکرمی راشد عباسی صاحب
سلام مسنون ۔
میری تحریر پر آپ نے جن خیالات کا اظہار فرمایا ‘ میں ان سے متفق ہوں ۔آپ کا کہنا بالکل بجا کہ “ عوام کے اندر حقیقی شعور “ علم “ ہی سے آتا ہے ۔ ہمارے ہاں گریجوایٹ ارکان اسمبلی تو ہیں لیکن “علم “ ان کے پاس بھی نہیں ۔ وفاقی وزیر قانون کی “بے علمی “ کے دھنڈورے تو اب چاروں طرف ہیں۔
ہم اللہ کی “رحمانیت “ کے تو قائل ہی ہیں اور ہمارا بچا کھچا وجود اگر ابھی تک قائم ہے اور بالکل منتشر نہیں ہوا تو یہ بھی اسی کرم و رحم کا نتیجہ ہے لیکن ہمیں اللہ کے قہار و جبار ہونے کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے ۔
امید ہے آپ بخریت ہونگے ۔
آپ کا خیراندیش و خاکسار
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔