اقبال حیدر یا بلند اقبال حیدر
کبھی فرصت سے بیٹھ کر اپنے اس دوست عزیز کے بارے میں لکھوں گا کہ اول تومیں روا روی میں لکھنے کا عادی نہیں اور دوسرے اقبال حیدر ایسا دوست اور ایسی شخصیت نہیںجس پر روایتی فقرے لکھے جائیں۔ اسوقت تو صرف اس بلاگ کے ذریعے اقبال حیدر کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آج چھبیس مارچ بروز پیرصبح کی ڈاک سے جرمنی اور پاکستان سے بیک وقت شائع ہونے والے ‘‘سہ ماہی گفتگو‘‘ کا نعیمہ ضیا الدین نمبر ڈاک سے ملا ہے۔
سب سے پہلے تو شکریہ بھائی اقبال کا کہ وہ مجھ جیسے طالب علم کو یاد رکھتے ہیں اور پھر اعتراف اس امر کاکہ اس زمانے میں جب مطالعہ خاص طور پر ہمارے ہاں بس ختم ہی سمجھیں اور قلم کاری جب بزنس بن چکی ہے تو ایسے میں بلند اقبال حیدر دیوانوں کی طرح اس قسم کی‘‘معجز نمائیاں‘‘ کرتا رہتا ہے۔
میں نے ابھی اس جریدے کو سرسری طور پر دیکھا ہے اور پڑھے بغیر میں لکھنے کا عادی نہیں اس لیئے وعدہ بھی اور یہ قرض بھی کہ جلد ہی اس پر اپنی رائے ضرور دوں گا۔ فی زمانہ مجھے علم ہے کہ اس ‘‘ادیب اور ادب کُش‘‘ عہد میں کسی جریدے کو باقاعدگی سے شائع کرتے رہنا ہی کتنا بڑا جہاد ہے۔
‘‘ویل ڈن‘‘ اقبال حیدر۔ میں سمجھتا ہوں کہ کم ازکم مجھ جیسے افراد کے لیئے ‘‘گفتگو‘‘ کا یہ نعیمہ ضیا الدین نمبر اس لیئے ایک اہم دستاویز ہے کہ میں خود بھی انکی اتنی جہتوں سے واقف نہیں تھا۔
اقبال حیدر کی شاعری،دوستی،انتظامی اہلیت،میزبانی،قلم کاری،کالم نگاری اور ایسے ہی کتنے دوسرے اوصاف کے بارے میں لکھنا ادھار رہا۔ ایک بات اسول کے طور پر عرض کر دوں کہ اپنے ایسے دوستوں کے بارے میں ہم نہیں لکھیں گے تو کون لکھے گا؟ دشمن تو پہلے ہی انکا ذکر نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو اپنے ذہن کے مطابق۔






























