تنتالیس ملین سے زائد بچے سکول نہیں جاتے
بچوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیم ’سیو دی چِلڈرن‘ نے کچھ روز پہلے شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا میں مسلح لڑائیوں کی وجہ سے کم سے کم 43 ملین بچے پرائمری سکول نہیں جاتے اور ایسے بچےپاکستان میں چالیس فیصد سے زیادہ اور افغانستان میں پیتیس فیصد سے زیادہ ہے۔
جاپا رہے۔ یہ اعداد و شمار ب جاری کیے ہیں۔
صومالیہ میں 89 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ جمہوریہ کانگو میں 65 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں اور چاڈ، نیپال، انگولا، سیئرا لیون، شمالی تیمور، ایریتریا، سوڈان، وغیرہ میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔
اب آپ ہی بتائیں کہ اب اس سے آگے مزید کیا لکھا جائے؟































راشد عباسی
نے لکھا؛
March 29, 2007 at 5:47 pm
ہمدانی صاحب
ہر باشعور آدمی اس حقیقت کو تسلیم کرےگا کہ “ترقی“ اور “خود احتسابی“ لازم و ملزوم ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں غربت، جہالت، استحصال، ناانصافی۔۔۔۔۔۔۔اور ہر اس برائی کو جو ہمارا مقتدر طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بروئے کار لاتا رہا ہے “عطائے ربی“ کہہ کر عوام کر راضی برضا رہنے کا درس دیا جاتا رہا ہے۔ اور اس سلسلے میں “so called “ مذہبی طبقہ بھی استحصال کنندگان کا کاسہ لیس بنا رہا۔ وہ جو احمد فراز نے کہا ہے:
امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بحیلہ مذہب کبھی بنام وطن
سو ! ہم اس احساس تفاخر کے ساتھ خوش فہمیوں کے حصار میں (یا یوں کہیے کہ احمقوں کی جنت میں) ہیں کہ ہم “خیرالناس“ ہیں۔باوجود اس کے کہ ہمارے ہاں اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے، کردار نام کی کوئی چیز ہم میں باقی نہیں، دین کو ہم نے چند عبادات تک محدود کر کے رکھ دیا ہے، سائنس اور ٹکینالوجی سے ہم نے صدیوں سے رشتہ منقطع کر لیا ہے، دین میں اجماع اور قیاس کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض کیا کیا گنوایا جائے۔
مسلمان کی پہچان ہی “علم“ ہے۔ پہلی وحی “پڑھ“ سے شروع ہوتی ہے۔ نبی آخرالزمان علم کو “مومن کی گمشدہ میراث“ قراد دیتے ہیں۔ اور مسلمان آج دنیا میں سب سے جاہل اور “غیر حقیقت پسند“ ہیں۔ اس پر بھی تکبر “پدرم سلطان بود“۔
اصلاح احوال کے لیے میری ذاتی رائے میں ضروری ہے کہ ترجیحات میں سب سے پہلے نہ صرف “تعلیم“ کو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ “تربیت“ کورکھیں۔ اور انفرادی اور اجتماعی سطح پر شعور اجاگر کریں۔ وہ جو فراز نے کہا ہے:
شکوئہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے